TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جنازوں کا بیان - جنازوں کا بیان - Book 5 of Mishkat with Urdu and English Translation

Book 5 of Mishkat, with 8 chapters and 249 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

249 Hadith · 8 Chapters
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: دَخَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ السَّائِبِ فَقَالَ: «مَالك تُزَفْزِفِينَ؟» . قَالَتِ: الْحُمَّى لَا بَارَكَ اللَّهُ فِيهَا فَقَالَ: «لَا تَسُبِّي الْحُمَّى فَإِنَّهَا تُذْهِبُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ كَمَا يُذْهِبُ الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ» . رَوَاهُ مُسلم
جابر بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ ام سائب ؓ کے پاس تشریف لے گئے تو فرمایا :’’ آپ کیوں کانپ رہی ہیں ؟‘‘ انہوں نے بتایا : بخار ہے ، اللہ اسے برکت نہ دے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بخار کو برا بھلا نہ کہو ، کیونکہ وہ بنی آدم کے گناہوں کو اس طرح ختم کر دیتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کی میل کچیل دور کر دیتی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۵۳ / ۲۵۷۵) ۔ 6570
1543
Sahih
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ أَوْ سَافَرَ كُتِبَ لَهُ بِمِثْلِ مَا كَانَ يعْمل مُقيما صَحِيحا» رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب بندہ بیمار ہو جائے یا وہ سفر پر ہو تو اس کے لیے اتنا ہی عمل (ثواب) لکھ دیا جاتا ہے جتنا وہ حالت قیام اور حالت صحت میں کیا کرتا تھا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۲۹۹۶) ۔
1544
Sahih
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لكل مُسلم»
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ طاعون مسلمان کی شہادت ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۷۳۲) و مسلم (۱۶۶ / ۱۹۱۶) ۔ 4944
1545
Sahih
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ الْمَطْعُونُ وَالْمَبْطُونُ وَالْغَرِيقُ وَصَاحب الْهدم والشهيد فِي سَبِيل الله»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ شہداء پانچ قسم کے ہیں ، طاعون کے مرض سے ، پیٹ کے مرض سے ، ڈوب جانے سے فوت ہونے والا ، کسی دیوار وغیرہ کے نیچے دب کر مر جانے والا اور اللہ کی راہ میں شہید ہو جانے والا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۸۲۹) و مسلم (۱۶۴ / ۱۹۱۴) ۔ 4940
1546
Sahih
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطَّاعُونِ فَأَخْبَرَنِي: «أَنَّهُ عَذَابٌ يَبْعَثُهُ اللَّهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ وَأَنَّ اللَّهَ جَعَلَهُ رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ لَيْسَ مِنْ أَحَدٍ يَقَعُ الطَّاعُونُ فَيَمْكُثُ فِي بَلَدِهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يُصِيبُهُ إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ شَهِيدٍ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے طاعون کے بارے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ تو ایک طرح کا عذاب ہے ، اللہ جس پر چاہتا ہے اسے مسلط کر دیتا ہے ، اور اللہ نے اسے مومنوں کے لیے رحمت بنایا ہے ، جو شخص طاعون کی وبا آ جانے پر صبر اور ثواب کی امید کرتے ہوئے اور یہ جانتے ہوئے کہ اللہ نے جو اس کے متعلق لکھ دیا ہے وہ اسے پہنچ کر رہے گا ، اپنے شہر میں ٹھہر جاتا ہے تو اس کے لیے شہید کے مثل اجر و ثواب ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۵۷۳۴) ۔
1547
Sahih
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الطَّاعُونُ رِجْزٌ أُرْسِلَ عَلَى طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَوْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ»
اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ طاعون ایک طرح کا عذاب ہے جو بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر یا تم سے پہلے لوگوں پر بھیجا گیا تھا ، جب تم کسی ملک میں اس کے پھیل جانے کے متعلق سنو تو تم اس ملک کی طرف پیش قدمی نہ کرو اور جب کسی سر زمین پر پھیل جائے اور تم وہاں موجود ہو تو پھر وہاں سے راہ فرار اختیار نہ کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۹۷۴) و مسلم (۹۲ / ۲۲۱۸) ۔ 5772
1548
Sahih
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَن أَنَسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى: إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدِي بِحَبِيبَتَيْهِ ثُمَّ صَبَرَ عَوَّضْتُهُ مِنْهُمَا الْجنَّة يُرِيد عَيْنَيْهِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا : جب میں اپنے بندے کو اس کی دو چیزوں یعنی دونوں آنکھوں سے محروم کر کے آزماتا ہوں اور وہ اس پر صبر کرتا ہے تو میں ان کے عوض اسے جنت عطا کرتا ہوں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۵۶۵۳) ۔
1549
Sahih
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَعُودُ مُسْلِمًا غُدْوَةً إِلَّا صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُصْبِحَ وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو مسلمان کسی مسلمان کی صبح کے وقت عیادت کرتا ہے تو شام ہونے تک ستر ہزار فرشتے اس پر رحمتیں بھیجتے رہتے ہیں اور اگر وہ شام کے وقت اس کی عیادت کرتا ہے تو صبح ہونے تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ تیار کر دیا جاتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۹۶۹ وقال : غریب حسن) و ابوداؤد (۳۰۹۸) * الحکم بن عتیبۃ مدلس و عنعن ۔
1550
Zaeef
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَن زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ قَالَ: عَادَنِي النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم من وجع كَانَ يُصِيبنِي. رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد
زید بن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں ، میری آنکھوں میں تکلیف تھی تو نبی ﷺ نے میری عیادت فرمائی ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۴ / ۳۷۵ ح ۱۹۵۶۳) و ابوداؤد (۳۱۰۲) [و صححہ الحاکم علی شرط الشیخین (۱ / ۳۴۲) و وافقہ الذھبی] ۔
1551
Sahih
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَنْ أَنَسٍ: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ وَعَادَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ مُحْتَسِبًا بُوعِدَ مِنْ جَهَنَّمَ مسيرَة سِتِّينَ خَرِيفًا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اچھی طرح وضو کر کے ثواب کی نیت سے اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو اسے ساٹھ سال کی مسافت کے برابر جہنم سے دور کر دیا جاتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۳۰۹۷) * الفضل بن دلھم : ضعفہ الجمھور ۔
1552
Zaeef
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَعُودُ مُسْلِمًا فَيَقُولُ سَبْعَ مَرَّاتٍ: أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ إِلَّا شُفِيَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ قَدْ حَضَرَ أَجَلُهُ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو مسلمان کسی مسلمان کی عیادت کے وقت سات مرتبہ یہ دعا پڑھے : میں اللہ عظیم ، رب عرش عظیم سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ تمہیں شفا عطا فرمائے ، تو اللہ تعالیٰ اسے شفا عطا فرما دیتا ہے بشرطیکہ کہ اس کی موت کا وقت نہ آ چکا ہو ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ ابوداؤد (۳۱۰۶) و الترمذی (۳۰۸۳ وقال : حسن غریب) [و صححہ ابن حبان (۷۱۴) و الحاکم (۱ / ۳۴۲ ، ۳۴۳ ، ۴ / ۲۱۳) و وافقہ الذھبی] ۔
1553
Sahih
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يعلمهُمْ من الْحمى وم الأوجاع كلهَا أَن يَقُولُوا: «بِسم الله الْكَبِيرِ أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ مِنْ شَرِّ كُلِّ عرق نعار وَمن شَرّ حر النَّارِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا يُعْرَفُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ يضعف فِي الحَدِيث
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ بخار اور ہر قسم کی تکلیف کے متعلق انہیں یہ دعا سکھایا کرتے تھے :’’ اللہ کبیر کے نام کے ساتھ میں ہر جوش مارنے والی رگ کے شر اور آگ کی حرارت کے شر سے اللہ عظیم کی پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے یہ صرف ابراہیم بن اسماعیل کی سند سے معروف ہے جبکہ اسے حدیث میں ضعیف قرار دیا گیا ہے ۔ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۰۷۵) * داود بن حصین عن عکرمۃ : منکر ، و ابراھیم بن اسماعیل بن ابی حبیبۃ : ضعیف ۔
1554
Zaeef
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنِ اشْتَكَى مِنْكُمْ شَيْئًا أَوِ اشْتَكَاهُ أَخٌ لَهُ فَلْيَقُلْ: رَبُّنَا اللَّهُ الَّذِي فِي السَّمَاءِ تَقَدَّسَ اسْمُكَ أَمرك فِي السَّمَاء وَالْأَرْض كَمَا أَن رَحْمَتُكَ فِي السَّمَاءِ فَاجْعَلْ رَحْمَتَكَ فِي الْأَرْضِ اغْفِرْ لَنَا حُوبَنَا وَخَطَايَانَا أَنْتَ رَبُّ الطَّيِبِينَ أَنْزِلْ رَحْمَةً مِنْ رَحْمَتِكَ وَشِفَاءً مِنْ شِفَائِكَ عَلَى هَذَا الْوَجَعِ. فَيَبْرَأُ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ تم میں سے کسی شخص کو کوئی تکلیف پہنچے یا اس کے بھائی کو کوئی تکلیف پہنچے تو وہ یوں دعا کرے تو وہ ٹھیک ہو جائے گا : ہمارا رب اللہ ہے جو کہ آسمانوں میں ہے ، تیرا نام پاک ہے ، زمین و آسمان پر تیرا امر ایسے ہی ہے جیسے تیری رحمت آسمان میں ہے ، پس زمین پر بھی اپنی رحمت فرما ، ہمارے کبیرہ گناہ اور خطائیں معاف فرما ، تو (گناہوں سے) پاک لوگوں کا رب ہے ، اپنی رحمت سے رحمت نازل فرما ، اور اس تکلیف پر اپنی شفا سے شفا نازل فرما ۔ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۳۸۹۲) * زیاد بن محمد : منکر الحدیث و اخطا الحاکم فذکرہ فی المستدرک (۱ / ۳۴۴ ، ۴ / ۲۱۸ ، ۲۱۹) و رد علیہ الذھبی ۔
1555
Zaeef
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا جَاءَ الرجل يعود مَرِيضا فَلْيقل ك اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا أَوْ يَمْشِي لَكَ إِلَى جِنَازَةٍ» رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب آدمی کسی مریض کی عیادت کے لیے آئے تو یوں دعا کرے : اے اللہ ! اپنے بندے کو شفا عطا فرما ، وہ تیری رضا کی خاطر دشمن سے جہاد کرے گا یا تیری رضا کی خاطر جنازے کے لیے جائے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۳۱۰۷) [و صححہ ابن حبان (۷۱۵) و الحاکم (۱ / ۳۴۴ ، ۵۴۹) و وافقہ الذھبی] ۔
1556
Sahih
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
عَن عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أُمَيَّةَ أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَة عَن قَول الله تبَارك وَتَعَالَى: (إِن تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ الله) وَعَنْ قَوْلِهِ: (مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ) فَقَالَتْ: مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «هَذِه معاتبة الله العَبْد فِيمَا يُصِيبُهُ مِنَ الْحُمَّى وَالنَّكْبَةِ حَتَّى الْبِضَاعَةِ يَضَعُهَا فِي يَدِ قَمِيصِهِ فَيَفْقِدُهَا فَيَفْزَعُ لَهَا حَتَّى إِنَّ الْعَبْدَ لَيَخْرُجُ مِنْ ذُنُوبِهِ كَمَا يَخْرُجُ التبر الْأَحْمَر من الْكِير» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
علی بن زید ؒ امیہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اللہ عزوجل کے اس فرمان :’’ خواہ تم دل کی باتوں کو ظاہر کرو یا پوشیدہ رکھو ، اللہ تم سے ضرور اس کا محاسبہ کرے گا ۔‘‘ نیز ’’ اور جو کوئی برا کام کرے گا تو اس کا اسے بدلہ دیا جائے گا ۔‘‘ کے متعلق عائشہ ؓ سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا اس کے متعلق مجھ سے کسی نے دریافت نہیں کیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بندے کو بخار اور مصیبت وغیرہ آتی ہے تو یہ اللہ کی طرف سے مؤاخذہ ہے حتیٰ کہ اگر وہ اپنی قمیض کی جیب میں کچھ رقم رکھ کر اسے گم کر بیٹھتا ہے اور اس پر وہ پریشان ہوتا ہے (تو یہ بھی اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے) حتیٰ کہ بندہ اپنے گناہوں سے اس طرح صاف ہو جاتا ہے جس طرح سرخ سونا بھٹی سے صاف ہو کر نکلتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۹۹۱ وقال : حسن غریب) * علی بن زید ضعیف و امیۃ : مجھولۃ ۔
1557
Zaeef
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يُصِيبُ عَبْدًا نَكْبَةٌ فَمَا فَوْقَهَا أَوْ دُونَهَا إِلَّا بِذَنَبٍ وَمَا يَعْفُو اللَّهُ عَنْهُ أَكْثَرُ وَقَرَأَ: (وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كثير) رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بندے کو چھوٹی بڑی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اس کے گناہوں کی وجہ سے پہنچتی ہے ، اور جن سے اللہ تعالیٰ درگزر فرماتا ہے وہ تو کہیں زیادہ ہیں ۔‘‘ اور آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ اور تمہیں جو مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے اور وہ اکثر برائیاں معاف کر دیتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۲۵۲ وقال : غریب) * عبیداللہ بن الوازع و شیخہ : مجھولان ۔
1558
Zaeef
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: إِن الْعَبْدَ إِذَا كَانَ عَلَى طَرِيقَةٍ حَسَنَةٍ مِنَ الْعِبَادَةِ ثُمَّ مَرِضَ قِيلَ لِلْمَلَكِ الْمُوَكَّلِ بِهِ: اكْتُبْ لَهُ مِثْلَ عَمَلِهِ إِذَا كَانَ طَلِيقًا حَتَّى أطلقهُ أَو أكفته إِلَيّ
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب بندہ اچھے انداز میں عبادت کرتا ہے اور پھر وہ بیمار ہو جاتا ہے تو اس پر مقرر کیے ہوئے فرشتے سے کہا جاتا ہے : اس کے عمل ویسے ہی لکھتے جاؤ جیسے یہ حالت صحت میں عمل کیا کرتا تھا حتیٰ کہ میں اسے صحت یاب کر دوں یا اسے اپنے پاس بلا لوں ۔‘‘ حسن ، رواہ البغوی فی شرح السنہ ۔
Takhreej
حسن ، رواہ البغوی فی شرح السنۃ (۵ / ۲۴۰ ۔ ۲۴۱ ح ۱۴۲۹) [و احمد (۲ / ۲۰۳ ح ۶۸۹۵) و سندہ حسن و لہ طریق آخر عندہ (۲ / ۱۹۴ ، ۱۹۸) و صححہ الحاکم (۱ / ۳۴۸) و وافقہ الذھبی (!) و للحدیث شواھد عند البخاری (۲۹۹۶) وغیرہ] ۔
1559
Sahih
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا ابْتُلِيَ الْمُسْلِمُ بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ قِيلَ لِلْمَلَكِ: اكْتُبْ لَهُ صَالِحَ عَمَلِهِ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُ فَإِنْ شَفَاهُ غَسَّلَهُ وَطَهَّرَهُ وَإِنْ قَبَضَهُ غَفَرَ لَهُ وَرَحِمَهُ . رَوَاهُمَا فِي شرح السّنة
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب مسلمان کسی جسمانی آزمائش سے دوچار ہو جاتا ہے تو فرشتے سے کہہ دیا جاتا ہے : اس کے وہ صالح عمل لکھتے چلے جاؤ جو وہ پہلے حالت صحت میں کیا کرتا تھا ، اگر وہ اسے شفا بخش دے تو وہ اسے گناہوں سے پاک صاف کر دیتا ہے ، اور اگر اس کی روح قبض کر لے تو وہ اسے معاف فرما دیتا ہے اور وہ اس پر رحمت فرماتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ البغوی فی شرح السنہ ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ البغوی فی شرح السنۃ (۵ / ۲۴۱ ح ۱۴۳۰) [و احمد (۳ / ۱۴۸)] ۔
1560
Sahih
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَى الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ: الْمَطْعُونُ شَهِيدٌ وَالْغَرِيقُ شَهِيدٌ وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ وَصَاحِبُ الْحَرِيقِ شَهِيدٌ وَالَّذِي يَمُوتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيدٌ وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهِيدٌ . رَوَاهُ مَالك وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
جابر بن عتیک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی راہ میں شہید ہونے کے علاوہ شہادت کی سات قسمیں ہیں : طاعون کے مرض سے ، ڈوب جانے سے ، نمونیے کے مرض سے ، پیٹ کے مرض سے ، جل کر وفات پانے والے اور کسی بوجھ تلے دب کر مرنے والے شہید ہیں اور بچے کی پیدائش پر فوت ہو جانے والی عورت بھی شہید ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ مالک و ابوداؤد و النسائی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ مالک (۱ / ۲۳۳ ۔ ۲۳۴ ح ۵۵۵) و ابوداؤد (۳۱۱۱) و النسائی (۴ / ۱۳ ، ۱۴ ح ۱۸۴۷) [و ابن ماجہ : ۲۸۰۳] * و صححہ ابن حبان (۱۶۱۶) و الحاکم (۱ / ۳۵۲ ۔ ۳۵۳) و وافقہ الذھبی ۔
1561
Sahih
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً؟ قَالَ: «الْأَنْبِيَاء ثمَّ الْمثل فَالْأَمْثَلُ يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ فَإِنْ كَانَ صلبا فِي دينه اشْتَدَّ بَلَاؤُهُ وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ هُوِّنَ عَلَيْهِ فَمَا زَالَ كَذَلِكَ حَتَّى يَمْشِيَ على الأَرْض مَال ذَنْبٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حسن صَحِيح
سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ سے دریافت کیا گیا کن لوگوں پر سب سے زیادہ مصائب آتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ انبیا علیہم السلام پھر جو ان کے بعد افضل ہیں ، پھر جو ان کے بعد افضل ہیں ، آدمی کو اس کے دین کے حساب ہی سے آزمایا جاتا ہے ، اگر تو وہ اپنے دین میں پختہ ہو تو اس کی آزمائش بھی سخت ہوتی ہے ۔ اور اگر وہ دین میں نرم اور کمزور ہو تو اس کی آزمائش بھی سہل ہوتی ہے ، یہ معاملہ اسی طرح چلتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ سطح زمین پر اس طرح چلتا ہے کہ اس کے ذمے کوئی گناہ نہیں ہوتا ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ، دارمی ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ حسن ۔
Takhreej
حسن ، رواہ الترمذی (۲۳۹۸) و ابن ماجہ (۴۰۲۳) و الدارمی (۲ / ۳۲۰ ح ۲۷۸۶) [و صححہ ابن حبان : ۷۰۰] ۔
1562
Sahih