TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جنازوں کا بیان - جنازوں کا بیان - Book 5 of Mishkat with Urdu and English Translation

Book 5 of Mishkat, with 8 chapters and 249 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

249 Hadith · 8 Chapters
باب البکاء علی المیت
میت پر رونے کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلُ ابْنِ حَارِثَةَ وَجَعْفَرٍ وَابْنِ رَوَاحَةَ جَلَسَ يُعْرَفُ فِيهِ الْحُزْنُ وَأَنَا أَنْظُرُ مِنْ صَائِرِ الْبَابِ تَعْنِي شَقَّ الْبَابِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ نِسَاءَ جَعْفَرٍ وَذَكَرَ بُكَاءَهُنَّ فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْهَاهُنَّ فَذَهَبَ ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ لَمْ يُطِعْنَهُ فَقَالَ: انْهَهُنَّ فَأَتَاهُ الثَّالِثَةَ قَالَ: وَاللَّهِ غَلَبْنَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَزَعَمْتُ أَنَّهُ قَالَ: «فَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ» . فَقُلْتُ: أَرْغَمَ اللَّهُ أَنْفَكَ لَمْ تَفْعَلْ مَا أَمَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ تَتْرُكْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ العناء
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب نبی ﷺ کے پاس ابن حارثہ ؓ ، جعفر ؓ اور ابن رواحہ ؓ کی خبر شہادت پہنچی تو آپ (مسجد میں) بیٹھ گئے اور آپ کے چہرے پر غم کے آثار واضح تھے ، اور میں دروازے کی جھری سے دیکھ رہی تھی ، اتنے میں ایک آدمی آپ کے پاس آیا تو اس نے عرض کیا : جعفر ؓ کی خواتین رو رہی ہیں ، آپ ﷺ نے اسے فرمایا کہ :’’ انہیں منع کرو ۔‘‘ وہ چلا گیا (اور انہیں منع کیا لیکن وہ باز نہ آئیں) پھر وہ دوسری مرتبہ آپ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ وہ اس کی بات نہیں مانتیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ انہیں منع کر ۔‘‘ لیکن وہ تیسری مرتبہ پھر آیا اور عرض کیا : اللہ کی قسم ! اللہ کے رسول ! وہ ہم پر غالب آ گئیں ہیں ، (عائشہ ؓ) نے گمان کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ان کے منہ میں مٹی ڈالو ۔‘‘ میں نے کہا : اللہ تیری ناک خاک آلود کرے ، رسول اللہ ﷺ نے جو حکم دیا تو اسے بجا لایا نہ رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچانا ترک کیا ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۲۹۹) و مسلم (۳۰ / ۹۳۵) ۔ 2161
1743
Sahih
باب البکاء علی المیت
میت پر رونے کا بیان
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: لَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ غَرِيبٌ وَفِي أَرْضِ غُرْبَةٍ لَأَبْكِيَنَّهُ بُكَاءً يُتَحَدَّثُ عَنْهُ فَكُنْتُ قَدْ تَهَيَّأْتُ لِلْبُكَاءِ عَلَيْهِ إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ تُرِيدُ أَنْ تُسْعِدَنِي فَاسْتَقْبَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَتُرِيدِينَ أَنْ تُدْخُلِي الشَّيْطَانَ بَيْتًا أَخْرَجَهُ اللَّهُ مِنْهُ؟» مَرَّتَيْنِ وَكَفَفْتُ عَنِ الْبُكَاءِ فَلَمْ أبك. رَوَاهُ مُسلم
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب ابوسلمہ ؓ فوت ہوئے تو میں نے کہا : پردیسی شخص پردیس میں فوت ہو گیا ، میں اس مرتبہ اس قدر روؤں گی کہ ایک داستان بن جائے گی ، میں اس پر رونے کی پوری تیاری کر چکی تھی کہ ایک عورت آئی وہ رونے میں میرا ساتھ دینا چاہتی تھی ، رسول اللہ ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا :’’ کیا تم ایسے گھر میں شیطان داخل کرنا چاہتی ہو جہاں سے اللہ نے اسے نکال باہر کیا ہے ۔‘‘ آپ نے دو مرتبہ ایسے فرمایا ۔ پس میں رونے سے رک گئی اور میں نہ روئی ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۰ / ۹۲۲) ۔ 2134
1744
Sahih
باب البکاء علی المیت
میت پر رونے کا بیان
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: أُغْمِيَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ فَجَعَلَتْ أُخْتُهُ عَمْرَةُ تبْكي: واجبلاه واكذا واكذا تُعَدِّدُ عَلَيْهِ فَقَالَ حِينَ أَفَاقَ: مَا قُلْتِ شَيْئًا إِلَّا قِيلَ لِي: أَنْتَ كَذَلِكَ؟ زَادَ فِي رِوَايَةٍ فَلَمَّا مَاتَ لَمْ تَبْكِ عَلَيْهِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
نعمان بن بشیر بیان کرتے ہیں ، عبداللہ بن رواحہ ؓ پر بے ہوشی طاری ہوئی تو ان کی بہن عمرہ رونے لگیں اور کہنے لگیں ، آہ پہاڑ پر کتنا افسوس آہ اس طرح اور اس طرح ، وہ ان کے محاسن بیان کرنے لگیں ، جب انہیں ہوش آیا تو انہوں نے فرمایا : آپ نے جو کچھ بھی کہا ، وہ مجھ سے پوچھا گیا کہ کیا تم اسی طرح ہو ؟ اور ایک روایت میں یہ نقل کیا ہے : جب وہ (عبداللہ بن رواحہ ؓ) شہید ہوئے تو پھر وہ ان پر نہ روئیں ۔ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۴۲۶۷) ۔
1745
Sahih
باب البکاء علی المیت
میت پر رونے کا بیان
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا من ميت يَمُوت فَيقوم باكيهم فيقولك: واجبلاه واسيداه وَنَحْوَ ذَلِكَ إِلَّا وَكَّلَ اللَّهُ بِهِ مَلَكَيْنِ يَلْهَزَانِهِ وَيَقُولَانِ: أَهَكَذَا كُنْتَ؟ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ
ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب کوئی شخص فوت ہو جاتا ہے اور اسے رونے والے کھڑے ہو کر کہتے ہیں : آہ پہاڑ ! آہ سردار ! اور اس طرح کی کوئی بات ، تو اللہ اس (میت) پر دو فرشتے مقرر فرما دیتا ہے جو اسے مارتے ہوئے دھکے دے کر کہتے ہیں : کیا تو ایسے ہی تھا ؟‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۱۰۰۳) ۔
1746
Sahih
باب البکاء علی المیت
میت پر رونے کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: مَاتَ مَيِّتٌ مِنْ آلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَمَعَ النِّسَاءُ يَبْكِينَ عَلَيْهِ فَقَامَ عُمَرُ يَنْهَاهُنَّ وَيَطْرُدُهُنَّ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْهُنَّ فَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ وَالْقَلْبَ مُصَابٌ وَالْعَهْدَ قَرِيبٌ» . رَوَاهُ أَحْمد وَالنَّسَائِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کی آل میں سے کوئی شخص فوت ہو گیا ، تو عورتیں جمع ہو کر اس پر رونے لگیں ، جبکہ عمر ؓ انہیں روکنے اور دور ہٹانے کے لیے کھڑے ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عمر انہیں چھوڑ دو ، کیونکہ آنکھ اشکبار ہے اور دل غمناک ہے اور ابھی صدمہ تازہ ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۲ / ۴۴۴) و النسائی (۴ / ۱۹ ح ۱۸۶۰) * سلمۃ بن الارزق : مستور ، لم اجد من و ثقہ غیر ابن حبان ۔
1747
Zaeef
باب البکاء علی المیت
میت پر رونے کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَاتَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَكَتِ النِّسَاء فَجعل عُمَرُ يَضْرِبُهُنَّ بِسَوْطِهِ فَأَخَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ وَقَالَ: «مهلا يَا عمر» ثُمَّ قَالَ: «إِيَّاكُنَّ وَنَعِيقَ الشَّيْطَانِ» ثُمَّ قَالَ: «إِنَّهُ مَهْمَا كَانَ مِنَ الْعَيْنِ وَمِنَ الْقَلْبِ فَمِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمِنَ الرَّحْمَةِ وَمَا كَانَ مِنَ الْيَدِ وَمِنَ اللِّسَانِ فَمِنَ الشَّيْطَانِ» . رَوَاهُ أَحْمد
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی زینب ؓ وفات پا گئیں تو خواتین رونے لگیں ، تو عمر ؓ کوڑے کے ساتھ انہیں مارنے لگے جس پر رسول اللہ ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ساتھ انہیں پیچھے کر دیا اور فرمایا :’’ عمر ! کچھ مہلت دو ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ (خواتین کی جماعت) شیطانی آواز سے بچو ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ جہاں تک آنکھ (کے اشکبار ہونے) اور دل (کے غمگین ہونے) کا تعلق ہے تو وہ اللہ عزوجل کی طرف سے ہے اور رحمت ہے ، اور جو ہاتھ اور زبان سے کوئی حرکت ہو تو وہ شیطان کی طرف سے ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۱ / ۳۳۵ ح ۳۱۰۳ ، ۲۳۷ ۔ ۲۳۸ ح ۲۱۲۷) * فیہ علی بن زید بن جدعان ضعیف ۔
1748
Zaeef
باب البکاء علی المیت
میت پر رونے کا بیان
وَعَنِ الْبُخَارِيِّ تَعْلِيقًا قَالَ: لَمَّا مَاتَ الْحَسَنُ بن الْحسن بن عَليّ ضَرَبَتِ امْرَأَتُهُ الْقُبَّةَ عَلَى قَبْرِهِ سَنَةً ثُمَّ رَفَعَتْ فَسَمِعَتْ صَائِحًا يَقُولُ: أَلَا هَلْ وَجَدُوا مَا فَقَدُوا؟ فَأَجَابَهُ آخَرُ: بَلْ يَئِسُوا فَانْقَلَبُوا
امام بخاری ؒ نے معلق روایت بیان کی ہے کہ جب حسن بن حسن بن علی ؒ فوت ہوئے تو ان کی اہلیہ نے سال بھر کے لیے ان کی قبر پر خیمہ لگا لیا ، پھر انہوں نے اٹھا لیا تو انہوں نے کسی پکارنے والے کو سنا : کیا انہوں نے اپنی مفقود چیز کو پا لیا ؟ دوسرے نے جواب دیا ، نہیں بلکہ مایوس ہو گئے تو واپس چلے گئے ۔ ضعیف ، رواہ البخاری تعلیقاً ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ البخاری تعلیقاً (الجنائز باب ۶۱ قبل ح ۱۳۳۰) [و انظر تغلیق التعلیق (۲ / ۴۸۲] * محمد بن حمید : ضعیف و مغیرۃ بن مقسم مدلس ولم اجد تصریح سماعہ ۔
1749
Zaeef
باب البکاء علی المیت
میت پر رونے کا بیان
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَأَبِي بَرْزَةَ قَالَا: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَرَأَى قَوْمًا قَدْ طَرَحُوا أَرْدَيْتَهُمْ يَمْشُونَ فِي قُمُصٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبِفِعْلِ الْجَاهِلِيَّةِ تَأْخُذُونَ؟ أَوْ بِصَنِيعِ الْجَاهِلِيَّةِ تَشَبَّهُونَ؟ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَدْعُوَ عَلَيْكُمْ دَعْوَةً تَرْجِعُونَ فِي غَيْرِ صُوَرِكُمْ» قَالَ: فَأخذُوا أرديتهم وَلم يعودوا لذَلِك. رَوَاهُ ابْن مَاجَه
عمران بن حصین ؓ اور ابوبرزہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک جنازے میں شریک ہوئے تو آپ نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی اوپر والی چادریں اتار پھینکی ہیں اور صرف قمیض پہن کر چل رہے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے (یہ منظر دیکھ کر) فرمایا :’’ کیا تم جاہلیت کا سا کام کر رہے ہو یا جاہلیت کے کام سے مشابہت اختیار کر رہے ہو ؟ میں نے ارادہ کیا کہ تمہارے لیے بددعا کروں کہ تمہاری صورتیں مسخ ہو جائیں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، انہوں نے اپنی چادریں لے لیں اور پھر دوبارہ ایسے نہیں کیا ۔ اسنادہ موضوع ۔
Takhreej
اسنادہ موضوع ، رواہ ابن ماجہ (۱۴۸۵) * نفیع بن الحارث ابوداؤد الاعمی کذاب و علی بن الحزور : متروک ۔
1750
Zaeef
باب البکاء علی المیت
میت پر رونے کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُتْبَعَ جَنَازَةٌ مَعهَا رانة. رَوَاهُ أَحْمد وَابْن مَاجَه
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ایسے جنازے میں شریک ہونے سے منع فرمایا جس کے ساتھ کوئی نوحہ کرنے والی ہو ۔ ضعیف ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ احمد (۲ / ۹۲ ح ۵۶۶۸) و ابن ماجہ (۱۵۸۳) * ابو یحیی القتات روی عنہ اسرائیل احادیث کثیرۃ مناکیر جدًا ۔
1751
Zaeef
باب البکاء علی المیت
میت پر رونے کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لَهُ: مَاتَ ابْنٌ لِي فَوَجَدْتُ عَلَيْهِ هَلْ سَمِعْتَ مِنْ خَلِيلِكَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ شَيْئًا يَطَيِّبُ بِأَنْفُسِنَا عَنْ مَوْتَانَا؟ قَالَ: نَعَمْ سَمِعْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «صِغَارُهُمْ دَعَامِيصُ الْجَنَّةِ يلقى أحدهم أَبَاهُ فَيَأْخُذ بِنَاحِيَةِ ثَوْبِهِ فَلَا يُفَارِقُهُ حَتَّى يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ» . رَوَاهُ مُسلم وَأحمد وَاللَّفْظ لَهُ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ان سے کہا کہ میرا بیٹا فوت ہو گیا تو میں نے اس پر بہت غم کیا ، کیا آپ نے اپنے خلیل صلوات اللہ علیہ و سلامہ سے کوئی ایسی چیز سنی ہے جس سے ہم اپنے فوت شدگان کے بارے میں اپنے دلوں کو خوش کر لیں ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ان کے چھوٹے بچے جنت کے کیڑے ہوں گے ، ان میں سے ایک اپنے والد سے ملاقات کرے گا تو وہ اسے کپڑے کے کنارے سے پکڑ لے گا ، پھر وہ اس سے الگ نہیں ہو گا حتیٰ کہ وہ اسے جنت میں لے جائے گا ۔‘‘ مسلم ، احمد ، اور الفاظ مسند احمد کے ہیں ۔ رواہ مسلم و احمد ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۵۴ / ۲۶۳۵) و احمد (۲ / ۴۸۸ ح ۱۰۳۳۰) ۔ 6701
1752
Sahih
باب البکاء علی المیت
میت پر رونے کا بیان
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ الرِّجَالُ بِحَدِيثِكَ فَاجْعَلْ لَنَا مِنْ نَفْسِكَ يَوْمًا نَأْتِيكَ فِيهِ تُعَلِّمُنَا مِمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ. فَقَالَ: «اجْتَمِعْنَ فِي يَوْمِ كَذَا وَكَذَا فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا» فَاجْتَمَعْنَ فَأَتَاهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَّمَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ ثُمَّ قَالَ: «مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُقَدِّمَ بَيْنَ يَدَيْهَا من وَلَدهَا ثَلَاثَة إِلَّا كَانَ لَهَا حِجَابا ن النَّارِ» فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوِ اثْنَيْنِ؟ فَأَعَادَتْهَا مَرَّتَيْنِ. ثُمَّ قَالَ: «وَاثْنَيْنِ وَاثْنَيْنِ وَاثْنَيْنِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ کی حدیث کے معاملے میں مرد حضرات سبقت لے گئے ، آپ ہمارے لیے بھی ایک دن مقرر فرما دیں ، جس روز ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوں آپ ہمیں وہ تعلیم دیں جو اللہ نے آپ ﷺ کو دی ہے ، آپ نے فرمایا :’’ آپ فلاں فلاں دن فلاں فلاں جگہ جمع ہو جایا کریں ۔‘‘ پس وہ اکٹھی ہو گئیں تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے تو آپ نے اللہ کی تعلیمات میں سے انہیں کچھ تعلیمات دیں ، پھر فرمایا :’’ تم میں سے جس کے تین بچے فوت ہو جائیں تو وہ اس کے لیے جہنم سے حجاب بن جائیں گے ‘‘ ان میں سے کسی عورت نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اگر دو ہوں ؟ اس نے دو مرتبہ یہ بات کہی ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر دو ہوں ، اگر دو ہوں ، اگر دو ہوں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۱۰۱) ۔
1753
Sahih
باب البکاء علی المیت
میت پر رونے کا بیان
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يُتَوَفَّى لَهُمَا ثَلَاثَةٌ إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمَا» . فَقَالُوا: يَا رَسُولَ الله أَو اثْنَان؟ قَالَ: «أواثنان» . قَالُوا: أَوْ وَاحِدٌ؟ قَالَ: «أَوْ وَاحِدٌ» . ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ السِّقْطَ لَيَجُرُّ أُمَّهُ بِسَرَرِهِ إِلَى الْجَنَّةِ إِذَا احْتَسَبَتْهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْ قَوْلِهِ: «وَالَّذِي نَفسِي بِيَدِهِ»
معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس مسلمان والدین کے تین بچے فوت ہو جائیں تو اللہ ان پر اپنا فضل و کرم فرماتے ہوئے انہیں جنت میں داخل فرمائے گا ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا : اگر دو ہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر دو ہوں ‘‘ انہوں نے پھر عرض کیا ، اگر ایک ہو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر ایک ہو تب بھی ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ اس ذات کی قسم : جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! نامکمل بچہ اپنی ماں کو اپنی آنول (ناف) سے کھینچ کر جنت میں لے جائے گا ، بشرطیکہ وہ اس (کی وفات) پر صبر کرے ۔‘‘ احمد ، ابن ماجہ نے ((والذی نفسی بیدہ)) سے آخر تک حدیث روایت کی ہے ۔ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۵ / ۲۴۱ ح ۲۲۴۴۱) و ابن ماجہ (۱۶۰۹) * یحیی بن عبیداللہ التیمی ضعیف ۔
1754
Zaeef
باب البکاء علی المیت
میت پر رونے کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: من قَدَّمَ ثَلَاثَةً مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ: كَانُوا لَهُ حِصْنًا حَصِينًا مِنَ النَّارِ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: قَدَّمْتُ اثْنَيْنِ. قَالَ: «وَاثْنَيْنِ» . قَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ أَبُو الْمُنْذِرِ سَيِّدُ الْقُرَّاءِ: قدمت وَاحِد. قَالَ: «وَوَاحِد» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث غَرِيب
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کے تین نا بالغ بچے فوت ہو جائیں تو وہ اس کے لیے جہنم سے مضبوط حصار بن جائیں گے ۔‘‘ ابوذر ؓ نے عرض کیا : میرے دو بچے فوت ہوئے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دو بھی ۔‘‘ سیدالقراء ابومنذر ابی بن کعب ؓ نے عرض کیا ، میرا ایک بچہ فوت ہوا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ایک بھی ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۰۶۱) و ابن ماجہ (۱۶۰۶) * ابو عبیدۃ لم یسمع من ابیہ و ابو محمد مولی عمر : مجھول ۔
1755
Zaeef
باب البکاء علی المیت
میت پر رونے کا بیان
وَعَنْ قُرَّةَ الْمُزَنِيِّ: أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ابْنٌ لَهُ. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتُحِبُّهُ؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبَّكَ اللَّهُ كَمَا أُحِبُّهُ. فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا فَعَلَ ابْنُ فُلَانٍ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاتَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا تحب أَلا تَأْتِيَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا وَجَدْتَهُ يَنْتَظِرُكَ؟» فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَهُ خَاصَّةً أَمْ لِكُلِّنَا؟ قَالَ: «بَلْ لِكُلِّكُمْ» . رَوَاهُ أَحْمد
قرۃ مزنی ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی اپنے بیٹے کے ساتھ نبی ﷺ کی خدمت میں آیا کرتا تھا ، نبی ﷺ نے اسے فرمایا :’’ کیا تم اس سے محبت کرتے ہو ؟‘‘ اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں جیسے اس سے محبت کرتا ہوں ویسے اللہ آپ سے محبت کرے ، نبی ﷺ نے اسے نہ پایا تو پوچھا :’’ ابن فلاں کو کیا ہوا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ فوت ہو گیا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ تم جنت کے جس دروازے پر جاؤ تو تم اسے وہاں اپنا منتظر پاؤ ؟‘‘ کسی آدمی نے کہا : اللہ کے رسول ! کیا یہ اس شخص کے لیے خاص ہے یا ہم سب کے لیے ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بلکہ تم سب کے لیے ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ احمد (۵ / ۲۵ ، ۳۴ ۔ ۳۵ ، ۳ / ۴۳۶) [و النسائی (۴ / ۲۳ ح ۱۸۷۱) و صححہ ابن حبان (الموارد : ۷۲۵) و الحاکم (۱ / ۳۸۴) و وافقہ الذھبی] ۔
1756
Sahih
باب البکاء علی المیت
میت پر رونے کا بیان
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِن السِّقْطَ لَيُرَاغِمُ رَبَّهُ إِذَا أَدْخَلَ أَبَوَيْهِ النَّارَ فَيُقَالُ: أَيُّهَا السِّقْطُ الْمُرَاغِمُ رَبَّهُ أَدْخِلْ أَبَوَيْكَ الْجَنَّةَ فَيَجُرُّهُمَا بِسَرَرِهِ حَتَّى يُدْخِلَهُمَا الْجَنَّةَ . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب نا مکمل پیدا ہونے والے بچے کے والدین کو جہنم میں داخل کیے جانے کا ارادہ کیا جائے گا تو وہ اپنے رب سے جھگڑا کرے گا ، تو اسے کہا جائے گا : اپنے رب سے جھگڑا کرنے والے نا مکمل بچے ! اپنے والدین کو جنت میں لے جا ، وہ اپنے آنول سے انہیں کھینچے گا حتیٰ کہ انہیں جنت میں لے جائے گا ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ (۱۶۰۸) * مندل ضعیف و اسماء بنت عابس : لا یعرف حالھا ۔
1757
Zaeef
باب البکاء علی المیت
میت پر رونے کا بیان
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: ابْنَ آدَمَ إِنْ صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى لَمْ أَرْضَ لَكَ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
ابو امامہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : ابن آدم ! اگر تو نے صدمے کی ابتدا پر ہی صبر کیا اور ثواب کی امید کی تو میں تیرے لیے جنت سے کم تر ثواب پر راضی نہیں ہوں گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابن ماجہ (۱۵۹۷) [و صححہ البوصیری] ۔
1758
Sahih
باب البکاء علی المیت
میت پر رونے کا بیان
وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ وَلَا مُسْلِمَةٍ يُصَابُ بِمُصِيبَةٍ فَيَذْكُرُهَا وَإِنْ طَالَ عَهْدُهَا فَيُحْدِثُ لِذَلِكَ اسْتِرْجَاعًا إِلَّا جَدَّدَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ عِنْدَ ذَلِكَ فَأَعْطَاهُ مِثْلَ أَجْرِهَا يَوْمَ أُصِيبَ بِهَا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان
حسین بن علی ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب کوئی مسلمان مرد یا مسلمان عورت کسی مصیبت میں مبتلا ہو جائے ، اور پھر اس (مصیبت کے واقع ہونے) کے طویل مدت بعد اسے نئے سرے سے یاد آ جائے اور وہ (انا للہ وانا الیہ راجعون) پڑھ لے تو اللہ تبارک و تعالیٰ اسے نئے سرے سے اتنا ہی ثواب عطا فرما دیتا ہے جتنا اس نے اس مصیبت کے واقع ہونے کے روز ثواب عطا کیا تھا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ احمد (۱ / ۲۰۱ ح ۱۷۳۴) و البیھقی فی شعب الایمان (۹۶۹۵) * ھشام بن زیاد ابو المقدام متروک و امہ ’’ لا تعرف ‘‘ کما فی آخر التقریب (ص ۴۸۰) ۔
1759
Zaeef
باب البکاء علی المیت
میت پر رونے کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ فَلْيَسْتَرْجِعْ فَإِنَّهُ مِنَ المصائب» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ (انا للہ وانا الیہ راجعون) پڑھے ، کیونکہ یہ بھی مصائب میں سے ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۹۶۹۳) * فیہ یحیی بن عبید اللہ : ضعیف متروک و ابوہ مجھول و للحدیث شواھد ضعیفۃ ۔
1760
Zaeef
باب البکاء علی المیت
میت پر رونے کا بیان
وَعَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ: يَا عِيسَى إِنِّي بَاعِثٌ مِنْ بَعْدِكَ أُمَّةً إِذَا أَصَابَهُمْ مَا يُحِبُّونَ حَمِدُوا اللَّهَ وَإِنْ أَصَابَهُمْ مَا يَكْرَهُونَ احْتَسَبُوا وَصَبَرُوا وَلَا حِلْمَ وَلَا عَقْلَ. فَقَالَ: يَا رَبِّ كَيْفَ يَكُونُ هَذَا لَهُمْ وَلَا حِلْمَ وَلَا عَقْلَ؟ قَالَ: أُعْطِيهِمْ مِنْ حِلْمِي وَعِلْمِي . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان
ام درداء ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے ابو درداء ؓ کو بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے کہا : میں نے ابو القاسم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :’’ عیسی ٰ ! میں تیرے بعد ایک امت بھیجنے والا ہوں ، جب انہیں کوئی پسندیدہ چیز ملے گی تو وہ اللہ کی حمد بیان کریں گے ، اور اگر کسی ناگوار چیز سے واسطہ پڑ گیا تو وہ ثواب کی امید کے ساتھ صبر کریں گے ، حالانکہ کوئی حلم و عقل نہیں ہو گی ، انہوں نے عرض کیا : میرے پروردگار ! یہ کیسے ہو سکتا ہے جبکہ حلم و عقل نہ ہو ؟ فرمایا :’’ میں انہیں اپنے حلم و علم سے عطا کروں گا ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۹۹۵۳) * عبداللہ بن صالح کاتب اللیث بن سعد : لم یرو عنہ الحذاق ھذا الحدیث ، و یزید بن میسرۃ ابو حلبس : و ثقہ ابن حبان وحدہ ۔
1761
Zaeef
بَاب زِيَارَة الْقُبُور
قبروں کی زیارت کا بیان
عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِي فَوْقَ ثَلَاثٍ فَأَمْسِكُوا مَا بَدَا لَكُمْ وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ إِلَّا فِي سِقَاءٍ فَاشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ كُلِّهَا وَلَا تشْربُوا مُسكرا» . رَوَاهُ مُسلم
بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا ، (اب) ان کی زیارت کیا کرو ، میں نے تمہیں تین دن سے زائد قربانی کا گوشت رکھنے سے منع کیا تھا ، اب جس قدر ضرورت محسوس کرو اسے رکھو ، میں نے مشکیزے کے علاوہ نبیذ بنانے سے تمہیں منع کیا تھا ، تم تمام برتنوں میں نبیذ بنا سکتے ہو ، لیکن نشہ آور مشروب استعمال نہ کرو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۰۶ / ۹۷۷) ۔ 2260
1762
Sahih