TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5667 - بَاب صفةالنار وَأَهْلهَا - قیامت کے احوال اور دوبارہ اٹھائے جانے کا بیان - Mishkat in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 29 in this chapter
بَاب صفةالنار وَأَهْلهَا
جہنم اور جہنم والوں کا بیان
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا مَنْ لَهُ نَعْلَانِ وَشِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ كَمَا يَغْلِي الْمِرْجَلُ مَا يُرَى أَنَّ أَحَدًا أَشَدُّ مِنْهُ عَذَابًا وَإِنَّهُ لَأَهْوَنُهُمْ عَذَابًا» . مُتَّفق عَلَيْهِ
نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جہنم والوں میں سے جس شخص کو سب سے ہلکا عذاب ہو گا ، وہ شخص وہ ہو گا جس کے جوتے اور تسمے آگ کے ہوں گے ، جن کی وجہ سے اس کا دماغ اس طرح کھولتا ہو گا جس طرح ہنڈیا کھولتی ہے ،‘‘ وہ یہ خیال کرے گا کہ کسی شخص کو اس سے زیادہ عذاب نہیں ہو رہا حالانکہ وہ سب سے ہلکے عذاب میں مبتلا ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
5667
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
(مُتَّفق عَلَيْهِ)
Conclusion
تخریج
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۵۶۱ ۔ ۶۵۶۲) و مسلم (۳۶۴ / ۲۱۳) ۔ 517

Related Chapters

217
1
جہنم والوںکی تعداد اور ان میں سے بعض کی علامات
Musnad Ahmad
2
جنت اور جہنم کا تذکرہ جنت اور جہنم والوں کا بیان
Musnad Ahmad
3
جہنم والوں اور ان کی صفات کا بیان
Musnad Ahmad
4
Chapter: The Most Affluent Of People In This World Will Be Dipped In The Fire, And The Most Destitute Will Be Dipped In Paradise
دنیاوالوں میں سب سے زیادہ نعمتوں والے کو جہنم میں ایک ڈبکی لگانا اور ان میں سب سے زیادہ تکلیف اٹھانے والے کو جنت(کی نہروں) میں ایک غوطہ لگانا
Sahih Muslim
5
(31)Chapter: What Has Been Related About: Protect The Heels From The Fire.
باب: وضو میں ایڑیاں دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About: For The People OF Every Land There Is A Sighting
باب: ہر شہر والوں کے لیے انہیں کے چاند دیکھنے کا اعتبار ہو گا
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About Preparing Food For The Family OF The Deceased
باب: میت کے گھر والوں کے لیے کھانا پکانے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Meet The Owners Of The Goods
باب: مال بیچنے والوں سے بازار میں پہنچنے سے پہلے جا کر ملنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About The One Who Gives A Bribe And The One Who Takes A Bribe For Judgement
باب: فیصلے میں رشوت دینے اور لینے والوں پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About One Who Kills A Mu'ahid
باب: ذمی اور معاہدہ والوں کے قاتل کے بارے میں وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About The Two Who Shun Each Other
باب: دو باہم قطع تعلق کرنے والوں کا بیان
Jam e Tirmazi
12
باب: اللہ تعالیٰ نے جنتیوں اور جہنمیوں کو اپنی کتاب میں لکھ رکھا ہے
Jam e Tirmazi
13
باب: جنتی ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور جہنمی ہمیشہ جہنم میں رہیں گے
Jam e Tirmazi
14
باب: جنت ناپسندیدہ اور تکلیف دہ چیزوں سے اور جہنم شہوتوں سے گھری ہوئی ہے
Jam e Tirmazi
15
باب: جنت اور جہنم کے درمیان مناظرے کا بیان
Jam e Tirmazi
16
باب: جہنم کا بیان
Jam e Tirmazi
17
باب: جہنم کی گہرائی کا بیان
Jam e Tirmazi
18
باب: جہنمیوں کے موٹاپے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
باب: جہنمیوں کے مشروب کا بیان
Jam e Tirmazi
20
باب: جہنمیوں کی غذا کا بیان
Jam e Tirmazi
21
باب: دنیا کی آگ جہنم کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے
Jam e Tirmazi
22
باب: جہنم کے لیے دو سانس ہیں اور جہنم سے موحدین باہر نکالے جائیں گے
Jam e Tirmazi
23
باب: جہنم میں اکثریت عورتوں کی ہو گی
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About Exhortation Regarding One Who Seeks Knowledge
باب: علم (دین) حاصل کرنے والوں کے ساتھ خیر خواہی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: Whoever Calls To Guidance And Is Followed Or To Misguidance
باب: ہدایت اور گمراہی کی طرف بلانے والوں کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related Concerning The Group That Sits to Remember Allah The Mighty And Sublime, What Virtues They Have
باب: ایک جگہ بیٹھ کر ذکر الٰہی کرنے والوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
27
باب:: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے اور آپ کے ساتھ رہنے والوں کے مناقب و فضائل کا بیان​
Jam e Tirmazi
28
باب: بیعت رضوان والوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
29
باب: صحابہ کی شان میں گستاخی اور بےادبی کرنے والوں کا بیان
Jam e Tirmazi
30
بَاب قتل أهل الرِّدَّة والسعاة بِالْفَسَادِ
مرتدوں اور فساد پھیلانے والوں کو قتل کرنے کا بیان
Mishkat
31
بَابِ مَنَاقِبِ أَهْلِ
رسول اللہ ﷺ کے گھر والوں کے مناقب کا بیان
Mishkat
32
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
Musnad Ahmad
33
تقدیر کو جھٹلانے والوں سے قطع تعلقی کرنے اور ان پر سختی کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
34
ان لوگوں کی دلیل کا بیان کہ جنھوں نے تارکِ نماز کو کافر نہیں قرار دیا اور اس کے لیے وہی امید رکھی جو کبیرہ گناہوں والوں کے لیے رکھی جاتی ہے
Musnad Ahmad
35
اذان، اذان کہنے والوں اور اماموں کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
36
مساجد میں بیٹھنے اور ان کی طرف جانے کی فضیلت اور ان سے قریب محلے والوں کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
37
قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں اور قبروں کو سجدہ گاہ بنانے والوں اور ان پر چراغ جلانے والوں پر لعنت کا بیان
Musnad Ahmad
38
اس بات کا بیان کہ جب ایک علاقے میں چاند نظر آ جائے اور دوسرے میں نہ آئے تو کیا دوسرے علاقے والوں کے لیے روزہ رکھنا لازم ہو گا یا نہیں؟
Musnad Ahmad
39
سفر میں روزہ نہ رکھنے کو افضل قرار دینے والوں کے دلائل کا بیان
Musnad Ahmad
40
ہر وقت میں طواف کے جائز ہونے کا اور بعض اوقات میں اس کو مکروہ سمجھنے والوں کا بیان
Musnad Ahmad
41
اونٹ کا دس افراد کو، گائے کا سات افراد کو اور ایک بکری کا ایک گھر والوں کو بطورِ قربانی کفایت کرنا
Musnad Ahmad
42
میت کی وصیت کی بناء پر اس کی طرف سے قربانی کرنا اور قربانی کا گوشت اچکنے کی اجازت دینے والوں کا اور اچک لینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
43
اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت
Musnad Ahmad
44
بحری جہاد کرنے والوں کی فضیلت
Musnad Ahmad
45
شہداء کا جامع تذکرہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے علاوہ شہداء کی اقسام کا بیان
Musnad Ahmad
46
اس امر کا بیان کہ لشکر والوں پر ان کے امیر کی اطاعت فرض ہے، جب تک وہ ان کو نافرمانی کا حکم نہ دے اور پڑاؤ ڈالتے وقت بکھر جانے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
47
نیند کے لیے لیٹنے کی کیفیت اور لیٹنے کا ارادہ رکھنے والے سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان اور جہنمی لوگوں کی طرح لیٹنے اور اس جیسے دوسرے امور کی ممانعت
Musnad Ahmad
48
سینگی لگانے والوں، لونڈیوں، قصاب اور سنار وغیرہ کی کمائی کا بیان
Musnad Ahmad
49
ٹیکس وصول کرنے والوں اور سرداروں کی کمائی کا بیان
Musnad Ahmad
50
خریدوفروخت کرنے والوں کے مابین اختلاف ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

426
Sahih Muslim
517
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا مَنْ لَهُ نَعْلَانِ وَشِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ، يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ كَمَا يَغْلِ الْمِرْجَلُ، مَا يَرَى أَنَّ أَحَدًا أَشَدُّ مِنْهُ عَذَابًا وَإِنَّهُ لَأَهْوَنُهُمْ عَذَابًا»
Nu'man b. Bashir reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Verily the least suffering for the inhabitants of Fire would be for him who would have two shoes and two laces of Fire (on his feet), and with these would boil his brain as boils the cooking vessel, and he would think that he would not see anyone in a more grievous torment than him, whereas he would be in the least torment.
شعبہ کے بجائے ) اعمش نے ابو اسحاق سے ، انہو ں نے حضرت نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’دوزخیوں میں سے سب سے ہلکے عذاب والا شخص وہ ہو گا جس کےدونوں جوتے اور دونوں تسمے آگے کے ہوں گے ، ان سے اس کا دماغ اس طرح کھولے گا جس طرح ہنڈیا کھولتی ہے ، وہ نہیں سمجھے گا کہ کوئی بھی اس سے زیادہ عذاب میں ہے ، حالانکہ حقیقت میں وہ ان سب میں سے ہلکے عذاب میں ہو گا ۔ ‘ ‘
Sahih Bukhari
6562
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ : رَجُلٌ عَلَى أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَتَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ كَمَا يَغْلِي الْمِرْجَلُ وَالْقُمْقُمُ .
Narrated An-Nu`man bin Bashir: I heard the Prophet saying, The least punished person of the (Hell) Fire people on the Day of Resurrection will be a man under whose arch of the feet two smoldering embers will be placed, because of which his brain will boil just like Al-Mirjal (copper vessel) or a Qum-qum (narrow-necked vessel) is boiling with water.
ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، ان سے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن دوزخیوں میں عذاب کے اعتبار سے سب سے ہلکا عذاب پانے والا وہ شخص ہو گا جس کے دونوں پیروں کے نیچے دو انگارے رکھ دئیے جائیں گے جن کی وجہ سے اس کا دماغ کھول رہا ہو گا جس طرح ہانڈی اور کیتلی جوش کھاتی ہے۔
Jam e Tirmazi
2604
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ فِي أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَتَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وفي الباب عن الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ.
An-Numan bin Bashir narrated that the Messenger Of Allah (s.a.w) said: Indeed the person among the inhabitants of the Fire punished least [on the Day of Judgment] is a man who has two coals beneath his feet, which cause his brain to boil.
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے ہلکا عذاب والا وہ جہنمی ہو گا جس کے تلوے میں دو انگارے ہوں گے جن سے اس کا دماغ کھول رہا ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عباس بن عبدالمطلب، ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Sahih Muslim
514
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَنْتَعِلُ بِنَعْلَيْنِ مِنْ نَارٍ، يَغْلِي دِمَاغُهُ مِنْ حَرَارَةِ نَعْلَيْهِ»
Abu Sa'id al-Khudri reported: Verily, the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: The least tormented of the inhabitants of the Fire would be he who would wear two shoes of Fire and his brain would boil on account of the heat of the shoes.
حضرت ابو سعیدخدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اہل جہنم میں سے سب سے کم عذاب میں وہ ہو گا جو آگ کی دو جوتیاں پہنے ہوگا ، اس کی جوتیوں کی گرمی سے اس کا دماغ کھولے گا ۔ ‘ ‘
Musnad Ahmad
13014
۔ (۱۳۰۱۴)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ سَمِعْتُ یَعْقُوْبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَۃَ بْنِ مَسْعُوْدٍ سَمِعْتُ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو (یَعْنِی ابْنَ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) اِنَّکَ تَقُوْلُ: اِنَّ السَّاعَۃَ تَقُوْمُ اِلٰی کَذَا وَکَذَا، قَالَ: لَقَدْ ھَمَمْتُ اَنْ لَّا اُحَدِّثَکُمْ شَیْئًا، اِنَّمَا قُلْتُ: اِنَّکُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدَ قَلِیْلٍ اَمْرًا عَظِیْمًا کَانَ تَحْرِیْقَ الْبَیْتِ قَالَ شُعْبَۃُ: ہٰذَا اَوْ نَحْوَہُ ثُمَّ قَالَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِی اُمَّتِیْ فَیَلْبَثُ فِیْہِمْ اَرْبَعِیْنَ، لَا اَدْرِیْ اَرْبَعِیْنَیَوْمًا اَوْ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً اَوْ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً اَوْ اَرْبَعِیْنَشَہْرًا، فَیَبْعَثُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عِیْسٰی بْنَ مَرْیَمَ علیہ السلام کَاَنَّہُ عُرْوَۃُ بْنُ مَسْعُوْدِ نِ الثَّقَفِیُّ فَیَظْہَرُ فَیُہْلِکُہُ ثُمَّ یَلْبَثُ النَّاسُ بَعْدَہُ سِنِیْنَ سَبْعًا، لَیْسَ بَیْنِ اثْنَیْنِ عَدَاوَۃٌ، ثُمَّ یُرْسِلُ اللّٰہُ رِیْحًابَارِدَۃً مِنْ قِبَلِ الشَّامِ، فَلَایَبْقٰی اَحَدٌ فِیْ قَلْبِہِ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنْ اِیْمَانٍ اِلَّا قَبَضَتْہُ حَتّٰی لَوْ اَنَّ اَحَدَھُمْ کَانَ فِیْ کَبِدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْ عَلَیْہِ، قَالَ: سَمِعْتُہَا مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَیَبْقٰی شِرَارُ النَّاسِ فِیْ خِفَّۃِ الطَّیْرِ وَاَحْلَامِ السِّبَاعِ لَایَعْرِفُوْنَ مَعْرُوْفًا وَلَایُنْکِرُوْنَ مُنْکَرًا قَالَ: فَیَتَمَثَّلُ لَھُمُ الشَّیْطَانُ فَیَقُوْلُ: اَلَا تَسْتَجِیْبُوْنَ فَیَاْمُرُھُمْ بِالْاَوْثَانِ، فَیَعْبُدُوْنَہَا وَھُمْ فِیْ ذٰلِکَ دَارَّۃٌ اَرْزَاقُہُمْ، حَسَنٌ عَیْشُہُمْ، ثُمَّ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَلَایَسْمَعُہُ اَحَدٌ اِلَّااَصْغٰی لَہُ وَاَوَّلُ مَنْ یَّسْمَعُہُ رَجُلٌ یَلُوْطُ حَوْضَہُ فَیَصْعَقُ، ثُمَّ لَا یَبْقٰی اَحَدٌ اِلَّا فَیَصْعَقُ، ثُمَّ یُرْسِلُ اللّٰہُ اَوْ یُنْزِلُ اللّٰہُ قَطَرًا کَاَنَّہُ الطَّلُّ اَوِ الظِّلُّ( نُعْمَانُ الشَّاکُ) فَتَنْبُتُ مِنْہُ اَجْسَادُ النَّاسِ ثُمَّ یُنْفَخُ فِیْہِ اُخْرٰی فَاِذَا ھُمْ قِیَامٌیَّنْظُرُوْنَ، قَالَ: ثُمَّ یُقَالُ: یَااَیُّہَا النَّاسُ! ھَلُمُّوْا اِلٰی رَبِّکُمْ {وَقِفُوْھُمْ اِنَّہُمْ مَسْئُوْلُوْنَ} قَالَ: ثُمَّ یُقَالُ: اَخْرِجُوْا بَعْثَ النَّارِ، قَالَ: فَیُقَالُ: کَمْ؟ فَیُقَالُ مِنْ کُلِّ اَلْفٍ تِسْعُمِائَۃٍ وَتِسْعَۃٌ وَّتِسْعِیْنَ، فَیَوْمَئِذٍیُبَعَثُ الْوِلْدَانُ شَیْبًا وَیَوْمَئِذٍیُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ۔)) قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ: حَدَّثَنِیْ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ شُعَبْۃُ مَرَّاتٍ وَعَرَضْتُ عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۶۵۵۵)
یعقوب بن عاصم کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی کو سنا، وہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہہ رہا تھا کہ آپ کہتے ہیں کہ قیامت فلاں وقت تک قائم ہوجائے گا؟ اس کی بات سن کر سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میرا جی چاہتا ہے کہ میں آپ لوگوں کو کوئی چیز بیان نہ کروں۔ میں نے تو کہا تھا کہ تم کچھ عرصہ بعد ایک بہت بڑا حادثہ دیکھو گے اور وہ بیت اللہ کی آتش زدگی کی صورت میں ظاہر ہو چکا ہے،اس کے بعد سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ رسول اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میری امت میں دجال رونما ہوگا اور وہ چالیس رہے گا، یہ مجھے یاد نہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چالیس دن کہا یا چالیس سال یا چالیس مہینے یا چالیس راتیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے بعد اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو بھیجے گا، ان کا حلیہ عروہ بن مسعود ثقفی سے ملتا ہو گا، وہ آکر دجال کو قتل کریں گے، اس کے بعد مسلمان سات برس اس طرح گزاریں گے کہ کوئی سے دو مسلمانوں کے درمیان بھی عداوت نہیں ہوگی، پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا بھیجے گا، جس آدمی کے دل میں ذرہ بھر ایمان ہوگا، وہ اس ہوا کی وجہ سے فوت ہو جائے گا، یہاں تک کہ اگر کوئی مومن مسلمان پہاڑوں کے اندر بھی ہوا تو وہ ہوا وہاں بھی جا پہنچے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ساری بات میں نے رسول اللہ تعالیٰ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے خود سنی ہیں، اس کے بعد شریر ترین اور بد ترین لوگ باقی بچ جائیں گے، جن کا طرز عمل اور عقل پرندوں اور درندوں کی سی ہوگی، جو کسی اچھائی اور برائی میں تمیز نہیں کرتے ہوں گے۔ شیطان ان کے لیے انسانی شکل میں نمودار ہو کر ان سے کہے گا: تم میری بات کیوں نہیں مانتے، پھر وہ انہیں بتوں کی پوجا پاٹ کا کہے گا، چنانچہ وہ لوگ بتوں کی پرستش شروع کردیں گے۔ ان دنوں ان کے پاس رزق وافر اور زندگی خوش حال ہوگی، اس کے بعد صور پھونکا جائے گا، اس کی دہشت اور اثر اس قدر ہو گا کہ جو بھی اس کی آواز سنے گا وہ وہیں ڈھیر ہوجائے گا، سب سے پہلے اس کی آواز سننے والا آدمی اپنے حوض کی مرمت کر رہا ہو گا اور وہ وہیں گر جائے گا، اس کے بعد سب لوگ گرتے چلے جائیں گے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ خوب بارش نازل فرمائے گا، اس کے اثر سے لوگوں کے اجسام اگیں گے، اس کے بعد پھر صور پھونکا جائے گا، لوگ دیکھتے بھالتے اٹھ کھڑے ہوں گے، پھر لوگوں سے کہا جائے گا: اپنے ربّ کی طرف آجاؤ، اور فرشتوں سے کہا جائے گا۔ {وَقِفُوْھُمْ اِنَّہُمْ مَسْئُوْلُوْنَ} (سورۂ صافات: ۲۴) (اور انہیں کھڑا کر دو، اب ان سے پوچھ گچھ ہوگی۔)۔ پھر کہا جائے گا کہ جہنم کا حصہ ایک طرف کردو۔ پوچھا جائے گا کہ وہ کتنا ہے؟ جواباً کہا جائے گا کہ ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے، اس وقت اس قدر دہشت ہو گی کہ کم سن بچے بوڑھے بن جائیں گے، اور اس دن (اللہ تعالیٰ کی) پنڈلی پر سے حجاب اٹھا لیا جائے گے۔ محمدبن جعفر کہتے ہیں: شعبہ نے یہ حدیث کئی مرتبہ مجھے بیان کی اور میںنے بھی اس کے سامنے اس کی قراء ت کی۔
Sahih Bukhari
60
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : تَخَلَّفَ عَنَّا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفْرَةٍ سَافَرْنَاهَا ، فَأَدْرَكَنَا وَقَدْ أَرْهَقَتْنَا الصَّلَاةُ وَنَحْنُ نَتَوَضَّأُ ، فَجَعَلْنَا نَمْسَحُ عَلَى أَرْجُلِنَا ، فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ : وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا .
Narrated `Abdullah bin `Amr: Once the Prophet remained behind us in a journey. He joined us while we were performing ablution for the prayer which was over-due. We were just passing wet hands over our feet (and not washing them properly) so the Prophet addressed us in a loud voice and said twice or thrice: Save your heels from the fire.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے ابوبشر سے بیان کیا، انہوں نے یوسف بن ماہک سے، انہوں نے عبداللہ بن عمرو سے، انہوں نے کہا ایک سفر میں جو ہم نے کیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے پیچھے رہ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے اس وقت ملے جب ( عصر کی ) نماز کا وقت آن پہنچا تھا ہم ( جلدی جلدی ) وضو کر رہے تھے۔ پس پاؤں کو خوب دھونے کے بدل ہم یوں ہی سا دھو رہے تھے۔ ( یہ حال دیکھ کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے پکارا دیکھو ایڑیوں کی خرابی دوزخ سے ہونے والی ہے دو یا تین بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یوں ہی بلند آواز سے ) فرمایا۔
Sahih Bukhari
1156
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ : رَأَيْتُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّ بِيَدِي قِطْعَةَ إِسْتَبْرَقٍ فَكَأَنِّي لَا أُرِيدُ مَكَانًا مِنَ الْجَنَّةِ إِلَّا طَارَتْ إِلَيْهِ ، وَرَأَيْتُ كَأَنَّ اثْنَيْنِ أَتَيَانِي أَرَادَا أَنْ يَذْهَبَا بِي إِلَى النَّارِ ، فَتَلَقَّاهُمَا مَلَكٌ , فَقَالَ : لَمْ تُرَعْ خَلِّيَا عَنْهُ .
Narrated Nafi`: Ibn `Umar said, In the lifetime of the Prophet I dreamt that a piece of silk cloth was in my hand and it flew with me to whichever part of Paradise I wanted. I also saw as if two persons (i.e. angels) came to me and wanted to take me to Hell. Then an angel met us and told me not to be afraid. He then told them to leave me.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ خواب دیکھا کہ گویا ایک گاڑھے ریشمی کپڑے کا ایک ٹکڑا میرے ہاتھ ہے۔ جیسے میں جنت میں جس جگہ کا بھی ارادہ کرتا ہوں تو یہ ادھر اڑا کے مجھ کو لے جاتا ہے اور میں نے دیکھا کہ جیسے دو فرشتے میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے دوزخ کی طرف لے جانے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ ایک فرشتہ ان سے آ کر ملا اور ( مجھ سے ) کہا کہ ڈرو نہیں ( اور ان سے کہا کہ ) اسے چھوڑ دو۔
Sahih Bukhari
4628
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ سورة الأنعام آية 65 ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَعُوذُ بِوَجْهِكَ ، قَالَ : أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ ، قَالَ : أَعُوذُ بِوَجْهِكَ ، أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ سورة الأنعام آية 65 ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا أَهْوَنُ أَوْ هَذَا أَيْسَرُ .
Narrated Jabir: When this Verse was revealed: Say: He has power to send torment on you from above. (6.65) Allah's Messenger said, O Allah! I seek refuge with Your Face (from this punishment). And when the verse: or send torment from below your feet, (was revealed), Allah's Messenger said, (O Allah!) I seek refuge with Your Face (from this punishment). (But when there was revealed): Or confuse you in party strife and make you to taste the violence of one another. (6.65) Allah's Messenger said, This is lighter (or, this is easier).
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب یہ آیت «قل هو القادر على أن يبعث عليكم عذابا من فوقكم‏» نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! میں تیرے منہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ پھر یہ اترا «أو من تحت أرجلكم‏» آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یا اللہ! میں تیرے منہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ پھر یہ اترا «أو يلبسكم شيعا ويذيق بعضكم بأس بعض‏» اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ پہلے عذابوں سے ہلکا یا آسان ہے۔
Sahih Bukhari
6558
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ بِالشَّفَاعَةِ كَأَنَّهُمُ الثَّعَارِيرُ ، قُلْتُ : مَا الثَّعَارِيرُ ؟ قَالَ : الضَّغَابِيسُ ، وَكَانَ قَدْ سَقَطَ فَمُهُ ، فَقُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَبَا مُحَمَّدٍ : سَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : يَخْرُجُ بِالشَّفَاعَةِ مِنَ النَّارِ ، قَالَ : نَعَمْ .
Narrated Hammad from `Amr from Jabir: The Prophet said, Some people will come out of the Fire through intercession looking like The Thaarir. I asked `Amr, What is the Thaarir? He said, Ad Dagh`Abis, and at that time he was toothless. Hammad added: I said to `Amr bin Dinar, O Abu Muhammad! Did you hear Jabir bin `Abdullah saying, 'I heard the Prophet saying: 'Some people will come out of the Fire through intercession? He said, Yes.
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل سدوسی نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کچھ لوگ دوزخ سے شفاعت کے ذریعہ نکلیں گے گویا کہ «ثعارير» ہوں۔“ حماد کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار سے پوچھا کہ «ثعارير» کیا چیز ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس سے مراد چھوٹی ککڑیاں ہیں اور ہوا یہ تھا کہ آخر عمر میں عمرو بن دینار کے دانت گر گئے تھے۔ حماد کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار سے کہا: اے ابومحمد! ( یہ عمرو بن دینار کی کنیت ہے ) کیا آپ نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے یہ سنا ہے؟ انہوں نے بیان کیا کہ ہاں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہنم سے شفاعت کے ذریعہ لوگ نکلیں گے؟ انہوں نے کہا ہاں بیشک سنا ہے۔