۔ (۸۴۹۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا حُوِّلَتِ الْقِبْلَۃُ، قَالَ اُنَاسٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَصْحَابُنَا الَّذِیْنَ مَاتُوْا وَھُمْ یُصَلُّوْنَ اِلٰی بَیْتِ الْمَقْدِسِ، فَاَنْزَلَ اللّٰہُ: {وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ}۔ (مسند احمد: ۲۷۷۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں جب قبلہ تبدیل ہوا تو بعض لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے وہ ساتھی جو بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے اور پھر اسی حالت میں فوت ہو گئے، ان کا کیا بنے گا؟اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ} … اللہ تعالیٰ تمہاری نمازیں ضائع کرنے والا نہیں ہے۔
Takhreej
(۸۴۹۲) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۶۸۰، والترمذی: ۲۹۶۴ (انظر: ۲۷۷۵)
Explanation
فوائد:… جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو سولہ سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرح رخ کر کے نماز پڑھتے تھے، درآں حالیکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش یہ تھی کہ خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی جائے، بالآخر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ خواہش پوری ہوئی تو بعض صحابہ کے ذہن میں یہ اشکال پیدا ہوا کہ اس سے پہلے والی نمازیں ضائع ہو جائیں گییا ان کا ثواب نہیں ملے گا، اللہ تعالی نے وضاحت کی کہ نمازیں ضائع نہیں ہوں گی، کیونکہ وہ بھی اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق تھیں۔ اس آیت میں نماز کو ایمان سے تعبیر کیا گیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ نماز کے بغیر ایمان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
8492
Sahih