۔ (۸۶۵۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِمَکَّۃَ ثُمَّ اُمِرَ بِالْہِجْرَۃِ وَاَنْزَلَ عَلَیْہِ: {وَقُلْ رَبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَاَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَل لِّیْ مِن لَّدُنْکَ سُلْطَانًا نَصِیْرًا} [الاسرائ: ۸۰]۔ (مسند احمد: ۱۹۴۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں تھے، پھر آپ کو ہجرت کا حکم ہوا اور اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ حکم نازل فرمایا: {وَقُلْ رَبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَاَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَل لِّیْ مِن لَّدُنْکَ سُلْطَانًا نَصِیْرًا}… اور کہہ اے میرے رب! داخل کر مجھے سچا داخل کرنا اور نکال مجھے سچا نکالنا اور میرے لیے اپنی طرف سے ایسا غلبہ بنا جو مددگار ہو۔
Takhreej
(۸۶۵۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف قابوس ۔ أخرجہ الترمذی: ۳۱۳۹ (انظر: ۱۹۴۸)
Explanation
فوائد:… اس آیت کے بارے میں درج ذیل تین اقوال ہیں:
(۱) یہ آیت ہجرت کے موقع پر نازل ہوئی، جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مدینے میں داخل ہونے اور مکے سے نکلنے کا مسئلہ درپیش تھا۔
(۲) اس میں یہ دعا کی جا رہی ہے کہ سچائی کے ساتھ موت ملے اور سچائی کے ساتھ قیامت والے دن اٹھایا جائے۔
(۳) یہ دعا کی جا رہی ہے کہ قبر میں سچا داخل کیا جائے اور قیامت کے دن جب قبر سے اٹھایا جائے تو سچائی کے ساتھ نکالا جائے۔
امام شوکانی کہتے ہیں کہ چونکہ یہ دعا ہے، اس لیے اس کے عموم میں یہ سب باتیں آ جاتی ہیں۔
8657
Zaeef