TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

گری پڑی چیز کے آداب و احکام کا جامع بیان - گری پڑی چیز کے آداب و احکام کا جامع بیان - گری پڑی چیز کی کتاب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of گری پڑی چیز کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 5 · 4 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۶۲۳۲)۔ عَنْ خَالِدِ بْنِ زَیْدٍ الْجُہَنِیِّ عَنْ اَبِیْہِ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ أَنَّہُ سَأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ضَالَّۃِ رَاعِی الْغَنَمِ؟ قَالَ: ((ھِیَ لَکَ أَوْ لِلذِّئْبِ۔)) قَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا تَقُوْلُ فِیْ ضَالَّۃِ رَاعِی الْإِبِلِ؟ قَالَ: ((وَمَا لَکَ وَلَھَا، مَعَہَا سِقَاؤُھَا وَحِذَاؤُھَا وَتَأْکُلُ مِنْ أَطْرَافِ الشَّجَرِ۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! مَا تَقُوْلُ فِی الوَّرِقِ اِذَا وَجَدْتُہَا؟ قَالَ: ((اعْلَمْ وِعَائَ ھَا وَوِکَائَ ھَا وَعَدَدَھَا ثُمَّ عَرِّفْہَا سَنَۃً، فَاِنْ جَائَ صَاحِبُہَا فَادْفَعْہَا إِلَیْہِ وَاِلَّا فَہِیَ لَکَ أَوِ اسْتَمْتِعْ بِہَا أَوْ نَحْوَ ھٰذَا۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۶۳)
۔ سیدنا زید بن خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے یا کسی آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے گم شدہ بکری کے بارے میں سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ تیرے لیے ہے، یا پھر بھیڑیے کے لیے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! گم شدہ اونٹ کے بارے میںآپ کیا فرمائیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس سے تیرا کیا تعلق ہے، اس کا پینا اور جوتا اس کے پاس ہے اور وہ درختوں سے چرتا رہے گا (یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پا لے گا)۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر مجھے گم شدہ چاندی مل جائے تو اس کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی تھیلی، بندھن اور اس کی تعداد کی معلوم کر لے اور ایک سال تک اس کا اعلان کرتا رہ، اگر اس کا مالک آجائے تو اسے دے دے، وگرنہ وہ تیری ہو گی،یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ وگرنہ تو اس سے فائدہ اٹھا۔
Takhreej
(۶۲۳۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۲۹۲، ومسلم: ۱۷۲۲(انظر: ۱۷۰۳۷)
Explanation
فوائد:… ۱۷۰۴۶ میں بحث
6232
Sahih
۔ (۶۲۳۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: جَائَ اَعْرَابِیٌّ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِلُقْطَۃٍ، فَقَالَ: ((عَرِّفْہَا سَنَۃً۔)) فَذَکَرَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ۔ (مسند احمد: ۱۷۱۸۶)
۔ (دوسری سند) سیدنا زید بن خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے کہ ایک دیہاتی گری پڑی ایک چیز لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ پھر اوپر والی حدیث کی طرح کی روایت بیان کی۔
Takhreej
(۶۲۳۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
6233
Sahih
۔ (۶۲۳۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) سُئِلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ضَالَّۃِ الْإِبِلِ فَغَضِبَ وَاحْمَرَّتْ وَجْنَتَاہُ وَقَالَ: ((مَالَکَ وَلَھَا، مَعَہَا الْحِذَائُ وَالسِّقَائُ، تَرِدُ الْمَائَ وَتَأْکُلُ الشَّجَرَ حَتّٰییَجِیْئَ رَبُّہَا۔)) وَسُئِلَ عَنْ ضَالَّۃِ الْغَنَمِ فَقَالَ: ((خُذْھَا فَإِنَّمَا ھِیَ لَکَ أَوْ لِأَخِیْکَ أَوْ لِلذِّئْبِ۔)) وَسُئِلَ عَنِ اللُّقْطَۃِ، فَقَالَ: ((اِعْرِفْ عِفَاصَہَا وَوِکَائَ ھَا، ثُمَّ عَرِّفْہَا سَنَۃً فَإِنِ اعْتُرِفَتْ وَاِلَّا فَخَالِطْہَا بِمَالِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۷۶)
۔ (تیسری سند) سیدنا زید بن خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے گم شدہ اونٹ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غصے میں آ گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے رخسار سرخ ہوگئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرا اس کے ساتھ کیا تعلق ہے، اس کے ساتھ ہی اس کا جوتا اور پینا موجود ہے، وہ پانی پر وارد ہوتا رہے گا اور درختوں سے چرتا رہے گا، یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پا لے گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے گم شدہ بکری کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے پکڑ لو، کیونکہ وہ صرف تیرے لیے ہو گی،یا تیرے بھائی کے لیے،یا بھیڑیئے کے لیے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کسی دوسری گری پڑی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی تھیلی اور بندھن کی شناخت کر لے، پھر ایک سال تک اس کا اعلان کر، اگر مالک کا پتہ چل جائے تو ٹھیک، وگرنہ اسے اپنے مال میں شامل کرلے۔
Takhreej
(۶۲۳۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
6234
Sahih
۔ (۶۲۳۵)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ مُزَیْنَۃَیَسْأَلُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! جِئْتُ أَسْأَلُکَ عَنِ الضَّالَّۃِ مِنَ الْاِبِلِ؟ قَالَ: ((مَعَہَا حِذَاؤُھَا وَسِقَاؤُھَا تَأْکُلُ الشَّجَرَ وَتَرِدُ الْمَائَ فَدَعْہَا حَتّٰییَأْتِیَہَا بَاغِیْہَا۔)) قَالَ: الضَّالَۃُ مِنَ الْغَنَمِ؟ قَالَ: ((لَکَ أَوْ لِأَخِیْکِ أَوْ لِلذِّئْبِ، تَجْمَعُہَا حَتّٰییَأْتِیَہَا بَاغِیْہَا۔)) قَالَ: الْحَرِیْسَۃُ الَّتِیْ تُوْجَدُ فِیْ مَرَاتِعِہَا؟ قَالَ: بِہَا ثَمَنُہَا مَرَّتَیْنِ وَضَرْبُ نَکَالٍ، وَمَا اُخِذَ مِنْ عَطَنِہِ فَفِیْہِ الْقَطْعُ اِذَا بَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَالثِّمَارُ وَمَا أُخِذَ مِنْہَا فِیْ أَکْمَامِہَا؟ قَالَ: ((مَنْ أَخَذَ بِفَمِہِ وَلَمْ یَتَّخِذْ خُبْنَۃً فَلَیْسَ عَلَیْہِ شَیْئٌ وَمَنِ احْتَمَلَ، عَلَیْہِ ثَمَنُہُ مَرَّتَیْنِ وَضَرْبًا وَنَکَالًا، وَمَا اَخَذَ مِنْ اَجْرَانِہِ فَفِیْہِ الْقَطْعُ اِذَا بَلَغَ مَا یُؤْخَذُ مِنْ ذٰلِکَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَاللُّقْطَۃُ نَجِدُھَا فِیْ سَبِیْلِ الْعَامِرَۃِ؟ قَالَ: ((عَرِّفْہَا حَوْلًا فَإِنْ وَجَدَ بَاغِیْہَا فَأَدِّھَا إِلَیْہِ وَاِلَّا فَہِیَ لَکَ۔)) قَالَ: مَا یُوْخَذُ فِی الْخَرِبِ الْعَادِیِّ؟ قَالَ: ((فِیْہِ وَفِی الرِّکَازِ الْخُمُسُ۔)) (مسند احمد: ۶۶۸۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے گم شدہ اونٹ کا حکم دریافت کرنے کے لیے آیا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چونکہ اس کا جوتا اور مشکیزہ اس کے پاس موجود ہے، پس وہ درختوں سے چرتا رہے گا اور پانی پیتا رہے گا، یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پا لے گا، اس لیے تو اس کو چھوڑ دے۔ اس نے کہا: گم شدہ بکری کا کیا حکم ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ تیرے لیے ہے یا تیرے بھائی کے لیے ہے یا پھر بھیڑیئے کے لیے، اس لیے اس کو اپنے پاس رکھ لے، یہاں تک کہ اس کا تلاش کرنے والا آ جائے۔ اس نے کہا: اس بکری کا کیا حکم ہے، جس کو چراگاہ سے چرا لیا گیا ہو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی دوگنا قیمت لی جائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ سزا بھی دی جائے گی اور جو چیز اونٹوں کے باڑے سے چرا لی جائے اور اس کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر ہو تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھل کے متعلق کیا حکم ہے، نیز جو پھل شگوفوں سے ہی کھا لیا جائے، اس کا کیا حکم ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے وہیں (باغ میں) کھا لیا اور کپڑے میں اٹھا کر نہ لے گیا، تو اس پر کوئی حرج نہیں ہو گا، لیکن جو آدمی پھل اٹھا کر لے گیا، اس نے اس کی دو گنا قیمت ادا کرنا ہو گی اور اس کو سزا بھی دی جائے گی، لیکن جو چیز (کھلیانوں جیسے) محفوظ مقامات سے اٹھا لی جائے گی اور وہ ڈھال کی قیمت کے برابر ہو گی تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا، ۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! شارع عام میں گری پڑی چیز کا کیا حکم ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک سال تک اس کا اعلان کر، اگر اس کو تلاش کرنے والا مالک مل جائے تو اس کو دے دے، وگرنہ وہ تیری ہو جائے گی۔ اس نے کہا:جو چیز ویران ہو جانے والے قدیم مقام سے ملے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس میں اور رکاز میں پانچواں حصہ ہے۔
Takhreej
(۶۲۳۵) تخریج: حدیث حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۱۷۱۰، والنسائی: ۸/ ۸۵ (انظر: ۶۶۸۳)
Explanation
فوائد:… ’’اونٹ کے پاس اس کا جوتا اور مشکیزہ موجود ہے۔‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دور دور تک چل سکتا ہے اور کئی دنوں تک پانی پئے بغیر زندہ رہ سکتا ہے۔ ’’ویران ہو جانے والا قدیم مقام ‘‘ اس سے مراد وہ جگہ ہے، جو کبھی آباد ہوا کرتی تھی، لیکن اب وہ ویران ہو گئی ہے اور وہاں سے ملنے والی چیز کے مالک کو نہیں پہنچایا جا سکتا۔ ان احادیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ گری پڑی چیز کا ایک سال تک اعلان کیا جائے گا، اگر مالک مل گیا تو ٹھیک، بصورت ِ دیگر وہ بندہ استعمال کر لے گا، لیکن اصل مالک کا حق برقرار رہے گا، جس دن اس سے ملاقات ہو گئی، وہ چیز اس کو واپس کرنا پڑے گی۔ اگلے باب میں تین برسوں کا ذکر ہے، جمع و تطبیق کے لیے اگلا باب ملاحظہ کریں۔ آخری حدیث میں مذکورہ دوسرے احکام کی تفصیل ان کے مقام پر بیان کی گئی ہے۔
6235
Sahih