TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان - بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان - مِنَ الْاَجْرِ الْعَظِیْمِ وَالْفَضْلِ الْجَسِیْمِ اجرِ عظیم اور فضل کثیر کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 9 of مِنَ الْاَجْرِ الْعَظِیْمِ وَالْفَضْلِ الْجَسِیْمِ اجرِ عظیم اور فضل کثیر کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 9 of 12 · 26 Hadith
۔ (۹۳۹۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: مَالِعَبْدِیْ الْمُؤْمِنِ عِنْدِیْ جَزَائٌ اِذَا قَبَضْتُ صَفِیَّہُ مِنْ اَھْلِ الدُّنْیَا، ثُمَّ احْتَسَبَہُ اِلاَّ الْجَنَّۃُ۔)) (مسند احمد: ۹۳۸۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جب میں اپنے بندے کی پسندیدہ چیز لے لیتا ہوں اور وہ ثواب کی نیت سے صبر کرتا ہے تو اس کو بطورِ عوض دینے کے لیے میرے پاس صرف جنت ہوتی ہے۔
Takhreej
(۹۳۹۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۴۲۴ (انظر: ۹۳۹۳)
9392
Sahih
۔ (۹۳۹۳)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ مَاتَ لَہُ ثَلاثَۃٌ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: مِنَ الْوَلَدِ) لَمْ یَبْلُغُوْا الْحِنْثَ لَمْ تَمَسَّہُ النَّارُ، اِلَّا تَحِلَّۃَ الْقَسَمِ۔)) یَعْنِی الْوُرُوْدَ۔ (مسند احمد: ۷۷۰۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں تو اس کو آگ نہیں چھوئے گی، سوائے قسم کے پورا کرنے کے۔ قسم کے پورا کرنے سے مراد وہاں سے گزرنا ہے۔
Takhreej
(۹۳۹۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۳۲(انظر: ۷۷۲۱)
Explanation
فوائد:… قسم کے پورا ہونے سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: {وَ إِنْ مِنْکُمْ إِلاَّ وَارِدُھَا کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا۔}… تم میں سے ہر ایک وہاں ضرور وارد ہونے والا ہے، یہ تیرے پروردگار کے ذمے قطعی، فیصل شدہ امر ہے۔ (سورۂ مریم: ۷۱) اس کی تفسیر صحیح احادیث میں اس طرح بیان کی گئی ہے کہ جہنم کے اوپر ایک پل بنایا جائے گا، جس سے ہر مومن اور کافر کو گزرنا ہو گا، بعض مومن جلد یا بہ دیر گزر جائیں گے، بعض جہنم میں گر جائیں گے، پھر ان کو شفاعت کے ذریعےیا جرم کی سزا بھگتنے کے بعد نکال لیا جائے گا اور کافر اور مشرک اس پل سے نہیں گزر پائیں گے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں گر جائیں گے۔
9393
Sahih
۔ (۹۳۹۴)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: جَائَ نِسْوَۃٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْنَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا نَقْدِرُ عَلَیْکَ فِیْ مَجْلِسِکَ مِنَ الرِّجَالِ، فَوَاعِدْنَا مِنْکَ یَوْمًا نَاْتِیْکَ فِیْہِ، قَالَ: ((مَوْعِدُکُنَّ بَیْتُ فُـلَانٍ۔)) وَاَتَاھُنَّ فِیْ ذٰلِکَ الْیَوْمِ، وَلِذٰلِکَ الْمَوْعِدِ، قَالَ: فَکاَنَ مِمَّا قَالَ لَھُنَّ، یَعْنِیْ: ((مَا مِنْ اِمْرَاَۃٍ تُقَدِّمُ ثَلاثًا مِنَ الْوَلَدِ تَحْتَسِبُھُنَّ اِلَّا دَخَلَتِ الْجَنَّۃَ۔)) فَقَالَتِ امْرَاَۃٌ: اَوِ اثْنَانِ؟ قَالَ: ((اَوِ اثْنَانِ۔)) (مسند احمد: ۷۳۵۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ کچھ خواتین، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئیں اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب آپ مردوں کی مجلس میں تشریف رکھتے ہیں تو ہم آپ کے پاس نہیں آ سکتے، اس لیے آپ ہمارے لیے ایک دن کا تعین کر دیں، ہم اس میں آپ کے پاس آ جائیں گی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا وعدہ فلاں کا گھر ہے۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وعدے کے مطابق اس گھر میں تشریف لے آئے اور خواتین کو جو باتیں ارشاد فرمائیں، ان میں یہ فرمان بھی تھا: جو عورت تین بچوں کو آگے بھیج دیتی ہے اور پھر ثواب کی نیت سے صبر کرتی ہے، تو وہ جنت میں داخل ہو گی۔ ایک خاتون نے کہا: اگر دو بچے ہوں تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ د وہوں۔
Takhreej
(۹۳۹۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۳۲(انظر: ۷۳۵۷)
9394
Sahih
۔ (۹۳۹۵)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ وَفِیْہِ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَھُنَّ: ((مَا مِنْکُنَّ امْرَاَۃٌیَمُوْتُ لَھَا ثَلاثَۃٌ مِّنَ الْوَلَدِ اِلَّا کَانُوْا لَھَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ۔)) فَقَالَتِ امْرَاَۃٌ: الخ (مسند احمد: ۱۱۳۱۶)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: تم میں سے جس خاتون کے تین بچے فوت ہو جاتے ہیں تو وہ اس کے لیے آگ سے پردہ ثابت ہوں گے۔ پس ایک عورت نے کہا: …۔
Takhreej
(۹۳۹۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۰۲، ومسلم: ۲۶۳۳ (انظر: ۱۱۲۹۶)
9395
Sahih
۔ (۹۳۹۶)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ مَاتَ لَہْ ثَلاثَۃٌ مِّنَ الْوَلَدِ فَاحْتَسَبَھُمْ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) قَالَ: قُلْنَا: یَا َرسُوْلَ اللّٰہِ! وَاثْنَانِ؟ قَالَ: ((اثْنَانِ۔)) قَالَ مَحْمُوْدٌ: فَقُلْتُ لِجَابِرٍ: اَرَاکُمْ لَوْ قُلْتُمْ: وَوَاحِدًا لَقَالَ: وَوَاحِدًا قَالَ: وَاَنَا وَاللّٰہِ! اَظُنُّ ذٰلِکَ ۔(مسند احمد: ۱۴۳۳۶)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کے تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ ثواب کی نیت سے صبر کرے تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر دو بچے ہوں تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں۔ محمود راوی کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: میرا خیال ہے کہ اگر تم ایک بچے کے بارے میں سوال کرتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرما دینا تھا کہ اگرچہ ایک بھی ہو انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میرا گمان بھییہی ہے۔
Takhreej
(۹۳۹۶) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن حبان: ۲۹۴۶(انظر: ۱۴۲۸۵)
9396
Sahih
۔ (۹۳۹۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌،قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُسْلِمَیْنِیَمُوْتُ لَھُمَا ثَـلَاثَۃٌ مِّنَ الْوَلَدِ، لَمْ یَبْلُغُوْا الْحِنْثَ، اِلاَّ کَانُوْا لَہُ حِصْنًا حَصِیْنًا مِنَ النَّارِ۔)) فَقِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَاِنْ کَانَا اثْنَیْنِ؟ قَالَ: ((وَاِنْ کَانَا اثْنَیْنِ۔))، فَقَالَ اَبُوْذَرٍّ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَمْ اُقَدِّمْ اِلاَّ اثْنَیْنِ؟ قَالَ: ((وَاِنْ کَانَا اثْنَیْنِ۔)) قَالَ: فَقَالَ اُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ اَبُوْ الْمُنْذِرِ سَیِّدُ الْقُرَّائِ: لَمْ اُقَدِّمْ اِلاَّ وَاحِدًا؟ قَالَ: فَقِیْلَ لَہُ: وَاِنْ کَانَ وَاحِدًا، فَقَالَ: ((اِنَّمَا ذَاکَ عِنْدَ الصَّدْمَۃِ الْاُوْلٰی۔)) (مسند احمد: ۳۵۵۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان میاں بیوی کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں تو وہ ان کے لیے جہنم سے مضبوط قلعہ ہوں گے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر دو بچے ہوں تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے تو صرف دو ہی بھیجے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں۔ سید القراء ابو المنذر سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میرا تو صرف ایک بچہ فوت ہوا ہے؟ ان کوجواباً کہا گیا: اگرچہ ایک بچہ ہو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اجر صرف اس وقت ملتا ہے، جب صدمہ کے شروع میں صبر کیا جائے۔
Takhreej
(۹۳۹۷) تخریج: اسنادہ ضعیف بھذہ السیاقۃ، فیہ ضعف وانقطاع، محمد بن ابی محمد لایعرف، وابوعبیدۃ بن عبد اللہ لم یسمع من ابیہ عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، أخرجہ الترمذی: ۱۰۶۱، وابن ماجہ: ۱۶۰۶(انظر: ۳۵۵۴)
Explanation
فوائد:… جونہی آدمی غم والی خبر سنتا ہے، اسی وقت سے یہ حکم جاری ہوتا ہے کہ وہ صبر کرے، نوحہ نہ کرے اور اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والی کوئی بات نہ کہے۔
9397
Zaeef
۔ (۹۳۹۸)۔ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، ثَنَا حَفْصُ بْنُ غَیَاثِ بْنِ طَلْقٍ بْنِ مُعَاوِیَۃَ النَّخْعِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ طَلْقَ بْنَ مُعَاوِیَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَازُرْعَۃَ،یُحَدِّثُ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ امْرَاَۃً اَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِصَبِیٍّ لَھَا فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ادْعُ اللّٰہَ لَہُ، فَقَدْ دَفَنْتُ ثَـلَاثَۃً، فَقَالَ: ((لَقَدِ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِیْدٍ مِّنَ النَّارِ۔)) قَالَ حَفْصٌ: سَمِعْتُ ھٰذَا الْحَدِیْثَ مِنْ سِتِّیْنَ سَنَۃً وَلَمْ اَبْلُغْ عَشَرَ سِنِیْنَ، وَسَمِعْتُ حَفْصًا یَذْکُرُ ھٰذَا الْکَلامَ سَنَۃَ سَبْعٍ وَثَمَانِیْنَ وَمِائَۃٍ۔ (مسند احمد: ۹۴۲۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت اپنا بچہ لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس بچے کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرما دو، پہلے تین بچوں کو دفن کر چکی ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو تو پھر آگ سے بڑی زبردست رکاوٹ بنا چکی ہے۔ حفص راوی کہتے ہیں: ساٹھ سال ہو گئے ہیں کہ میں نے یہ حدیث ِ مبارکہ سنی تھی، جبکہ اس وقت میری عمر دس برس بھی نہیں تھی۔ علی بن عبد اللہ راوی کہتے ہیں: میں نے ۲۸۷؁ھـمیں حفص کو یہ بات کرتے ہوئے سنا تھا۔
Takhreej
(۹۳۹۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۳۶(انظر: ۹۴۳۷)
9398
Sahih
۔ (۹۳۹۹)۔ عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا امْرَاَۃٌ کَانَتْ تَاْتِیْنَایُقَالُ لَھَا: مَاوِیَّۃُ کَانَتْ تُرْزَأُ فِیْ وَلَدِھَا، فَاَتَتْ عُبَیْدَ اللّٰہِ بْنِ مَعْمَرٍ الْقُرَشِیَّ وَمَعَہُ رَجُلٌ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَدَّثَ ذٰلِکَ الرَّجُلُ، اِنَّ امْرَاَۃً اَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاِبْنٍ لَھَا فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، ادْعُ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اَنْ یُبْقِیَہُُ لِیْ، فَقَدْ مَاتَ لِیْ قَبْلَہُ ثَـلَاثَۃٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَمُنْذُ اَسْلَمْتِ؟)) فَقَالَتْ: نَعَمْْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((جُنَّۃٌ حَصِیْنَۃٌ۔))، قَالَتْ مَاوِیَّۃُ: قَالَ لِیْ عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مَعْمَرٍ: اِسْمَعِیْیَامَاوِیَّۃُ! قَالَ مُحَمَّدٌ (یَعْنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ سِیْرِیْنَ): فَخَرَجْتْ(مَاوِیَّۃُ) مِنْ عِنْدَ ابْنِ مَعْمَرٍ فَاَتَتْنَا، فَحَدَّثَتْنَا ھٰذَا الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۶۴)
۔ محمد بن سیرین کہتے ہیں: ہمارے پاس ماویہ نامی ایک خاتون آتی تھی، اس کے بچے فوت ہو جاتے تھے، وہ عبید اللہ بن معمر قریشی کے پاس گئی، جبکہ ان کے پاس ایک صحابی ٔ رسول بھی بیٹھے ہوئے تھے، اس صحابی نے بیان کیا کہ ایک خاتون اپنا ایک بیٹا لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئی اور اس نے کہا:
Takhreej
(۹۳۹۹) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۲۰۷۸۳)
9399
Sahih
۔ (۹۴۰۰)۔ عَنِ ابْنِ سِیْرِیْنَ، عَنِ امْرَاَۃٍیُقَالُ لَھَا: رَجَائُ، قَالَتْ: کُنْتُ عَنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذْ جَائَ تْہُ امْرَاَۃٌ بِاِبْنٍ لَھَا فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ادْعُ لِیْ فِیْہِ بِالْبَرَکَۃِ، فَاِنَّہُ قَدْ تُوُفِّیَ لِیْ ثَلاثَۃٌ فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَمُنْذُ اَسْلَمْتًِ؟)) قَالَتْ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((جُنَّۃٌ حَصِیْنَۃٌ۔)) فَقَالَ لِیْ رَجُلٌ: اِسْمَعِیْیَارَجَائُ! مَایَقُوْلُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۶۳)
۔ اے اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کر دیں کہ وہ اس کو زندہ رکھے، اس سے پہلے میرے تین بچے فوت ہو چکے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب سے اسلام قبول کیا، اس وقت سے تین بچے فوت ہوئے ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تو (آگ سے بچنے کا) بڑا مستحکم ذریعۂ حفاظت ہے۔ ماویہ کہتی ہیں: مجھے عبیداللہ بن معمر نے کہا: اے ماویۃ بات اچھی طرح سن (اور اس پر عمل کرتے ہوئے صبر سے کام لے اور اللہ سے ڈرتی رہ) محمد بن سیرین کہتے ہیں: یہ عورت (ماویہ) ابن معمر کے پاس سے نکلی اور ہمارے پاس آئی اور ہمیں یہ حدیث بیان کی۔
Takhreej
(۹۴۰۰) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۴/۷۰۸(انظر: ۲۰۷۸۲)
9400
Sahih
۔ (۹۴۰۱)۔ عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ عَبْدِ السَّلَمِیِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ یَتَوَفّٰی لَہُ ثَلَاثَۃٌ مِّنَ الْوَلَدِ لَمْ یَبْلُغُوْا الْحِنْثَ اِلَّا تَلَقَّوْہُ مِنْ اَبْوَابِ
۔ سیدنا عتبہ بن عبد سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان آدمی کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں، وہ اس کو جنت کے آٹھوں دروازوں سے ملیں گے، وہ جس دروازے سے چاہے گا، داخل ہو گا۔
Takhreej
(۹۴۰۱) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۶۰۴(انظر: ۱۷۶۴۴)
9401
Sahih
۔ (۹۴۰۲)۔ عَنْ عَمْرٍو بْنِ عَبْسَۃَ السُّلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَیُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ قَدَّمَ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مِنْ صُلْبِہٖثَـلَاثَۃً لَمْ یَبْلُغُوْا الْحِنْثَ، اَوِ امْرَاۃٍ، فَھُمْ لَہُ سُتْرَۃٌ مِنَ النَّارِ۔))(مسند احمد: ۱۹۶۶۶)
۔ سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان مرد یا عورت نے اپنی نسل سے تین نابالغ بچے اللہ تعالیٰ کے لیے آگے بھیج دیئے تو وہ اس کے لیے آگ سے پردہ ثابت ہوں گے۔
Takhreej
(۹۴۰۲) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۱۹۴۳۹)
9402
Sahih
۔ (۹۴۰۳)۔ وَعَنْ اُمِّ سُلَیْمٍ بِنْتِ مِلْحَانَ وَھِیَ اُمُّ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ اَنَّھَا سَمِعَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: نَحْوُہُ۔ (مسند احمد: ۲۷۶۵۴)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ماں سیدہ ام سلیم بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس قسم کی حدیث سنی ہے۔
Takhreej
(۹۴۰۳) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۳۵۳، والطبرانی فی الکبیر : ۲۵/ ۳۰۶(انظر: ۲۷۱۱۳)
9403
Sahih
۔ (۹۴۰۴)۔ عَنْ اَبِیْ سِنَانٍ، قَالَ: دَفَنْتُ اِبْنًا لِیْ وَاِنِّیْ لَفِیْ الْقَبْرِ اِذَ اَخَذَ بِیَدِیْ اَبُوْ طَلْحَۃَ فَاَخْرَجَنِیْ، فَقَالَ: اَلا اُبَشِّرُکَ؟ قَالَ قُلْتُ: بَلٰی، قَالَ: حَدَّثَنِیْ الضِّحَاکُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَال اللّٰہُ تَعَالٰی: یَامَلَکَ الْمَوْتِ قَبَضْتَ وَلَدَ عَبْدِیْ؟، قَبَضْتَ قُرَّۃَ عَیْنِہِ، وَثَمَرَۃَ فُؤَادِہِ؟، قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَمَا قَالَ؟ قَالَ: حَمِدَکَ وَاسْتَرْجَعَ، قَالَ: ابْنُوْا لَہُ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ وَسَمُّوْہُ بَیْتَ الْحَمْدِ ۔)) (مسند احمد: ۱۹۹۶۳)
۔ ابو سنان کہتے ہیں: میں نے اپنا بیٹا دفن کیا اور ابھی تک میں قبر میں تھا کہ ابو طلحہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے قبر سے نکالا اور کہا: کیا میں تجھے خوشخبری دوں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، انھوں نے کہا: ضحاک بن عبد الرحمن نے سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ملک الموت! کیا تو نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کر لی ہے؟ کیا تو نے اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور اس کے دل کی محبت قبض کر لی ہے؟ وہ کہتا ہے: جی ہاں، اللہ تعالیٰ کہتا ہے: تو پھر میرے بندے نے کیا کہا؟ اس نے کہا: تیری تعریف بیان کی اور اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا، اللہ تعالیٰ نے کہا: تو پھر اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دو اور اس کا نام بَیْتُ الْحَمْد رکھو۔
Takhreej
(۹۴۰۴) تخریج: حسن، قالہ الالبانی، أخرجہ الترمذی: ۱۰۲۱(انظر: ۱۹۷۲۵)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ آزمائش والی خبر سنتے وقت یہ دعا پڑھنی چاہیے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ ابن حصبہ یا ابو حصبہ ایک ایسے صحابی سے بیان کرتے ہیں، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطاب کے وقت موجود تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ رَقُوْب (بے اولاد) کون ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جس کی اولاد نہیں ہوتی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ مکمل طور پر رَقُوْب ہے، وہ سارے کا سارا رَقُوْب ہے، بس وہی رَقُوْب ہے کہ جو اس حال میں مرتا ہے کہ اس کی اولاد تو ہوتی ہے، لیکن اس نے کوئی بچہ آگے نہیں بھیجا ہوتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا کیا تم یہ جانتے ہو کہ صُعْلُوْک (غریب و نادار) کون ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جس کے پاس مال نہیں ہوتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ مکمل طور پر صُعْلُوْک ہے، وہ سارے کا سارا صُعْلُوْک ہے، بس وہی صُعْلُوْک ہے، جو مالدار ہونے کے باوجود اس حال میں مر جاتا ہے کہ اس نے کوئی مال آگے نہیں بھیجا ہوتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیاتم جانتے ہو کہ بڑا پہلوان کون ہے؟ انھوں نے کہا: پچھاڑنے والا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سارے کا سارے پہلوان، بڑے سے بڑاپہلوان وہ آدمی ہے جسے غصہ آتا ہے، پھر اس کا غصہ سخت ہو جاتا ہے، چہرہ سرخ ہونے لگتا ہے اور رونگٹے کھڑے ہونے لگتے ہیں، لیکن وہ اپنے غصے پر قابو پا لیتا ہے۔
9404
Sahih
۔ (۹۴۰۵)۔ عَنِ ابْنِ حَصْبَۃَ اَوْ اَبِْی حَصْبَۃَ، عَنْ رَجُلٍ شَھِدَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ، فَقَالَ: ((تَدْرُوْنَ مَا الرَّقُوْبُ؟)) قَالُوْا: الَّذِیْ لا وَلَدَ لَہُ، فَقَالَ: ((الرَّقُوْبُ کُلُّ الرَّقُوْبِ، الرَّقُوْبُ کُلُّ الرَّقُوْبِ، الرَّقُوْبُ کُلُّ الرَّقُوْبِ، الَّذِیْ لَہُ وَلَدٌ فَمَاتَ وَلَمْ یُقَدِّمْ مِنْھُمْ شَیْئًا۔)) قَالَ: ((اَتَدْرُوْنَ مَاالصُّعْلُوْکُ؟)) قَالُوْا: الَّذِیْ لَیْسَ لَہُ مَالٌ، قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الصُّعْلُوْکُ کُلُّ الصُّعْلُوْکِ، الصُّعْلُوْکُ کُلُّ الصُّعْلُوْکِ، الَّذِیْ لَہُ مَالٌ فَمَاتَ وَلَمْ یُقَدِّمْ مِنْہُ شَیْئًا۔))، قَالَ: ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَاالصُّرَعَۃُ؟)) قَالَ: قَالُوْا: الصَّرِیْعُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلصُّرَعَۃُ کُلُّ الصُّرَعَۃِ، الصُّرَعَۃُ کُلُّ الصُّرْعَۃِ، الرَّجُلُ یَغْضِبُ، فَیَشْتَدُّ غَضَبُہُ، یَحْمَرُّ وَجَھُہُ، وَیَقْشَعِرُّ شَعْرُہُ، فَیَصْرَعُ غَضَبَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۰۳)
۔ ابن حصبہ یا ابو حصبہ ایک ایسے صحابی سے بیان کرتے ہیں، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطاب کے وقت موجود تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ رَقُوْب (بے اولاد) کون ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جس کی اولاد نہیں ہوتی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ مکمل طور پر رَقُوْب ہے، وہ سارے کا سارا رَقُوْب ہے، بس وہی رَقُوْب ہے کہ جو اس حال میں مرتا ہے کہ اس کی اولاد تو ہوتی ہے، لیکن اس نے کوئی بچہ آگے نہیں بھیجا ہوتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا کیا تم یہ جانتے ہو کہ صُعْلُوْک (غریب و نادار) کون ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جس کے پاس مال نہیں ہوتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ مکمل طور پر صُعْلُوْک ہے، وہ سارے کا سارا صُعْلُوْک ہے، بس وہی صُعْلُوْک ہے، جو مالدار ہونے کے باوجود اس حال میں مر جاتا ہے کہ اس نے کوئی مال آگے نہیں بھیجا ہوتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیاتم جانتے ہو کہ بڑا پہلوان کون ہے؟ انھوں نے کہا: پچھاڑنے والا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سارے کا سارے پہلوان، بڑے سے بڑاپہلوان وہ آدمی ہے جسے غصہ آتا ہے، پھر اس کا غصہ سخت ہو جاتا ہے، چہرہ سرخ ہونے لگتا ہے اور رونگٹے کھڑے ہونے لگتے ہیں، لیکن وہ اپنے غصے پر قابو پا لیتا ہے۔
Takhreej
(۹۴۰۵) تخریج: صحیح لغیرہ، دون قصۃ الصعلوک، وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ ابی حصبۃ او ابن حصبۃ، أخرجہ البیھقی فی الشعب : ۳۳۴۱ (انظر: ۲۳۱۱۵)
9405
Sahih
۔ (۹۴۰۶)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَا تَعُدُّوْنَ فِیْکُمُ الرَّقُوْبَ؟)) قَالَ: قُلْنَا الَّذِیْ لا وَلَدَ لَہُ، قَالَ: ((لا وَلٰکِنَّ الرَّقُوْبَ الَّذِیْ لَمْ یُقَدِّمْ مِنْ وَلَدِہِ شَیْئًا۔)) (مسند احمد: ۳۶۲۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنے اندر کس کو رَقُوْب (بے اولاد) شمار کرتے ہو؟ ہم نے کہا: جس کی اولاد نہیں ہوتی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، رَقُوْب تو وہ ہوتا ہے، جس نے کوئی نابالغ بچہ آگے نہیں بھیجا ہوتا۔
Takhreej
(۹۴۰۶) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ مسلم: ۲۶۰۸ (انظر: ۳۶۲۶)
9406
Sahih
۔ (۹۴۰۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ کَانَ لَہُ فَرَطَانِ مِنْ اُمَّتِیْ، دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔))، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: بِاَبِیْ، فَمَنْ کَانَ لَہُ فَرَطٌ؟ فَقَالَ: ((وَمَنْ کَانَ لَہُ فَرَطٌ یَا مُوَفَّقَۃُ!)) قَالَتْ: فَمَنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ فَرَطٌ مِنْ اُمَّتِکَ؟ قَالَ: ((فَاَنَا فَرَطُ اُمَّتِیْ، لَمْ یُصَابُوْا بِمِثْلِیْ۔)) (مسند احمد: ۳۰۹۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے جس شخص کے دو پیش رو ہوں گے، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میرے باپ کی قسم! جس کا ایک پیش رو ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ جس کا ایک پیش رو ہو گا، اے توفیق دی ہوئی خاتون! پھر سیدہ نے کہا: آپ کی امت میں سے جس کا کوئی پیش رو نہیں ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس میں اپنی امت کے لیے پیش رو ہوں گا، میری امت کو میری جیسی تکلیف نہیں پہنچی۔
Takhreej
(۹۴۰۷) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الترمذی: ۱۰۶۲ (انظر: ۳۰۹۸)
9407
Sahih
۔ (۹۴۰۸)۔ عَنْ مُعَاذٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَا مِنْ مُسْلِمَیْنِیُتَوَفّٰی لَھُمَا ثَلاثَۃٌ اِلَّا اَدْخَلَھُمَا اللّٰہُ الْجَنَّۃَ بِفَضْلِ رَحْمَتِہِ اِیَّاھُمَا۔))، فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَوِاثْنَانِ؟ قَالَ: ((اَوِ اثْنَانِ۔))، قَالُوْا: اَوْ وَاحِدٌ؟ قَالَ: ((اَوْ وَاحِدٌ۔)) ثُمَّ قاَلَ: ((وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَِدِہِ، اِنَّ السِّقْطَ لَیَجُرُّ اُمَّہُ بِسَرَرِہِ اِلَی الْجَنَّۃِ اِذَا احْتَسَبَتْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۴۰)
۔ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان میاں بیوی کے تین بچے فوت ہوگئے تو اللہ تعالیٰ ان پر بہت زیادہ رحمت کرنے کی وجہ سے ان کو جنت میں داخل کرے گا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر دو بچے ہوں تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں۔ لوگوں نے پھر کہا: اگر ایک ہو تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ ایک ہو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بیشک ناتمام بچہ ناف کے کٹے ہوئے حصے سے اپنے ماں کو کھینچ کر جنت کی طرف لے جائے گا، بشرطیکہ وہ اس پر ثواب کی نیت سے صبر کرے۔
Takhreej
(۹۴۰۸) تخریج: صحیح لغیرہ دون قصۃ السقط فی آخرہ، وھذا اسناد ضعیف لضعف یحییٰ التیمی، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۶۰۹ (انظر: ۲۲۰۹۰)
9408
Sahih
۔ (۹۴۰۹)۔ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ اُقَیْشٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُسْلِمَیْنِ یَمُوْتُ لَھُمَا اَرْبَعَۃُ اَوْلادٍ، اِلاَّ اَدْخَلَھُمَا اللّٰہُ الْجَنَّۃَ۔)) قَالُوْا: یَارَسْوُلَ اللّٰہِ! وَثَـلَاثَۃٌ؟ قَالَ: ((وَثَـلَاثَۃٌ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَاثْنَانِ قَالَ: ((وَاثْنَانِ، وَاِنَّ مِنْ اُمَّتِیْ لَمَنْ یَعْظُمُ لِلنَّارِ حَتّٰییَکُوْنَ اَحَدَ زَوَایَاھَا، وَاِنَّ مِنْ اُمَّتِیْ لَمَنْ یَدْخُلُ بِشَفَاعَتِہِ الْجَنَّۃَ اَکْثَرُ مِنْ مُضَرَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۰۴۱)
۔ سیدنا حارث بن اُقیش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان میاں بیوی کے چار بچے فوت ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں داخل کرے گا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر تین ہوں تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ تین ہوں۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر د وہوں تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں، اور بیشک میرے امت میں ایسے افراد بھی ہیں کہ ان کو آگ کے لیے اتنا بڑا کر دیا جائے گا کہ وہ اس کا ایک کونہ بن جائیں گے اور میری امت میں ایسے افراد بھی ہیں کہ جن کی سفارش سے مضر قبیلے کے افراد سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔
Takhreej
(۹۴۰۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ عبد اللہ بن قیس، أخرجہ مختصرا ابن ماجہ: ۴۳۲۳(انظر: ۲۲۶۶۵)
Explanation
فوائد:… یہ بات درست ہے کہ بعض جہنمیوں کے جسم بڑے بنا دیئے جائیں گے، جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((ضِرْسُ الْکَافِرِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِثْلُ أُحُدٍ وَعَرْضُ جِلْدِہِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا وَفَخِذُہُ مِثْلُ وَرِقَانَ وَمَقْعَدُہُ مِنْ النَّارِ مِثْلُ مَا بَیْنِی وَبَیْنَ الرَّبَذَۃِ۔)) … قیامت کے دن کافر کی داڑھ احد پہاڑ جتنی ہو جائے گی، اس کی جلد ستر ہاتھ موٹی ہو جائے گی، اس کی ران ورقان پہاڑ جتنی ہو جائے گی اور آگ میں اس کے بیٹھنے کی جگہ اتنی ہو گی، جتنا میں (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اور ربذہ گاؤں کے درمیان فاصلہ ہے۔ (مسند احمد: ۲/ ۳۲۸، رقم: ۸۳۴۵) جسم کوبڑا کرنے کا مقصد یہ ہو گا کہ وہ عذاب کو زیادہ محسوس کریں۔ اَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنَ النَّارِ۔
9409
Zaeef
۔ (۹۴۱۰)۔ عَنْ اَبِیْ ثَعْلَبَۃَ الْاَشْجَعِیِّ، قَالَ: قُلْتُ: مَاتَ لِیْیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَلَدَانِ فِی الْاِسْلامِ، فَقَالَ: ((مَنْ مَاتَ لَہُ وَلَدَانِ فِی الْاِسْلامِ اَدْخَلَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ الْجَنَّۃَ بِفَضْلِ رَحْمَتِہِ اِیَّاھُمَا۔)) فَلَمَّا کَانَ بَعْدَ ذٰلِکَ لَقِیَنِیْ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: فَقَالَ: اَنْتَ الَّذِیْ قَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ فِی الْوَلَدَیْنِ مَا قَالَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَقَالَ: لَاَنْ یَکُوْنَ قَالَہُ لَہُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا غُلِّقَتْ عَلَیْہِ حِمْصُ وَفِلَسْطِیْنُ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۶۲)
۔ سیدنا ابو ثعلبہ اشجعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے دو بچے اسلام میں فوت ہو چکے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص کے دو بچے اسلام میں فوت ہو جائیں، اللہ تعالیٰ ان بچوں پر رحمت کرنے کی وجہ سے اس شخص کو بھی جنت میں داخل کر دے گا۔ بعد میں جب سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مجھے ملے تو انھوں نے مجھ سے کہا: تم وہ آدمی ہو، جن کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے والدین کے بارے میں خوشخبری سنائی تھی؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ بات میرے لیے فرماتے تو یہ بات مجھے ان چیزوں سے زیادہ پسند ہوتی، جن پر حمص اور فلسطین کو بند کیا گیا۔
Takhreej
(۹۴۱۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ عمر بن نبھان، أخرجہ الطبرانی: ۲۲/ ۶۰۱ (انظر: ۲۷۲۲۰)
Explanation
فوائد:… حمص اور فلسطین اور ان کے خزانوں کامالک بننا مراد ہے۔
9410
Zaeef
۔ (۹۴۱۱)۔ عَنْ صَعْصَعَۃَ بْنِ مُعَاوِیَۃَ، قَالَ: اَتَیْتُ اَبَاذَرٍّ قُلْتُ: مَابَالُکَ؟ قَالَ: لِیْ عَمَلِیْ، قُلْتُ: حَدِّثْنِیْ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُسْلِمَیْنِیَمُوْتُ بَیْنَھُمَا ثَلاثَۃٌ مِّنْ اَوْلادِھِمَا، لَمْ یَبْلُغُوْا الْحِنْثَ اِلَّا غَفَرَ اللّٰہُ لَھُمَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۶۷)
۔ صعصعہ بن معاویہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور کہا: تمہارا کیا حال ہے؟ انھوں نے کہا: میرے لیے میرا کام ہے، میں نے کہا: مجھے کوئی حدیث بیان کرو، انھوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان میاں بیوی کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا۔
Takhreej
(۹۴۱۱) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ النسائی: ۴/ ۲۴، ۶/ ۴۸ (انظر: ۲۱۳۴۱)
9411
Sahih

Chapters

12
01
اس چیز کا بیان کہ انبیاء سب سے زیادہ آزمائش والے ہوتے اور پھر دوسرے نیکوکار
14 Hadith
02
ناپسندیدہ امور پر مطلق طور پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
03
مطلق طور پر ہر بیماری پر صبر کرنے کی ترغیب، اگرچہ وہ انسان کے کسی عضو میں ہو اور اس کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
04
بخار اور درد سر پر صبر کرنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
05
مرگی کی بیماری پر صبر کرنے کی ترغیب کرنے اور اس کے ثواب کا بیان
2 Hadith
06
آنکھوں سے محروم ہو جانے پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
6 Hadith
07
اس چیز کا بیان کہ جس آدمی کو بیماری نیک عمل کرنے سے روک دے، اس کے لیے اس عمل کا ثواب لکھا جاتا ہے
4 Hadith
08
جس کو دنیا میں آزمایا نہیں گیا، اس کے غیر مقبول ہونے کا بیان
2 Hadith
09
بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
26 Hadith
10
سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا اپنے خاوند سیدنا ابو طلحہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ اس وقت کے قصے کا بیان، جب ان کا بیٹا فوت ہوا تھا
2 Hadith
11
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان بیشک صدمہ کی ابتداء میں صبر ہوتا ہے کا بیان
1 Hadith
12
مصیبت میں مبتلاہونے والے کی دعا کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.