TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2843 - بَابُ الْمَنْهِيِّ عَنْهَا مِنَ الْبُيُوعِ - خرید و فروخت کا بیان - Mishkat in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 10 of 41 in this chapter
بَابُ الْمَنْهِيِّ عَنْهَا مِنَ الْبُيُوعِ
ممنوعہ بیوع (تجارت) کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانُوا يَبْتَاعُونَ الطَّعَامَ فِي أَعلَى السُّوقِ فيبيعُونَه فِي مكانهِ فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِهِ فِي مَكَانِهِ حَتَّى يَنْقِلُوهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَلم أَجِدهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، لوگ بازار کے بالائی حصے سے اناج خریدتے اور اسے وہیں فروخت کر دیا کرتے تھے ، لیکن رسول اللہ ﷺ نے اسے اسی جگہ پر فروخت کرنے سے منع فرما دیا حتی کہ وہ اسے منتقل کریں ۔ ابوداؤد ۔ میں نے اسے صحیحین میں نہیں پایا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
2843
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد (۳۴۹۴) [و البخاری (۲۱۶۷) و مسلم (۱۵۲۷)] ۔ 3841

Related Chapters

44
1
Chapter: What Has Been Related About Doing Business Early
باب: سامان تجارت لے کر سویرے نکلنے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
بَاب أَوْقَات النَّهْي
نماز کے لیے ممنوعہ اوقات کا بیان
Mishkat
3
باب [فی البیع المشروط]
مشروط تجارت کا بیان
Mishkat
4
حیض کی وجہ سے ممنوعہ امور اور حائضہ خاتون کے عبادات کی قضائی دینے کا بیان
Musnad Ahmad
5
اس چیز کا بیان کہ سب سے بہترین کمائی تجارت اور آدمی کا اپنے ہاتھوں سے کام کرنا ہے، نیز اس امر کا بیان کہ بندے کی اولاد بھی اس کی کمائی میں سے ہے
Musnad Ahmad
6
تجارت کے ذریعے کمائی کرنے کا بیان خرید و فروخت میں سچائی اور امانت اور ان کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
7
تجارت میں نرمی اختیار کرنے اور دررگزر کرنے، سودا واپس کرنے اور اچھا معاملہ کرنے اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
8
ان چیزو ں کا بیان کہ جن کی تجارت جائزنہیں ہے شراب، نجس اور بے فائدہ چیزوں کی تجارت کا بیان
Musnad Ahmad
9
دھوکے والی چیزوں کی تجارت سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
10
مزابنہ اور محاقلہ کی تجارت اور ہر تر کو خشک کے عوض فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
11
قافلوںکوملنے اور شہری کا دیہاتی کے لئے تجارت کرنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
12
غلام کی تجارت کا اور محرم غلاموں کے مابین تفریق ڈالنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
13
گواہ کے بغیر تجارت کرنے کا اور اس سلسلے میں سیدنا خزیمہ بن ثابت کی عظیم منقبت کا بیان
Musnad Ahmad
14
تجارت میں شرطوں کے ابواب فروخت شدہ چیز سے فائدہ اٹھانے اور مزید اس قسم کی شرط لگانے کا بیان
Musnad Ahmad
15
فاسد شرط کے ہونے کے باوجود تجارت کے عقد کے صحیح ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
16
تجارت میں غبن اور دھوکے سے سلامتی کی شرط کا بیان
Musnad Ahmad
17
بوقت ِ تجارت اناج کے برابر برابر ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
18
نکاح کی شرائط اور ممنوعہ شرطوں کا بیان
Musnad Ahmad
19
ممنوعہ نکاحوں کا بیان نکاح متعہ کی رخصت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
20
سونے، چاندی اور ریشم اور ان کے استعمال کی جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان ممنوعہ امور سے متعلقہ جامع احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
21
(150) CHAPTER. Trading during the time of Hajj, and selling in the markets of the Pre-Islamic Period.
زمانہ حج میں تجارت کرنا اور جاہلیت کے بازاروں میں خریدوفروخت کا بیان
Sahih Bukhari
22
(6) CHAPTER. The Statement of Alllah: “And when they see some merchandise or some amusement [beating of Tambur (drum) etc.], they disperse headlong to it...”.(V.62:11)
اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ الجمعہ میں ) یہ فرمانا کہ جب وہ مال تجارت آتا ہوا یا کوئی اور تماشہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں ۔
Sahih Bukhari
23
(8) CHAPTER. Trade of cloth and other things.
خشکی میں تجارت کرنے کا بیان
Sahih Bukhari
24
(9) CHAPTER. Going out for trading.
تجارت کے لیے گھر سے باہر نکلنا
Sahih Bukhari
25
(10) CHAPTER. Trading in sea.
سمندر میں تجارت کرنے کا بیان
Sahih Bukhari
26
(105) CHAPTER. Trade of alcoholic drinks is illegal.
شراب کی تجارت کرنا حرام ہے
Sahih Bukhari
27
(22b) CHAPTER. How a guardian is to deal with an orphan's wealth and what he can eat thereof according to his labour.
وصی کے لئے یتیم کے مال میں تجارت اور محنت کرنا درست ہے اور پھر محنت کے مطابق اس میں سے کھالینا درست ہے
Sahih Bukhari
28
Chapter: The verse: “And when they see some merchandise or some amusement they disperse headlong to it, and leave you standing”
اللہ تعالیٰ کا فرمان :’’اور جب وہ تجارت یا کوئی مشغلہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں ‘‘
Sahih Muslim
29
تجارت، مزدوری اور زہد کا بیان
Silsila Sahih
30
CHAPTER: If The Property Is Meant For Trade, Will Zakat Be Levied Upon It?
باب: کیا تجارتی سامان میں زکاۃ ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
31
CHAPTER: Taking Provisions For The Hajj.
باب: حج میں تجارت کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
32
CHAPTER: Engaging In Trade During Battle.
باب: جہاد میں تجارت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
33
CHAPTER: Levying The ’Ushur On Ahl Adh-Dhimmah If They Deal In Trade.
باب: ذمی مال تجارت لے کر پھریں تو ان سے عشر ( دسواں حصہ ) وصول کیا جائے گا ۔
Sunnan Abu Dawood
34
CHAPTER: Regarding Trade That Is Mixed With Swearing And Idle Talk.
باب: تجارت میں قسم اور لایعنی باتوں کی ملاوٹ ہو جاتی ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
35
CHAPTER: Regarding Partnerships.
باب: تجارت میں شراکت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
36
CHAPTER: Regarding A Man Who Does Trade With Another Man’s Wealth Without His Permission.
باب: آدمی مالک کی اجازت کے بغیر اس کے مال سے تجارت کرے اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
37
CHAPTER: Regarding Meeting Merchants Outside The City.
باب: تاجروں سے بازار میں آنے سے پہلے جا کر ملنا اور ان سے سامان تجارت خریدنا منع ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
38
تجارت میں احتیاط برتنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
39
بازار میں پہنچنے سے پہلے تاجروں سے جا کر ملنا اور ان سے سامان تجارت خریدنا منع ہے
Sunnan Ibn e Maja
40
امانت کے مال سے تجارت کرنے والا نفع کمائے تو اس کے حکم کا بیان۔
Sunnan Ibn e Maja
41
شراب کی تجارت کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
42
باب: تجارت کا بیان۔
Sunnan Nisai
43
باب: آگے بڑھ کر تجارتی قافلے سے ملنا منع ہے۔
Sunnan Nisai
44
باب: مال لگائے بغیر تجارت میں حصہ دار بننے کا بیان۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

11
Mishkat
281
عَن أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَآنِ - أَوْ تَمْلَأُ - مَا بَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالصَّلَاةُ نُورٌ وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةٍ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ تَمْلَآنِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ» . لَمْ أَجِدْ هَذِهِ الرِّوَايَةَ فِي الصَّحِيحَيْنِ وَلَا فِي كِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ وَلَا فِي «الْجَامِعِ» وَلَكِنْ ذَكَرَهَا الدَّارِمِيُّ بدل «سُبْحَانَ الله وَالْحَمْد لله»
ابومالک اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ پاکیزگی نصف ایمان ہے ، الحمدللہ میزان کو بھر دیتا ہے ، سبحان اللہ اور الحمدللہ دونوں یا (ان میں سے ہر کلمہ) زمین و آسمان کے مابین کو بھر دیتا ہے ، نماز نور ہے ، صدقہ برہان ہے ، صبر ضیا ہے اور قرآن تیرے حق میں یا تیرے خلاف دلیل ہو گا ۔ ہر آدمی صبح کے وقت اپنے نفس کا سودا کرتا ہے ، پس وہ اسے آزاد کرا لیتا ہے یا ہلاک کر دیتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم و الدارمی (۱ /۱۶۷ ح ۶۵۹) و النسائی فی الکبریٰ : ۹۹۹۶) ۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے :((لا الہ الا للہ و اللہ اکبر)) زمین و آسمان کے مابین ہر چیز کو بھر دیتے ہیں ۔‘‘ میں نے یہ روایت صحیحین میں پائی ہے نہ حمیدی کی کتاب میں اور نہ ہی الجامع میں ۔ لیکن دارمی نے اسے سبحان اللہ و الحمدللہ کے بدلے ذکر کیا ہے ۔
Mishkat
379
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَشْرَ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ وَالسِّوَاكُ وَاسْتِنْشَاقُ الْمَاءِ وَقَصُّ الْأَظْفَارِ وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ وَنَتْفُ الْإِبِطِ وَحَلْقُ الْعَانَةِ وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ) يَعْنِي الِاسْتِنْجَاءَ - قَالَ الرَّاوِي: ونسيت الْعَاشِرَة إِلَّا أَن تكون الْمَضْمَضَة. رَوَاهُ مُسلم وَفِي رِوَايَةٍ «الْخِتَانُ» بَدَلَ «إِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ» لَمْ أَجِدْ هَذِهِ الرِّوَايَةَ فِي «الصَّحِيحَيْنِ» وَلَا فِي كِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ وَلَكِنْ ذَكَرَهَا صَاحِبُ «الْجَامِعِ» وَكَذَا الْخطابِيّ فِي «معالم السّنَن» :
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دس خصلتیں فطرت سے ہیں : موچھیں کترنا ، داڑھی بڑھانا ، مسواک کرنا ، ناک میں پانی چڑھانا ، ناخن کترنا ، انگلیوں کے جوڑ دھونا ، بغلوں کے بال اکھیڑنا ، زیر ناف بال مونڈنا اور استنجا کرنا ، راوی بیان کرتے ہیں ، دسویں خصلت میں بھول گیا ہوں ، ممکن ہے وہ کلی کرنا ہو ۔ ایک روایت میں داڑھی بڑھانے کے بجائے ختنوں کا ذکر ہے ۔ میں نے یہ روایت صحیحین میں پائی ہے نہ کتاب الحمیدی میں ، لیکن صاحب ’’الجامع‘‘ اور اسی طرح الخطابی نے ’’معالم السنن‘‘ میں اسے ذکر کیا ہے ۔ رواہ مسلم ۔
Mishkat
432
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ فِي الِاحْتِلَامِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَلَمْ أَجِدْهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ
ابن عباس ؓ نے فرمایا : پانی پانی سے ہے ، یہ احتلام کے بارے میں ہے ۔ ترمذی ، اور میں نے اسے صحیحین میں نہیں پایا ۔ ضعیف ۔
Mishkat
529
وَعَنْ أَبِي الْجُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ قَالَ: مَرَرْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ حَتَّى قَامَ إِلَى جِدَارٍ فَحَتَّهُ بِعَصًى كَانَتْ مَعَهُ ثُمَّ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى الْجِدَارِ فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ ثُمَّ رَدَّ عَلَيَّ. وَلَمْ أَجِدْ هَذِهِ الرِّوَايَةَ فِي الصَّحِيحَيْنِ وَلَا فِي كِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ وَلَكِنْ ذَكَرَهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث حسن
ابوجہیم بن حارث بن صِمّہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی ﷺ کے پاس سے گزرا ، جبکہ آپ پیشاب کر رہے تھے ، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے مجھے جواب نہ دیا ، حتیٰ کہ آپ ایک دیوار کی طرف گئے اور اپنی لاٹھی سے اسے کریدا ، پھر اپنے ہاتھ دیوار پر رکھے ، اور اپنے چہرے اور بازؤں کا مسح کیا ، پھر مجھے سلام کا جواب دیا ۔ یہ روایت مجھے صحیحین میں ملی نہ کتاب الحمیدی میں ، لیکن انہوں نے شرح السنہ میں اسے ذکر کیا ہے اور فرمایا : یہ حدیث حسن ہے ۔ ضعیف ۔
Mishkat
910
وَعَن عبد الله بن عَبَّاس أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ فَكَانَ يَقُولُ: «التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَلَمْ أَجِدْ فِي الصَّحِيحَيْنِ وَلَا فِي الْجَمْعِ بَين الصَّحِيحَيْنِ: «سَلام عَلَيْك» و «سَلام عَلَيْنَا» بِغَيْرِ أَلْفٍ وَلَامٍ وَلَكِنْ رَوَاهُ صَاحِبُ الْجَامِع عَن التِّرْمِذِيّ
عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ ہمیں تشہد (اس اہتمام کے ساتھ) سکھاتے تھے جیسے ہمیں قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے ، آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے :’’ (میری ساری) قولی ، بدنی اور مالی عبادات اللہ کے لیے خاص ہیں ، اے نبی ! آپ پر اللہ کی رحمت ، سلامتی اور برکتیں ہوں ، اور ہم پر اور اللہ کے دوسرے نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔ اور میں نے صحیحین میں اور حمیدی میں الف لام کے بغیر ((سلام علیک)) اور ((سلام علینا)) نہیں پایا ، لیکن صاحب الجامع (ابن اثیر)نے امام ترمذی سے اسے روایت کیا ہے ۔
Mishkat
2611
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَفَاضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَمْعٍ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ وَقَالَ: «لَعَلِّي لَا أَرَاكُمْ بَعْدَ عَامِي هَذَا» . لَمْ أَجِدْ هَذَا الْحَدِيثَ فِي الصَّحِيحَيْنِ إِلَّا فِي جَامِعِ التِّرْمِذِيِّ مَعَ تقديمٍ وَتَأْخِير
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ مزدلفہ سے واپس تشریف لائے تو آپ ﷺ پر سکینت و اطمینان تھا ، اور آپ نے صحابہ کو بھی آرام سے چلنے کا حکم فرمایا ، جبکہ وادی محسر میں آپ تیز چلے اور انہیں حکم فرمایا کہ انگلی پر رکھ کر ماری جانے والی کنکری کے برابر کنکریاں مارو ، اور فرمایا :’’ شاید اس سال کے بعد میں تمہیں نہ دیکھ سکوں ۔‘‘ میں نے یہ حدیث تقدیم و تاخیر کے ساتھ جامع ترمذی کے علاوہ صحیحین میں نہیں پائی ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
Mishkat
3457
وَعَن أبي شُرَيحٍ الكعبيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثُمَّ أَنْتُمْ يَا خُزَاعَةُ قَدْ قَتَلْتُمْ هَذَا الْقَتِيلَ مِنْ هُذَيْلٍ وَأَنَا وَاللَّهِ عَاقِلُهُ مَنْ قَتَلَ بَعْدَهُ قَتِيلًا فَأَهْلُهُ بَيْنَ خِيرَتَيْنِ: عَن أَحبُّوا قتلوا وَإِن أَحبُّوا أخذا العقلَ . رَوَاهُ الترمذيُّ وَالشَّافِعِيّ. وَفِي شرح السنَّة بإِسنادِه وَصَرَّحَ: بِأَنَّهُ لَيْسَ فِي الصَّحِيحَيْنِ عَنْ أَبِي شُرَيْح وَقَالَ:
ابوشریح الکعبی ؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا :’’ خزاعہ (قبیلے والو) ! تم نے ہذیل کے اس مقتول کو قتل کیا ، اور اللہ کی قسم ! میں اس کی دیت ادا کر دیتا ہوں ، جس نے اس کے بعد کسی کو قتل کیا تو اس کے وارثوں کو دو چیزوں کے درمیان اختیار ہے ، اگر وہ پسند کریں تو اسے قتل کریں اور اگر چاہیں تو دیت لے لیں ۔‘‘ اسے ترمذی اور امام شافعی نے روایت کیا ہے اور امام بغوی نے شرح السنہ میں اپنی سند سے روایت کیا ہے اور انہوں نے صراحت کی کہ ابوشریح کی سند سے یہ حدیث صحیحین میں نہیں ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و الشافعی ۔
Mishkat
4619
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ بِخَزَائِنِ الْأَرْضِ فَوُضِعَ فِي كَفَّيَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَكَبُرَا عَلَيَّ فَأُوحِيَ إِلَيَّ أَنِ انْفُخْهُمَا فَنَفَخْتُهُمَا فَذَهَبَا فَأَوَّلْتُهُمَا الْكَذَّابَيْنِ اللَّذَيْنِ أَنَا بَيْنَهُمَا صَاحِبَ صَنْعَاءَ وَصَاحِبَ الْيَمَامَةِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ: «يُقَالُ لِأَحَدِهِمَا مُسَيْلِمَةُ صَاحِبُ الْيَمَامَةِ وَالْعَنْسِيُّ صَاحِبُ صَنْعَاءَ» لَمْ أَجِدْ هَذِهِ الرِّوَايَةَ فِي (الصَّحِيحَيْنِ) وَذكرهَا صَاحب الْجَامِع عَن التِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسی اثنا میں کہ میں سو رہا تھا کہ مجھ پر زمین کے خزانے پیش کیے گئے ، میرے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن رکھ دیے گئے تو وہ مجھ پر گراں گزرے ، پھر میری طرف وحی کی گئی کہ میں انہیں پھونک ماروں ، میں نے پھونک ماری تو وہ دونوں جاتے رہے ، میں نے ان کی یہ تعبیر کی کہ اس سے مراد وہ دو جھوٹے شخص ہیں ، میں ان کے درمیان ہوں ، ایک (اسود عنسی) صنعاء سے اور ایک (مسیلمہ کذاب) یمامہ سے ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے :’’ ان دونوں میں سے ایک مسیلمہ یمامہ کا رہنے والا اور عنسی صنعاء کا رہنے والا ۔‘‘ لیکن میں نے یہ روایت صحیحین میں نہیں پائی اور صاحب الجامع نے اسے ترمذی سے روایت کیا ہے ۔ متفق علیہ و الترمذی ۔
Mishkat
4630
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِلْمُؤْمِنِ عَلَى الْمُؤْمِنِ سِتُّ خِصَالٍ: يَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ وَيَشْهَدُهُ إِذَا مَاتَ وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ وَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ وَيَنْصَحُ لَهُ إِذَا غَابَ أَوْ شَهِدَ «لَمْ أَجِدْهُ» فِي الصَّحِيحَيْنِ «وَلَا فِي كِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ وَلَكِنْ ذَكَرَهُ صَاحِبُ» الْجَامِع بِرِوَايَة النَّسَائِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مومن کے مومن پر چھ حق ہیں : جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرے ، جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو ، جب وہ دعوت دے تو اسے قبول کرے ، جب وہ اس سے ملاقات کرے تو اسے سلام کرے ، جب اسے چھینک آئے (اور الحمد للہ کہے) تو وہ اسے یرحمک اللہ کہہ کر جواب دے ، اور اس کی موجودگی اور غیر موجودگی میں اس سے خیر خواہی کرے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی و الترمذی ۔ صاحب مشکوۃ کہتے ہیں : اور میں نے اسے نہ تو صحیحین میں پایا ہے نہ کتاب الحمیدی میں ، لیکن جامع الاصول کے مؤلف (ابن اثیر) نے اسے نسائی کی روایت سے ذکر کیا ہے ۔