TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3951 - زمین کو غلہ کے عوض بٹائی پر دینا - The book of transactions - Sahih Muslim in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 6 of 7 in this chapter
زمین کو غلہ کے عوض بٹائی پر دینا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَقَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ»، قَالَ: فَقُلْتُ: أَبِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ؟ فَقَالَ: «أَمَّا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَلَا بَأْسَ بِهِ
Hanzala b. Qais reported that he asked Rafi b. Khadij (Allah be pleased with him) about renting of land, whereupon he said: Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) forbade the renting of land. I said: Is it forbidden (even if it is paid) in gold (dinar) and silver (dirham)? Thereupon he said: If it is paid in gold and silver, there is no harm in it.
امام مالک نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے اور انہوں نے حنظلہ بن قیس سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے ۔ کہا : میں نے پوچھا : کیا سونے اور چاندی کے عوض بھی؟ انہوں نے جواب دیا : البتہ سونے اور چاندی کے عوض دینے میں کوئی حرج نہیں
3951
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

344
1
سونے اور چاندی کے عوض زمین کو کرایہ پر دینا
Sahih Muslim
2
زمین کو اس کی بعض پیداوار کے عوض کرائے پر دینے سے منع کرنے والوں اور سونے اور چاندی کے عوض جائز سمجھنے والوں کی دلیل کا بیان
Musnad Ahmad
3
(7) CHAPTER. The Fidya (compensation for a missed or wrongly practised religious ceremony) in the form of feeding (six person) each with one half a Sa (of food).
فدیہ میں ہر فقیر کو آدھا صاع غلہ دینا
Sahih Bukhari
4
(91) CHAPTER. The sale of unharvested crops for a measured quantity of foodstuff.
کھیتی کا اناج جو ابھی درختوں پر ہو ماپ کے رو سے غلہ کے عوض بیچنا
Sahih Bukhari
5
(14) CHAPTER. The Auqaf ( i.e., endowments) of the companions of the Prophet and the land of Kharaj (Zakat), the contract of share-cropping and other agreements of the companions.
صحابہ کرام کے اوقاف ، خراجی زمین اور اس کی بٹائی کا بیان
Sahih Bukhari
6
(19) CHAPTER. To rent the land for gold and silver.
نقدی لگان پر سونا چاندی کے بدل زمین دینا
Sahih Bukhari
7
(26) CHAPTER. If somebody gives a piece of land as an endowment and does not mark its boundaries, the endowment is valid. The same is applied to objects of charity.
اگر کسی نے ایک زمین وقف کی ( جو مشہور و معلوم ہے ) اس کی حدیں بیان نہیں کیں تو یہ جائز ہو گا ‘ اسی طرح ایسی زمین کا صدقہ دینا
Sahih Bukhari
8
زمین کو کرایہ پر دینا
Sahih Muslim
9
مزارعت (زمین کو پیدا وار کی متعین مقدار کے عوض )اور مؤاجرت (نقدی کے عوض کرائے پر دینے )کا حکم
Sahih Muslim
10
کسی کو زمین عاریتاًدینا
Sahih Muslim
11
CHAPTER: Muzara’ah (Sharecropping).
باب: مزارعت یعنی بٹائی پر زمین دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
12
بیع مزابنہ (یعنی درخت کے اوپر کچے پھل کو سوکھے پھل کے بدلے بیچنے) اور بیع محاقلہ (یعنی غلہ کے بدلے زمین دینے) کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
13
غلہ کے بدلے زمین کرایہ پر دینے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
14
باب: زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
15
(112)Chapter: What Has Been Related About Urine That Touches The Ground
باب: جس زمین پر پیشاب لگ جائے
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About Placing The Hands and Planting The Feet During Prostration
باب: سجدے میں دونوں ہاتھ زمین پر رکھنے اور دونوں پاؤں کھڑے رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About 'All Of The Earth Is A Masjid, Except For The Graveyard And Washroom'
باب: قبرستان اور حمام (غسل خانہ) کے علاوہ پوری زمین سجدہ گاہ ہے
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About Leveling The Grave
باب: قبروں کو زمین کے برابر کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Sell Food Until It has Been Acquired
باب: قبضہ سے پہلے غلہ بیچنا ناجائز ہے
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About The Land That Is Owned By Partners When One Of Them Wants To Sell His Share
باب: مشترکہ زمین جس کا حصہ دار اپنا حصہ بیچنا چاہے
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About One Who Farms A Prople's Land Without Their Permission
باب: دوسرے کی زمین میں بغیر اجازت فصل بونے کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Mentioned About Reviving Barren Land
باب: غیر آباد زمین آباد کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About Beating And Abusing The Servant
باب: خادم کو مارنا پیٹنا اور اسے گالی دینا اور برا بھلا کہنا منع ہے
Jam e Tirmazi
24
باب: صحرائے عرب میں زیر زمین پائی جانے والی ایک ترکاری (فقعہ) اور عجوہ کھجور کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What has been Related About The Earth Swallowing
باب: زمین دھنسنے کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What has been Related About The Inhabitants of Ash-Sham
باب: سر زمین شام کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About The Signs Of The Occurrence Of The Transformation And The Collapse Of The Earth
باب: زمین دھنسنے اور صورت تبدیل ہونے کی علامت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Cursing The Wind
باب: ہوا کو گالی دینا منع ہے
Jam e Tirmazi
29
Chapter: The Hadith:
باب: زمین جائیداد نہ بناؤ کہ اس سے تمہیں دنیا کی رغبت ہو جائے گی
Jam e Tirmazi
30
Chapter: Regarding What Has Been Related About The Slave Of The Dinar And The Slave Of The Dirham
باب: درہم و دینار کے پجاری ملعون ہیں
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related That Verbally Abusing A Muslim Is Disobedience
باب: مومن کو گالی دینا فسق ہے
Jam e Tirmazi
32
باب: چھینکنے والے کی چھینک کا جواب دینا
Jam e Tirmazi
33
باب: خوشبو واپس کر دینا ناپسندیدہ اور مکروہ کام ہے
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About: Allah Has Angels Who Go About On The Earth
باب: زمین میں اللہ کے گھومنے پھرنے والے فرشتے ہیں
Jam e Tirmazi
35
بَاب مِمَّن لَا تحل لَهُ الصَّدَقَة
کس کو صدقہ دینا جائز نہیں
Mishkat
36
بَاب إحْيَاء الْموَات وَالشرب
بنجر زمین کو آباد کرنے اور پانی کی باری کا بیان
Mishkat
37
زمین کو پیشاب کی نجاست سے پاک کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
38
زمین میں بنائی جانے والی سب سے پہلی مسجداور مساجد بنانے کی فضیلت
Musnad Ahmad
39
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان میرے لیے زمین مسجد اور پاک کرنے والی بنائی گئی ہے کا بیان
Musnad Ahmad
40
نماز خوف کی تیسری صورت ہر گروہ کا امام کے ساتھ والی ایک رکعت پر ہی اکتفا کرنا اور دوسری کی قضائی نہ دینا
Musnad Ahmad
41
دوسروں کو کسی کے مرنے کی خبر دینا
Musnad Ahmad
42
لوگوں کا میت کی تعریف کرنااوراس کے حق میں گواہی دینا
Musnad Ahmad
43
’’لحد‘‘ کو ’’شَق‘‘ پر ترجیح دینا، قبر کو گہرا اور وسیع کرنا اور حالات کے تقاضے کے مطابق دو تین تین افراد کو ایک قبر میں دفنانا
Musnad Ahmad
44
حکمران کا کسی مصلحت کی بنا پر بعض لوگوں کو دینا اور بعض کو محروم کر دینا
Musnad Ahmad
45
قرض داروں کو زکوۃ دینا
Musnad Ahmad
46
ولادت کے بعد بچے کے دونوں کانوں میں اذان دینا اور پھر اس کے بعد گڑتی دینا
Musnad Ahmad
47
غنیمت کے پانچ حصوں میں چار حصوں کی تقسیم، گھوڑ سوار اور پیادہ کا حق اور خاتون اور غلام وغیرہ کو معمولی مقدار میںعطیہ دینا
Musnad Ahmad
48
اس چیز کا بیان کہ اگر حربی قابو میں آنے سے پہلے مسلمان ہو گیا تو اپنے مال کو بچا لے گا، نیز غنیمت والی زمین کا حکم
Musnad Ahmad
49
مقابلہ بازی اور تیر اندازی کے ابواب مقابلہ بازی، اس کے آداب اور ان مقابلوں کا بیان جن پر انعام دینا درست ہے
Musnad Ahmad
50
گھریا زمین کو فروخت کر کے اس کی قیمت کو اس جیسی چیز میں خرچ نہ کرنے والے کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,186
Sunnan Abu Dawood
3393
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَأَلَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ،‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَبِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَمَّا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَلَا بَأْسَ بِهِ .
Hanzalah ibn Qays said that he asked Rafi ibn Khadij about the lease of land. He replied: The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم forbade the leasing of land. I asked: (Did he forbid) for gold and silver (i. e. dinars and dirhams)? He replied: If it is against gold and silver, then there is no harm in it.
حنظلہ بن قیس کہتے ہیں کہ انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کو کرایہ پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرایہ پر ( کھیتی کے لیے ) دینے سے منع فرمایا ہے، تو میں نے پوچھا: سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ کی بات ہو تو؟ تو انہوں نے کہا: رہی بات سونے اور چاندی سے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔
Sahih Muslim
3952
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، فَقَالَ: «لَا بَأْسَ بِهِ، إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ يُؤَاجِرُونَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ، وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ، وَأَشْيَاءَ مِنَ الزَّرْعِ، فَيَهْلِكُ هَذَا، وَيَسْلَمُ هَذَا، وَيَسْلَمُ هَذَا، وَيَهْلِكُ هَذَا، فَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ كِرَاءٌ إِلَّا هَذَا، فَلِذَلِكَ زُجِرَ عَنْهُ، فَأَمَّا شَيْءٌ مَعْلُومٌ مَضْمُونٌ، فَلَا بَأْسَ بِهِ
Hanzala b. Qais al-Ansri reported: I asked Rafi' b. Khadij about the renting of land for gold and silver, whereupon he said: There is no harm in it for the people let out land situated near canals and at the ends of the streamlets or portion of fields. (But it so happened) that at times this was destroyed and that was saved. whereas (on other occasions) this portion was saved and the other was destroyed and thus no rent was payable to the people (who let out lands) but for this one (which was saved). It was due to this that he (the Holy Prophet) prohibited it. But if there is something definite and reliable (e. g. money). there is no harm in it.
اوزاعی نے ہمیں ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے حنظلہ بن قیس انصاری نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سونے اور چاندی ( دینار اور درہم ) کے عوض زمین کو بٹائی پر دینے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا : اس میں کوئی حرج نہیں ۔ ( امر واقع یہ ہے کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں لوگ نہروں کی زمین ، چھوٹے نالوں کے کناروں کی زمین اور ( متعین مقدار میں ) فصل کی کچھ اشیاء کے عوض زمین اجرت پر دیتے تھے ۔ کبھی یہ ( حصہ ) تباہ ہو جاتا اور وہ محفوظ رہتا اور کبھی یہ محفوظ رہتا اور وہ تباہ ہو جاتا ، لوگوں میں بٹائی ( کرائے پر دینے ) کی صرف یہی صورت تھی ، اسی لیے اس سے منع کیا گیا ، البتہ معلوم اور محفوظ چیز جس کی ادایگی کی ضمانت دی جا سکتی ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں
Sunnan Abu Dawood
3392
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عِيسَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ. ح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا لَيْثٌ كِلَاهُمَا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّفْظُ لِلْأَوْزَاعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍعَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا بَأْسَ بِهَا إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ يُؤَاجِرُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَشْيَاءَ مِنِ الزَّرْعِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَهْلَكُ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَيَسْلَمُ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَيَسْلَمُ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَيَهْلَكُ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ كِرَاءٌ إِلَّا هَذَا، ‏‏‏‏‏‏فَلِذَلِكَ زَجَرَ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَّا شَيْءٌ مَضْمُونٌ مَعْلُومٌ فَلَا بَأْسَ بِهِ . وَحَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ أَتَمُّ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ قُتَيْبَةُ:‏‏‏‏ عَنْ حَنْظَلَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ رِوَايَةُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَنْظَلَةَ، ‏‏‏‏‏‏نَحْوَهُ.
Narrated Hanzlah bin Qais al-Ansari: I asked Rafi bin Khadij about the lease of land for gold and silver (i. e. for dinars and dirhams). There is no harm in it, for the people used to let out land in the time of the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم for what grew by the current of water and at the banks of streamlets and at the places of cultivation. So sometimes this (portion) perished and that (portion) was saved, and sometimes this remained intact and that perished. There was no (form of) lease among the people except this. Therefore, he forbade it. But if there is something which is secure and known, then there is no harm in it. The tradition of Ibrahim is more perfect. Qutaibah said: from Hanzalah on the authority of Rafi . Abu Dawud said: A similar tradition has been transmitted by Yahya bin Saeed from Hanzalah.
حنظلہ بن قیس انصاری کہتے ہیں میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سونے چاندی کے بدلے زمین کرایہ پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں، لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اجرت پر لینے دینے کا معاملہ کرتے تھے پانی کی نالیوں، نالوں کے سروں اور کھیتی کی جگہوں کے بدلے ( یعنی ان جگہوں کی پیداوار میں لوں گا ) تو کبھی یہ برباد ہو جاتا اور وہ محفوظ رہتا اور کبھی یہ محفوظ رہتا اور وہ برباد ہو جاتا، اس کے سوا کرایہ کا اور کوئی طریقہ رائج نہ تھا اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا، اور رہی محفوظ اور مامون صورت تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ابراہیم کی حدیث مکمل ہے اور قتیبہ نے «عن حنظلة عن رافع» کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید کی روایت جسے انہوں نے حنظلہ سے روایت کیا ہے اسی طرح ہے۔
Jam e Tirmazi
472
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي سَفَرٍ فَتَخَلَّفْتُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيْنَ كُنْتَ ؟ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَوْتَرْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَلَيْسَ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ، ‏‏‏‏‏‏ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ عَلَى رَاحِلَتِهِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ إِلَى هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَرَأَوْا أَنْ يُوتِرَ الرَّجُلُ عَلَى رَاحِلَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ الشافعي،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ لَا يُوتِرُ الرَّجُلُ عَلَى الرَّاحِلَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ نَزَلَ فَأَوْتَرَ عَلَى الْأَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ الْكُوفَةِ.
Sa'eed bin Yasar narrated: I was with Ibn Umar on a journey and I fell behind him. He said: 'Where were you?' I said: 'I prayed Al-Witr.' He said: 'Is there not a good exampled for you in Allah's Messenger? I saw Allah's Messenger performing Al-Witr on his mount.'
سعید بن یسار کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں ابن عمر رضی الله عنہما کے ساتھ چل رہا تھا، میں ان سے پیچھے رہ گیا، تو انہوں نے پوچھا: تم کہاں رہ گئے تھے؟ میں نے کہا: میں وتر پڑھ رہا تھا، انہوں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں تمہارے لیے اسوہ نہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اپنی سواری ہی پر وتر پڑھتے دیکھا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں، ان کا خیال ہے کہ آدمی اپنی سواری پر وتر پڑھ سکتا ہے۔ اور یہی شافعی، احمد، اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ۴- اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ آدمی سواری پر وتر نہ پڑھے، جب وہ وتر کا ارادہ کرے تو اسے اتر کر زمین پر پڑھے۔ یہ بعض اہل کوفہ کا قول ہے ۱؎۔
Jam e Tirmazi
2530
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ البصري،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَصَلَّى الصَّلَوَاتِ وَحَجَّ الْبَيْتَ لَا أَدْرِي أَذَكَرَ الزَّكَاةَ أَمْ لَا إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ إِنْ هَاجَرَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ مَكَثَ بِأَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ بِهَا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مُعَاذٌ:‏‏‏‏ أَلَا أُخْبِرُ بِهَذَا النَّاسَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ذَرِ النَّاسَ يَعْمَلُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْفِرْدَوْسُ أَعْلَى الْجَنَّةِ وَأَوْسَطُهَا، ‏‏‏‏‏‏وَفَوْقَ ذَلِكَ عَرْشُ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏وَمِنْهَا تُفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَسَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَكَذَا رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، وَهَذَا عِنْدِي أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ هَمَّامٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، وَعَطَاءٌ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمُعَاذٌ قَدِيمُ الْمَوْتِ مَاتَ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ.
Mu'adh bin Jabal narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever fasts Ramadan, performs the Salat, performs Hajj to the House - I do not know whether he mentioned Zakat or not - except that it is binding on Allah that He forgive him, whether he emigrated in the cause of Allah, or remained in his land in which he was born. Mu'adh said: Should I not inform the people of this? The Messenger of Allah (ﷺ) said, Leave the people to do deeds, for verily in Paradise there are a hundred levels, what is between every two levels is like what is between the heavens and the earth. Al-Firdaus is the highest of Paradise and its most expansive, and above that is the Throne of Ar-Rahman (the Most Merciful), and from it the rivers of Paradise are made to flow forth. So when you ask Allah, ask Him for Al-Firdaus.
معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان کے روزے رکھے، نمازیں پڑھیں اور حج کیا ( - عطاء بن یسار کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ معاذ نے زکاۃ کا ذکر کیا یا نہیں - ) تو اللہ تعالیٰ پر یہ حق بنتا ہے کہ اس کو بخش دے اگرچہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرے یا اپنی پیدائشی سر زمین میں ٹھہرا رہے“۔ معاذ نے کہا: کیا میں لوگوں کو اس کی خبر نہ دے دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو چھوڑ دو، وہ عمل کرتے رہیں، اس لیے کہ جنت میں سو درجے ہیں اور ایک درجہ سے دوسرے درجہ کے درمیان اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا کہ زمین و آسمان کے درمیان کا، فردوس جنت کا اعلیٰ اور سب سے اچھا درجہ ہے، اسی کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں بہتی ہیں، لہٰذا جب تم اللہ سے جنت مانگو تو جنت الفردوس مانگو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اسی طرح یہ حدیث «عن هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن معاذ بن جبل» کی سند سے مروی ہے، اور یہ میرے نزدیک ہمام کی اس حدیث سے زیادہ صحیح ہے، جسے انہوں نے «عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن عبادة بن الصامت» کی سند سے روایت کی ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ، عطاء نے معاذ بن جبل کو نہیں پایا ہے ( یعنی ان کی ملاقات ثابت نہیں ہے ) اور معاذ بن جبل کی وفات ( عبادہ بن صامت سے پہلے ) عمر رضی الله عنہ کے عہد خلافت میں ہوئی ہے۔
Jam e Tirmazi
3068
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ مُتَّكِئًا عِنْدَ عَائِشَةَ، فَقَالَتْ:‏‏‏‏ يَا أَبَا عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏ثَلَاثٌ مَنْ تَكَلَّمَ بِوَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَةَ:‏‏‏‏ مَنْ زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ أَعْظَمَ الْفِرْيَةَ عَلَى اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهُ يَقُولُ:‏‏‏‏ لا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ سورة الأنعام آية 103 وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ سورة الشورى آية 51 وَكُنْتُ مُتَّكِئًا فَجَلَسْتُ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏أَنْظِرِينِي وَلَا تُعْجِلِينِي أَلَيْسَ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى:‏‏‏‏ وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى سورة النجم آية 13 وَلَقَدْ رَآهُ بِالأُفُقِ الْمُبِينِ سورة التكوير آية 23، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ أَنَا وَاللَّهِ أَوَّلُ مَنْ سَأَلَ عَنْ هَذَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا ذَاكَ جِبْرِيلُ، ‏‏‏‏‏‏مَا رَأَيْتُهُ فِي الصُّورَةِ الَّتِي خُلِقَ فِيهَا غَيْرَ هَاتَيْنِ الْمَرَّتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏رَأَيْتُهُ مُنْهَبِطًا مِنَ السَّمَاءِ سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا كَتَمَ شَيْئًا مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَقَدْ أَعْظَمَ الْفِرْيَةَ عَلَى اللَّهِ يَقُولُ اللَّهُ:‏‏‏‏ يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ سورة المائدة آية 67، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ زَعَمَ أَنَّهُ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ فَقَدْ أَعْظَمَ الْفِرْيَةَ عَلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَقُولُ:‏‏‏‏ قُلْ لا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ الْغَيْبَ إِلا اللَّهُ سورة النمل آية 65 ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ يُكْنَى أَبَا عَائِشَةَ وَهُوَ مَسْرُوقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا كَانَ اسْمُهُ فِي الدِّيوَانِ.
Narrated Masruq: I was reclining in the presence of 'Aishah when she said: 'O Abu 'Aishah! There are three things, whoever speaks of one of them, then he has uttered one of the worst lies against Allah. Whoever claims that Muhammad saw his Lord. Then he has uttered one the worst lies against Allah, Allah says: No vision can grasp Him, but His grasp is over all vision, and He is the Most Subtle, Well-Acquainted with all things (6:103). It is not for any human being that Allah should speak to him unless (it be) by revelation or from behind a veil (42:91).' I was reclining so I sat up an said: 'O Mother of the Believers! Take your time with me and do not be hasty with me! Did Allah Most High not say: And indeed he saw him at a second descent (53:13). (And) 'And indeed he saw him in the clear horizon (81:23).' She said 'By Allah! I was the first who asked the Messenger of Allah (ﷺ) about this. He said: That was only Jibril. I did not see him in the appearance he was created in except for these two times. I saw him descending from the heavens, and due to his tremendous size he filled what was between the heavens and the earth. And whoever claimed that Muhammad hid anything that Allah revealed to him, then he uttered one of the worst lies against Allah. Allah says: O Messenger! Proclaim what has been sent down to you from your Lord (5:67). And whoever claimed that he (ﷺ) knew what would be tomorrow, then he has uttered one of the worst lies against Allah. Allah says: Say: 'None in the heavens and in the earth knows the unseen but Allah (27:65).'
مسروق کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے پاس ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا تھا، انہوں نے کہا: اے ابوعائشہ! تین چیزیں ایسی ہیں کہ ان میں سے کسی نے ایک بھی کیا تو وہ اللہ پر بڑی بہتان لگائے گا: ( ۱ ) جس نے خیال کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ( معراج کی رات میں ) اللہ کو دیکھا ہے تو اس نے اللہ کی ذات کے بارے میں بڑی بہتان لگائی۔ کیونکہ اللہ اپنی ذات کے بارے میں کہتا ہے «لا تدركه الأبصار وهو يدرك الأبصار وهو اللطيف الخبير» ”کہ اسے انسانی نگاہیں نہیں پا سکتی ہیں، اور وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے ( یعنی اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا اور وہ سبھی کو دیکھ لیتا ہے ) اور اس کی ذات لطیف و خبیر ہے“، «وما كان لبشر أن يكلمه الله إلا وحيا أو من وراء حجاب» ”کسی انسان کو بھی یہ مقام و درجہ حاصل نہیں ہے کہ اللہ اس سے بغیر وحی کے یا بغیر پردے کے براہ راست اس سے بات چیت کرے“، ( وہ کہتے ہیں ) میں ٹیک لگائے ہوئے تھا اور اٹھ بیٹھا، میں نے کہا: ام المؤمنین! مجھے بولنے کا موقع دیجئیے اور میرے بارے میں حکم لگانے میں جلدی نہ کیجئے گا، کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: «ولقد رآه نزلة أخرى» ”بیشک محمد نے اسے تو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا“ ( النجم: ۱۳ ) «ولقد رآه بالأفق المبين» ”بیشک انہوں نے اسے آسمان کے روشن کنارے پر دیکھا“ ( التکویر: ۲۳ ) تب عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: قسم اللہ کی! میں وہ پہلی ذات ہوں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا: ”وہ تو جبرائیل علیہ السلام تھے ( ان آیتوں میں میرے دیکھنے سے مراد جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا تھا، اللہ کو نہیں ) ان دو مواقع کے سوا اور کوئی موقع ایسا نہیں ہے جس میں جبرائیل علیہ السلام کو میں نے ان کی اپنی اصل صورت میں دیکھا ہو۔ جس پر ان کی تخلیق ہوئی ہے، میں نے ان کو آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا ہے، ان کی بناوٹ کی بڑائی یعنی بھاری بھر کم جسامت نے آسمان و زمین کے درمیان جگہ کو گھیر رکھا تھا“، ( ۲ ) : اور دوسرا وہ شخص کہ جو اللہ پر جھوٹا الزام لگانے کا بڑا مجرم ہے جس نے یہ خیال کیا کہ اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جو چیزیں اتاری ہیں ان میں سے کچھ چیزیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپا لی ہیں۔ جب کہ اللہ کہتا ہے «يا أيها الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربك» ”جو چیز اللہ کی جانب سے تم پر اتاری گئی ہے اسے لوگوں تک پہنچا دو“ ( النساء: ۶۷ ) ، ( ۳ ) : وہ شخص بھی اللہ پر جھوٹا الزام لگانے والا ہے جو یہ سمجھے کہ کل کیا ہونے والا ہے، محمد اسے جانتے ہیں، جب کہ اللہ خود کہتا ہے «قل لا يعلم من في السموات والأرض الغيب إلا الله» ”کہ آسمان و زمین میں غیب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
3298
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ،‏‏‏‏ المعنى واحد، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ بَيْنَمَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَأَصْحَابُهُ إِذْ أَتَى عَلَيْهِمْ سَحَابٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ هَلْ تَدْرُونَ مَا هَذَا ؟ فَقَالُوا:‏‏‏‏ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا الْعَنَانُ، ‏‏‏‏‏‏هَذِهِ رَوَايَا الْأَرْضِ يَسُوقُهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى قَوْمٍ لَا يَشْكُرُونَهُ وَلَا يَدْعُونَهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَلْ تَدْرُونَ مَا فَوْقَكُمْ ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنَّهَا الرَّقِيعُ سَقْفٌ مَحْفُوظٌ وَمَوْجٌ مَكْفُوفٌ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ هَلْ تَدْرُونَ كَمْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ هَلْ تَدْرُونَ مَا فَوْقَ ذَلِكَ ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنَّ فَوْقَ ذَلِكَ سَمَاءَيْنِ مَا بَيْنَهُمَا مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى عَدَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ مَا بَيْنَ كُلِّ سَمَاءَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ هَلْ تَدْرُونَ مَا فَوْقَ ذَلِكَ ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنَّ فَوْقَ ذَلِكَ الْعَرْشَ وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ بُعْدُ مَا بَيْنَ السَّمَاءَيْنِ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ هَلْ تَدْرُونَ مَا الَّذِي تَحْتَكُمْ ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنَّهَا الْأَرْضُ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ هَلْ تَدْرُونَ مَا الَّذِي تَحْتَ ذَلِكَ ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنَّ تَحْتَهَا الأَرْضَ الأُخْرَى بَيْنَهُمَا مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى عَدَّ سَبْعَ أَرَضِينَ بَيْنَ كُلِّ أَرْضَيْنِ مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ أَنَّكُمْ دَلَّيْتُمْ رَجُلًا بِحَبْلٍ إِلَى الْأَرْضِ السُّفْلَى لَهَبَطَ عَلَى اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَرَأَ:‏‏‏‏ هُوَ الأَوَّلُ وَالآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ سورة الحديد آية 3 . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَيُرْوَى عَنْ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ لَمْ يَسْمَعِ الْحَسَنُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَفَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ إِنَّمَا هَبَطَ عَلَى عِلْمِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ وَسُلْطَانِهِ، ‏‏‏‏‏‏عِلْمُ اللَّهِ وَقُدْرَتُهُ وَسُلْطَانُهُ فِي كُلِّ مَكَانٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ عَلَى الْعَرْشِ كَمَا وَصَفَ فِي كِتَابهِ.
Al-Hasan narrated that: Abu Hurairah said: “Once when the Prophet of Allah was sitting with his Companions, a cloud came above them, so the Prophet of Allah said: ‘Do you know what this is?’ They said: ‘Allah and His Messenger know better.’ He said: ‘These are the clouds that are to drench the earth, which Allah [Blessed and Most High] dispatches to people who are not grateful to Him, nor supplicate to Him.’ Then he said: ‘Do you know what is above you?’ They said: ‘Allah and His Messenger know better.’ He said: ‘Indeed it is a preserved canopy of the firmament whose surge is restrained.’ Then he said: ‘Do you know how much is between you and between it?’ They said: ‘Allah and His Messenger know better.’ He said: ‘Between you and it [is the distance] of five-hundred year.’ Then he said: ‘Do you know what is above that.’ They said: ‘Allah and His Messenger know better.’ He said: ‘Verily, above that are two Heavens, between the two of them there is a distance of five-hundred years’ – until he enumerated seven Heavens – ‘What is between each of the two Heavens is what is between the heavens and the earth.’ Then he said: ‘Do you know what is above that?’ They said: ‘Allah and His Messenger know better.’ He said: ‘Verily, above that is the Throne between it and the heavens is a distance [like] what is between two of the heavens.’ Then he said: ‘Do you know what is under you?’ They said: ‘Allah and His Messenger know better.’ He said: ‘Indeed it is the earth.’ Then he said: ‘Do you know what is under that?’ They said: ‘Allah and His Messenger know better.’ He said: ‘Verily, below it is another earth, between the two of which is a distance of five-hundred years.’ Until he enumerated seven earths: ‘Between every two earths is a distance of five-hundred years.’ Then he said: ‘By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad! If you were to send [a man] down with a rope to the lowest earth, then he would descend upon Allah.’ Then he recited: He is Al-Awwal, Al-Akhir, Az-Zahir Al-Batin, and He has knowledge over all things.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اس دوران کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ بیٹھے ہوئے تھے، ان پر ایک بدلی آئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”یہ بادل ہے اور یہ زمین کے گوشے و کنارے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس بادل کو ایک ایسی قوم کے پاس ہانک کر لے جا رہا ہے جو اس کی شکر گزار نہیں ہے اور نہ ہی اس کو پکارتے ہیں“، پھر آپ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو تمہارے اوپر کیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”یہ آسمان «رقیع» ہے، ایسی چھت ہے جو ( جنوں سے ) محفوظ کر دی گئی ہے، ایک ایسی ( لہر ) ہے جو ( بغیر ستون کے ) روکی ہوئی ہے“، پھر آپ نے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو کہ کتنا فاصلہ ہے تمہارے اور اس کے درمیان؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”تمہارے اور اس کے درمیان پانچ سو سال مسافت کی دوری ہے“، پھر آپ نے پوچھا: ”کیا تمہیں معلوم ہے اور اس سے اوپر کیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ معلوم ہے، آپ نے فرمایا: ”اس کے اوپر دو آسمان ہیں جن کے بیچ میں پانچ سو سال کی مسافت ہے“۔ ایسے ہی آپ نے سات آسمان گنائے، اور ہر دو آسمان کے درمیان وہی فاصلہ ہے جو آسمان و زمین کے درمیان ہے، پھر آپ نے پوچھا: ”اور اس کے اوپر کیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، اور اس کے رسول آپ نے فرمایا: ”اس کے اوپر عرش ہے، عرش اور آسمان کے درمیان اتنی دوری ہے جتنی دوری دو آسمانوں کے درمیان ہے“، آپ نے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو تمہارے نیچے کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں: آپ نے فرمایا: ”یہ زمین ہے“، آپ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو اس کے نیچے کیا ہے؟“، لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں آپ نے فرمایا: ”اس کے نیچے دوسری زمین ہے، ان دونوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت کی دوری ہے“، اس طرح آپ نے سات زمینیں شمار کیں، اور ہر زمین کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت کی دوری بتائی، پھر آپ نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر تم کوئی رسی زمین کی نچلی سطح تک لٹکاؤ تو وہ اللہ ہی تک پہنچے گی، پھر آپ نے آیت «هو الأول والآخر والظاهر والباطن وهو بكل شيء عليم» ”وہی اول و آخر ہے وہی ظاہر و باطن ہے اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے“ ( الحدید: ۳ ) ، پڑھی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- ایوب، یونس بن عبید اور علی بن زید سے مروی ہے، ان لوگوں نے کہا ہے کہ حسن بصری نے ابوہریرہ سے نہیں سنا ہے، ۳- بعض اہل علم نے اس حدیث کی تفسیر کرتے ہوئے کہا: مراد یہ ہے کہ وہ رسی اللہ کے علم پر اتری ہے، اور اللہ اور اس کی قدرت و حکومت ہر جگہ ہے اور جیسا کہ اس نے اپنی کتاب ( قرآن مجید ) میں اپنے متعلق بتایا ہے وہ عرش پر مستوی ہے۔
Jam e Tirmazi
3325
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْيِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ:‏‏‏‏ بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءَ جَالِسٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏فَجُثِثْتُ مِنْهُ رُعْبًا فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي، ‏‏‏‏‏‏فَدَثَّرُونِي فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:‏‏‏‏ يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ‏‏‏‏ 1 ‏‏‏‏ قُمْ فَأَنْذِرْ ‏‏‏‏ 2 ‏‏‏‏ إِلَى قَوْلِهِ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ سورة المدثر آية 1 ـ 5 قَبْلَ أَنْ تُفْرَضَ الصَّلَاةُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو سَلَمَةَ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ.
Jabir bin Abdullah [may Allah be pleased with him] said: “I heard the Messenger of Allah – and he was narrating about the pause in Revelation – so he said in his narration: “I was walking, when I heard a voice from the heavens. So I raised my head, and there was an angel, the one that had come to me at Hira, sitting upon a chair between the heavens and the earth. I fled from him out of fear, and I returned and said: ‘Wrap me up! Wrap me up! So they covered me.” Then Allah, Most High revealed: ‘O you who are wrapped up! Arise and warm.’ Up to His saying: ‘And keep away from the Rujz!’ before the Salat was made obligatory.”
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ وحی موقوف ہو جانے کے واقعہ کا ذکر کر رہے تھے، آپ نے دوران گفتگو بتایا: ”میں چلا جا رہا تھا کہ یکایک میں نے آسمان سے آتی ہوئی ایک آواز سنی، میں نے سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ فرشتہ جو ( غار ) حراء میں میرے پاس آیا تھا آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے، رعب کی وجہ سے مجھ پر دہشت طاری ہو گئی، میں لوٹ پڑا ( گھر آ کر ) کہا: مجھے کمبل میں لپیٹ دو، تو لوگوں نے مجھے کمبل اوڑھا دیا، اسی موقع پر آیت «يا أيها المدثر قم فأنذر» سے «والرجز فاهجر» ”اے کپڑا اوڑھنے والے، کھڑے ہو جا اور لوگوں کو ڈرا، اور اپنے رب کی بڑائیاں بیان کر، اپنے کپڑوں کو پاک رکھا کر، اور ناپاکی کو چھوڑ دے“ ( المدثر: ۱-۵ ) ، تک نازل ہوئی، یہ واقعہ نماز فرض ہونے سے پہلے کا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث یحییٰ بن کثیر نے بھی ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کے واسطہ سے جابر سے بھی روایت کی ہے، ۳- اور ابوسلمہ کا نام عبداللہ ہے۔ ( یہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کے بیٹے تھے اور ان کا شمار فقہائے مدینہ میں ہوتا تھا ) ۔
Silsila Sahih
726
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عن النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَبِرَسُولِهِ، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ، وَصَامَ رَمَضَانَ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، جَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللهِ أَوجَلَسَ فِي أَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ فِيهَا فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ! أَفَلَا نُبَشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ: إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِئةُ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا اللهُ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِ اللهِ، مَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ، فَإِنَّهُ وَسَطُ الْجَنَّةِ وَأَعْلَى الْجَنَّةِ -أُرَاهُ- فَوْقَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ، وَمِنْهَا تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نےفرمایا: جواللہ اور اس كے رسول پر ایمان لایا، نماز قائم كی، رمضان كےروزے ركھے، اللہ تعالیٰ پر لازم ہے كہ اسے جنت میں داخل كرے، اس نے اللہ كے راستے میں جہاد كیا، یا اپنے اسی علاقے میں بیٹھا رہا جہاں پیداہوا۔ صحابہ نے كہا: اے اللہ كے رسول كیا ہم لوگوں كوخوشخبری نہ دے دیں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یقینا جنت میں سو درجے ہیں، جواللہ تعالیٰ نے مجاہدین فی سبیل اللہ كے لئے تیار كئے ہیں۔ دودرجوں كا درمیانی فاصلہ اتنا ہے جتنا آسمان اور زمین كے درمیان ہے۔ جب تم اللہ سے سوال كروتوجنت الفردوس كا سوال كرو، كیونكہ یہ جنت كا درمیانی اور بلند درجہ ہے۔ میرے خیال میں اس كے اوپر رحمن كا عرش ہے، اور اسی سے جنت كی نہریں جاری ہوتی ہیں۔