TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 701 - اعضاء کو ایک ایک دفعہ، دو دو دفعہ اور تین تین دفعہ دھو کر وضو کرنے اور تین سے زیادہ کرنے کی کراہت کا بیان - پاؤں کو دھونے اور اس سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 13 in this chapter
اعضاء کو ایک ایک دفعہ، دو دو دفعہ اور تین تین دفعہ دھو کر وضو کرنے اور تین سے زیادہ کرنے کی کراہت کا بیان
۔ (۷۰۱)۔ عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ حَنْطَبٍ قَالَ: کَانَ ابْنُ عُمَرَ یَتَوَضَّأُ ثَلَاثًا، یَرْفَعُہُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، وَکَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ یَتَوَضَّأُ مَرَّۃً یَرْفَعُہُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۳۵۲۶)
مطلب بن عبد اللہ بن حنطب کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ اعضاء کو تین تین دفعہ دھو کر وضو کرتے اور اس عمل کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف منسوب کرتے تھے اور سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ اعضاء کو ایک ایک دفعہ وضو کرتے اور اس عمل کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف منسوب کرتے تھے۔
701
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۷۰۱) تخریج: حدیث ابن عمر صحیح موقوفا و ضعیف مرفوعا۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۴۱۴، والنسائی: ۱/ ۶۲۔ حدیث ابن عباس أخرجہ البخاری: ۱۵۷ (انظر: ۳۵۲۶)

Related Chapters

313
1
(36)Chapter: [What Has Been Related] About One Who performs Some Of Wudu, Two Times Each, And Some Of It Three
باب: وضو میں بعض اعضاء دو بار دھونے اور بعض تین بار دھونے کا بیان​
Jam e Tirmazi
2
(22) CHAPTER. The washing of the body parts (i.e., the parts which are washed in ablution) once only while performing ablution.
وضو میں ہر عضو کو ایک ایک دفعہ دھونا بھی ثابت ہے
Sahih Bukhari
3
Chapter: It is disliked for the person who wants to perform wudu’, and others, to put his hand in the vessel (containing water) before washing it three times, if he is not sure whether something impure is on his hands or not
وضو کرنے والے یا کسی بھی انسان کے لیے مکروہ ہے کہ جس کے ہاتھ کے پلید ہونے کاشبہ ہو اسے تین دفعہ دھوئے بغیر برتن میں ڈالے
Sahih Muslim
4
CHAPTER: Performing [The Actions Of] Wudu’ Thrice..
باب: وضو میں اعضاء کو تین تین بار دھونے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
5
CHAPTER: Performing [The Actions Of] Wudu’ Once.
باب: اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھونے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
6
تین تین بار اعضاء وضو دھونے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
7
اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھونے کا بیان
Sunnan Nisai
8
اعضاء وضو کو تین تین بار دھونے کا بیان
Sunnan Nisai
9
گھوڑوںکی نسل کو زیادہ کرنے اور اس کی فضیلت کا اورگھوڑوں کو خصی کرنے کی ممانعت اور گدھوں سے گھوڑیوں کی جفتی کروانے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
10
(16) CHAPTER. Whoever performed the ablution of Janaba and then washed his body but did not wash once again the parts which were washed in ablution.
اس بارے میں کہ جس نے جنابت میں وضو کیا پھر اپنے تمام بدن کو دھویا ، لیکن وضو کے اعضاء کو دوبارہ نہیں دھویا
Sahih Bukhari
11
(11) CHAPTER. (To start with) the parts of the dead body which are washed in ablution.
اس بارے میں کہ پہلے میت کے اعضاء وضو کو دھویا جائے
Sahih Bukhari
12
CHAPTER: Performing [The Actions Of] Wudu’ Twice.
باب: اعضاء وضو کو دو دو بار دھونے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
13
CHAPTER: Separating The Actions Of Wudu’.
باب: وضو میں اعضاء کو الگ الگ دھونا ( تاکہ کوئی عضو خشک نہ رہ جائے ) ۔
Sunnan Abu Dawood
14
غسل میں اعضاء کو ایک ایک بار دھونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
15
(43)Chapter: [What Has Been Related] About It Being Disliked To Be Wasteful With Water During Wudu
باب: وضو میں پانی کے بے جا استعمال کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
16
(47)Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Use The Leftover Water Of A Woman
باب: عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
17
(67)Chapter: It Is Disliked To Retum The Salam If One Does Not Have Wudu
باب: بغیر وضو سلام کا جواب دینے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Call The Adhan Without Having Wudu
باب: بغیر وضو کے اذان دینے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked to Intertwine The Fingers During Salat
باب: نماز میں ایک ہاتھ کی انگلیوں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Eat From The Sacrificial Meat Beyond Three Days.
باب: تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Eat From It Beyond Three Days
باب: تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھ کر کھانے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Walk In One Sandal
باب: ایک جوتا پہن کر چلنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Take To Dates At Once
باب: دو دو کھجور ایک لقمے میں کھانے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked to Eat Much
باب: زیادہ کھانے پینے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
25
باب: ایک ٹانگ کو دوسری پر رکھ کر چٹ لیٹنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
26
وسوسے کی مذمت اور وضو کے پانی میں اسراف کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
27
تین دنوں سے زیادہ قربانیوں کا گوشت کھانے سے ممانعت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
28
اس آدمی کا بیان کہ جس کو ایک چیز خریدنے کا وکیل بنایا گیا، لیکن اس نے زیادہ چیزیں خرید کر اضافی چیزوں میں از خود تصرف کیا
Musnad Ahmad
29
بیمار آدمی کا ایک تہائی مال یا اس سے کم سے صدقات و خیرات کرنے کے جواز اور اس سے زیادہ کرنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
30
جب مہمان زیادہ ہو جائیں تو ضیافت کرنے کے لیے مسلمانوں کاایک دوسرے کے ساتھ مل جانا اور باہمی تعاون کرنا
Musnad Ahmad
31
(8) CHAPTER. Tayammum with one light stroke (on the earth).
تیمم میں ایک ہی دفعہ مٹی پر ہاتھ مارنا کافی ہے
Sahih Bukhari
32
(3) CHAPTER. To pronounce the wording of Iqama once (in singles) except Qad-qamat-is-Salat.
اس بارے میں کہ سوائے قد قامت الصلٰوۃ کے اقامت کے کلمات ایک ایک دفعہ کہے جائیں
Sahih Bukhari
33
(44) CHAPTER. “And their husbands have the better right to take them (divorced ladies) back,” (V.2:228) during the period of the Idda.
اور اللہ کا سورۃ البقرہ میں یہ فرمانا کہ عدت کیاندر عورتوں کے خاندان کے زیادہ حقدار ہیں یعنی رجعت کر کے اور اس بات کا بیان کہ جب عورت کو ایک یاد و طلاق دی ہوں تو کیونکر رجعت کرے ۔
Sahih Bukhari
34
(47) CHAPTER. If in a gathering there are more than three persons, then there is no harm if two of them have a secret talk.
جب تین سے زیادہ آدمی ہوں تو کانا پھوسی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے
Sahih Bukhari
35
Chapter: It is recommended to pour water over the head, and elsewhere, three times
سر اور باقی جسم پر تین دفعہ پانی بہانا مستحب ہے
Sahih Muslim
36
Chapter: It is permissible for one who has broken his wudu’ to eat, and there is nothing disliked about doing so, and wudu’ need not be done immediately
بے وضو شخص کے لیے کھانا جائز ہے، اس میں کوئی کراہت نہیں اور وضو فوری طور پر کرنا ضروری نہیں
Sahih Muslim
37
Chapter: It is disliked to smooth the pebbles or make the dirt level during salat
نماز میں (ایک سے زیادہ بار )کنکریاں صاف کرنا اور مٹی کو برابر کرنا مکروہ ہے
Sahih Muslim
38
ٹھہر ٹھہر کر قراءت کرنا ‘ہذّ(کٹائی )یعنی تیزی میں حد سے بڑھ جانے سے اجتناب کرنا اور ایک رکعت میں دو اور اس سے زیادہ سورتیں پڑھنے کا جواز
Sahih Muslim
39
Chapter: It is permissible for the one who emigrated from Makkah to stay there for three days after completing Hajj and 'Umrah, and no more than that
مکہ سے ہجرت کرجانے والوں کےلیےحج و عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد وہاں تین دن ٹھہرنا جائز ہے ‘زیادہ نہیں
Sahih Muslim
40
Chapter: The Obligation to mourn during the 'Iddah following the death of one's husband, but it is forbidden to mourn for more than three days in other cases
وفات کی عدت میں سوگ ضروری ہے اس کے علاوہ تین دن سے زیادہ سوگ منانا حرام ہے
Sahih Muslim
41
Chapter: The prohibition of eating two dates etc., at a time when eating with a group, except with the permission of one's companions
کھانے میں شریک ساتھیوں کی اجازت کے بغیر ایک لقمے میں دویازیادہ کھجوریں ملا (کر کھانے )کی ممانعت
Sahih Muslim
42
Chapter: The Prohibition Of Forsaking Someone For More Than Three Days For No Legitimate Reason
باب: شرعی عذر کے بغیر تین دن سے زیادہ تعلق قطع کرنے کی حرمت
Sahih Muslim
43
Chapter: The Most Affluent Of People In This World Will Be Dipped In The Fire, And The Most Destitute Will Be Dipped In Paradise
دنیاوالوں میں سب سے زیادہ نعمتوں والے کو جہنم میں ایک ڈبکی لگانا اور ان میں سب سے زیادہ تکلیف اٹھانے والے کو جنت(کی نہروں) میں ایک غوطہ لگانا
Sahih Muslim
44
CHAPTER: Excessiveness In The Water For Ablution’.
باب: وضو میں اسراف و فضول خرچی یعنی پانی ضرورت سے زیادہ بہانا درست نہیں ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
45
CHAPTER: If two invitations come at the same time, which should be given precedence?
باب: جب دو آدمی ایک ساتھ دعوت دیں تو کون زیادہ حقدار ہے کہ اس کی دعوت قبول کی جائے ۔
Sunnan Abu Dawood
46
وضو میں میانہ روی کی فضیلت اور حد سے تجاوز کرنے کی کراہت کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
47
باب: شوہر کا میلان کسی ایک بیوی کی طرف زیادہ ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
48
باب: ایک کے مقابلے دوسری بیوی سے زیادہ محبت ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
49
باب: قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے کی اجازت کا بیان۔
Sunnan Nisai
50
باب: «مصراۃ» (تھن باندھے جانور) کی بیع منع ہے «مصراۃ»: اس اونٹنی یا بکری کو کہتے ہیں: جس کے تھن کو باندھ دیا جاتا ہے اور دو تین دن اسے دوہنا ترک کر دیا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کا دودھ اکٹھا ہوتا رہتا ہے، خریدنے والا اس کا دودھ زیادہ دیکھ کر اس کی قیمت بڑھا
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

755
Musnad Ahmad
44
۔ (۴۴)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمُوْجِبَتَانِ، مَنْ لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ، وَمَنْ لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَ ہُوَ یُشْرِکُ بِہِ دَخَلَ النَّارَ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۷۶۸)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: دو واجب کر دینے والی خصلتیں ہیں، جو آدمی اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملا کہ وہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے کہ وہ اس کے ساتھ شرک کرتا ہو تو وہ جہنم میں داخل ہو گا۔
Musnad Ahmad
99
۔ (۹۹)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ إِلَّا أَنَّہُ قَالَ فِیْہِ: أَیُّ الْمُسْلِمِیْنَ بَدْلَ قَوْلِہِ أَیُّ الْاِسْلَامِ۔ (مسند أحمد: ۱۵۲۸۰)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ کون سا اسلام افضل ہے کے بجائے یہ سوال کیا گیا: کون سے مسلمان افضل ہیں۔
Musnad Ahmad
177
۔ (۱۷۷)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ ؓ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: تَدُوْرُ رَحَی الْاِسْلَامِ بِخَمْسٍ (وَفِی رِوَایَۃٍ: عَلٰی رَأْسِ خَمْسٍ) وَ ثَلَاثِیْنَ أَوْ سِتٍّ وَ ثَلَاثِیْنَ أَوْ سَبْعٍ وَ ثَلَاثِیْنَ فَاِنْ یَہْلِکُوْا فَسَبِیْلُ مَنْ قَدْ ہَلَکَ وَاِنْ یَقُمْ لَہُمْ دِیْنُہُمْ یَقُمْ لَہُمْ سَبْعِیْنَ عَامًا، قَالَ: قُلْتُ: أَمِمَّا مَضٰی أَمْ مِمَّا بَقِیَ؟ قَالَ: مِمَّا بَقِیَ۔ (مسند أحمد: ۳۷۳۰)
سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پینتیس یا چھتیس یا سینتیس سالوں کے بعد اسلام کی چکی گھومے گی، اس کے بعد اگر وہ (گمراہ رہ کر) ہلاک ہوئے تو وہ پہلے ہلاک ہونے والوں کی طرح ہوں گے اور اگر ان کے لیے اُن کا دین قائم رہا تو وہ ستر سال تک قائم رہے گا۔ میں نے کہااور ایک روایت کے مطابق سیدنا عمرؓ نے کہا: اے اللہ کے نبی! ماضی سمیت یا مستقل ستر سال؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مستقل ستر سال۔
Musnad Ahmad
284
۔ (۲۸۴)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ ثَنَا أَبُوْ ہَارُوْنَ الْغَنَوِیُّ عَنْ مُطَرِّفٍ (بْنِ عَبْدِاللّٰہِ) قَالَ: قَالَ لِیْ عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ ؓ: أَیْ مُطَرِّفُ! وَاللّٰہِ اِنْ کُنْتُ لَأَرٰی أَنِّیْ لَوْ شِئْتُ حَدَثَّتُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ لَا أُعِیْدُ حَدِیْثًا، ثُمَّ لَقَدْ زَادَ بِیْ بُطْأً عَنْ ذٰلِکَ وَکَرَاہِیَّۃً لَہُ أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ مِنْ بَعْضِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَہِدْتُ کَمَا شَہِدُوْا وَسَمِعْتُ کَمَا سَمِعُوْا یُحَدِّثُوْنَ أَحَادِیْثَ مَا ہِیَ کَمَا یَقُوْلُوْنَ، وَلَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّہُمْ لَا یَأْلُوْنَ عَنِ الْخَیْرِ، فَأَخَافُ أَنْ یُشَبَّہَ لِیْ کَمَا شُبِّہَ لَہُمْ، فَکَانَ أَحْیَانًا یَقُوْلُ: لَوْ حَدَّثْتُکُمْ أَنِّیْ سَمِعْتُ مِنْ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَذَا وَکَذَا، رَأَیْتُ اَنِّیْ قَدْ صَدَقْتُ، وَاَحْیَانًا یَعْزِمُ فَیَقُوْلُ: سَمِعْتُ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: کَذَا وَ کَذَا۔ (مسند أحمد: ۲۰۱۳۴)
مُطَرِّف بن عبد اللہ کہتے ہیں: سیدنا عمران بن حصین ؓ نے مجھے کہا: اے مطرف! اللہ کی قسم! میرا یہ خیال تھا کہ اگر میں دو دن مسلسل نبی ٔ کریم کی احادیث بیان کروں تو ایک حدیث دوسری دفعہ پڑھنے کی نوبت نہیں آئے گی، لیکن پھر میں نے دیکھا کہ مجھ پر سستی غالب آنے لگی ہے اور میں اس چیز کو ناپسند کرنے لگا ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ ٔ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہم ‌ میں سے بعض لوگ میری طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس حاضر رہتے اور میری طرح احادیث سنتے تھے، لیکن جب وہ احادیث بیان کرتے ہیں تو وہ اُس طرح نہیں ہوتیں، جیسے وہ بیان کرتے ہیں، اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ خیر میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے، اب مجھے بھی یہ اندیشہ ہونے لگا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھ پر بھی (احادیث کا معاملہ) مشتبہ ہو جائے، جیسے ان پر مشتبہ ہو گیا ہے۔ بسا اوقات سیدنا عمران ؓ یوں کہتے تھے: اگر میں تم کو یہ بیان کروں کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ یہ احادیث سنی ہیں تو میرا یہی خیال ہو گا کہ میں سچ کہہ رہا ہوں گا، اور بسا اوقات تو بڑے عزم کے ساتھ کہتے تھے: میں نے اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ایسے ایسے کہتے سنا ہے۔
Musnad Ahmad
485
۔ (۴۸۵)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا یَبُوْلَنَّ أَحَدُکُمْ فِیْ مُسْتَحَمِّہِ ثُمَّ یَتَوَضَّأُ فِیْہِ، فَاِنَّ عَامَّۃَ الْوِسْوَاسِ مِنْہُ)) (مسند أحمد: ۲۰۸۴۴)
سیدنا عبداللہ بن مغفل ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی غسل خانے میں پیشاب نہ کیا کرے، پھر اس میں وضو کرے گا، پس عام وسوسے اسی وجہ سے ہوتے ہیں۔
Musnad Ahmad
609
۔ (۶۰۹)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ بِسَعْدٍ وَہُوَ یَتَوَضَّأُ، فَقَالَ: ((مَا ھٰذَا السَّرَفُ یَا سَعْدُ؟)) قَالَ: أَفِی الْوُضُوئِ سَرَفٌ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، وَاِنْ کُنْتَ عَلٰی نَہْرٍ جَارٍ)) (مسند أحمد:۷۰۶۵)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سیدنا سعدؓ کے پاس سے گزرے اور وہ وضو کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: سعد! یہ کیا اسراف کر رہے ہو؟ انھوں نے کہا: کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، اور اگرچہ تو جاری نہر پر ہو۔
Musnad Ahmad
630
۔ (۶۳۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ عَنْ أَبِیْہِ)۔ أَنَّ جَدَّہٗ قَالَ لِعَبْدِاللّٰہِ بْنِ زَیْدِ بْنِ عَاصِمٍؓ: ہَلْ تَسْتَطَیْعُ أَنْ تُرِیَنِیْ کَیْفَ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ یَتَوَضَّأُ؟ قَالَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ زَیْدٍ: نَعَمْ، فَدَعَا بِوَضُوئٍ فَغَسَلَ یَدَہُ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًاثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ یَدَیْہِ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَہٗ بِیَدَیْہِ فَأَقْبَلَ بِہِمَا وَأَدْبَرَ، بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِہِ ثُمَّ ذَہَبَ بِہِمَا اِلَی قَفَاہُ ثُمَّ رَدَّہُمَا حَتّٰی رَجَعَ اِلَی الْمَکَانِ الَّذِی بَدَأَ مِنْہُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَیْہِ ( وَفِی رِوَایَۃٍ: أَنَّہُ مَسَحَ بِرَأْسِہِ مَرَّتَیْنِ وَغَسَلَ رِجْلَیْہِ مَرَّتَیْنِ)۔ (مسند أحمد: ۱۶۵۴۵)
۔ (دوسری سند) ان کے دادا جان نے سیدنا عبد اللہ بن عاصمؓ سے کہا: کیا تم مجھے یہ دکھا سکتے ہو کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کیسے وضو کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پھر انھوں نے وضو کا پانی منگوایا اور دو بار اپنے ہاتھ دھوئے، پھر تین بار کلی کی اور ناک جھاڑا، پھر تین دفعہ چہرہ دھویا، پھر دونوں بازوؤں کو دو دو مرتبہ دھویا، پھر دونوں ہاتھوں سے سر کا اس طرح مسح کیا کہ ان کو آگے سے لے گئے اور پیچھے سے لے آئے، تفصیل یہ ہے کہ سر کے سامنے والے حصے سے شروع کیا اور ہاتھوں کو گدی تک لے گئے، پھر ان کو اسی جگہ پر لوٹایا، جہاں سے شروع کیا تھا، پھر اپنے پاؤں دھوئے۔ ایک روایت میں ہے: سر کا مسح دو بار کیا اور پاؤں بھی دو دو مرتبہ دھوئے۔
Musnad Ahmad
654
۔ (۶۵۴)۔عَنْ نُعَیْمِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ الْمُجْمِرِ أَنَّہُ رَقِیَ اِلٰی أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَلٰی ظَہْرِ الْمَسْجِِدِ وَہُوَ یَتَوَضَّأُ فَرَفَعَ فِیْ عَضُدَیْہِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیَّ فَقَالَ: اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((اِنَّ أُمَّتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ہُمُ الْغُرُّ الْمُحَجَّلُونَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوئِ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَن یُطِیْلَ غُرَّتَہُ فَلْیَفْعَلْ۔)) فَقَالَ نُعَیْمٌ: لَا أَدْرِیْ قَوْلَہُ مَنِ اسْتَطَاعَ أَن یُطِیْلَ غُرَّتَہُ فَلْیَفْعَلْ مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ مِنْ قَوْلِ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ۔ (مسند أحمد: ۸۳۹۴)
نعیم بن عبد اللہ مجمر کہتے ہیں کہ وہ مسجد کی چھت پر چڑھ کر سیدنا ابو ہریرہؓ کے پاس پہنچے، جبکہ وہ وضو کر رہے تھے، وہ (کہنیوں سے اوپر والے) بازوؤں کے حصے کو دھونے لگے، پھر مجھ پر متوجہ ہوئے اور کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک قیامت کے روز وضو کے آثار کی وجہ سے میری امت کی پیشانیاں اور ہاتھ پاؤں چمکتے ہوں گے، اس لیے تم میں سے جو آدمی اپنی سفیدی کو لمبا کرنا چاہتا ہے، وہ کرے۔ نعیم نے کہا: مجھے یہ علم نہ ہو سکا کہ اس لیے تم میں سے جو آدمی اپنی سفیدی کو لمبا کرنا چاہتا ہے، وہ کرے۔ کے الفاظ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ہیں یا سیدنا ابو ہریرہؓ کے۔
Musnad Ahmad
734
۔ (۷۳۴)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ (الْأَسْلَمِیِّ) عَن أَبِیْہِ، أَنَّ النَّجَاشِیَّ أَہْدٰی اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خُفَّیْنِ أَسْوَدَیْنِ سَاذَجَیْنِ فَلَبِسَہُمَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَیْہِمَا۔ (مسند أحمد: ۲۳۳۶۹)
سیدنا بریدہ اسلمیؓ سے مروی ہے کہ نجاشی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو کالے رنگ کے دو سادے موزے بطورِ تحفہ بھیجے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وہ پہنے اور وضوکرتے وقت ان پر مسح کیا۔