TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قصاص کا بیان - قصاص کا بیان - Book 15 of Mishkat with Urdu and English Translation

Book 15 of Mishkat, with 4 chapters and 109 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

109 Hadith · 4 Chapters
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَشْرَفَ يَوْمَ الدَّارِ فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثلاثٍ: زِنىً بَعْدَ إِحْصَانٍ أَوْ كُفْرٌ بَعْدَ إِسْلَامٍ أَوْ قتْلِ نفْسٍ بِغَيْر حق فَقتل بِهِ ؟ فو الله مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ وَلَا ارْتَدَدْتُ مُنْذُ بَايَعْتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا قَتَلْتُ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ فَبِمَ تَقْتُلُونَنِي؟ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه وللدارمي لفظ الحَدِيث
ابوامامہ بن سہل بن حنیف سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان ؓ نے ’’ یوم الدار ‘‘ (جن دنوں باغیوں نے عثمان ؓ کو محصور کر رکھا تھا) لوگوں کو دیکھ کر فرمایا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں : کیا تم اللہ کے رسول ﷺ کے اس فرمان سے آگاہ نہیں ہو ؟ کہ ’’ کسی مسلمان شخص کا خون تین میں سے کسی ایک وجہ پر درست ہے : شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کرنا یا اسلام کے بعد کفر کرنا یا کسی جان کو ناحق قتل کرنا ، اور وہ اس کے باعث قتل کیا جائے گا ۔‘‘ اللہ کی قسم ! میں نے نہ تو دورِ جاہلیت میں زنا کیا اور نہ زمانہ اسلام میں ، میں نے جب سے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی اس وقت سے آج تک کبھی مرتد نہیں ہوا ، اور میں نے کسی ایسی جان کو قتل نہیں کیا جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے ، تو پھر تم مجھے کیوں قتل کرتے ہو ؟ ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ ۔ اور دارمی میں صرف حدیث کے الفاظ ہیں ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ الترمذی (۲۱۵۸ وقال : حسن) و النسائی (۷ / ۹۱ ۔ ۹۲ ح ۴۰۲۴) و ابن ماجہ (۲۵۳۳) و الدارمی (۲ / ۱۷۱ ۔ ۱۷۲ ح ۲۳۰۲ مختصرًا) ۔
3466
Sahih
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَزَالُ الْمُؤْمِنُ مُعْنِقًا صَالِحًا مَا لَمْ يُصِبْ دَمًا حَرَامًا فَإِذَا أَصَابَ دَمًا حَرَامًا بَلَّحَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابودرداء ؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تک مومن کسی خونِ حرام کا ارتکاب نہیں کرتا تو وہ اطاعت گزاری اور اعمالِ صالحہ کی بجا آوری میں مستعد رہتا ہے اور جب وہ کسی خون حرام کا ارتکاب کر لیتا ہے تو وہ سستی و تھکاوٹ کا شکار ہو جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد (۴۲۷۰) ۔
3467
Sahih
وَعَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كُلُّ ذَنْبٍ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَغْفِرَهُ إِلَّا مَنْ مَاتَ مُشْرِكًا أَوْ مَنْ يقتُلُ مُؤمنا مُتَعَمدا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابودرداءؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ امید ہے کہ اللہ ہر گناہ معاف فرما دے بجز اس شخص کے جو حالت شرک میں فوت ہو ، اور جس نے عمداً کسی مومن کو قتل کیا ہو ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد (۴۲۷۰) ۔
3468
Sahih
وَرَوَاهُ النَّسَائِيّ عَن مُعَاوِيَة
امام نسائی نے اسے معاویہ ؓ سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ النسائی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ النسائی (۷ / ۸۱ ح ۳۹۸۹) ۔
3469
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُقَامُ الْحُدُودُ فِي الْمَسَاجِدِ وَلَا يُقَادُ بِالْوَلَدِ الْوَالِدُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ والدارمي
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مساجد میں حدود قائم نہ کی جائیں اور نہ اولاد کا والد سے قصاص لیا جائے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۴۰۱) و الدارمی (۲ / ۱۹۰ ح ۲۳۶۲) [و ابن ماجہ (۲۶۶۱)] * اسماعیل بن مسلم ضعیف و للحدیث شواھد ضعیفۃ ۔
3470
Zaeef
وَعَن أبي رِمْثَةَ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أبي فقالَ: «مَنْ هَذَا الَّذِي مَعَكَ؟» قَالَ: ابْنِي أَشْهَدُ بِهِ قَالَ: «أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَزَادَ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ» فِي أَوَّلِهِ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى أَبِي الَّذِي بِظَهْرِ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فَقَالَ: دَعْنِي أُعَالِجُ الَّذِي بِظَهْرِكِ فَإِنِّي طَبِيبٌ. فَقَالَ: «أَنْتَ رفيقٌ واللَّهُ الطبيبُ»
ابورِمثہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں اپنے والد کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارے ساتھ یہ کون ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : میرا بیٹا ہے ۔ آپ اس کے متعلق گواہ رہیے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ آگاہ رہو ! نہ تو تیرے گناہ کا اس سے مؤاخذہ ہو گا نہ اس کے گناہ کا تجھ سے مؤاخذہ ہو گا ۔‘‘ اور شرح السنہ میں اس حدیث کے شروع میں مزید الفاظ ہیں : انہوں نے بیان کیا : میں اپنے والد کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میرے والد نے رسول اللہ ﷺ کی پشت پر جو چیز (مہر نبوت) تھی وہ دیکھ لی تو عرض کیا مجھے اجازت دیں ، میں اس چیز کا علاج کرتا ہوں جو آپ کی پشت پر ہے کیونکہ میں طبیب ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم رفیق ہو اور اللہ طبیب ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی و البغوی فی شرح السنہ ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ ابوداؤد (۴۴۹۵) و النسائی (۸ / ۵۳ ح ۴۸۳۶) و البغوی فی شرح السنۃ (۱۰ / ۱۸۱ ح ۲۵۳۴) [من طریق الشافعی و ھذا فی الام (۷ / ۹۵)] ۔
3471
Sahih
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جدِّهِ عَن سُراقةَ بنِ مالكٍ قَالَ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقِيدُ الْأَبَ مِنِ ابْنِهِ وَلَا يُقِيدُ الِابْنَ من أَبِيه. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ (لم تتمّ دراسته) وَضَعفه
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے سراقہ بن مالک ؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا آپ ﷺ نے باپ کو اس کے بیٹے سے قصاص دلوایا اور بیٹے کا باپ سے قصاص نہیں دلوایا ۔ ترمذی ، اور انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۳۹۹) * مثنی بن الصباح : ضعیف ۔
3472
Zaeef
وَعَن الْحسن عَن سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ وَمَنْ جَدَعَ عَبْدَهُ جَدَعْنَاهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَزَادَ النَّسَائِيُّ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: «وَمن خصى عَبده خصيناه»
حسن بصری ؒ ، سمرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو اپنے غلام کو قتل کرے گا ، ہم اسے قتل کریں گے اور جو اپنے غلام کے اعضاء (ناک وغیرہ) کاٹے گا ہم اس کے اعضاء کاٹیں گے ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، ابن ماجہ ، دارمی ۔ اور امام نسائی نے ایک دوسری روایت میں اضافہ نقل کیا ہے :’’ جو اپنے غلام کو خصی کرے گا ہم اسے خصی کریں گے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی و النسائی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۱۴۱۴ وقال : حسن غریب) و ابوداؤد (۴۵۱۵) و ابن ماجہ (۲۶۶۴) و الدارمی (۲ / ۱۹۱ ح ۲۳۶۳) و النسائی (۸ / ۲۰ ۔ ۲۱ ح ۴۷۴۰ ۔ ۲۷۴۲) ۔
3473
Sahih
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَتَلَ مُتَعَمِّدًا دُفِعَ إِلَى أولياءِ المقتولِ فإِنْ شاؤوا قَتَلوا وإِنْ شَاؤوا أَخَذُوا الدِّيَةَ: وَهِيَ ثَلَاثُونَ حِقَّةً وَثَلَاثُونَ جَذَعَةً وَأَرْبَعُونَ خَلِفَةً وَمَا صَالَحُوا عَلَيْهِ فَهُوَ لَهُمْ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے عمداً قتل کیا تو اسے مقتول کے ورثا کے حوالے کیا جائے گا ، اگر وہ چاہیں تو (اسے) قتل کر دیں اور اگر وہ چاہیں تو دیت لے لیں ۔ اور وہ تیس حِقّہ (اونٹنی کا وہ بچہ جو تین سال مکمل کرنے کے بعد عمر کے چوتھے سال میں داخل ہو) تیس جذعہ (وہ اونٹنی جو پانچویں سال میں داخل ہو) اور چالیس حاملہ اونٹنیاں ہے ۔ اور وہ جس چیز پر مسالحت کر لیں تو وہ ان کے لیے ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۱۳۸۷ وقال : حسن غریب) ۔
3474
Sahih
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ وَيَرُدُّ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ أَلَا لَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِه» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
علی ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مسلمانوں کے خون (قصاص و دیت میں) مساوی ہیں ، اور ان کے عام آدمی کی امان کا بھی لحاظ رکھا جائے گا اور ان سے دوردراز والا شخص مال غنیمت ان کے نزدیک والے پر لوٹائے گا اور وہ دشمن کے مقابلے میں باہم دستِ واحد کی طرح ہیں ، سن لو ! کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا اور نہ کسی معاہد (ذمی) کو اس کے عہد میں قتل کیا جائے گا ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ ابوداؤد (۵۵۳۰) و النسائی (۸ / ۲۴ ح ۴۷۴۹) ۔
3475
Sahih
وَرَوَاهُ ابْن مَاجَه عَن ابْن عَبَّاس
ابن ماجہ نے اسے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ (۲۶۶۰) * حنش ھو ابو علی الحسین بن قیس الرجی متروک و قولہ :’’ لا یقتل مومن بکافر ‘‘ صحیح بالشواھد و قولہ :’’ ولا ذو عھد فی عھدہ ‘‘ ضعیف ولہ شواھد ضعیفۃ عند ابن حبان (الموارد : ۱۶۹۹) و ابی داود (۴۵۳۰) وغیرھما ۔
3476
Zaeef
وَعَن أبي شُريحِ الخُزاعيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ أُصِيبَ بِدَمٍ أَوْ خَبْلٍ وَالْخَبْلُ: الْجُرْحُ فَهُوَ بِالْخِيَارِ بَيْنَ إِحْدَى ثَلَاثٍ: فَإِنْ أَرَادَ الرَّابِعَةَ فَخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ: بَيْنَ أَنْ يَقْتَصَّ أَوْ يَعْفُوَ أَوْ يَأْخُذَ الْعَقْلَ فَإِنْ أَخَذَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ثُمَّ عَدَا بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ النَّارُ خَالِدًا فِيهَا مُخَلَّدًا أبدا . رَوَاهُ الدَّارمِيّ
ابوشریح خزاعی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس شخص کا کوئی عزیز قتل ہو جائے یا کوئی زخمی کر دیا جائے تو اسے تین میں سے ایک کا اختیار ہے ، اگر وہ چوتھی چیز کا ارادہ کر لے تو اس کے ہاتھ پکڑ لو ، وہ قصاص لے لے ، یا معاف کر دے یا دیت لے لے ۔ اگر اس نے اس میں سے کوئی چیز لے لی اور پھر اس کے بعد زیادتی کی تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۲ / ۱۸۸ ح ۲۳۵۶) [و ابن ماجہ (۲۶۲۳) و ابوداؤد (۴۴۹۶)] * سفیان بن ابی العوجاء : ضعیف و لبعض الحدیث شاھد حسن عند احمد (۴ / ۳۲ ح ۱۶۴۹۲) ۔
3477
Zaeef
وَعَن طَاوُوس عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّةٍ فِي رَمْيٍ يَكُونُ بَيْنَهُمْ بِالْحِجَارَةِ أَوْ جَلْدٍ بِالسِّيَاطِ أَوْ ضَرْبٍ بِعَصًا فَهُوَ خَطَأٌ عقله الْخَطَأِ وَمَنْ قَتَلَ عَمْدًا فَهُوَ قَوَدٌ وَمَنْ حَالَ دُونَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَغَضَبُهُ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
طاؤس ، ابن عباس ؓ سے اور وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص بلوے میں مارا جائے ، مثلاً لڑنے والے ایک دوسرے پر پتھر پھینک رہے تھے یا کوڑے مار رہے تھے یا لاٹھیاں برسا رہے تھے تو وہ قتلِ خطا ہے اور اس کی دیت ، دیتِ خطا کی مثل ہو گی ۔ اور جس نے عمداً قتل کیا تو وہ (قاتل) قابل قصاص ہے ، اور جو شخص اس (قصاص) کے درمیان حائل ہو جائے ، اس پر اللہ کی لعنت اور اس کا غضب ہے ، اس سے نہ تو نفل قبول ہو گا اور نہ فرض ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ ابوداؤد (۴۵۳۹) و النسائی (۸ / ۳۹ ح ۴۷۹۳ ۔ ۴۷۹۴) ۔
3478
Sahih
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا أُعْفِي مَنْ قَتَلَ بعدَ أَخذ الديةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں ، دیت لینے کے بعد قتل کرنے والے کو معاف نہیں کروں گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۴۵۰۷) * الحسن البصری مدلس و عنعن و فیہ علۃ أخری ۔
3479
Zaeef
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ رَجُلٍ يُصَابُ بِشَيْءٍ فِي جَسَدِهِ فَتَصَدَّقَ بِهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهِ دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ خَطِيئَة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس شخص کے جسم میں کوئی زخم لگ جائے اور وہ معاف کر دے تو اس کی وجہ سے اللہ اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے اور اس کی ایک خطا معاف فرما دیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۳۹۳ وقال : غریب) و ابن ماجہ (۲۶۹۳) * ابو السفر ثقہ لکنہ ارسل عن ابی الدرداء رضی اللہ عنہ ، کذافی التھذیب وغیرہ ۔
3480
Zaeef
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخطاب قَتَلَ نَفَرًا خَمْسَةً أَوْ سَبْعَةً بِرَجُلٍ وَاحِدٍ قَتَلُوهُ قَتْلَ غِيلَةٍ وَقَالَ عُمَرُ: لَوْ تَمَالَأَ عَلَيْهِ أَهْلُ صَنْعَاءَ لَقَتَلْتُهُمْ جَمِيعًا. رَوَاهُ مَالِكٌ
سعید بن مسیّب ؒ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے ایک آدمی کے قتل کے بدلے میں پانچ یا سات آدمیوں کو قتل کیا انہوں نے اسے دھوکے سے قتل کیا تھا ، اور عمر ؓ نے فرمایا : اگر اس کے قتل پر صنعاء کے تمام لوگ مجتمع ہوتے تو میں (اس کے بدلے میں) سب کو قتل کر دیتا ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ مالک (۲ / ۸۷۱ ح ۱۶۸۸) * رجالہ ثقات و سعید بن المسیب سمع من عمر رضی اللہ عنہ ۔
3481
Sahih
وروى البُخَارِيّ عَن ابْن عمر نَحوه
امام بخاری ؒ نے اسی کی مثل ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے ۔ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۶۸۹۶) ۔
3482
Sahih
وَعَن جُنْدبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي فُلَانٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِقَاتِلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ: سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي؟ فَيَقُولُ: قَتَلْتُهُ عَلَى مُلْكِ فُلَانٍ . قَالَ جُنْدُبٌ: فاتَّقِها. رَوَاهُ النَّسَائِيّ
جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، فلاں شخص نے مجھے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روز قیامت مقتول اپنے قاتل کو لے کر آئے گا اور وہ کہے گا : (رب جی !) اس سے پوچھیں کہ اس نے مجھے قتل کیوں کیا ؟ تو وہ کہے گا : میں نے اسے فلاں کی سلطنت / فلاں کی نصرت پر قتل کیا ۔‘‘ جندب ؓ نے فرمایا : ظالم کی اعانت سے بچو ۔ صحیح ، رواہ النسائی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ النسائی (۷ / ۸۴ ح ۴۰۰۳) ۔
3483
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَعَانَ عَلَى قَتْلِ مُؤْمِنٍ شَطْرَ كَلِمَةٍ لَقِيَ اللَّهَ مَكْتُوبٌ بينَ عينيهِ آيسٌ من رَحْمَة الله» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے کسی مومن کے قتل پر تھوڑی سی بات کے برابر بھی مدد کی تو وہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے مابین لکھا ہو گا :’’ اللہ کی رحمت سے ناامید ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ (۲۶۲۰) * یزید الشامی : منکر الحدیث ، و للحدیث شواھد ضعیفۃ عند البیھقی (۸ / ۲۲) وغیرہ ۔
3484
Zaeef
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَمْسَكَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ وَقَتَلَهُ الْآخَرُ يُقْتَلُ الَّذِي قتَل ويُحبسُ الَّذِي أمْسَكَ» . رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيّ
ابن عمر ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب آدمی کسی آدمی کو پکڑ کر رکھے اور دوسرا آدمی اسے قتل کر دے تو قاتل کو قتل کیا جائے گا اور پکڑنے والے کو قید کیا جائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارقطنی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارقطنی (۳ / ۱۴۰ ح ۳۲۴۳) [و البیھقی (۸ / ۵۰ وقال : ھذا غیر محفوظ) * سفیان الثوری مدلس و عنعن و فی السند علۃ أخری ۔
3485
Zaeef