TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1852 - بَاب من لَا تحل لَهُ الْمَسْأَلَة وَمن تحل لَهُ - زکوۃ کا بیان - Mishkat in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 16 of 22 in this chapter
بَاب من لَا تحل لَهُ الْمَسْأَلَة وَمن تحل لَهُ
سوال کرنا کس کے لیے جائز ہے اور کس کے لیے ناجائز
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ فَأَنْزَلَهَا بِالنَّاسِ لَمْ تُسَدَّ فَاقَتُهُ. وَمَنْ أَنْزَلَهَا بِاللَّه أوشك الله لَهُ بالغنى إِمَّا بِمَوْتٍ عَاجِلٍ أَوْ غِنًى آجِلٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص فاقے میں مبتلا ہو جائے اور وہ اسے لوگوں پر پیش کرے تو اس کا فاقہ دور نہیں ہو گا ، اور جو شخص اس کے متعلق اللہ سے عرض کرے تو قریب ہے کہ اللہ جلد موت دے کر یا بدیر دولت مندی دے کر اسے غنی عطا فرما دے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
1852
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
(حسن)
Conclusion
تخریج
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۱۶۴۵) و الترمذی (۲۳۲۶ وقال : حسن صحیح غریب) ۔

Related Chapters

1,162
1
(3) CHAPTER. To provide one's family with food sufficient for one year in advance. And how one should spend on his dependants.
مرد کا اپنی بچوں کے لیے ایک سال کا خرچ جمع کرناجائز ہے اور جورو بچوں پر کیوں کر خرچ کرے اس کا بیان ۔
Sahih Bukhari
2
ان چیزوں کا بیان جن سے استنجا کرنا جائز ہے اور جن سے ناجائز ہے
Musnad Ahmad
3
معتکف کے لیے جائز اور ناجائز امور کا بیان
Musnad Ahmad
4
محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان محرم کا سلے ہوئے کپڑے اتار دینے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ کون سے کپڑے اور خوشبو اس کے لیے ناجائز ہے
Musnad Ahmad
5
اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
6
خواتین کے لیے زینت وغیرہ کی جائز اور ناجائز صورتوں کے ابواب بال ملانے اور تیل لگانے کا بیان
Musnad Ahmad
7
(45) CHAPTER Whosoever, while standing, asked a religious learned man who was sitting (on a pulpit or a similar thing, about something).
کھڑے ہو کر کسی عالم سے سوال کرنا جو بیٹھا ہوا ہو ( جائز ہے )
Sahih Bukhari
8
Chapter: It is permissible for one who has broken his wudu’ to eat, and there is nothing disliked about doing so, and wudu’ need not be done immediately
بے وضو شخص کے لیے کھانا جائز ہے، اس میں کوئی کراہت نہیں اور وضو فوری طور پر کرنا ضروری نہیں
Sahih Muslim
9
Chapter: It is permissible to circumambulate the Ka'bah on a camel and the like, And for one who is riding to touch the (black) stone with a crooked staff and the like.
اونٹ یا کسی اور سواری پر طواف کرنا اور سوار شخص کے لیے مڑے ہوئے سرے والی چھڑی وغیرہ (کسی بھی چیز )سے حجرا سود کا استلام کرنا جائز ہے
Sahih Muslim
10
CHAPTER: What Has Been Related Regarding What Is Allowed For A Testor To Give From His Wealth.
باب: وصیت کرنے والے کے لیے جو چیز ناجائز ہے اس کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
11
CHAPTER: Harshness In Takin Jizyah.
باب: جزیہ کے وصول کرنے میں ظلم کرنا ناجائز ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
12
CHAPTER: Regarding the Judges judge when he is mistaken.
باب: اگر قاضی غلط فیصلہ کر دے تو جس کا اس میں فائدہ ہے اس کے لیے اس سے فائدہ اٹھانا ناجائز ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
13
CHAPTER: What Has Been Reported About The Gold Ring.
باب: مردوں کے لیے سونے کی انگوٹھی کا پہننا ناجائز ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
14
وارث کے لیے وصیت ناجائز ہے
Sunnan Ibn e Maja
15
وہ مساجد جن کے لیے سفر کرنا جائز ہے۔
Sunnan Nisai
16
باب: کس طرح کا شکار کھانا محرم کے لیے ناجائز ہے؟
Sunnan Nisai
17
Chapter: What Has Been Related About Talking After The Imam Descends From The Minbar
باب: منبر سے اترنے کے بعد امام کا بات چیت کرنا جائز ہے
Jam e Tirmazi
18
Chapter: (Mentioning) What Is Allowed From Walking And Actions During Voluntary Salat
باب: نفل نماز میں کس قدر چلنا اور کتنا کام کرنا جائز ہے؟
Jam e Tirmazi
19
Chapter: (What Has Been Reported About) For Whom The Zakat Is Lawful
باب: زکاۃ کس کے لیے جائز ہے؟
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About: For Whom Charity Is Not Lawful
باب: زکاۃ لینا کس کس کے لیے جائز نہیں؟
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About What Is Not Allowed For The Muhrim To Wear
باب: محرم کے لیے جن چیزوں کا پہننا جائز نہیں ان کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Sell Food Until It has Been Acquired
باب: قبضہ سے پہلے غلہ بیچنا ناجائز ہے
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Is Not Allowed For Slaughtering
باب: جن جانوروں کی قربانی ناجائز ہے
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What has been Related About It is Not Lawful To Intimidate A Muslim
باب: ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کو ڈرانا دھمکانا ناجائز ہے
Jam e Tirmazi
25
دین و دنیا کے لیے ضرورت پڑنے والی ہر چیز کے بارے میں واجبی طور پر سوال کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
26
مردار کے چمڑے اور پٹھے سے استفادہ کرنے کے ناجائز ہونے کا بیان اور عدم جواز اور جواز پر دلالت کرنے والی احادیث میں جمع و تطبیق کا بیان
Musnad Ahmad
27
قضائے حاجت کے لیے نرم جگہ کو تلاش کرنے کا بیان اور ان مقامات کی تفصیل جہاں قضائے حاجت جائز نہیں ہے
Musnad Ahmad
28
میت پر رونے کی ناجائز صورت کا بیان
Musnad Ahmad
29
بنو ہاشم اور ان کی بیویوں اور غلاموں کے لیے صدقہ کے حرام ہونے اور ہدیہ کے جائز ہونے کا بیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌
Musnad Ahmad
30
سوال نہ کرنے پر بیعت کرنا
Musnad Ahmad
31
وصال سے منع کرنے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے اس کا بطور خصوصیت جائزہونے کا بیان
Musnad Ahmad
32
اس امر کا بیان کہ اگر محرم نہ تو خود شکار کرے اور نہ اس کی خاطر کیا جائے تو اس کے لیے اس کا کھانا جائز ہو گا
Musnad Ahmad
33
ان حیوانات کا بیان، جن کو حرم کی حدود کے اندر اور باہر قتل کرنا محرم کے لئے جائز ہے
Musnad Ahmad
34
مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لیے غسل کرنا
Musnad Ahmad
35
منیٰ میں نمازوں کو قصر کرکے ادا کرنے اور ان دنوں میں روزہ کے ناجائز ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
36
اس چیز کا بیان جس میں وکیل مقرر کرنا جائز ہے
Musnad Ahmad
37
اس چیز کا بیان کہ کس کی شہادت پر حکم لگانا جائز ہے اور کس کی شہادت پر ناجائز
Musnad Ahmad
38
اس چیز کا بیان کہ اِس رخصت کے بعد کون سے کتے پالنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز
Musnad Ahmad
39
ان حیوانات کا بیان، جن کا قتل کرنا جائز نہیں ہے
Musnad Ahmad
40
اس امر کا بیان کہ جو آدمی مسلمان ہو اور اس کے عقد میں دو بہنیںیا چار سے زائد بیویاں ہوں، نیز آزاد اور غلام کے لیے بیویوں کی جائز تعداد اور اس معاملے میں نبی کریمa کے خاصے کا بیان
Musnad Ahmad
41
جماع کے وقت اللہ تعالی کا نام لینے اور پردہ کرنا اور دوبارہ جماع کرنے کے لیے وضو کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
42
ضرورت کے پیش نظرطلاق کے جائز ہونے، ضرورت کے بغیر اس کے ناجائز ہونے اور اس معاملے میں والدین کی اطاعت کا بیان
Musnad Ahmad
43
نبیذ کی جائز اور حرام اقسام کا بیان نبیذ کی جائز اقسام کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے نبیذ کیسے اور کس چیز سے نبیذ بنائی جاتی تھی
Musnad Ahmad
44
نبیذ کی ناجائز صورتوں اور مٹکے کی نبیذ کابیان
Musnad Ahmad
45
دم اور تعویذ اور جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان جائز صورتوں کا بیان
Musnad Ahmad
46
ناجائز دم اور تمیمہ کا بیان
Musnad Ahmad
47
لہو و لعب کی ناجائز صورتوں کے ابواب حیوان کے ساتھ کھیلنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
48
سونے، چاندی اور ریشم اور ان کے استعمال کی جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان ممنوعہ امور سے متعلقہ جامع احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
49
خواتین کو سونے کے زیورات سے منع کرنے اور ان کے لیے چاندی کے جائز ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
50
جب مہمان زیادہ ہو جائیں تو ضیافت کرنے کے لیے مسلمانوں کاایک دوسرے کے ساتھ مل جانا اور باہمی تعاون کرنا
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

300
Silsila Sahih
1286
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ مرفوعا: مَنْ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ فَأَنْزَلَهَا بِالنَّاسِ لَمْ تُسَدَّ فَاقَتُهُ وَمَنْ أَنْزَلَهَا بِاللهِ أَوْشَكَ الهُع لَهُ بِالْغِنَى إِمَّا بِمَوْتٍ عَاجِلٍ أَوْ غِنًى عَاجِلٍ.
ا بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ:جس شخص کو فاقہ پیش آیا پھر اسےلوگوں كےسامنےبیان كیاتواس كا فاقہ ختم نہیں كیاجائے گا اور جس شخص نے اللہ كے سامنے فریاد كی تو اللہ تعالیٰ عنقریب اسےغنی كر دے گا۔یا تو جلد موت دے دے گا یا پھر جلد دولت دے دے گا۔ ( )
Sunnan Abu Dawood
1645
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ. ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حَبِيبٍ أَبُو مَرْوَانَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ وَهَذَا حَدِيثُهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بَشِيرِ بْنِ سَلْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَيَّارٍ أَبِي حَمْزَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ طَارِقٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ فَأَنْزَلَهَا بِالنَّاسِ لَمْ تُسَدَّ فَاقَتُهُ وَمَنْ أَنْزَلَهَا بِاللَّهِ أَوْشَكَ اللَّهُ لَهُ بِالْغِنَى إِمَّا بِمَوْتٍ عَاجِلٍ أَوْ غِنًى عَاجِلٍ .
Narrated Abdullah ibn Masud: The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: If one who is afflicted with poverty refers it to me, his poverty will not be brought to an end; but if one refers it to Allah, He will soon give him sufficiency, either by a speedy death or by a sufficiency which comes later.
ابن مسعود رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے فاقہ پہنچے اور وہ لوگوں سے اسے ظاہر کر دے تو اس کا فاقہ ختم نہیں ہو گا، اور جو اس کو اللہ سے ظاہر کرے ( یعنی اللہ سے اس کے دور ہونے کی دعا مانگے ) تو قریب ہے کہ اسے اللہ بے پروا کر دے یا تو جلد موت دے کر یا جلد مالدار کر کے ۔
Jam e Tirmazi
2326
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ بَشِيرٍ أَبِي إِسْمَاعِيل، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ نَزَلَتْ بِهِ فَاقَةٌ فَأَنْزَلَهَا بِالنَّاسِ لَمْ تُسَدَّ فَاقَتُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ نَزَلَتْ بِهِ فَاقَةٌ فَأَنْزَلَهَا بِاللَّهِ فَيُوشِكُ اللَّهُ لَهُ بِرِزْقٍ عَاجِلٍ أَوْ آجِلٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
Abdullah bin Mas'ud narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: Whoever suffers from destitution and he beseeches the people for it, his destitution shall not end. And whoever suffers from destitution and he beseeches Allah for it, Allah will send provisions to him, sooner or later.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص فاقہ کا شکار ہو اور اس پر صبر نہ کر کے لوگوں سے بیان کرتا پھرے ۱؎ تو اس کا فاقہ ختم نہیں ہو گا، اور جو فاقہ کا شکار ہو اور اسے اللہ کے حوالے کر کے اس پر صبر سے کام لے تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے دیر یا سویر روزی دے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Sunnan Abu Dawood
2507
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَغَشِيَتْهُ السَّكِينَةُ، ‏‏‏‏‏‏فَوَقَعَتْ فَخِذُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي فَمَا وَجَدْتُ ثِقْلَ شَيْءٍ أَثْقَلَ مِنْ فَخِذِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ فَقَالَ:‏‏‏‏ اكْتُبْ، ‏‏‏‏‏‏فَكَتَبْتُ فِي كَتِفٍ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ سورة النساء آية 95 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَكَانَ رَجُلًا أَعْمَى لَمَّا سَمِعَ فَضِيلَةَ الْمُجَاهِدِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ بِمَنْ لَا يَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ؟، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا قَضَى كَلَامَهُ غَشِيَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّكِينَةُ، ‏‏‏‏‏‏فَوَقَعَتْ فَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي وَوَجَدْتُ مِنْ ثِقَلِهَا فِي الْمَرَّةِ الثَّانِيَةِ كَمَا وَجَدْتُ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:‏‏‏‏ اقْرَأْ يَا زَيْدُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَرَأْتُ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95 الْآيَةَ كُلَّهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ زَيْدٌ:‏‏‏‏ فَأَنْزَلَهَا اللَّهُ وَحْدَهَا فَأَلْحَقْتُهَا، ‏‏‏‏‏‏وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُلْحَقِهَا عِنْدَ صَدْعٍ فِي كَتِفٍ .
Zaid bin Thabit said “I was beside the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم when the divinely-inspired calmness overtook him and the thigh of the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم fell on my thigh. I did not find any weightier than the thigh of the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. He then regained his composure and said “Write down. I wrote on a shoulder. Not equal are thise believers who sit (at home), other than those who have a (disabling) hurt, and those who strive in the way of Allaah. When Ibn Umm Makhtum who was blind heard the excellence of the warriors. He stood up and said “Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم how is it for those believers who are unable to fight (in the path of Allaah)? When he finished his question his divinely-inspired calmness overtook him, and his thigh fell on my thigh and I found its weight the second time as I found the first time. ” When the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم regained his composure, he said “Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said “Other than those who have a (disabling hurt). Zaid said “Allaah, the exalted, revealed it alone and I appended it. ” By Him in Whose hands is my life, I am seeing, as it were the place where I put it (i. e., the verse) at the crack in the shoulder. ”
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں تھا تو آپ کو سکینت نے ڈھانپ لیا ( یعنی وحی اترنے لگی ) ( اسی دوران ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران میری ران پر پڑ گئی تو کوئی بھی چیز مجھے آپ کی ران سے زیادہ بوجھل محسوس نہیں ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا: لکھو ، میں نے شانہ ( کی ایک ہڈی ) پر «لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل الله» اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مومن اور بغیر عذر کے بیٹھ رہنے والے مومن برابر نہیں ( سورۃ النساء: ۹۵ ) آخر آیت تک لکھ لیا، عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ ( ایک نابینا شخص تھے ) نے جب مجاہدین کی فضیلت سنی تو کھڑے ہو کر کہا: اللہ کے رسول! مومنوں میں سے جو جہاد کی طاقت نہیں رکھتا اس کا کیا حال ہے؟ جب انہوں نے اپنی بات پوری کر لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پھر سکینت نے ڈھانپ لیا ( وحی اترنے لگی ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران میری ران پر پڑی تو میں نے اس کا بھاری پن پھر دوسری بار محسوس کیا جس طرح پہلی بار محسوس کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی جب کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا: زید! پڑھو ، تو میں نے «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» پوری آیت پڑھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: «غير أولي الضرر» کا اضافہ فرمایا، زید کہتے ہیں: تو «غير أولي الضرر» کو اللہ نے الگ سے نازل کیا، میں نے اس کو اس کے ساتھ شامل کر دیا، اللہ کی قسم! گویا میں شانہ کے دراز کو دیکھ رہا ہوں جہاں میں نے اسے شامل کیا تھا۔
Sunnan Ibn e Maja
2986
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَبِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِعَائِشَةَ مَا أَرَى عَلَيَّ جُنَاحًا أَنْ لَا أَطَّوَّفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْ كَانَ كَمَا تَقُولُ، ‏‏‏‏‏‏لَكَانَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا أُنْزِلَ هَذَا فِي نَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، ‏‏‏‏‏‏كَانُوا إِذَا أَهَلُّوا أَهَلُّوا لِمَنَاةَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا يَحِلُّ لَهُمْ أَنْ يَطَّوَّفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا قَدِمُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَهَا اللَّهُ فَلَعَمْرِي مَا أَتَمَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَجَّ، ‏‏‏‏‏‏مَنْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ .
It was narrated that Hisham bin ‘Urwah said: “My father told me: ‘I said to ‘Aishah: “I do not think there is any sin on me if I do not perform Tawaf* between Safa and Marwah.” She said: “Allah says: ‘Verily, Safa and Marwah are of the Symbols of Allah. So it is not a sin on him who performs Hajj or ‘Umrah of the House to perform Tawaf between them.’” [2:158] If the matter were as you say, then it would have said, ‘it is not a sin on him to not perform the Sa’y between them.’ Rather this was revealed concerning some people among the Ansar who previously, when they stated the Talbiyah, they used to recite it for Manat, and it was not lawful for them to perform Sa’y between Safa and Marwah. When they arrived with the Prophet (ﷺ) for Hajj, they mentioned that to him, and Allah revealed this Verse. By Allah, Allah will not accept the Hajj as complete if one who does not perform Sa’y between Safa and Marwah.’”
عروہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہ کرنے میں اپنے اوپر میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتا، آپ نے کہا: اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے: «إن الصفا والمروة من شعائر الله فمن حج البيت أو اعتمر فلا جناح عليه أن يطوف بهما» صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں، اور جو حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر گناہ نہیں، ان دونوں کی سعی کرنے میں اگر بات ویسی ہوتی جو تم کہتے ہو تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا: «فلا جناح عليه أن يطوف بهما» اگر سعی نہ کرے تو ( اس پر گناہ نہیں ہے ) بات یہ ہے کہ یہ آیت انصار کے کچھ لوگوں کے بارے میں اتری ہے، وہ جب لبیک پکارتے تو منات ( جو عربوں کا مشہور بت تھا ) کے نام سے پکارتے، ان ( کے اپنے اعتقاد کے مطابق ان کے ) کے لیے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا حلال نہ تھا تو جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے آئے تو انہوں نے آپ سے اس کا ذکر کیا، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: «إن الصفا والمروة» صفا اور مروہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، ان کے درمیان سعی کرنا گناہ نہیں ( جیسا کہ تم اسلام سے پہلے سمجھتے تھے ) اور قسم ہے کہ جس نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہ کی، اللہ تعالیٰ نے اس کا حج پورا نہیں کیا ۱؎۔
Mishkat
29
عَن معَاذ بن جبل قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سفر فَأَصْبَحت يَوْمًا قَرِيبا مِنْهُ وَنحن نسير فَقلت يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ وَيُبَاعِدنِي عَن النَّار قَالَ لقد سَأَلتنِي عَن عَظِيمٍ وَإِنَّهُ لِيَسِيرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَيْت ثُمَّ قَالَ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَبْوَابِ الْخَيْرِ الصَّوْمُ جُنَّةٌ وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةُ كَمَا يُطْفِئُ المَاء النَّار وَصَلَاة الرجل من جَوف اللَّيْل قَالَ ثمَّ تَلا (تَتَجَافَى جنُوبهم عَن الْمضَاجِع) حَتَّى بَلَغَ (يَعْمَلُونَ) ثُمَّ قَالَ أَلَا أَدُلُّكَ بِرَأْس الْأَمر كُله وَعَمُودِهِ وَذِرْوَةِ سَنَامِهِ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَأْسُ الْأَمْرِ الْإِسْلَامُ وَعَمُودُهُ الصَّلَاةُ وَذِرْوَةُ سَنَامِهِ الْجِهَادُ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكَ بِمِلَاكِ ذَلِكَ كُلِّهِ قُلْتُ بَلَى يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَأَخَذَ بِلِسَانِهِ فَقَالَ كُفَّ عَلَيْكَ هَذَا فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُونَ بِمَا نتكلم بِهِ فَقَالَ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا مُعَاذُ وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ أَوْ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه
معاذ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جہنم سے دور کر دے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے ایک بہت بڑی بات کے متعلق پوچھا ہے ، لیکن وہ ایسے شخص کے لیے آسان ہے ، جس پر اللہ تعالیٰ اسے آسان فرما دے ، تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ ، نماز قائم کرو ، زکوۃ ادا کرو ، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ کیا میں تمہیں ابواب خیر کے متعلق نہ بتاؤں ؟ روزہ ڈھال ہے ، صدقہ گناہوں کو ایسے مٹا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے ، اور رات کے اوقات میں آدمی کا نماز پڑھنا (گناہوں کو مٹا دیتا ہے ) ۔‘‘ پھر آپ نے (سورۃ السجدہ کی آیت) تلاوت فرمائی :’’ ان کے پہلو بستروں سے دور رہتے ہیں ۔‘‘ حتیٰ کہ آپ نے ’’ وہ عمل کیا کرتے تھے ‘‘ تک تلاوت مکمل فرمائی ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں دین کی بنیاد اس کے ستون اور اس کی چوٹی کے متعلق نہ بتاؤں ؟‘‘ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں ، اللہ کے رسول ! ضرور بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دین کی بنیاد اسلام ہے ، اس کا ستون نماز اور اس کی چوٹی جہاد ہے ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ کیا میں تمہیں ان سب سے بڑی چیز کے متعلق نہ بتاؤں ؟‘‘ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں ، اللہ کے نبی ! ضرور بتائیں ، آپ نے اپنی زبان کو پکڑ کر فرمایا :’’ اسے روک لو ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! ہم اس سے جو کلام کرتے ہیں کیا اس پر ہمارا مؤاخذا ہو گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ معاذ ! تیری ماں تجھے گم پائے ۔ لوگوں کو ان کی زبانوں کی کاٹ ہی ان کے چہروں یا نتھنوں کے بل جہنم میں گرائے گی ۔‘‘ اسنادہ حسن ۔ رواہ احمد (۵/ ۲۳۱ ح ۲۲۳۶۶) والترمذی (۲۶۱۶) و ابن ماجہ (۳۹۷۳) و احمد (۵ / ۲۳۶ ، ۲۳۷ ، ۲۴۸) ۔
Mishkat
95
وَعَن مُسلم بن يسَار قَالَ سُئِلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ (وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورهمْ) قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يسْأَل عَنْهَا فَقَالَ: «خلق آدم ثمَّ مسح ظَهره بِيَمِينِهِ فأاستخرج مِنْهُ ذُرِّيَّةً فَقَالَ خَلَقَتُ هَؤُلَاءِ لِلْجَنَّةِ وَبِعَمَلِ أهل الْجنَّة يعْملُونَ ثمَّ مسح ظَهره فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً فَقَالَ خَلَقَتُ هَؤُلَاءِ لِلنَّارِ وبعمل أهل النَّار يعْملُونَ فَقَالَ رجل يَا رَسُول الله فَفِيمَ الْعَمَل يَا رَسُول الله قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ إِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلْجَنَّةِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ من أَعمال أهل الْجنَّة فيدخله الله الْجَنَّةَ وَإِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلنَّارِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعمال أهل النَّار فيدخله الله النَّار» . رَوَاهُ مَالك وَالتِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
مسلم بن یسار ؒ بیان کرتے ہیں ، عمر بن خطاب ؓ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا :’’ جب تیرے رب نے بنی آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو پیدا کیا ۔‘‘ تو عمر ؓ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو جب ان سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو فرماتے ہوئے سنا :’’ بے شک اللہ نے آدم ؑ کو پیدا فرمایا ، پھر اپنا دایاں ہاتھ ان کی پشت پر پھیرا تو اس سے کچھ اولاد نکالی اور فرمایا : میں نے انہیں جنت کے لیے پیدا کیا ہے اور وہ اہل جنت کے سے عمل کریں گے ، پھر ان کی پشت پر ہاتھ پھیرا تو اس سے کچھ اولاد نکالی تو فرمایا : میں نے انہیں جہنم کے لیے پیدا کیا ہے اور وہ اہل جہنم کے سے عمل کریں گے ۔ (یہ سن کر) کسی آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! تو پھر عمل کس لیے کرنا ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب اللہ کسی بندے کو جنت کے لیے پیدا فرماتا ہے تو اسے اہل جنت کے اعمال پر لگا دیتا ہے حتیٰ کہ وہ اہل جنت کے سے اعمال پر ہی فوت ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس وجہ سے اسے جنت میں داخل فرما دیتا ہے ، اور جب وہ کسی بندے کو جہنم کے لیے پیدا فرماتا ہے تو اسے جہنمیوں والے اعمال پر لگا دیتا ہے حتیٰ کہ وہ جہنمیوں والے اعمال پر ہی فوت ہوتا ہے تو وہ اس وجہ سے اس کو جہنم میں داخل کر دیتا ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف رواہ مالک فی الموطا (۲/ ۸۹۸ ح ۱۷۲۶) و الترمذی (۳۰۷۵) و ابوداؤد (۴۷۰۳) و فی شرح السنہ (۱/ ۱۳۸ ، ۱۳۹ ح۷۷) و ابن حبان (۸/ ۲۶۱) ۔
Mishkat
97
وَعَن أبي خزامة عَن أَبِيه قَالَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رُقًى نَسْتَرْقِيهَا وَدَوَاءً نَتَدَاوَى بِهِ وَتُقَاةً نَتَّقِيهَا هَلْ تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ شَيْئًا قَالَ: «هِيَ مِنْ قَدَرِ الله» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
ابوخزامہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! راہنمائی فرمائیں ، دم جس کے ذریعے ہم دم کراتے ہیں ، دوائی ، جس کے ذریعے ہم علاج کرتے ہیں ، اور بچاؤ کی چیزیں (مثلاً ڈھال وغیرہ) جن کے ذریعے ہم بچاؤ کرتے ہیں ۔ کیا یہ اللہ کی تقدیر سے کچھ روک سکتی ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ (اسباب اختیار کرنا) بھی اللہ کی تقدیر میں سے ہیں ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد ۳/ ۴۲۱ ح ۱۵۵۵۱ ، ۱۵۵۵۴) و الترمذی (۲۰۶۵) و ابن ماجہ (۳۴۳۷) ۔
Mishkat
100
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَةٍ قَبَضَهَا مِنْ جَمِيعِ الْأَرْضِ فَجَاءَ بَنُو آدَمَ عَلَى قَدْرِ الْأَرْضِ مِنْهُمُ الْأَحْمَرُ وَالْأَبْيَضُ وَالْأَسْوَدُ وَبَيْنَ ذَلِكَ وَالسَّهْلُ وَالْحَزْنُ وَالْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد
ابوموسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اللہ نے آدم ؑ کو ایک مٹھی (بھر مٹی) سے جو اس نے ساری سطح زمین سے حاصل کی تھی ، پیدا فرمایا ۔ آدم ؑ کی اولاد زمین (کی رنگت) کی مناسبت سے پیدا ہوئی ، ان میں سے کچھ سرخ ہیں کچھ سفید اور کچھ کالے اور کچھ سرخ و سفید کے مابین ، کچھ نرم مزاج اور کچھ سخت مزاج ، کچھ بری عادات والے اور کچھ پاکیزہ صفات والے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد (۴/ ۴۰۰ ح ۱۹۸۱۱) و الترمذی (۲۹۵۵) و ابوداؤد (۴۶۹۳) و صحیحہ ابن حبان (۲۰۸۳) و الحاکم (۲/ ۲۶۱ ، ۲۶۲) ۔