TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5764 - بَابُ فَضَائِلِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ - فضائل اور خصائل کا بیان - Mishkat in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 26 of 37 in this chapter
بَابُ فَضَائِلِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ
سید المرسلین ﷺ کے فضائل و مناقب کا بیان
وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَنَا قَائِدُ الْمُرْسَلِينَ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ شافعٍ وَمُشَفَّع وَلَا فَخر» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ میں تمام رسولوں کا قائد ہوں ، یہ بات میں ازراہِ فخر نہیں کہتا ، میں خاتم النبیین ہوں ، فخر سے نہیں کہتا ، میں سب سے پہلے سفارش کروں گا اور سب سے پہلے میری سفارش قبول کی جائے گی اور میں یہ بات ازراہِ فخر نہیں کہتا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔
5764
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Reference
حوالہ حکم
(ضَعِيف)
Conclusion
تخریج
سندہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۱ / ۲۷ ح ۵۰) * فیہ صالح بن عطاء بن خباب مجھول الحال وثقہ ابن حبان وحدہ و للحدیث شواھد صحیحۃ دون قولہ :’’ انا قائد المرسلین ‘‘ و اللہ اعلم ۔

Related Chapters

520
1
ان فضائل و مناقب کا تذکرہ جو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں مشترک ہیں
Musnad Ahmad
2
باب دوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فضائل اور ان کا اپنے اسلاف کی اقتداء کرنا
Musnad Ahmad
3
ٔٔباب دوم: پیچھے مناقب اہل بیت میں بیان کیے جانے والے فضائل کے علاوہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ایک مفصل وجامع حدیث
Musnad Ahmad
4
باب دوم: اہل بیت کے متعلق پہلے ذکر کردہ فضائل کے علاوہ سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور ان سے محبت کرنے والے سے محبت کا بیان
Musnad Ahmad
5
باب: ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے مناقب و فضائل کا بیان
Jam e Tirmazi
6
باب:: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے اور آپ کے ساتھ رہنے والوں کے مناقب و فضائل کا بیان​
Jam e Tirmazi
7
باب: قبائل غفار، اسلم، جہینہ اور مزنیہ کے فضائل و مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
8
باب: قبیلہ ثقیف اور بنی حنیفہ کے فضائل و مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
9
بَاب مَنَاقِب أبي بكر
حضرت ابوبکر ؓ کے مناقب و فضائل کا بیان
Mishkat
10
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے جبریل علیہ السلام کو دیکھنے، اُن کا اِن کوسلام کہنے اور ان کے دیگر فضائل کا بیان
Musnad Ahmad
11
سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فضائل اور اس کا بیان کہ وہ امہات المؤمنین میں سے ہیں، نیز اس چیز کی وضاحت کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی وجہ سے ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے تین ماہ تک مقاطعہ کر لیا تھا
Musnad Ahmad
12
انصار کے فضائل و مناقب
Musnad Ahmad
13
ان خصوصیات و فضائل کا بیان جو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں مشترک ہیں
Musnad Ahmad
14
ان فضائل کا ذکر جن میں سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر، سیدنا بلال، سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور دیگر فقراء مہاجرین شریک ہیں
Musnad Ahmad
15
سیدنا زید بن حارثہ، سیدنا جعفر بن ابی طالب، سیدنا عبداللہ بن رواحہ اور سیدنا خالد بن ولید کے مشترکہ مناقب کا تذکرہ
Musnad Ahmad
16
باب چہارم: مناقب صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جو مناسب بیان ہو چکے ہیں۔ ان کے علاوہ ان کے مزید مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت
Musnad Ahmad
17
باب دوم: سیدنا عثمان کے مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آزمائشوں کی طرف اشارہ کرنا اور ان میں ان کا حق پر ہونا
Musnad Ahmad
18
فصل دوم: سیدنا عثمان کا اللہ تعالیٰ کی کتاب کا مطیع ہونا، ان کا لوگوں کے سامنے عذر خواہی کرنااور لوگوں کے سامنے اس کی وضاحت کرنا اور ان کے مناقب
Musnad Ahmad
19
فصل دوم: سید نا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں متفرق احادیث
Musnad Ahmad
20
باب سوم: ان مناقب کا بیان، جن میں سیدنا حسن اور سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما مشترک ہیں
Musnad Ahmad
21
باب دوم: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب
Musnad Ahmad
22
فصل پنجم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان
Musnad Ahmad
23
(2) CHAPTER. The virtues ot tne emigrants (i.e., Muhajirun) and their merits.
مہاجرین کے مناقب اور فضائل کا بیان
Sahih Bukhari
24
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
Sunnan Ibn e Maja
25
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
Sunnan Ibn e Maja
26
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب۔
Sunnan Ibn e Maja
27
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
Sunnan Ibn e Maja
28
زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
Sunnan Ibn e Maja
29
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
Sunnan Ibn e Maja
30
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
Sunnan Ibn e Maja
31
عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب
Sunnan Ibn e Maja
32
ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
Sunnan Ibn e Maja
33
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
Sunnan Ibn e Maja
34
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
Sunnan Ibn e Maja
35
علی رضی اللہ عنہ کے بیٹوں حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے مناقب و فضائل
Sunnan Ibn e Maja
36
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
Sunnan Ibn e Maja
37
سلمان، ابوذر اور مقداد رضی اللہ عنہم کے مناقب و فضائل۔
Sunnan Ibn e Maja
38
بلال رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
Sunnan Ibn e Maja
39
خباب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
Sunnan Ibn e Maja
40
ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
Sunnan Ibn e Maja
41
سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
Sunnan Ibn e Maja
42
جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
Sunnan Ibn e Maja
43
اہل بدر کے مناقب و فضائل۔
Sunnan Ibn e Maja
44
انصار رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب۔
Sunnan Ibn e Maja
45
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مناقب و فضائل
Sunnan Ibn e Maja
46
قرآن سیکھنے اور سکھانے والوں کے فضائل و مناقب
Sunnan Ibn e Maja
47
علماء کے فضائل و مناقب اور طلب علم کی ترغیب و تشویق
Sunnan Ibn e Maja
48
علم دین کے مبلغ کے مناقب و فضائل
Sunnan Ibn e Maja
49
Chapter: : What Has Been Related About Keeping the Rows Straight
باب: صفوں کو سیدھی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About One Who Does Not Bring His Back To Rest While Bowing and Prostrating
باب: جو رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے اس کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

45
Jam e Tirmazi
598
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْنَا عَلِيًّا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّهَارِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّكُمْ لَا تُطِيقُونَ ذَاكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْنَا:‏‏‏‏ مَنْ أَطَاقَ ذَاكَ مِنَّا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَاهُنَا كَهَيْئَتِهَا مِنْ هَاهُنَا عِنْدَ الْعَصْرِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَاهُنَا كَهَيْئَتِهَا مِنْ هَاهُنَا عِنْدَ الظُّهْرِ صَلَّى أَرْبَعًا، ‏‏‏‏‏‏وَصَلَّى أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ وَقَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا يَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَالنَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ .
Asim bin Damrah said: We asked Ali about the prayer of the Messenger of Allah during the day. He said: 'You will not be able to do that.' We said: 'Whoever among is able (he will)?' So he said: 'When the sun appeared over there (east) like it appears here (west) at Asr, the Messenger of Allah would pray two Rak'ah, and when the sun appeared over there (east) like it appears here (west) at Zuhr, he would pray four Rak'ah. And he would pray four before Zuhr and two after it, and four before Asr separating between every two Rak'ah with At-Taslim upon the angels that are close (to Allah) and those who follow them among the believers, and the Muslims.
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ ہم نے علی رضی الله عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دن کی نماز کے بارے میں پوچھا؟ تو انہوں نے کہا: تم اس کی طاقت نہیں رکھتے، اس پر ہم نے کہا: ہم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج اس طرف ( یعنی مشرق کی طرف ) اس طرح ہو جاتا جیسے کہ عصر کے وقت اس طرف ( یعنی مغرب کی طرف ) ہوتا ہے تو دو رکعتیں پڑھتے، اور جب سورج اس طرف ( مشرق میں ) اس طرح ہو جاتا جیسے کہ اس طرف ( مغرب میں ) ظہر کے وقت ہوتا ہے تو چار رکعت پڑھتے، اور چار رکعت ظہر سے پہلے پڑھتے اور دو رکعت اس کے بعد اور عصر سے پہلے چار رکعت پڑھنے، ہر دو رکعت کے درمیان مقرب فرشتوں اور انبیاء و رسل پر اور مومنوں اور مسلمانوں میں سے جن لوگوں نے ان کی پیروی کی ہے ان پر سلام پھیر کر فصل کرتے۔
Jam e Tirmazi
3638
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي حَلِيمَةَ مِنْ قَصْرِ الْأَحْنَفِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، الْمَعْنَى وَاحِدٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى غُفْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ مِنْ وَلَدِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا وَصَفَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لَمْ يَكُنْ بِالطَّوِيلِ الْمُمَّغِطِ وَلَا بِالْقَصِيرِ الْمُتَرَدِّدِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ رَبْعَةً مِنَ الْقَوْمِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَكُنْ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلَا بِالسَّبِطِ، ‏‏‏‏‏‏كَانَ جَعْدًا رَجِلًا وَلَمْ يَكُنْ بِالْمُطَهَّمِ وَلَا بِالْمُكَلْثَمِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ فِي الْوَجْهِ تَدْوِيرٌ أَبْيَضُ مُشْرَبٌ، ‏‏‏‏‏‏أَدْعَجُ الْعَيْنَيْنِ أَهْدَبُ الْأَشْفَارِ، ‏‏‏‏‏‏جَلِيلُ الْمُشَاشِ وَالْكَتَدِ أَجْرَدُ ذُو مَسْرُبَةٍ، ‏‏‏‏‏‏شَثْنُ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏إِذَا مَشَى تَقَلَّعَ كَأَنَّمَا يَمْشِي فِي صَبَبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا الْتَفَتَ الْتَفَتَ مَعًا بَيْنَ كَتِفَيْهِ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ، ‏‏‏‏‏‏أَجْوَدُ النَّاسِ كَفَّا، ‏‏‏‏‏‏وَأَشْرَحُهُمْ صَدْرًا، ‏‏‏‏‏‏وَأَصْدَقُ النَّاسِ لَهْجَةً، ‏‏‏‏‏‏وَأَلْيَنُهُمْ عَرِيكَةً، ‏‏‏‏‏‏وَأَكْرَمُهُمْ عِشْرَةً، ‏‏‏‏‏‏مَنْ رَآهُ بَدِيهَةً هَابَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ خَالَطَهُ مَعْرِفَةً أَحَبَّهُ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ نَاعِتُهُ:‏‏‏‏ لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ الْأَصْمَعِيَّ يَقُولُ فِي تَفْسِيرِهِ صِفَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْمُمَّغِطُ الذَّاهِبُ طُولًا، ‏‏‏‏‏‏وَسَمِعْتُ أَعْرَابِيًّا يَقُولُ:‏‏‏‏ تَمَغَّطَ فِي نُشَّابَةٍ أَيْ مَدَّهَا مَدًّا شَدِيدًا، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا الْمُتَرَدِّدُ:‏‏‏‏ فَالدَّاخِلُ بَعْضُهُ فِي بَعْضٍ قِصَرًا، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا الْقَطَطُ فَالشَّدِيدُ الْجُعُودَةِ،‏‏‏‏ وَالرَّجِلُ الَّذِي فِي شَعْرِهِ حُجُونَةٌ أَيْ يَنْحَنِي قَلِيلًا، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا الْمُطَهَّمُ فَالْبَادِنُ الْكَثِيرُ اللَّحْمِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا الْمُكَلْثَمُ فَالْمُدَوَّرُ الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا الْمُشْرَبُ فَهُوَ الَّذِي فِي نَاصِيَتِهِ حُمْرَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْأَدْعَجُ الشَّدِيدُ سَوَادِ الْعَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْأَهْدَبُ الطَّوِيلُ الْأَشْفَارِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْكَتَدُ مُجْتَمَعُ الْكَتِفَيْنِ وَهُوَ الْكَاهِلُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمَسْرُبَةُ هُوَ الشَّعْرُ الدَّقِيقُ الَّذِي هُوَ كَأَنَّهُ قَضِيبٌ مِنَ الصَّدْرِ إِلَى السُّرَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّثْنُ الْغَلِيظُ الْأَصَابِعِ مِنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَالتَّقَلُّعُ أَنْ يَمْشِيَ بِقُوَّةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالصَّبَبُ الْحُدُورُ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ انْحَدَرْنَا فِي صَبُوبٍ وَصَبَبٍ وَقَوْلُهُ:‏‏‏‏ جَلِيلُ الْمُشَاشِ يُرِيدُ رُءُوسَ الْمَنَاكِبِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعِشْرَةُ الصُّحْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَشِيرُ الصَّاحِبُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْبَدِيهَةُ الْمُفَاجَأَةُ يُقَالُ بَدَهْتُهُ بِأَمْرٍ أَيْ فَجَأْتُهُ.
Narrated Ibrahim bin Muhammad, one of the offspring of 'Ali bin Abi Talib: said: When 'Ali [may Allah be pleased with him] described the Prophet (ﷺ) he would say: 'He was not extremely tall (Mummaghit), nor was he extremely short (Mutaraddid), and he was of medium height in relation to the people. The wave of his hair was not completely curly (Qatat), nor straight, but it was in between. He did not have a large head, nor a small head (Mukaltham), his face was round and a blended-white color (Mushrab), his eyes were dark black (Ad'aj), his eye-lashes were long (Ahdab). He was big-boned and broad shouldered (Al-Katad), his body hair was well-placed, and he had a Masrubah, his hands and feet were thick (Shathn). When he walked he walked briskly (Taqalla'), he leaned forward as if he was walking on a decline (Sabab). And if he turned his head, his body turned as well, between his two shoulders was the seal of Prophethood, and he was the seal of the Prophets. He was the most generous of people [in hand, and the most big-hearted of them] in breast. He was the most truthful of people in speech, the softest of them in nature, and the most noble of them in his relations ('Ishrah). Whoever saw him for the first time (Badihah) would fear him, and whoever got to know him, loved him. The one who tried to describe him would have to say: 'I have not seen before him or after him anyone who resembles him (ﷺ).'
ابراہیم بن محمد جو علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کی اولاد میں سے ہیں ان سے روایت ہے کہ علی رضی الله عنہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ بیان کرتے تو کہتے: نہ آپ بہت لمبے تھے نہ بہت پستہ قد، بلکہ لوگوں میں درمیانی قد کے تھے، آپ کے بال نہ بہت گھونگھریالے تھے نہ بالکل سیدھے، بلکہ ان دونوں کے بیچ میں تھے، نہ آپ بہت موٹے تھے اور نہ چہرہ بالکل گول تھا، ہاں اس میں کچھ گولائی ضرور تھی، آپ گورے سفید سرخی مائل، سیاہ چشم، لمبی پلکوں والے، بڑے جوڑوں والے اور بڑے شانہ والے تھے، آپ کے جسم پر زیادہ بال نہیں تھے، صرف بالوں کا ایک خط سینہ سے ناف تک کھنچا ہوا تھا، دونوں ہتھیلیاں اور دونوں قدم گوشت سے پُر تھے جب چلتے زمین پر پیر جما کر چلتے، پلٹتے تو پورے بدن کے ساتھ پلٹتے، آپ کے دونوں شانوں کے بیچ میں مہر نبوت تھی، آپ خاتم النبیین تھے، لوگوں میں آپ سب سے زیادہ سخی تھے، آپ کھلے دل کے تھے، یعنی آپ کا سینہ بغض و حسد سے آئینہ کے مانند پاک و صاف ہوتا تھا، اور سب سے زیادہ سچ بولنے والے، نرم مزاج اور سب سے بہتر رہن سہن والے تھے، جو آپ کو یکایک دیکھتا ڈر جاتا اور جو آپ کو جان اور سمجھ کر آپ سے گھل مل جاتا وہ آپ سے محبت کرنے لگتا، آپ کی توصیف کرنے والا کہتا: نہ آپ سے پہلے میں نے کسی کو آپ جیسا دیکھا ہے اور نہ آپ کے بعد۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، اس کی سند متصل نہیں ہے، ۲- ( نسائی کے شیخ ) ابو جعفر کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کی تفسیر میں اصمعی کو کہتے ہوئے سنا کہ «الممغط» کے معنی لمبائی میں جانے والے کے ہیں، میں نے ایک اعرابی کو سنا وہ کہہ رہا تھا «تمغط فی نشابة» یعنی اس نے اپنا تیر بہت زیادہ کھینچا اور «متردد» ایسا شخص ہے جس کا بدن ٹھنگنے پن کی وجہ سے بعض بعض میں گھسا ہوا ہو اور «قطط» سخت گھونگھریالے بال کو کہتے ہیں، اور «رَجِل» اس آدمی کو کہتے ہیں جس کے بالوں میں تھوڑی خمید گی ہو اور «مطہم» ایسے جسم والے کو کہتے ہیں جو موٹا اور زیادہ گوشت والا ہو اور «مکلثم» جس کا چہرہ گول ہو اور «مشدب» وہ شخص ہے جس کی پیشانی میں سرخی ہو اور «ادعج» وہ شخص ہے جس کے آنکھوں کی سیاہی خوب کالی ہو اور «اہدب» وہ ہے جس کی پلکیں لمبی ہوں اور «کتد» دونوں شانوں کے ملنے کی جگہ کو کہتے ہیں اور «مسربة» وہ باریک بال ہیں جو ایک خط کی طرح سینہ سے ناف تک چلے گئے ہوں اور «شثن» وہ شخص ہے جس کے ہتھیلیوں اور پیروں کی انگلیاں موٹی ہوں، اور «تقلع» سے مراد پیر جما جما کر طاقت سے چلنا ہے اور «صبب» اترنے کے معنی میں ہے، عرب کہتے ہیں «انحدر نافی صبوب وصبب» یعنی ہم بلندی سے اترے «جلیل المشاش» سے مراد شانوں کے سرے ہیں، یعنی آپ بلند شانہ والے تھے، اور «عشرة» سے مراد رہن سہن ہے اور «عشیرہ» کے معنیٰ رہن سہن والے کے ہیں اور «بدیھة» کے معنی یکایک اور یکبارگی کے ہیں، عرب کہتے ہیں «بَدَهْتُهُ بِأَمْرٍ» میں ایک معاملہ کو لے کر اس کے پاس اچانک آیا۔
Jam e Tirmazi
3664
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ إِلَّا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ،‏‏‏‏ لَا تُخْبِرْهُمَا يَا عَلِيُّ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.
Narrated Anas: that the Messenger of Allah (ﷺ) said about Abu Bakr and 'Umar: These two are the masters of the elder people among the inhabitants of Paradise. From the first ones and the last ones, not including the Prophets and the Messengers. But do not inform them O 'Ali.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے سلسلہ میں فرمایا: ”یہ دونوں جنت کے ادھیڑ عمر والوں کے سردار ہوں گے، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے انبیاء و مرسلین کے، ( آپ نے فرمایا: ) ”علی ان دونوں کو اس بات کی خبر مت دینا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Jam e Tirmazi
3665
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقَّرِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ طَلَعَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ،‏‏‏‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ إِلَّا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ، ‏‏‏‏‏‏يَا عَلِيُّ لَا تُخْبِرْهُمَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقَّرِيُّ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَسْمَعْ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ مِنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَلِيٍّ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ،‏‏‏‏ وَابْنِ عَبَّاسٍ.
Narrated 'Ali bin Abi Talib: I was with the Messenger of Allah (ﷺ), and Abu Bakr and 'Umar came up (in discussion), so the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'These two are the masters of the elder people among the inhabitants of Paradise. From the first ones and the last ones, not including the Prophets and the Messengers. But do not inform them O 'Ali.'
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اچانک ابوبکر و عمر رضی الله عنہما نمودار ہوئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دونوں جنت کے ادھیڑ عمر کے لوگوں کے سردار ہیں، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے انبیاء و مرسلین کے لیکن علی! تم انہیں نہ بتانا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- ولید بن محمد موقری حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں اور علی بن حسین نے علی سے نہیں سنا ہے، ۳- علی رضی الله عنہ سے یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی آئی ہے، ۴- اس باب میں انس اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
3666
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ ذَكَرَ دَاوُدُ،‏‏‏‏ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ مَا خَلَا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ، ‏‏‏‏‏‏لَا تُخْبِرْهُمَا يَا عَلِيُّ .
Narrated 'Ali: that the Prophet (ﷺ) said: Abu Bakr and 'Umar are the masters of the elder people among the inhabitants of Paradise, from the first ones and the last ones, not including the Prophets and the Messengers. Do not inform them O 'Ali.
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر و عمر جنت کے ادھیڑ عمر کے لوگوں کے سردار ہیں، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے نبیوں اور رسولوں کے، لیکن علی! تم انہیں نہ بتانا“۔
Mishkat
249
عَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ جَاءَهُ الْمَوْتُ وَهُوَ يَطْلُبُ الْعِلْمَ لِيُحْيِيَ بِهِ الْإِسْلَامَ فَبَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّينَ دَرَجَةٌ وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ
حسن بصری ؒ مرسل روایت بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کو احیائے اسلام کے لیے علم حاصل کرتے ہوئے موت آ جائے تو جنت میں اس کے اور انبیا علیہم السلام کے مابین صرف (نبوت کا) ایک درجہ ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۱/ ۱۰۰ ح ۳۶۰) ۔
Mishkat
5791
وَعَنْهُ كَانَ إِذَا وَصَفَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَمْ يَكُنْ بِالطَّوِيلِ الْمُمَّغِطِ وَلَا بِالْقَصِيرِ الْمُتَرَدِّدِ وَكَانَ رَبْعَةً مِنَ الْقَوْمِ وَلَمْ يَكُنْ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلَا بِالسَّبْطِ كَانَ جَعْدًا رَجِلًا وَلَمْ يَكُنْ بِالْمُطَهَّمِ وَلَا بِالْمُكَلْثَمِ وَكَانَ فِي الْوَجْهِ تَدْوِيرٌ أَبْيَضُ مُشْرَبٌ أَدْعَجُ الْعَيْنَيْنِ أَهْدَبُ الْأَشْفَارِ جَلِيلُ الْمَشَاشِ وَالْكَتَدِ أَجْرَدُ ذُو مَسْرُبةٍ شئن الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ إِذَا مَشَى يَتَقَلَّعُ كَأَنَّمَا يَمْشِي فِي صَبَبٍ وَإِذَا الْتَفَتَ الْتَفَتَ مَعًا بَيْنَ كَتِفَيْهِ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ وَهُوَ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ أَجْوَدُ النَّاسِ صَدْرًا وَأَصْدَقُ النَّاسِ لَهْجَةً وَأَلْيَنُهُمْ عَرِيكَةً وَأَكْرَمُهُمْ عَشِيرَةً مَنْ رَآهُ بَدِيهَةً هَابَهُ وَمَنْ خَالَطَهُ مَعْرِفَةً أَحَبَّهُ يَقُولُ نَاعِتُهُ: لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
علی بن ابی طالب ؓ جب نبی ﷺ کے اوصاف بیان کرتے تو فرماتے : آپ ﷺ زیادہ لمبے تھے نہ زیادہ چھوٹے تھے بلکہ آپ درمیانہ قد تھے ، آپ کے بال بالکل گھنگریالے تھے نہ بالکل سیدھے بلکہ ان دونوں صورتوں کے درمیان تھے ، آپ کا چہرہ مبارک بالکل گول نہیں تھا ، بلکہ قدرے گولائی میں تھا ، آپ کا رنگ سرخی مائل سفید تھا ، آنکھیں سیاہ ، دراز پلکیں ، جوڑوں کی ہڈیاں اٹھی ہوئی مضبوط تھیں ، کندھوں کا درمیانی حصہ بھی بڑا اور مضبوط تھا ، آپ کے بدن پر بال نہیں تھے ، بس سینے اور ناف تک ایک لکیر تھی ، ہاتھ اور پاؤں بھاری تھے ، جب آپ چلتے تو پاؤں اٹھا کر رکھتے گویا آپ بلندی سے اتر رہے ہیں ، جب آپ کسی کی طرف التفات فرماتے تو مکمل توجہ فرماتے ، آپ کے کندھوں کے درمیان مہر نبوت تھی ، اور آپ خاتم النبیین ہیں ، آپ سب سے بڑھ کر دل کے سخی تھے ، سب سے زیادہ صاف گو تھے ، سب سے زیادہ نرم مزاج تھے ، قبیلے کے لحاظ سے سب سے زیادہ معزز تھے ، جو آپ کو اچانک دیکھتا تو وہ ہیبت زدہ ہو جاتا ، جو آپ کی صحبت اختیار کرتا اور واقفیت حاصل کر لیتا تو وہ آپ سے والہانہ محبت کرنے لگتا ، اور آپ کے وصف بیان کرنے والا (آخر پر) یہ کہتا : میں نے آپ ﷺ جیسا آپ کی حیات مبارکہ میں کوئی دیکھا نہ آپ کے بعد ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Mishkat
5960
وَعَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «مامن نَبِيٍّ يَمْرَضُ إِلَّا خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» . وَكَانَ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ أَخَذَتْهُ بُحَّةٌ شَدِيدَةٌ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ من الصديقين والنبيين وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ. فَعَلِمْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو نبی (مرض الموت میں) بیمار ہوتا ہے تو اسے دنیا و آخرت کے مابین اختیار دیا جاتا ہے ۔‘‘ اور جس مرض میں آپ کی روح قبض کی گئی ، اس مرض میں آپ پر ہچکی کا سخت حملہ ہوا تھا ، میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ ان لوگوں کے ساتھ جن پر تو نے انعام فرمایا ، انبیا ؑ ، صدیقین ، شہداء اور صالحین (کے ساتھ) ۔‘‘ میں نے جان لیا کہ آپ کو اختیار دیا گیا ہے ۔ متفق علیہ ۔
Sahih Muslim
0
لْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ، وَصَلَّى الله عَلَى مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، وَعَلَى جَمِيعِ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ «أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّكَ يَرْحَمُكَ اللهُ بِتَوْفِيقِ خَالِقِكَ، ذَكَرْتَ أَنَّكَ هَمَمْتَ بِالْفَحْصِ عَنْ تَعَرُّفِ جُمْلَةِ الْأَخْبَارِ الْمَأْثُورَةِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سُنَنِ الدِّينِ وَأَحْكَامِهِ، وَمَا كَانَ مِنْهَا فِي الثَّوَابِ وَالْعِقَابِ، وَالتَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيبِ، وَغَيْرِ ذَلِكَ مِنْ صُنُوفِ الْأَشْيَاءِ بِالْأَسَانِيدِ الَّتِي بِهَا نُقِلَتْ، وَتَدَاوَلَهَا أَهْلُ الْعِلْمِ فِيمَا بَيْنَهُمْ، فَأَرَدْتَ، أَرْشَدَكَ اللهُ أَنْ تُوَقَّفَ عَلَى جُمْلَتِهَا مُؤَلَّفَةً مُحْصَاةً، وَسَأَلْتَنِي أَنْ أُلَخِّصَهَا لَكَ فِي التَّأْلِيفِ بِلَا تَكْرَارٍ يَكْثُرُ، فَإِنَّ ذَلِكَ زَعَمْتَ مِمَّا يَشْغَلُكَ عَمَّا لَهُ قَصَدْتَ مِنَ التَّفَهُّمِ فِيهَا، وَالِاسْتِنْبَاطِ مِنْهَا، وَلِلَّذِي سَأَلْتَ أَكْرَمَكَ اللهُ حِينَ رَجَعْتُ إِلَى تَدَبُّرِهِ، وَمَا [ص:4] تَؤُولُ بِهِ الْحَالُ إِنْ شَاءَ اللهُ عَاقِبَةٌ مَحْمُودَةٌ وَمَنْفَعَةٌ مَوْجُودَةٌ، وَظَنَنْتُ حِينَ سَأَلْتَنِي تَجَشُّمَ ذَلِكَ أَنْ لَوْ عُزِمَ لِي عَلَيْهِ، وَقُضِيَ لِي تَمَامُهُ، كَانَ أَوَّلُ مِنْ يُصِيبُهُ نَفْعُ ذَلِكَ إِيَّايَ خَاصَّةً قَبْلَ غَيْرِي مِنَ النَّاسِ لِأَسْبَابٍ كَثِيرَةٍ يَطُولُ بِذِكْرِهَا الْوَصْفُ، إِلَّا أَنَّ جُمْلَةَ ذَلِكَ أَنَّ ضَبْطَ الْقَلِيلِ مِنْ هَذَا الشَّأْنِ، وَإِتْقَانَهُ، أَيْسَرُ عَلَى الْمَرْءِ مِنْ مُعَالَجَةِ الْكَثِيرِ مِنْهُ، وَلَا سِيَّمَا عِنْدَ مَنْ لَا تَمْيِيزَ عِنْدَهُ مَنِ الْعَوَامِّ، إِلَّا بِأَنْ يُوَقِّفَهُ عَلَى التَّمْيِيزِ غَيْرُهُ، فَإِذَا كَانَ الْأَمْرُ فِي هَذَا كَمَا وَصَفْنَا، فَالْقَصْدُ مِنْهُ إِلَى الصَّحِيحِ الْقَلِيلِ أَوْلَى بِهِمْ مِنَ ازْدِيَادِ السَّقِيمِ، وَإِنَّمَا يُرْجَى بَعْضُ الْمَنْفَعَةِ فِي الِاسْتِكْثَارِ مِنْ هَذَا الشَّأْنِ، وَجَمْعِ الْمُكَرَّرَاتِ مِنْهُ لِخَاصَّةٍ مِنَ النَّاسِ مِمَّنْ رُزِقَ فِيهِ بَعْضُ التَّيَقُّظِ، وَالْمَعْرِفَةِ بِأَسْبَابِهِ وَعِلَلِهِ، فَذَلِكَ إِنْ شَاءَ اللهُ يَهْجُمُ بِمَا أُوتِيَ مِنْ ذَلِكَ عَلَى الْفَائِدَةِ فِي الِاسْتِكْثَارِ مِنْ جَمْعِهِ، فَأَمَّا عَوَامُّ النَّاسِ الَّذِينَ هُمْ بِخِلَافِ مَعَانِي الْخَاصِّ مِنْ أَهْلِ التَّيَقُّظِ وَالْمَعْرِفَةِ، فَلَا مَعْنَى لَهُمْ فِي طَلَبِ الْكَثِيرِ، وَقَدْ عَجَزُوا عَنْ مَعْرِفَةِ الْقَلِيلِ‘ثُمَّ إِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ مُبْتَدِئُونَ فِي تَخْرِيجِ مَا سَأَلْتَ وَتَأْلِيفِهِ، عَلَى شَرِيطَةٍ سَوْفَ أَذْكُرُهَا لَكَ، وَهُوَ إِنَّا نَعْمِدُ إِلَى جُمْلَةِ مَا أُسْنِدَ مِنَ الْأَخْبَارِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَقْسِمُهَا عَلَى ثَلَاثَةِ أَقْسَامٍ، وَثَلَاثِ طَبَقَاتٍ مِنَ النَّاسِ عَلَى غَيْرِ تَكْرَارٍ، إِلَّا أَنْ يَأْتِيَ مَوْضِعٌ لَا يُسْتَغْنَى فِيهِ عَنْ تَرْدَادِ حَدِيثٍ فِيهِ زِيَادَةُ مَعْنًى، أَوْ إِسْنَادٌ يَقَعُ إِلَى جَنْبِ إِسْنَادٍ، لِعِلَّةٍ تَكُونُ هُنَاكَ، لِأَنَّ الْمَعْنَى الزَّائِدَ فِي الْحَدِيثِ الْمُحْتَاجَ [ص:5] إِلَيْهِ يَقُومُ مَقَامَ حَدِيثٍ تَامٍّ، فَلَا بُدَّ مِنْ إِعَادَةِ الْحَدِيثِ الَّذِي فِيهِ مَا وَصَفْنَا مِنَ الزِّيَادَةِ، أَوْ أَنْ يُفَصَّلَ ذَلِكَ الْمَعْنَى مِنْ جُمْلَةِ الْحَدِيثِ عَلَى اخْتِصَارِهِ إِذَا أَمْكَنَ، وَلَكِنْ تَفْصِيلُهُ رُبَّمَا عَسُرَ مِنْ جُمْلَتِهِ، فَإِعَادَتُهُ بِهَيْئَتِهِ إِذَا ضَاقَ ذَلِكَ أَسْلَمُ، فَأَمَّا مَا وَجَدْنَا بُدًّا مِنْ إِعَادَتِهِ بِجُمْلَتِهِ مِنْ غَيْرِ حَاجَةٍ مِنَّا إِلَيْهِ، فَلَا نَتَوَلَّى فِعْلَهُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فَأَمَّا الْقِسْمُ الْأَوَّلُ، فَإِنَّا نَتَوَخَّى أَنْ نُقَدِّمَ الْأَخْبَارَ الَّتِي هِيَ أَسْلَمُ مِنَ الْعُيُوبِ مِنْ غَيْرِهَا، وَأَنْقَى مِنْ أَنْ يَكُونَ نَاقِلُوهَا أَهْلَ اسْتِقَامَةٍ فِي الْحَدِيثِ، وَإِتْقَانٍ لِمَا نَقَلُوا، لَمْ يُوجَدْ فِي رِوَايَتِهِمْ اخْتِلَافٌ شَدِيدٌ، وَلَا تَخْلِيطٌ فَاحِشٌ، كَمَا قَدْ عُثِرَ فِيهِ عَلَى كَثِيرٍ مِنَ الْمُحَدِّثِينَ، وَبَانَ ذَلِكَ فِي حَدِيثِهِمْ‘، وَقَدْ ذُكِرَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُنَزِّلَ النَّاسَ مَنَازِلَهُمْ مَعَ مَا نَطَقَ بِهِ الْقُرْآنُ، مِنْ قَوْلِ اللهُ تَعَالَى: {وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ} [يوسف: 76]، فَعَلَى نَحْوِ مَا ذَكَرْنَا مِنَ الْوُجُوهِ، نُؤَلِّفُ مَا سَأَلْتَ مِنَ الْأَخْبَارِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:7]، فَأَمَّا مَا كَانَ مِنْهَا عَنْ قَوْمٍ هُمْ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ مُتَّهَمُونَ، أَوْ عِنْدَ الْأَكْثَرِ مِنْهُمْ، فَلَسْنَا نَتَشَاغَلُ بِتَخْرِيجِ حَدِيثِهِمْ، كَعَبْدِ اللهِ بْنِ مِسْوَرٍ أَبِي جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيِّ، وَعَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، وَعَبْدِ الْقُدُّوسِ الشَّامِيِّ، وَمُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَصْلُوبِ، وَغِيَاثِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرٍو أَبِي دَاوُدَ النَّخَعِيِّ، وَأَشْبَاهِهِمْ مِمَّنِ اتُّهِمَ بِوَضْعِ الْأَحَادِيثِ، وَتَوْلِيدِ الْأَخْبَارِ وَكَذَلِكَ، مَنِ الْغَالِبُ عَلَى حَدِيثِهِ الْمُنْكَرُ، أَوِ الْغَلَطُ أَمْسَكْنَا أَيْضًا عَنْ حَدِيثِهِمْ، وَعَلَامَةُ الْمُنْكَرِ فِي حَدِيثِ الْمُحَدِّثِ، إِذَا مَا عُرِضَتْ رِوَايَتُهُ لِلْحَدِيثِ عَلَى رِوَايَةِ غَيْرِهِ مَنْ أَهْلِ الْحِفْظِ وَالرِّضَا، خَالَفَتْ رِوَايَتُهُ رِوَايَتَهُمْ، أَوْ لَمْ تَكَدْ تُوَافِقُهَا، فَإِذَا كَانَ الْأَغْلَبُ مِنْ حَدِيثِهِ كَذَلِكَ كَانَ مَهْجُورَ الْحَدِيثِ، غَيْرَ مَقْبُولِهِ، وَلَا مُسْتَعْمَلِهِ، فَمِنْ هَذَا الضَّرْبِ مِنَ الْمُحَدِّثِينَ: عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَرَّرٍ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، وَالْجَرَّاحُ بْنُ الْمِنْهَالِ أَبُو الْعَطُوفِ، وَعَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ، وَحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ ضُمَيْرَةَ، وَعُمَرُ بْنُ صُهْبَانَ، وَمَنْ نَحَا نَحْوَهُمْ فِي رِوَايَةِ الْمُنْكَرِ مِنَ الْحَدِيثِ، فَلَسْنَا نُعَرِّجُ عَلَى حَدِيثِهِمْ، وَلَا نَتَشَاغَلُ بِهِ، لِأَنَّ حُكْمَ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَالَّذِي نَعْرِفُ مِنْ مَذْهَبِهِمْ فِي قَبُولِ مَا يَتَفَرَّدُ بِهِ الْمُحَدِّثُ مِنَ الْحَدِيثِ أَنْ يَكُونَ قَدْ شَارَكَ الثِّقَاتِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ وَالْحِفْظِ فِي بَعْضِ مَا رَوَوْا، وَأَمْعَنَ فِي ذَلِكَ عَلَى الْمُوَافَقَةِ لَهُمْ، فَإِذَا وُجِدَ كَذَلِكَ، ثُمَّ زَادَ بَعْدَ ذَلِكَ شَيْئًا لَيْسَ عِنْدَ أَصْحَابِهِ قُبِلَتْ زِيَادَتُهُ، فَأَمَّا مَنْ تَرَاهُ يَعْمِدُ لِمِثْلِ الزُّهْرِيِّ فِي جَلَالَتِهِ، وَكَثْرَةِ أَصْحَابِهِ الْحُفَّاظِ الْمُتْقِنِينَ لِحَدِيثِهِ وَحَدِيثِ غَيْرِهِ، أَوْ لِمِثْلِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، وَحَدِيثُهُمَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مَبْسُوطٌ مُشْتَرَكٌ، قَدْ نَقَلَ أَصْحَابُهُمَا عَنْهُمَا حَدِيثَهُمَا عَلَى الِاتِّفَاقِ مِنْهُمْ فِي أَكْثَرِهِ، فَيَرْوِي عَنْهُمَا، أَوْ عَنْ أَحَدِهِمَا الْعَدَدَ مِنَ الْحَدِيثِ مِمَّا لَا يَعْرِفُهُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِمَا، وَلَيْسَ مِمَّنْ قَدْ شَارَكَهُمْ فِي الصَّحِيحِ مِمَّا عِنْدَهُمْ، فَغَيْرُ جَائِزٍ قَبُولُ حَدِيثِ هَذَا الضَّرْبِ مِنَ النَّاسِ وَاللهُ أَعْلَمُ‘«قَدْ شَرَحْنَا مِنْ مَذْهَبِ الْحَدِيثِ وَأَهْلِهِ بَعْضَ مَا يَتَوَجَّهُ بِهِ مَنْ أَرَادَ سَبِيلَ الْقَوْمِ، وَوُفِّقَ لَهَا، وَسَنَزِيدُ، إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى شَرْحًا وَإِيضَاحًا فِي مَوَاضِعَ مِنَ الْكِتَابِ عِنْدَ ذِكْرِ الْأَخْبَارِ الْمُعَلَّلَةِ، إِذَا أَتَيْنَا عَلَيْهَا فِي الْأَمَاكِنِ الَّتِي يَلِيقُ بِهَا الشَّرْحُ وَالْإِيضَاحُ، إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى، وَبَعْدُ، يَرْحَمُكَ اللهُ، فَلَوْلَا الَّذِي رَأَيْنَا مِنْ سُوءِ صَنِيعِ كَثِيرٍ مِمَّنْ نَصَبَ نَفْسَهُ مُحَدِّثًا، فِيمَا يَلْزَمُهُمْ مِنْ طَرْحِ الْأَحَادِيثِ الضَّعِيفَةِ، وَالرِّوَايَاتِ الْمُنْكَرَةِ، وَتَرْكِهِمُ الِاقْتِصَارَ عَلَى الْأَحَادِيثِ الصَّحِيحَةِ الْمَشْهُورَةِ مِمَّا نَقَلَهُ الثِّقَاتُ الْمَعْرُوفُونَ بِالصِّدْقِ وَالْأَمَانَةِ، بَعْدَ مَعْرِفَتِهِمْ وَإِقْرَارِهِمْ بِأَلْسِنَتِهِمْ أَنَّ كَثِيرًا مِمَّا يَقْذِفُونَ بِهِ إِلَى الْأَغْبِيَاءِ مِنَ النَّاسِ هُوَ مُسْتَنْكَرٌ، وَمَنْقُولٌ عَنْ قَوْمٍ غَيْرِ مَرْضِيِّينَ مِمَّنْ ذَمَّ الرِّوَايَةِ عَنْهُمْ أَئِمَّةُ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِثْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَشُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ، وَسُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، وَغَيْرِهِمْ مِنَ الْأَئِمَّةِ، لِمَا سَهُلَ عَلَيْنَا الِانْتِصَابُ لِمَا سَأَلْتَ مِنَ التَّمْيِيزِ، وَالتَّحْصِيلِ، وَلَكِنْ مِنْ أَجْلِ مَا أَعْلَمْنَاكَ مِنْ نَشْرِ الْقَوْمِ الْأَخْبَارِ الْمُنْكَرَةِ بِالْأَسَانِيدِ الضِّعَافِ الْمَجْهُولَةِ، وَقَذْفِهِمْ بِهَا إِلَى الْعَوَامِّ الَّذِينَ لَا يَعْرِفُونَ عُيُوبَهَا، خَفَّ عَلَى قُلُوبِنَا إِجَابَتُكَ إِلَى مَا سَأَلْتَ
In the Name of Allah, the Merciful, the Beneficent- All praise is due to Allah, Lord of the worlds, and the [praiseworthy] end is for those who fear Him; and may Allah send blessings upon Muhammad, seal of the Prophets, and upon all the Prophets and Messengers. As for what follows: Indeed you mentioned, may Allah have mercy on you, by the guidance of your Creator, that you were interested in an examination of what is known of all the transmitted reports on authority of the Messenger of Allah, peace and blessings upon him, regarding traditions of the Dīn, its rulings, and everything from it regarding rewards, punishments, motivations, admonishments, and other descriptive topics through chains of narration which were related by and circulated between Ahl ul-Ilm. Thus you wished, may Allah guide you aright, to be informed about all of [the transmitted reports] in the form of a calculated composition and you asked me to abridge [it] for you in writing without a great amount of repetition. You allege that [much repetition] would distract you from what you intended in terms of understanding and deriving rulings from [the reports]. And because of that which you have asked, may Allah be generous with you, when I am attributed to its successful management and whatever condition can be construed by it, if Allah wills, (it will lead to) a praiseworthy ending and obtainable benefit. I thought at the time you asked me to undertake that [task]- if it was determined for me to do so, and preordained for me to complete it- that the first to benefit from that would be me specifically before anyone else and this is due to a great number of reasons which are too lengthy to describe except [to say] that in summary, having precision regarding a select few [narrations], and accuracy in them, is easier for a person than to undertake of a great number of them, and especially for one who is indistinguishable in it from the common people [in this matter] unless someone else informs him of the distinction. If the matter is just as we described, then focusing on the few authentic narrations is worthier for them than seeking an abundance of weak narrations. Although indeed it is hoped for that some benefit is attained by seeking after a large number [of Ḥadīth] of this type, and gathering the repetitions for them, but only for the elite who are endowed with some awareness and knowledge in their means [of ascertaining authenticity] and defects. Thus that, if Allah wills, will happen through whatever will be brought to bear of that [awareness, distinction, knowledge of the means, and defects] on the advantage in seeking large numbers of [the various categories of Ḥadīth]. And as for the common people who are different from the elite in terms of awareness and knowledge, then it is senseless for them to seek large numbers [of various categories of Ḥadīth], while they are unaware of the few [Sahīh]. Then we, if Allah wills, will begin to extract and compose what you have asked upon conditions which we shall mention to you. We set ourselves upon the entirety of what is transmitted from the reports on authority of the Messenger of Allah, peace and blessings upon him. Then we divided it up into three sections and three levels of people without repetition except: 1) When coming to a point where it was essential to repeat a narration in which there is an addition that clarifies the meaning of the first one; or 2) When there is a second chain that supports the first one in some hidden defect present since the additional significance in the second Ḥadīth assumes the position of a complete Ḥadīth. Repeating narrations which have the kind of ‘addition’ we described is inevitable [since it eliminates the perceived hidden defect of the first narration]; or that significance [of the addition] is separated from the entire narration by abbreviating it when it is possible [to understand the significance from a small part of the narration], however separating the relevant part of the narration from the rest might make it difficult to understand the link between them, so repeating it in its original form when that proves difficult is safest. Thus when we find that it is avoidable to repeat the narrations in their entirety we take care not to do so, if Allah wills. As for the first category, we aspired to advance the report which is safer from defects than any others, and is purified due to being related by people of integrity in Ḥadīth, and certitude for what they relate; there are no strong disputes found [compared to the reports of other Thiqāt] regarding their transmissions, and no excessive inconsistencies [in their own reports] - just as is the case regarding a great number of Muhaddithīn and which appears in their narrations. Thus when we examined reports of this description from the people, we also came across reports in whose chains there fell some of those who are not described with memorization and precision, like those of the previous description before them. Although they fell below what we described [from the first group], they still have the designation of protection [from ill-repute] and truthfulness; and they acquired knowledge, included among them are the likes of Atā’ bin is-Sā’ib, and Yazīd bin Abī Ziyād, and Layth bin Abī Sulaym, from among the carriers of Āthār and the relaters of Akhbār. So even though they possessed what we described of knowledge, protection and being known as scholars among Ahl ul-Ilm, their contemporaries who we mentioned as precise and sound in transmission were above them in status and rank because this [the first category] is a high rank and sublime characteristic according to Ahl ul-Ilm. Do you not see that when you weigh these three people we mentioned- Atā’, Yazīd, and Layth- with Mansūr bin il-Mu’tamir, Sulaymān al-A’mash and Ismā’īl bin Abī Khālid in regards to precision in Ḥadīth and soundness in it, you will find them distinct from others and not near them [in rank?]- there is no doubt regarding that among the people knowledgeable in Ḥadīth since the soundness of the memorization of Mansūr, al-A’mash, and Ismā’īl, and their precision in Ḥadīth was well-known among [the people knowledgeable in Ḥadīth] and they were not aware of examples of that from Atā’, Yazīd, and Layth. Upon the same course as the above, when you weigh between the two levels like Ibn Awn and Ayyūb as-Sakhtiyānī with Awf ibn Abī Jamīlah and Ash’ath al-Humrānī- and all 4 are companions of al-Hasan and Ibn Sīrīn- there is disparity between the two groups. Between these two groups is a distance in terms of perfection of virtue and soundness of reporting even though Awf and Ash’ath are not repelled from [the status] of truthfulness and honesty according to Ahl ul-Ilm, rather the situation is as we described regarding their position. We only mentioned these examples by way of naming them specifically so that their examples might be an indication for whoever is ignorant of the path to return to understanding of Ahl ul-Ilm regarding the ranking of its people. Thus there is no shortchanging the men of elevated rank any amount of what is due his level, and there is no elevation of those who are lower any amount of knowledge above his position- and each who possesses the right is given his right and is settled in his rank. It has been mentioned on authority of Ā’ishah, may Allah be pleased with her, that she said: ‘The Messenger of Allah, peace and blessings of Allah upon him, ordered us to afford people their (rightful) positions according to what the Qur’ān states: {And above all who possess knowledge is another who is knowledgeable}[Yūsuf: 76] . Thus based on the example of what we mentioned [regarding the narrators of Hifẓ and Itqān, and narrations which lack excessive inconsistency or strong contradiction], we compiled what you asked for of [those kind] of reports on authority of the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah upon him. As for anything of that wherein the people were charged [with some criticism] by the people of Ḥadīth, or by the majority of [the people of Ḥadīth], then we did not preoccupy ourselves with bringing forward their narrations, such as Abd Allah ibn Miswar Abī Ja’far il-Madā’inī, Amr bin Khālid, Abd il-Quddūs ash-Shāmī, Muhammad ibn Sa’īd il-Maslūb, Ghiyāth ibn Ibrāhīm, Sulaymān bin Amr Abī Dāwud an-Nakha’ī, and those like them whereof they were accused of fabricating narrations and manufacturing reports; and like that are those whose narrations are dominated with Munkar, or mistakes- we withheld from their narrations as well. An indication of Munkar in the narration of a Muhaddith is when his transmission differs with the transmission of a Muhaddith from the people of memorization and acceptance, or does not agree with it when the two are compared. When the majority of a person’s narrations are like that, he is abandoned [Mahjūr] in Ḥadīth, and not accepted in it, and his narrations are not acted upon. The following are those Muhaddithīn who are among this group: Abd Allah ibn Muharrar, Yahyā bin Abī Unaysah, Al-Jarrāh bin ul-Minhāl Abūl-Atūf, Abbād bin Kathīr, Husayn bin Abd Illah ibn Ḍumayrah, Umar bin Suhbān, and those of the same type in terms of transmission of Munkar Ḥadīth. We did not pause upon their narrations or preoccupy ourselves with them due to the ruling of Ahl ul-Ilm. That which we are aware of from their school of thought in accepting what is singularly reported by a Muhaddith from the narrations is that (the Muhaddith) took part along with the trustworthy narrators from Ahl ul-Ilm wal-Hifẓ in transmitting some of what they transmitted, and [the Muhaddith] is predominantly in agreement with them; when one is found like that, then if he adds to [the transmission] anything not found with his companions, then his addition is accepted. As for those who you see resorting to the likes of az-Zuhrī due to his greatness, and due to the great number of his companions being among the precise Huffāẓ, [resorting to] his Ḥadīth and the Ḥadīth of those like him, or to the likes of Hishām ibn Urwah, then their Ḥadīth are extensively shared among Ahl ul-Ilm. The greater majority of their companions related their Ḥadīth in agreement with one another [with few having contradictions]. Thus to transmit from [Urwah and az-Zuhrī], or one of them, from among the multitude of Ḥadīth, what is not known among any of their companions, and [the Rāwī] is not of those who share in the Sahīh narrations [found] among them, then it is not allowed to accept the narrations of this category of people, and Allah knows best. We have explained from the school of Ḥadīth and its people some of what those who wish to traverse the path of [the Muhaddithīn] should aim for, and be guided towards. We will, if Allah wills, add to the explanation and clarification in another place in this book upon the mention of defective reports [Mu’allalah] when we come to it, in the places where explanation and clarification are appropriate, if Allah wills. And what follows: May Allah have mercy on you, if not for that which we saw of an evil act, largely from those who claim to be Muhaddithīn, in what they were supposed to adhere to when putting forward weak narrations and abominable transmissions and their neglect for the investigation of famous Sahīh narrations related by the trustworthy narrators, well-known for their truthfulness and honesty, after knowledge of them and affirmation with their tongues, that a great many of [weak and abominable narrations] which were cast towards heedless people are denounced and spoken of as not acceptable whereof the A’immah of the people of Ḥadīth criticized their transmissions- A’immah like Mālik ibn Anas, Shu’bat bin al-Hajjāj, Sufyān bin Uyaynah, Yahyā bin Sa’īd al-Qattān, Abd ir-Rahman ibn Mahdī, and other A’immah- then the establishment of what you asked for of distinction [between the types of Ḥadīth] and collection [of those which were Sahīh] would be easy for us. However on account of what we informed you of regarding the people’s circulation of abominable reports with weak, unknown chains, and their casting them towards the common people who are not aware of their defects, responding to what you asked became lighter upon our hearts.
صحیح مسلم اردو ترجمہ کتا ب الایمان شروع سب سے زیادہ رحم کرنے والے ، ہمیشہ مہربانی کرنے والے اللہ کے نام سے ۔ تمام تر حمد وثنا سارے جہانوں کے پالنے والے اللہ کے لیے اور بہترین جزا تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لیے ہے ۔ اللہ خاتم النبیین محمدﷺ پر اپنی رحمت نازل فرمائے اور تمام نبیوں اور رسولوں پر بھی ۔ اس کے بع اللہ آپ رحم فرمائے! بلاشبہ آپ نے اپنے پیدا کرنے والے کی توفیق سے یہ ذکر کیا ہے کہ آپ دین کے طریقوں اور احکام کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے ( امت تک ) پہنچنے والی تمام احادیث کو ان کی منقولہ اسناد سمیت جاننا چاہتے ہیں اور ان احادیث کو بھی جو ثواب اور عذاب ، رغبت دلانے اور ڈرانے اور ان جیسی دوسری چیزوں کے بارے میں ہیں اور اہل علم نے ایک دوسرے سے لیں اور پہنچائیں ۔ اللہ آپ کی رہنمائی فرمائے ! آپ چاہتے ہیں کہ یہ تمام احادیث شمار کر کے مجموعے کی شکل میں آپ کی دسترس میں لائی جائیں ۔ آپ نے مجھ سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ میں ان احادیث کو زیادہ تکرار کے بغیر آپ کے لیے ایک تالیف کی شکل میں ملخص کر دوں کیونکہ آپ سمجھتے ہیں کہ یہ ( تکرار ) ان احادیث کو اچھی طرح سمجھنے اور ان سے استنباط کرنے میں آپ کے لیے رکاوٹ کا باعث بنے گا جو کہ آپ کا ( اصل ) مقصد ہے ( اللہ آپ کو عزت دے! ) آپ نے جس چیز کا ( مجھ سے ) مطالبہ کیا ہے ، جب میں نے اس کے اور اس سے حاصل ہونے والے ثمرات کے بارے میں غوروفکر کی طرف رجوع کیا تو ( مجھے یقین ہو گیا کہ ) ان شاء اللہ اس کے نتائج قابل تعریف اور فوائد یقینی ہوں گے ۔ اور جب آپ نے مجھ سے اس کام کی زحمت اٹھانے کا مطالبہ کیا تو مجھے یقین ہو گیا کہ اگر مجھے اس کی توفیق ملی اور اللہ کی طرف سے اس کے مکمل ہونے کا فیصلہ ہوا تو پہلا شخص ، جسے دوسرے لوگوں سے قبل اس سے خاص طور پر فائدہ ہو گا ، وہ میں خود ہوں گا ۔ اس کی وجوہات اتنی زیادہ ہیں کہ ان کا ذکر طوالت کا باعث ہو گا ، البتہ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ان خصوصیات کی حامل کم احادیث کو محفوظ رکھنا اور ان میں اچھی طرح مہارت حاصل کرنا انسان کے لیے کثیر احادیث کو سنبھالنے کی نسبت زیادہ آسان ہے ، خصوصاً عوام میں سے ایک ایسے شخص کے لیے جو اس وقت تک ان میں ( سے صحیح اور ضعیف کے بار ے میں بھی ) امتیاز نہیں کر سکتا جب تک کوئی دوسرا اسے اس فرق سے آگاہ نہ کرے ۔ جب معاملہ اسی طرح ہے جیسے ہم نے بیان کیا تو کم تعداد میں صحیح ( احادیث ) چن لینا کثیر تعداد میں ضعیف احادیث کو جمع کرنے سے کہیں بہتر ہے ۔ یہ بات ( اپنی جگہ ) درست ہے کہ بہت سی احادیث کو اکٹھا کرنے اور مکرر ( احادیث ) کو جمع کرنے کے بھی کچھ فوائد ہیں ، خصوصاً ان لوگوں کے لیے جنہیں اس ( علم ) میں کسی قدر شعور اور اسباب وعلل کی معرفت سے نوازا گیا ہے ۔ اللہ کی مشیت سے ایسا انسان ان خصوصیات کی وجہ سے جو اسے عطا کی گئی ہیں ، کثیر احادیث کے مجموعے سے فائدہ حاصل کر سکتا ہے لیکن جہاں تک عوام الناس کا تعلق ہے جو شعو ومعرفت رکھنے والے خواص سے مختلف ہیں ، وہ کم احادیث کی معرفت سے بھی عاجز ہیں تو ان کے لیے کثیر احادیث کے حصول میں کوئی فائدہ نہیں ۔ پھر آپ نے جس ( کتاب ) کا مطالبہ کیا ہم ان شاء اللہ اس التزام کے ساتھ اس کی اس کی تخریج ( مختلف پہلوؤں سے اس کی وضاحت ) اور تالیف کا آغاز کرتے ہیں جس کا میں آپ کے سامنے ذکر کرنے لگا ہوں اور وہ یہ ہے کہ ہم ان تمام احادیث کو لے لیں گے جو سنداً نبی اکرمﷺ سے بیان کی گئیں اور تکرار کے بغیر انہیں تین اقسام اور ( بیان کرنے والے ) لوگوں کے تین طبقوں کے مطابق تقسیم کریں گے ، الا یہ کہ کوئی ایسا مقام آ جائے جہاں کسی حدیث کو دوبارہ ذکر کیے بغیر چارہ نہ ہو ، ( مثلاً : ) اس میں کوئی معنیٰ زیادہ ہو یا کوئی سند ایسی ہو جو کسی علت یا سبب کی بنا پر دوسری سند کے پہلو بہ پہلو آئی ہو کیونکہ حدیث میں ایک زائد معنیٰ ، جس کی ضرورت ہو ، ایک مکمل حدیث کے قائم مقام ہوتا ہے ، اس لیے ایسی حدیث کو ، جس میں ہمارا بیان کردہ کوئی ( معنوی ) اضافہ پایا جاتا ہے ، دوبارہ لائے بغیر چارہ نہیں یا جب ممکن ہوا تو ہم اس معنیٰ کو اختصار کے ساتھ پوری حدیث سے الگ ( کر کے ) بیان کر دیں گے لیکن بسااوقات اسے پوری حدیث سے الگ کرنا مشکل ہوتا ہے اور جب اس کی گنجائش نہ ہو تو اسے اصل شکل میں دوبارہ بیان کرنا زیادہ محفوظ ہوتا ہے ، البتہ جہاں ہمارے لیے اسے مکمل طور پر دہرانے سے بچنا ممکن ہو گا اور ( کامل شکل میں ) ہمیں اس کی ضرورت نہ ہو گی تو ہم ان شاء اللہ اس سے اجتناب کریں گے ۔ جہاں تک پہلی قسم کا تعلق ہے ( اس میں ) ہم یہ کوشش کریں گے کہ انہی احادیث کو ترجیح دیں جو دوسری احادیث کی نسبت ( فنی ) خامیوں سے زیادہ محفوظ اور زیادہ پاک ہوں ، یعنی ان کے ناقلین ( راوی ) نقل حدیث میں صحت اور ثقاہت رکھنے والے ہوں ، ان کی روایت میں شدید اختلاف پایا جائے نہ ( الفاظ ومعانی کو ) بہت برے طریقے سے خلط ملط کیا گیا ہو جس طرح کہ بہت سے احادیث بیان کرنے والوں میں پایا گیا ہے اور ان کی روایت میں یہ چیز واضح ہوچکی ہے ۔ جب ہم اس قسم کے ( ثقہ ) لوگوں کی مرویات کا احاطہ کر لیں گے تو بعد ازیں ایسی روایات لائیں گے جن کی سندوں میں کوئی ایسے راوی موجود ہوں گے جو طبقہ اولیٰ جیسے ( راویوں کے ) حفظ واتقان سے متصف نہیں لیکن وہ بھی ( انہی میں سے ہیں ) چاہے ان صفات میں ان سے ذرا کم ہیں جن کو ان سے مقدم رکھا گیا ہے لیکن عفت ، صدق اور علم سے شغف رکھنے جیسی صفات ان میں عام ہوں ، جس طرح عطاء بن سائب ، یزید بن ابی زیاد ، لیث بن ابی سلیم اور ان کی طرح کے ( دیگر ) حاملین آثار اور ناقلین اخبار ہیں ۔ یہ حضرات اگرچہ اہل علم کے ہاں علم اور عفت ( جیسی صفات ) میں معروف ہیں لیکن ان کے ہم عصر لوگوں میں سے ( بعض ) دیگر حضرات ایسے ہیں جو اتقان اور روایت کی صحت کے معاملے میں اپنے مقام اور مرتبے کے اعتبار سے ان سے افضل ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل علم کے ہاں یہ ( حفظ واتقان ) ایک بہت اونچا مرتبہ اور ایک اعلیٰ ترین صفت ہے ۔ آپ دیکھتے نہیں کہ ان تینوں حضرات : عطاء ، یزید اور لیث ، جن کا ہم نے ابھی نام لیا ، کا موازنہ حدیث کے حفظ و اتقان میں منصور بن معتمر ، سلیمان اعمش اور اسماعیل بن ابی خالد سے کریں تو انہیں آپ ان حضرات سے خاصے فاصلے پر پائیں گے ، یہ ان کے قریب بھی نہیں آ پاتے ۔ ماہرین علم حدیث کو اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ منصور ، اعمش اور اسماعیل کے ہاں حفظ کی صحت اور حدیث بیان کرنے میں مہارت کی جو صفات فراواں اہل علم کو نظر آتی ہیں ان کے نزدیک وہ عطاء ، یزید اور لیث کے ہاں اس طرح معروف نہیں ۔ اگر آپ ( دیگر ) ہمسروں کے درمیان موازنہ کریں تو ( بھی ) یہی ماجرا ( سامنے آتا ) ہے ، مثلاً آپ ابن عون اور ایوب سختیانی کا ( موازنہ ) عوف بن ابی جمیلہ اور اشعث حمرانی سے کریں ۔ یہ دونوں ( بھی اسی طرح ) حسن بصری اور ابن سیرین کے شاگرد ہیں جس طرح ابن عون اور ایوب ان کے شاگرد ہیں لیکن ان دونوں اور ان دونوں کے درمیان کمال فضل اور صحت نقل کے اعتبار سے بہت بڑا فاصلہ پایا جاتا ہے ۔ عوف اور اشعث بھی اگرچہ اہل علم کے ہاں صدق وامانت سے ہٹے ہوئے نہیں ( مانے جاتے ) لیکن جہاں تک مرتبے کا تعلق ہے تو اہل علم کے ہاں حقیقت وہی ہے جو ہم نے بیان کی ۔ ہم نے نام ذکر کر کے مثال اس لیے دی ہے تاکہ اس شخص کے لیے ، جو اہل علم کے ہاں حاملین حدیث کی درجہ کے طریقے سے ناواقف ہے ، یہ مثال ایسا واضح نشان ثابت ہو جس کے ذریعے سے وہ مکمل واقفیت حاصل کر لے اور اونچا درجہ رکھنے والے کو اس کے مرتبے سے گھٹائے اور نہ کم درجے والے کو اس کے مرتبے سے بڑھائے ، ہر ایک کو اس کا حق دے اور اس کے مرتبے پر رکھے ۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت بیان کی گئی ، انہوں نے کہا : ہمیں رسول اللہﷺ نے حکم دیا تھا کہ کہ ہم لوگوں کو ان کے مرتبوں پر رکھیں ۔ اس کے ساتھ ہی اللہ کا حکم جو قرآن نے بیان فرمایا : ’’ہر علم والے سے اوپر ایک علم رکھنے والا ہے ۔ ‘ ‘ ہم احادیث رسولﷺ کو اپنی ذکر کردہ صورتوں کے مطابق تالیف کریں گے ۔ جو احادیث ان لوگوں سے مروی ہیں جو ( تمام ) ماہرین علم حدیث یا ان میں سے اکثر کے نزدیک متہم ہیں ، ہم ان کی روایات سے کوئی سروکار نہ رکھیں گے ، جیسے : عبد اللہ بن مسور ابو جعفر مدائنی ، عمرو بن خالد ، عبد القدوس شامی ، محمد بن سعید مصلوب ، غیاث بن ابراہیم ، سلیمان بن عمرو نخعی اور ان جیسے دیگر لوگوں کی مرویات سے بھی ، جن پر وضع احادیث اور روایات سازی کے الزامات ہیں ۔ اسی طرح وہ لوگ جن کی مرویات کی غالب تعداد منکر اور غلط ( احادیث ) پر مشتمل ہے ، ہم ان کی احادیث سے بھی احتراز کریں گے ۔ کسی حدیث بیان کرنے والے کی منکر روایت کی نشانی یہ ہے کہ جب اس کی روایت کردہ حدیث کا دوسرے اصحاب حفظ اور مقبول ( محدثین ) کی روایت سے موازنہ کیا جائے تو وہ ان کی روایت کے مخالف ہو یا ان کے ساتھ موافق نہ ہو پائے ۔ جب کسی کی اکثر مرویات اس طرح کی ہوں تو وہ متروک الحدیث ہوتا ہے ، اس کی روایات غیر مقبول ہوتی ہیں ، ( اجتہاد واستنباط کے لیے ) استعمال نہیں ہوتیں ۔ اس قسم کے راویان حدیث میں عبد اللہ بن محرر ، یحییٰ بن ابی انیسہ ، جراح بن منہال ابو عطوف ، عباد بن کثیر ، حسین بن عبد اللہ بن ضمیرہ ، عمر بن صہبان اور اس طرح کے دیگر منکر روایات بیان کرنے والے لوگ شامل ہیں ، ہم ان کی روایت کا رخ نہیں کرتے نہ ان روایات سے کوئی سروکار ہی رکھتے ہیں ۔ کیونکہ حدیث میں متفرد راوی کی روایت قبول کرنے کے متعلق اہل علم کا معروف مذہب اور ان کا فیصلہ یہ ہے کہ اگر وہ ( راوی ) عام طور پر اہل علم وحفظ ثقات کی موافقت کرتا ہے اور اس نے گہرائی میں جا کر ان کی موافقت کی ہے تو ایسی صورت میں اگر وہ ( متفرد ) کوئی ایسا اضافہ بیان کرتا ہے جو اس کے دوسرے ہم مکتبوں کے ہاں نہیں ہے تو اس کا یہ اضافہ ( محدثین کے ہاں ) قبول کیا جائے گا لیکن جس ( حدیث بیان کرنے والے ) کو آپ دیکھیں کہ وہ امام زہری جیسے جلیل القدر ( محدث ) سے روایت بیان کرتا ہے جن کے کثیر تعداد میں ایسے شاگر د ہیں جو حفاظ ( حدیث ) ہیں ، ان کی اور دوسرے ( محدثین ) کی روایت کے ماہر ہیں یا وہ ہشام بن عروہ جیسے ( امام التابعین ) سے روایت کرتا ہے ۔ ان دونوں کی احادیث تو اہل علم کے ہاں خوب پھیلی ہوئی ہیں ، وہ سب ان کی روایت میں ( ایک دوسرے کے ساتھ ) اشتراک رکھتے ہیں اور ان دونوں کی اکثر احادیث میں ان کے شاگرد ایک دوسرے سے متفق ہیں اور یہ شخص ان دونوں یا ان میں سے کسی ایک سے متعدد ایسی احادیث روایت کرے جن میں ان کے شاگردوں میں سے اس کے ساتھ کوئی اور شریک نہیں تو اس جیسے لوگوں سے اس قسم کی کوئی حدیث قبول کرنا جائز نہیں ۔ اللہ ( ہی ) زیادہ جاننے والا ہے ۔ ہم نے حدیث اور اصحاب حدیث ( محدثین ) کے طریق کار کا کچھ حصہ ہر اس شخص کی توجہ کےلیے جو ان کے راستے پر چلنا چاہتا ہے اور جسے اس کی توفیق نصیب ہوتی ہے ، تفصیل سے بیان کر دیا ہے ۔ ان شاء اللہ ہم ( اس طریق کار کی ) مزید شرح اور وضاحت کتاب کے ان مقامات پر کریں گے جہاں معلول احادیث ( جن میں کوئی خفیہ علت پائی جاتی ہے ) کا ذکر ہو گا ، ( یعنی ) جب ہم وہاں پہنچیں گے جہاں اس ( موضوع ) کی شرح اور وضاحت کا مناسب موقع ہو گا ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ اس ( وضاحت ) کے بعد ، اللہ آپ پر رحم فرمائے! ( ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ) اگر ہم نے اپنے آپ کو محدث کے منصب پر فائز کرنے والے بہت سےلوگوں کی ضعیف احادیث اور منکر روایات کے بیان کو ترک کرنے جیسے معاملات میں ، جن کا التزام ان کے لیے لازم تھا ، غلط کارروائیاں نہ دیکھی ہوتیں ، اور اگر انہوں نے صحیح روایات کے بیان پر اکتفا کو ترک نہ کیا ہوتا ، جنہیں ان ثقہ راویوں نے بیان کیا جو صدق وامانت میں معروف ہیں ، وہ بھی ان کے اس اعتراف کے بعد کہ جو کچھ وہ ( سیدھے سادھے ) کم عقل لوگوں کے سامنے بے پروائی سے بیان کیے جا رہے ہیں ، اس کا اکثر حصہ غیر مقبول ہے ، ان لوگوں سے نقل کیا گیا ہے جن سے لینے پر اہل علم راضی نہیں اور جن سے روایت کرنے کو ( بڑے بڑے ) ائمہ حدیث ، مثلاً مالک بن انس ، شعبہ بن حجاج ، سفیان بن عیینہ ، یحییٰ بن سعید قطان ، عبد الرحمن بن مہدی وغیرہم قابل مذمت سمجھتے ہیں ۔ اگر ہم نے یہ سب نہ دیکھا ہوتا تو آپ نے ( صحیح وضعیف میں ) امتیاز اور ( صرف صحیح کے ) حصول کے حوالے سے جو مطالبہ کیا ہے اسے قبول کرنا آسان نہ ہوتا ۔ لیکن جس طرح ہم نے آپ کو قوم کی طرف سے کمزور اور مجہول سندوں سے ( بیان کی گئی ) منکر حدیثوں کو بیان کرنے اور انہیں ایسے عوام میں ، جو ان ( احادیث ) کے عیوب سے ناواقف ہیں ، پھیلانے کے بارے میں بتایا تو ( صرف ) اسی بنا پر ہمارے دل کے لیے آپ کے مطالبے کو تسلیم کرنا آسان ہوا ۔