TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جنازوں کا بیان - جنازوں کا بیان - Book 5 of Mishkat with Urdu and English Translation

Book 5 of Mishkat, with 8 chapters and 249 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

249 Hadith · 8 Chapters
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَعُودُوا الْمَرِيض وفكوا العاني» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوموسی ٰ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بھوکے کو کھانا کھلاؤ ، مریض کی عیادت کرو اور قیدی کو رہائی دلاؤ ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۵۶۴۹) ۔
1523
Sahih
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ خَمْسٌ: رَدُّ السَّلَامِ وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ وَإِجَابَةُ الدعْوَة وتشميت الْعَاطِس
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں : سلام کا جواب دینا ، مریض کی عیادت کرنا ، جنازہ کے ساتھ جانا ، دعوت قبول کرنا اور چھینکنے والے کا (یرحمک اللہ کہہ کر اسے) جواب دینا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۲۴۰) و مسلم (۴ / ۲۱۶۲) ۔ 5650
1524
Sahih
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ» . قِيلَ: مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَشَمِّتْهُ وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ وَإِذَا مَاتَ فَاتَّبِعْهُ» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مسلمان کے مسلمان پر چھ حق ہیں ۔‘‘ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! وہ کیا ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تو اس سے ملاقات کرے تو اسے سلام کر ، جب وہ تمہیں دعوت دے تو اسے قبول کر ، جب وہ تم سے نصیحت چاہے تو اسے نصیحت کر ، جب وہ چھینک مار کر (الحمد للہ) کہے تو تو اسے (یرحمک اللہ) کہہ کر جواب دے ، جب بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کر اور جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے جنازے کے ساتھ شریک ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۵ / ۲۱۶۲) ۔ 5651
1525
Sahih
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ أَمَرَنَا: بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَرَدِّ السَّلَامِ وَإِجَابَةِ الدَّاعِي وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ وَنَهَانَا عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنِ الْحَرِيرِ والْإِسْتَبْرَقِ وَالدِّيبَاجِ وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ وَالْقَسِّيِّ وَآنِيَةِ الْفِضَّةِ وَفِي رِوَايَةٍ وَعَنِ الشُّرْبِ فِي الْفِضَّةِ فَإِنَّهُ مَنْ شَرِبَ فِيهَا فِي الدُّنْيَا لم يشرب فِيهَا فِي الْآخِرَة
براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے ہمیں سات چیزوں کا حکم فرمایا اور سات چیزوں سے ہمیں منع فرمایا ، آپ ﷺ نے مریض کی عیادت کرنے ، جنازوں کے ساتھ شریک ہونے ، چھینک مارنے والے کا جواب دینے ، سلام کا جواب دینے ، دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرنے ، قسم اٹھانے والے کی قسم پوری کرنے اور مظلوم کی مدد کرنے کا ہمیں حکم فرمایا ، اور آپ ﷺ نے سونے کی انگوٹھی ، ریشم ، موٹے ریشم ، باریک ریشم ، سرخ زین پوش ، قسی کپڑے سے اور چاندی کے برتن سے ہمیں منع فرمایا ، اور ایک روایت میں ہے : چاندی کے برتن میں پینے سے (منع فرمایا) کیونکہ جس نے اس میں دنیا میں پیا وہ آخرت میں نہیں پیئے گا ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۲۳۹) و مسلم (۳ / ۲۰۶۶) ۔ 2388
1526
Sahih
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا عَادَ أَخَاهُ الْمُسلم لم يزل فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
ثوبان ؓبیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ واپس آنے تک جنت کے میوے کھانے میں مصروف رہتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۴۱ / ۲۵۶۸) ۔ 6553
1527
Sahih
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِن الله عز وَجل يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: يَا ابْنَ آدَمَ مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي قَالَ: يَا رَبِّ كَيْفَ أَعُودُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ قَالَ: أَمَّا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلَانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ؟ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي عِنْدَهُ؟ يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمْنِي قَالَ: يَا رَبِّ كَيْفَ أُطْعِمُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ قَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ اسْتَطْعَمَكَ عَبْدِي فُلَانٌ فَلَمْ تُطْعِمْهُ؟ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ أَطْعَمْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي؟ يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَسْقَيْتُكَ فَلَمْ تَسْقِنِي قَالَ: يَا رَبِّ كَيْفَ أَسْقِيكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ قَالَ: اسْتَسْقَاكَ عَبْدِي فُلَانٌ فَلَمْ تَسْقِهِ أما إِنَّك لَو سقيته لوجدت ذَلِك عِنْدِي . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ روز قیامت فرمائے گا : ابن آدم ! میں بیمار ہوا اور تم نے میری عیادت نہیں کی ، وہ عرض کرے گا : رب جی ! میں آپ کی کیسے عیادت کرتا جبکہ آپ تو ربّ العالمین ہیں ۔ اللہ فرمائے : کیا تجھے علم نہیں کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا تھا اور تو نے اس کی عیادت نہ کی ، اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا ، ابن آدم ! میں نے تم سے کھانا طلب کیا لیکن تو نے مجھے کھانا نہ دیا ، وہ عرض کرے گا : رب جی ! میں تمہیں کیسے دیتا ، جبکہ تو رب العالمین ہے ، اللہ فرمائے گا : کیا تجھے علم نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا طلب کیا تھا لیکن تو نے اسے کھانا نہیں کھلایا ، کیا تجھے علم نہیں کہ اگر تو اسے کھانا کھلاتا تو اس (کے ثواب) کو میرے پاس پاتا ، ابن آدم ! میں نے تجھ سے پانی طلب کیا تھا لیکن تو نے مجھے پانی نہیں پلایا ، وہ عرض کرے گا رب جی ! میں تجھے کیسے پانی پلاتا جبکہ تو تمام جہانوں کا رب ہے ، اللہ فرمائے گا : میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی طلب کیا تھا لیکن تو نے اسے پانی نہ پلایا ، اگر تو اسے پانی پلاتا تو تو اس (کے ثواب) کو میرے پاس پاتا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۴۳ / ۲۵۶۹) ۔ 6556
1528
Sahih
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهُ وَكَانَ إِذَا دَخَلَ عَلَى مَرِيضٍ يَعُودُهُ قَالَ: «لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ» فَقَالَ لَهُ: «لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ» . قَالَ: كَلَّا بَلْ حُمَّى تَفُورُ عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ تزيره الْقُبُور. فَقَالَ: «فَنعم إِذن» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ایک اعرابی کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے ، جب آپ کسی مریض کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے تو یوں فرماتے :’’ کوئی بات نہیں ، اگر اللہ نے چاہا تو (یہ بیماری گناہوں سے) پاکیزگی کا باعث ہو گی ۔‘‘ آپ ﷺ نے اسے بھی یہی فرمایا :’’ کوئی بات نہیں ، اگر اللہ نے چاہا ‘ تو (یہ بیماری گناہوں سے) پاکیزگی کا باعث ہو گی ۔‘‘ اس اعرابی نے کہا : ہرگز نہیں ، بلکہ بخار ایک بوڑھے شخص پر جوش مار رہا ہے ، یہ تو قبروں تک پہنچا کر رہے گا ۔ نبی ﷺ نے (اس کی یہ بات سن کر) فرمایا :’’ ہاں ! یہ ایسے ہی ہو گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۵۶۶۲) ۔
1529
Sahih
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكَى مِنَّا إِنْسَانٌ مَسَحَهُ بِيَمِينِهِ ثُمَّ قَالَ: «أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءٌ لَا يُغَادِرُ سَقَمًا»
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب ہم میں سے کوئی بیمار ہو جاتا تو رسول اللہ ﷺ اس پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرتے پھر یہ دعا پڑھتے :’’ لوگوں کے پروردگار ! بیماری دور کر دے ، شفا عطا فرما ، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ، تو شفا دینے والا ہے ، اور ایسی شفا عطا فرما جو کسی بیماری کو باقی نہ چھوڑے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۶۷۵) و مسلم (۴۶ / ۲۱۹۱) ۔ 5707
1530
Sahih
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ إِذَا اشْتَكَى الْإِنْسَانُ الشَّيْءَ مِنْهُ أَوْ كَانَتْ بِهِ قَرْحَةٌ أَوْ جُرْحٌ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُصْبُعِهِ: «بِسْمِ اللَّهِ تُرْبَةُ أَرْضِنَا بِرِيقَةِ بَعْضِنَا لِيُشْفَى سَقِيمُنَا بِإِذن رَبنَا»
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب انسان کے کسی عضو کو کوئی تکلیف ہوتی یا اسے کوئی پھوڑا ہوتا یا کوئی زخم ہوتا تو نبی ﷺ اپنی انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے فرماتے :’’ اللہ کے نام (کی برکت) سے ، ہماری زمین کی مٹی ، ہمارے بعض کی تھوک کے ساتھ اللہ کے حکم سے ہمارے بیمار کو شفا بخشی جائے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۷۴۵ ۔ ۵۷۴۶) و مسلم (۵۴ / ۲۱۹۴) ۔ 5719
1531
Sahih
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكَى نَفَثَ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَمَسَحَ عَنْهُ بِيَدِهِ فَلَمَّا اشْتَكَى وَجَعَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ كُنْتُ أَنْفِثُ عَلَيْهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ الَّتِي كَانَ يَنْفِثُ وَأَمْسَحُ بِيَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَتْ: كَانَ إِذَا مَرِضَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ نَفَثَ عَلَيْهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب نبی ﷺ بیمار ہوتے تو آپ معوذات پڑھ کر اپنے آپ پر دم کرتے اور اپنے جسم پر اپنا ہاتھ پھیرتے ، جب آپ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو پھر میں آپ کو معوذات پڑھ کر دم کیا کرتی تھی جو کہ آپ اپنے آپ کو دم کیا کرتے تھے لیکن میں نبی ﷺ کا ہاتھ آپ کے جسم پر پھیرتی تھی ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے ، فرماتی ہیں : جب آپ کے اہل خانہ میں سے کوئی شخص مریض ہوتا تو آپ معوذات پڑھ کر اس پر دم کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۴۴۳۹) و مسلم (۵۱ / ۲۱۹۲) ۔ 5714
1532
Sahih
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعًا يَجِدُهُ فِي جَسَدِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ضَعْ يَدَكَ عَلَى الَّذِي يَأْلَمُ مِنْ جَسَدِكَ وَقُلْ: بِسْمِ اللَّهِ ثَلَاثًا وَقُلْ سَبْعَ مَرَّاتٍ: أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ . قَالَ: فَفَعَلْتُ فَأَذْهَبَ اللَّهُ مَا كَانَ بِي. رَوَاهُ مُسلم
عثمان بن ابی العاص ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے جسم کی تکلیف کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا :’’ اپنے جسم کے تکلیف والے حصے پر اپنا ہاتھ رکھو ، اور تین مرتبہ بسم اللہ پڑھ کر سات مرتبہ یہ دعا پڑھو :((اعوذ بعزۃ اللہ و قدرتہ من شر ما اجد و احاذر)) میں ہر اس شر سے جو میں پاتا ہوں اور جس سے میں غم زدہ ہوں اللہ کے غلبے اور اس کی قدرت کی پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے ایسے کیا تو اللہ نے میری وہ تکلیف دور کر دی ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۶۷ / ۲۲۰۲) ۔ 5737
1533
Sahih
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ أَن جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَشْتَكَيْتَ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ» . قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ مِنْ شرك كُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَيْنِ حَاسِدٍ اللَّهُ يَشْفِيكَ بِسم الله أرقيك. رَوَاهُ مُسلم
ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ جبریل ؑ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا : محمد ! آپ بیمار ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ! ‘‘ تو انہوں نے یوں دم کیا : میں آپ کو تکلیف دینے والی ہر چیز سے ، ہر نفس کے شر سے یا حاسد کی نظر سے اللہ کے نام کے ساتھ آپ کو دم کرتا ہوں ، اللہ آپ کو شفا عطا فرمائے ، میں اللہ کے نام کے ساتھ آپ کو دم کرتا ہوں ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۴۰ / ۲۱۸۶) ۔ 5700
1534
Sahih
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يعوذ الْحسن وَالْحسن: «أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ» وَيَقُولُ: «إِنَّ أَبَاكُمَا كَانَ يعوذ بهما إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَفِي أَكْثَرِ نُسَخِ المصابيح: «بهما» على لفظ التَّثْنِيَة
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ حسن و حسین ؓ کو ان کلمات کے ساتھ اللہ کی پناہ میں دیتے تھے :’’ میں اللہ کے کلمات تامہ کے ذریعے ہر شیطان ، زہریلے جانور اور ہر ضرر رساں نظر کے شر سے تمہیں بچاتا ہوں ۔‘‘ اور آپ فرمایا کرتے تھے :’’ تمہارے باپ (ابراہیم ؑ) ان کلمات کے ذریعے اسماعیل ؑ و اسحاق ؑ کے لیے پناہ طلب کیا کرتے تھے ۔‘‘ بخاری ، مصابیح کے اکثر نسخوں میں تثنیہ کا صیغہ [بھما] ہے ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۳۳۷۱) ۔
1535
Sahih
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کسی مصیبت میں مبتلا کردیتا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۶۵۴۵) ۔
1536
Sahih
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَن أبي هُرَيْرَة وَأبي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا يُصِيبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَبٍ وَلَا هَمٍّ وَلَا حُزْنٍ وَلَا أَذًى وَلَا غَمٍّ حَتَّى الشَّوْكَةُ يُشَاكُهَا إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ بهَا من خطاياه»
ابوہریرہ ؓ اور ابوسعید ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مسلمان کو جو پریشانی ، غم ، رنج ، تکلیف اور دکھ پہنچتا ہے حتیٰ کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ اس (تکلیف) کی وجہ سے اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۶۴۱ ۔ ۵۶۴۲) و مسلم (۵۲ / ۲۵۷۳) ۔ 6568
1537
Sahih
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ فَمَسِسْتُهُ بِيَدِي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَجَلْ إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ» . قَالَ: فَقُلْتُ: ذَلِكَ لِأَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ؟ فَقَالَ: «أَجَلْ» . ثُمَّ قَالَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى مِنْ مَرَضٍ فَمَا سِوَاهُ إِلَّا حَطَّ اللَّهُ تَعَالَى بِهِ سَيِّئَاتِهِ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا»
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ بخار میں مبتلا تھے ، میں نے آپ کو اپنا ہاتھ لگایا تو میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ﷺ ! آپ تو بہت سخت بخار میں مبتلا ہیں ۔ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، مجھے تمہارے دو آدمیوں جیسا بخار ہوتا ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کیا ، یہ اس لیے کہ آپ کے لیے دو گنا اجر ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں !‘‘ پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب مسلمان کو کسی مرض یا کسی اور وجہ سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ اس وجہ سے اس کے گناہ اس طرح گرا دیتا ہے جس طرح (موسم خزاں میں) درخت اپنے پتے گرا دیتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۶۴۸) و مسلم (۴۵ / ۲۵۷۱) ۔ 5647
1538
Sahih
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا الْوَجَعُ عَلَيْهِ أَشَدُّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ کسی کو تکلیف میں مبتلا نہیں دیکھا ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۶۴۶) و مسلم (۴۴ / ۲۵۷۰) ۔ 6557
1539
Sahih
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي فَلَا أَكْرَهُ شِدَّةَ الْمَوْتِ لِأَحَدٍ أَبَدًا بَعْدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ نے وفات پائی تو آپ کا سر مبارک میری تھوڑی اور سینے کے درمیان تھا ، اور نبی ﷺ (کی موت کی سختی) کے بعد میں کسی پر موت کی سختی کو کبھی برا نہیں سمجھتی ۔ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۴۴۴۶) ۔
1540
Sahih
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ تُفَيِّئُهَا الرِّيَاح تصرعها مرّة وتعدلها أُخْرَى حَتَّى يَأْتِيهِ أَجَلُهُ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ الَّتِي لَا يُصِيبُهَا شَيْءٌ حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَة»
کعب بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مومن کی مثال کھیتی کی نرم و نازک شاخ کی طرح ہے جسے ہوائیں جھکاتی ہیں ۔ کبھی اسے نیچے گرا دیتی ہیں اور کبھی سیدھا کر دیتی ہیں ، حتیٰ کہ اس کی اجل آ جاتی ہے ، جبکہ منافق کی مثال صنوبر کے درخت کی طرح ہے ، جس پر کوئی چیز اثر انداز نہیں ہوتی حتیٰ کہ وہ ایک ہی مرتبہ ٹوٹ جاتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۶۴۳) و مسلم (۵۹ / ۲۸۱۰) ۔ 7094-7095
1541
Sahih
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الزَّرْعِ لَا تزَال لاريح تميله وَلَا يزَال الْمُؤمن يصبيه الْبَلَاءُ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ شَجَرَةِ الْأَرْزَةِ لَا تهتز حَتَّى تستحصد»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مومن کی مثال کھیتی کی سی ہے جسے ہوا جھکا دیتی ہے ، اور مومن کو مصائب آتے رہتے ہیں ، جبکہ منافق کی مثال صنوبر کے درخت کی طرح ہے وہ حرکت نہیں کرتا حتیٰ کہ اسے کاٹ دیا جاتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۶۴۴) و مسلم (۵۸ / ۲۸۰۹) ۔ 7092
1542
Sahih