TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مکہ میں گری پڑی چیز کے حکم کا بیان - مکہ میں گری پڑی چیز کے حکم کا بیان - گری پڑی چیز کی کتاب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 5 of گری پڑی چیز کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 5 · 3 Hadith
۔ (۶۲۴۷)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِیْ خُطْبَۃٍ خَطَبَہَا فِیْ فَضْلِ مَکَّۃَیَوْمَ فَتْحِہَا: ((لَا یُعْضَدُ شَجَرُھَا وَلَا یُنَفَّرُ صَیْدُھَا وَلَا تَحِلُّ لُقُطَتُہَا اِلَّا لِمُنْشِدٍ۔)) (مسند احمد: ۷۲۴۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ والے دن مکہ کی فضیلت کے بارے میں فرمایا: اس کے درخت نہ کاٹے جائیں، اس کے شکار کو نہ بھگایا جائے اور اس کی گری پڑی چیز کسی کے لیے حلال نہیں ہے، مگر اعلان کرنے والے کے لیے۔
Takhreej
(۶۲۴۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۴۳۴، ومسلم: ۱۳۵۵ (انظر: ۷۲۴۲)
6247
Sahih
۔ (۶۲۴۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِیْ فَضْلِ مَکَّۃَ: ((إِنَّ ھٰذَا الْبَلَدَ حَرَامٌ۔)) فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ وَ فِیْہِ: ((وَلَا یُنَفَّرُ صَیْدُہُ وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُہُ اِلَّا لِمُعَرِّفٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فضائل مکہ کے موضوع پر روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ شہر حرمت والا ہے۔ پھر راوی نے ساری حدیث بیان کی ہے، اس میںیہ الفاظ بھی تھے: اس کے شکار کو بے قرار نہ کیا جائے اور نہ اس کی گری پڑی چیز اٹھائی جائے، البتہ اعلان کرنے والے کے لیے جائز ہے۔
Takhreej
(۶۲۴۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۵۸۷، ۱۸۳۴، ۳۱۸۹، ومسلم: ۱۳۵۳(انظر: ۲۳۵۳)
Explanation
فوائد:… مکہ مکرمہ کا معاملہ دوسروں علاقوں سے مختلف ہے، اس شہر میں آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے، حج و عمرہ یا زیارت کے ارادے سے آنے والے لوگوں میں سے کوئی کم عرصہ کے لیے ٹھہرتا ہے اور کوئی کافی ایام کے لیے قیام کرتا ہے اور قیام کرنے کا انداز بھی بڑا عجیب ہوتا ہے کہ کوئی کہیں دو دن ٹھہر رہا ہے، کوئی کہیں چار دن قیام کر رہا ہے اور کوئی تو چل پھر کر ہی دن گزار دیتا ہے، نیز کوئی بہت دور سے آیا ہوتا ہے اور کوئی قریب سے۔ جب صورتحال ایسی ہو تو اگر گری پڑی چیز کو اس کے محل پر ہی رہنے دیا جائے تو بہتر ہو گا، کیونکہ ممکن ہے کہ جب اس کے مالک کو پتہ چلے تو وہ اپنے مقامات کی طرف لوٹے یا وہ اس مقام میں اس چیز کو تلاش کرنے کے لیے کسی کو پیغام بھیج دے، ایسے فوراً بھی کیا جا سکتا ہے اور کچھ دنوں کے بعد بھی، اس لیے اس شہر کی گری پڑی چیز کو وہیں پڑے رہنے دیا جائے، جو اعلان کرنے کی ذمہ داری اٹھائے گا، تو وہ اعلان کرتا رہے گا اور اس کے لیے کوئی حد مقرر نہیں ہو گی، جیسا کہ دوسرے علاقوں میں ایکیا تین برسوںکی حد مقرر ہے۔ امام نووی نے کہا: اس حدیث کا معنییہ ہے کہ مکہ مکرمہ میں گری پڑی چیز اس آدمی کے لیے حلال نہیں ہے، جو ایک سال تک اعلان کر کے اس کا مالک بننے کا ارادہ رکھتا ہو، جیسا کہ دوسرے علاقوں کا حکم ہے، بلکہ یہ چیز حلال نہیں ہو گی، مگر اس آدمی کے لیے جو ہمیشہ کے لیے اعلان کرتا رہے گا اور اس کا مالک نہیں بنے گا۔
6248
Sahih
۔ (۶۲۴۹)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّیْمِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْ لُقْطَۃِ الْحَاجِّ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۶۷)
۔ سیدنا عبد الرحمن بن عثمان تیمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حاجیوں کی گری ہوئی چیز اٹھانے سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۶۲۴۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۷۲۴ (انظر: ۱۶۰۷۰)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ میں مطلق حاجیوں کا ذکر ہے، حرم یا مکہ مکرمہ کی قید نہیں لگائی گئی ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا سابقہ احادیث کی روشنی میں اس حدیث کو مقید کیا جائے یا عام رہنے دیا، الفاظ کا تقاضا یہی ہے کہ یہ حکم عام ہے اور اس کو عام ہی رہنے دیا جائے، کیونکہ ممکن ہے کہ چیز کے قیمتی ہونے کی صورت میں مالک واپس پلٹے یا حج و عمرہ سے واپسی پر اپنی چیز کو تلاش کرنے کی کوشش کرے۔
6249
Sahih