TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان - بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان - مِنَ الْاَجْرِ الْعَظِیْمِ وَالْفَضْلِ الْجَسِیْمِ اجرِ عظیم اور فضل کثیر کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 9 of مِنَ الْاَجْرِ الْعَظِیْمِ وَالْفَضْلِ الْجَسِیْمِ اجرِ عظیم اور فضل کثیر کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 9 of 12 · 26 Hadith
۔ (۹۴۱۲)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَدَّمَ ثَـلَاثَۃً مِّنْ وَلَدِہِ حَجَبُوْہُ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۲۲)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے تین بچے آگے بھیج دیئے، وہ اس کے لیے جہنم سے رکاوٹ بن جائیں گے۔
Takhreej
(۹۴۱۲) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۱۱۱۰۶)
9412
Sahih
۔ (۹۴۱۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُسْلِمَیْنِیَمُوْتُ لَھُمَا ثَلاثَۃُ اَوْلَادٍ لَمْ یَبْلُغُوْا الْحِنْثَ، اِلاَّ اَدْخَلَھُمَا اللّٰہُ وَاِیَّاھُمْ بِفَضْلِ رَحْمَتِہِ الْجَنَّۃَ، وَقَالَ: یُقَالُ لَھُمْ: اُدْخُلُوْا الْجَنَّۃَ، قَالَ: فَیَقُوْلُوْنَ حَتّٰییَجِیْئَ اَبَوَانَا، قَالَ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، فَیَقُوْلُوْنَ مِثْلَ ذٰلِکَ، فَیُقَالُ لَھُمْ: اُدْخُلُوْا الْجَنَّۃَ اَنْتُمْ وَاَبَوَاکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۳۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان میاں بیوی کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ اپنی بڑی رحمت سے ان کو ان کے بچوں سمیت جنت میں داخل کر دے گا، جب ان بچوں سے کہا جائے گا کہ جنت میں داخل ہو جاؤ، وہ کہیں گے: ہمارے والدین آ لیں، (پھر داخل ہوں گے)، تین مرتبہ ان سے یہ بات کہی جائے گی، وہ یہی جواب دیں گے، بالآخر ان سے کہا جائے گا: تم بھی اور تمہارے والدین بھی، سب جنت میں داخل ہو جاؤ۔
Takhreej
(۹۴۱۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ النسائی: ۴/ ۲۵ (انظر: ۱۰۶۲۲)
9413
Sahih
۔ (۹۴۱۴)۔ عَنْ اَبِیْ حَسَّانَ، قَالَ: تُوُفِّیَ ابْنَانِ لِیْ فَقُلْتُ لِاَبِیْ ھُرَیْرَۃَ: سَمِعْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدِیْثًا تُحَدِّثُنَاہُ یُطَیِّبُ بِاَنْفُسِنَا عَنْ مَوْتَانَا؟ قَالَ: نَعَمْ، ((صِغَارُھُمْ دَعَامِیْصُ الْجَنَّۃِیَلْقٰی اَحَدُھُمْ اَبَاہُ اَوْ قَالَ: اَبَوَیْہِ، فَیَاْخُذُ بِنَاحِیَۃِ ثَوْبِہٖاَوْیَدِہِ کَمَا آخُذُ بِصَنَفَۃِ ثَوْبِکَ ھٰذَا، فَلا یُفَارِقُہُ حَتَّییُدْخِلَہُ اللّٰہُ وَاَبَاہُ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۳۳۶)
۔ ابو حسان کہتے ہیں: میرے دو بیٹے فوت ہو گئے، پس میں نے سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی ایسی حدیث بیان کرو جو ہمارے نفسوں کو ہمارے مردوں کے بارے میں خوش کر دے، انھوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (مومنوں کے) چھوٹے بچے جنت کے کیڑے ہوں گے (یعنی بے روک ٹوک جنت میں آتے جاتے رہیں گے)۔ ایسا بچہ اپنے باپ یا اپنے والدین سے ملاقات کرے گا، اس کا ہاتھ پکڑ لے گا، جس طرح میں نے تیرے کپڑے کا کنارہ پکڑ لیا ہے، اور اسے نہیں چھوڑے گا، حتی کہ اللہ تعالیٰ اسے اور اس کے باپ دونوں کو جنت میں داخل کر دے گا۔
Takhreej
(۹۴۱۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۳۵(انظر: ۱۰۳۳۱)
9414
Sahih
۔ (۹۴۱۵)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّ رجلًا کَانَ یَاْتِیْ النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ومَعَہُ اِبْنٌ لَہُ فَقَالَ لَہُ: النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَتُحِبُّہُ؟)) فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَحَبَّکَ اللّٰہُ کَمَا اُحِبُّہُ، فَفَقَدَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مافَعَلَ ابْنُ فَـلَانٍ؟)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَاتَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِاَبِیْہِ: ((اَمَا تُحِبُّ اَنْ لَّا تَاْتِیَ بَابًا مِنْ اَبْوَابِ الْجَنِّۃِ اِلَّا وَجَدْتَہُ یَنْتَظِرُکَ؟)) فَقَالَ الرَّجُل: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلَہُ خَاصَّۃًاَوْ لِکُلِّنَا؟ قَالَ: ((بَلْ لِکُلِّکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۳۶)
۔ سیدنا قرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آتا تھا، جبکہ اس کا بچہ اس کے ساتھ ہوتا تھا، ایک دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تو اس سے محبت کرتا ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ آپ سے اس طرح محبت کرے، جیسے میں اس سے کرتا ہوں، پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو گم پایا اور پوچھا: فلاں کے بیٹے کا کیا بنا؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ تو فوت ہو گیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے باپ سے کہا: کیا تو یہ بات پسند نہیں کرتا کہ تو جنت کے جس دروازے پر آئے، اسی پر اپنے بچے کو انتظار کرتے ہوئے پائے؟ ایکآدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ اس شخص کے لیے خاص ہے، یا ہم سب کے لیے ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں،یہ تو تم سب کے لیے ہے۔
Takhreej
(۹۴۱۵) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ النسائی: ۴/ ۲۲، ۲۳(انظر: ۲۰۳۶۵)
Explanation
فوائد:… آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلے سوال کے جواب میں اس آدمی نے جو کچھ کہا، اس سے اس کا مقصود محبت کی شدت کو بیان کرنا تھا۔
9415
Sahih
۔ (۹۴۱۶)۔ عَنْ حَسَّانَ بْنِ کُرَیْبٍ، اَنَّ غُلَامًا مِنْھُمْ تُوُفِّیَ فَوَجَدَہُ عَلَیْہِ اَبَوَاہُ اَشَدَّ الْوَجْدِ، فَقَالَ حَوْشَبُ صَاحِبُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اَلَا اُخْبِرُکُمْ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: فِیْ مِثْلِ اِبْنِکَ اَنَّ رَجُلًا مِنْ اَصْحَابِہٖکَانَلَہُابْنٌقَدْاَدَّبَاَوْدَبَّوَکَانَیَاْتِیْ مَعَ اَبِیْہِ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ اِنَّ اِبْنَہُ تُوُفِّیَ فَوَجَدَہُ عَلَیْہِ اَبُوْہُ قَرِیْبًا مِنْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ لَایَاْتِیْ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا اَرٰی فُلَانًا؟)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ ابْنَہُ تُوُفِّیَ فَوَجَدَ عَلَیْہِ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا فُلَانُ! اَتُحِبُّ لَوْ اَنَّ ابْنَکَ عِنْدَکَ الْآنَ کَانْشَطِ الصِّبْیَانِ نَشَاطًا؟ اَتُحِبُّ اَنَّ ابْنَکَ عِنْدَکَ اَجْرَاُ الْغِلْمَانِ جَرَائَ ۃً؟ اَتُحِبُّ اَنَّ ابْنَکَ عِنْدَکَ کَھْلًا کَاَفْضَلِ الْکُھُوْلِ اَوْ یُقَالَ لَکَ: اُدْخُلِ الْجَنَّۃَ ثَوَابَ مَا اُخِذَ مِنْکَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۳۷)
۔ حسان بن کریب کہتے ہیں: ہم میں سے ایک بچہ فوت ہو گیا، اس کے والدین کو بہت زیادہ صدمہ ہوا، صحابی ٔ رسول سیدنا حوشب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا میں تم لوگوں کو وہ بات بیان کروں، جو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تیرے اس بیٹے کی طرح کے بیٹے کے حق میں بیان کرتے ہوئے سنی تھی، اس کی تفصیلیہ ہے کہ ایک صحابی کا بیٹا تھا، اس نے اس کو ادب سکھایا تھا، یا ابھی تک وہ زمین پر ہاتھ پیر مار کر گھسٹتا تھا، وہ بچہ اپنے باپ کے ساتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بھی آتا تھا، پھر ہوا یوں کہ وہ بچہ فوت ہو گیا اور اس کے باپ نے اس کی وجہ سے اتنا غم محسوس کیا کہ وہ چھ دن تک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بھی نہیں آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دن پوچھا: کیا وجہ ہے کہ فلاں آدمی نظر نہیں آتا؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا بچہ فوت ہو گیا ہے اور وہ اس کی وجہ سے پریشان ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے فلاں آدمی! اچھا بتا کہ کیا تو یہ چاہتا ہے کہ اب تیرا بچہ تیرے پاس ہوتا اور بچوں میں سب سے زیادہ پھرتیلا ہوتا؟ یا تو یہ چاہتا ہے کہ تیر ا بچہ سب بچوں سے زیادہ جرأت والا ہوتا؟ یا تو یہ پسند کرتا ہے کہ تیرا بچہ تیس سے پچاس برس کا بھرپور نوجوان ہو؟ یا تو یہ چاہتا ہے کہ کل قیامت والے دن تجھے کہا جائے: جو بچہ تجھ سے لے لیا گیا تھا، اس کے ثواب میں جنت میں داخل ہو جا؟
Takhreej
(۹۴۱۶) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابن لھیعۃ سییء الحفظ (انظر: ۱۵۸۴۳)
9416
Zaeef
۔ (۹۴۱۷)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِنْطَلَقَ حَارِثَۃُ بْنُ عَمَّتِیْیَوْمَ بَدْرٍ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غُلَامًا نَظَّارًا مَا انْطَلَقَ لِلْقِتَالِ، قَالَ: فَاَصَابَہُ سَھْمٌ فَقَتَلَہُ، قَالَ: فَجَائَ تْ اُمُّہُ عَمَّتِیْ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِبْنِیْ حَارِثَۃُ، اِنْ یَکُ فِی الْجَنَّۃِ اَصْبِرُ وَاَحْتَسِبُ، وَاِلَّا فَسَیَرَی اللّٰہُ مَا اَصْنَعُ قَالَ: ((یَا اُمَّ حَارِثَۃَ! اِنَّھَا جِنَانٌ کَثِیْرَۃٌ وَاِنَّ حَارِثَۃَ فِی الْفِرْدَوْسِ الْاَعْلٰی۔)) (مسند احمد: ۱۳۲۸۳)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میری پھوپھی کا بیٹا سیدنا حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بدر والے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چلا، یہ لڑکا لڑائی دیکھنے کے لیے گیا تھا، لڑنے کے لیے نہیں گیا تھا، لیکن اچانک اس کو تیر لگا اور اس کو قتل کر دیا، پس میری پھوپھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرا بیٹا حارثہ، اگر وہ جنت میں ہے تو میں ثواب کی نیت سے صبر کرتی ہوں، وگرنہ اللہ تعالیٰ دیکھے گا کہ میں کیا کرتی ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ام حارثہ! جنتیں تو بہت زیادہ ہیں اور بیشک حارثہ تو فردوسِ اعلی میں ہے۔
Takhreej
(۹۴۱۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۵۹۸ (انظر: ۱۳۲۵۰)
Explanation
فوائد:… اس خاتون کا مقصد رونا اور نوحہ کرنا تھا، جیسا کہ صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے: اِجْتَھَدْتُّ عَلَیْہِ فِیْ الْبُکَائِ۔ … میں اس پر رونے میں کوشش کروں گی۔ امام خطابی نے کہا: چونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس عورت کو اس کے دعوے پر برقرار رکھا، اس لیے اس حدیث سے اس طرح کے رونے کا جواز ملتا ہے، لیکن حافظ ابن حجر نے ان کا تعاقب کیا اور کہا کہ یہ واقعہ نوحہ کی حرمت سے پہلے کا ہے، کیونکہ غزوۂ احد کے بعد نوحہ کو حرام قرار دیا گیا تھا، جبکہ یہ واقعہ تو غزوۂ بدر کے بعد کا ہے۔
9417
Sahih

Chapters

12
01
اس چیز کا بیان کہ انبیاء سب سے زیادہ آزمائش والے ہوتے اور پھر دوسرے نیکوکار
14 Hadith
02
ناپسندیدہ امور پر مطلق طور پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
03
مطلق طور پر ہر بیماری پر صبر کرنے کی ترغیب، اگرچہ وہ انسان کے کسی عضو میں ہو اور اس کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
04
بخار اور درد سر پر صبر کرنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
05
مرگی کی بیماری پر صبر کرنے کی ترغیب کرنے اور اس کے ثواب کا بیان
2 Hadith
06
آنکھوں سے محروم ہو جانے پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
6 Hadith
07
اس چیز کا بیان کہ جس آدمی کو بیماری نیک عمل کرنے سے روک دے، اس کے لیے اس عمل کا ثواب لکھا جاتا ہے
4 Hadith
08
جس کو دنیا میں آزمایا نہیں گیا، اس کے غیر مقبول ہونے کا بیان
2 Hadith
09
بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
26 Hadith
10
سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا اپنے خاوند سیدنا ابو طلحہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ اس وقت کے قصے کا بیان، جب ان کا بیٹا فوت ہوا تھا
2 Hadith
11
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان بیشک صدمہ کی ابتداء میں صبر ہوتا ہے کا بیان
1 Hadith
12
مصیبت میں مبتلاہونے والے کی دعا کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.