۔ (۸۷۷۴)۔ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ أَ سْمَائَ بِنْتِ أَ بِی بَکْرٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَہُوَ یَقْرَأُ، وَہُوَ یُصَلِّی نَحْوَ الرُّکْنِ قَبْلَ أَ نْ یَصْدَعَ بِمَا یُؤْمَرُ، وَالْمُشْرِکُونَ یَسْتَمِعُونَ: {فَبِأَ یِّ آلَائِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ}۔ (مسند احمد: ۲۷۴۹۵)
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجر اسود کی جانب رخ کر کے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس نماز میں اس آیت کی تلاوت کر رہے تھے: {فَبِأَ یِّ آلَائِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ} اور مشرک غور سے سن رہے تھے، جبکہ ابھی تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو واضح طور پر تبلیغ کا حکم نہیں ہوا تھا۔
Takhreej
(۸۷۷۴) تخریج: اسنادہ ضعیف،یحیی بن اسحاق، وان کان من قدماء اصحاب ابن لھیعۃ، الا ان ابن لھیعۃ انفرد بہ، وھو ممن لایحتمل تفردہ ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۴/ ۲۳۱ (انظر: ۲۶۹۵۵)
8774
Zaeef