اس شخص کی وعید کا بیان جس نے گم شدہ چیز اٹھا لی اور اس کا اعلان نہ کیا - اس شخص کی وعید کا بیان جس نے گم شدہ چیز اٹھا لی اور اس کا اعلان نہ کیا - گری پڑی چیز کی کتاب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Chapter 3 of گری پڑی چیز کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
۔ سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص گم شدہ چیز اپنے گھر میں رکھ لیتا ہے اور اس کا اعلان نہیں کرتا، وہ گمراہ ہے۔
۔ عبد اللہ بجلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بوازیج مقام پر اپنے باپ سیدنا ابو جریر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، اتنے میں ایک گائے چراگاہ کی طرف نکل آئی، جب انھوں نے یہ گائے دیکھی اور اس کی شناخت نہ کی تو کہا: یہ گائے کہاں سے آ گئی ہے؟ میں نے کہا: یہ ہماری گائیوں کے ساتھ مل گئی ہے، لیکن انھوں نے حکم دیا کہ اس کو دھتکار دیا جائے، پس ایسے ہی کیا گیا،یہاں تک کہ وہ چھپ گئی ، پھر انھوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہی آدمی گم شدہ جانور کو اپنے گھر میں جگہ دیتا ہے، جو گمراہ ہوتا ہے۔
Takhreej
(۶۲۴۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، الضحاک، قال علی بن المدینی: لا یعرفونہ، ثم انّ ابا حیان اضطرب فیہ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۷۲۰، وابن ماجہ: ۲۵۰۳، والنسائی: ۲/ ۴۳۲ (انظر: ۱۹۲۰۹)
۔ سیدنا جارود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، سواریوں کی قلت تھی، لوگ سواریوں کے بارے میں تبادلۂ خیال کر رہے تھے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے معلوم ہے کہ ہمیں سواریاں میسر آسکتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: وہ کیسے؟ میں نے کہا: (مدینہ منورہ کی) پانی کی بہاؤ والی جگہ میں اونٹ موجود ہیں، ہم ان پر سواری کرنے کا فائدہ حاصل کر لیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں ،مسلمان کا گم شدہ آگ کا شعلہ ہے، پس ہر گز اس کے قریب نہیں جانا، مسلمان کا گمشدہ آگ کا شعلہ ہے، پس ہر گز اس کے قریب نہیں جانا، مسلمان کا گمشدہ آگ کا شعلہ ہے، پس ہر گز اس کے قریب نہیں جانا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گری پڑی چیز کے بارے میں ارشاد فرمایا: جب تو گم شدہ چیز پائے تو ضرور ضرور اس کا اعلان کر اور چھپا کے نہ رکھ اور نہ اس کو غائب کر، اگر وہ پہچان لیا جائے تو متعلقہ بندے کو ادا کر دے، وگرنہ وہ اللہ تعالی کا مال ہے، وہ جسے چاہتا ہے، عطا کر دیتا ہے۔
۔ سیدناجارود رضی اللہ عنہ سے اس انداز سے بھی روایت ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گم شدہ جانوروں کے متعلق دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کا شعلہ ہے۔
۔ مطرف انپے باپ سیدنا عبد اللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول!: ہم گم شدہ اونٹوں کو پا لیتے ہیں، ان کا کیا حکم ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مؤمن کا گم شدہ جانور آگ کا شعلہ ہے۔
Takhreej
(۶۲۴۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۵۰۲(انظر: ۱۶۳۱۴)
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا ایک نیزہ تھا،جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کسی غزوہ میں جاتے تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ اسے ساتھ لے جاتے اور اسے گاڑھ دیتے اور قصداً چھوڑآتے، لوگ اس کے پاس سے گزرتے اور اسے اٹھا لاتے۔ میں نے کہا: میں اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو میں اس کاروائی کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ضرور آگاہ کروں گا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے (قصداً) ایسا کرنا شروع کر دیا تو گم شدہ چیز کو نہیں اٹھایا جائے گا۔
Takhreej
(۶۲۴۴) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۸۰۹(انظر: ۱۲۷۲)
Explanation
فوائد:… ان احادیث میں بیان کی گئی وعید اس آدمی کے بارے میں ہے جو مومن کی گمشدہ چیز اس نیت سے اٹھاتا ہے کہ وہ اس پر قبضہ کر لے اور کسی کو نہ بتائے۔