TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مِنَ الْاَجْرِ الْعَظِیْمِ وَالْفَضْلِ الْجَسِیْمِ اجرِ عظیم اور فضل کثیر کے مسائل - مِنَ الْاَجْرِ الْعَظِیْمِ وَالْفَضْلِ الْجَسِیْمِ اجرِ عظیم اور فضل کثیر کے مسائل - Book 158 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 158 of Musnad Ahmad, with 12 chapters and 80 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

80 Hadith · 12 Chapters
بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
۔ (۹۴۰۴)۔ عَنْ اَبِیْ سِنَانٍ، قَالَ: دَفَنْتُ اِبْنًا لِیْ وَاِنِّیْ لَفِیْ الْقَبْرِ اِذَ اَخَذَ بِیَدِیْ اَبُوْ طَلْحَۃَ فَاَخْرَجَنِیْ، فَقَالَ: اَلا اُبَشِّرُکَ؟ قَالَ قُلْتُ: بَلٰی، قَالَ: حَدَّثَنِیْ الضِّحَاکُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَال اللّٰہُ تَعَالٰی: یَامَلَکَ الْمَوْتِ قَبَضْتَ وَلَدَ عَبْدِیْ؟، قَبَضْتَ قُرَّۃَ عَیْنِہِ، وَثَمَرَۃَ فُؤَادِہِ؟، قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَمَا قَالَ؟ قَالَ: حَمِدَکَ وَاسْتَرْجَعَ، قَالَ: ابْنُوْا لَہُ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ وَسَمُّوْہُ بَیْتَ الْحَمْدِ ۔)) (مسند احمد: ۱۹۹۶۳)
۔ ابو سنان کہتے ہیں: میں نے اپنا بیٹا دفن کیا اور ابھی تک میں قبر میں تھا کہ ابو طلحہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے قبر سے نکالا اور کہا: کیا میں تجھے خوشخبری دوں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، انھوں نے کہا: ضحاک بن عبد الرحمن نے سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ملک الموت! کیا تو نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کر لی ہے؟ کیا تو نے اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور اس کے دل کی محبت قبض کر لی ہے؟ وہ کہتا ہے: جی ہاں، اللہ تعالیٰ کہتا ہے: تو پھر میرے بندے نے کیا کہا؟ اس نے کہا: تیری تعریف بیان کی اور اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا، اللہ تعالیٰ نے کہا: تو پھر اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دو اور اس کا نام بَیْتُ الْحَمْد رکھو۔
Takhreej
(۹۴۰۴) تخریج: حسن، قالہ الالبانی، أخرجہ الترمذی: ۱۰۲۱(انظر: ۱۹۷۲۵)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ آزمائش والی خبر سنتے وقت یہ دعا پڑھنی چاہیے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ ابن حصبہ یا ابو حصبہ ایک ایسے صحابی سے بیان کرتے ہیں، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطاب کے وقت موجود تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ رَقُوْب (بے اولاد) کون ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جس کی اولاد نہیں ہوتی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ مکمل طور پر رَقُوْب ہے، وہ سارے کا سارا رَقُوْب ہے، بس وہی رَقُوْب ہے کہ جو اس حال میں مرتا ہے کہ اس کی اولاد تو ہوتی ہے، لیکن اس نے کوئی بچہ آگے نہیں بھیجا ہوتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا کیا تم یہ جانتے ہو کہ صُعْلُوْک (غریب و نادار) کون ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جس کے پاس مال نہیں ہوتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ مکمل طور پر صُعْلُوْک ہے، وہ سارے کا سارا صُعْلُوْک ہے، بس وہی صُعْلُوْک ہے، جو مالدار ہونے کے باوجود اس حال میں مر جاتا ہے کہ اس نے کوئی مال آگے نہیں بھیجا ہوتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیاتم جانتے ہو کہ بڑا پہلوان کون ہے؟ انھوں نے کہا: پچھاڑنے والا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سارے کا سارے پہلوان، بڑے سے بڑاپہلوان وہ آدمی ہے جسے غصہ آتا ہے، پھر اس کا غصہ سخت ہو جاتا ہے، چہرہ سرخ ہونے لگتا ہے اور رونگٹے کھڑے ہونے لگتے ہیں، لیکن وہ اپنے غصے پر قابو پا لیتا ہے۔
9404
Sahih
بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
۔ (۹۴۰۵)۔ عَنِ ابْنِ حَصْبَۃَ اَوْ اَبِْی حَصْبَۃَ، عَنْ رَجُلٍ شَھِدَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ، فَقَالَ: ((تَدْرُوْنَ مَا الرَّقُوْبُ؟)) قَالُوْا: الَّذِیْ لا وَلَدَ لَہُ، فَقَالَ: ((الرَّقُوْبُ کُلُّ الرَّقُوْبِ، الرَّقُوْبُ کُلُّ الرَّقُوْبِ، الرَّقُوْبُ کُلُّ الرَّقُوْبِ، الَّذِیْ لَہُ وَلَدٌ فَمَاتَ وَلَمْ یُقَدِّمْ مِنْھُمْ شَیْئًا۔)) قَالَ: ((اَتَدْرُوْنَ مَاالصُّعْلُوْکُ؟)) قَالُوْا: الَّذِیْ لَیْسَ لَہُ مَالٌ، قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الصُّعْلُوْکُ کُلُّ الصُّعْلُوْکِ، الصُّعْلُوْکُ کُلُّ الصُّعْلُوْکِ، الَّذِیْ لَہُ مَالٌ فَمَاتَ وَلَمْ یُقَدِّمْ مِنْہُ شَیْئًا۔))، قَالَ: ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَاالصُّرَعَۃُ؟)) قَالَ: قَالُوْا: الصَّرِیْعُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلصُّرَعَۃُ کُلُّ الصُّرَعَۃِ، الصُّرَعَۃُ کُلُّ الصُّرْعَۃِ، الرَّجُلُ یَغْضِبُ، فَیَشْتَدُّ غَضَبُہُ، یَحْمَرُّ وَجَھُہُ، وَیَقْشَعِرُّ شَعْرُہُ، فَیَصْرَعُ غَضَبَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۰۳)
۔ ابن حصبہ یا ابو حصبہ ایک ایسے صحابی سے بیان کرتے ہیں، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطاب کے وقت موجود تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ رَقُوْب (بے اولاد) کون ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جس کی اولاد نہیں ہوتی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ مکمل طور پر رَقُوْب ہے، وہ سارے کا سارا رَقُوْب ہے، بس وہی رَقُوْب ہے کہ جو اس حال میں مرتا ہے کہ اس کی اولاد تو ہوتی ہے، لیکن اس نے کوئی بچہ آگے نہیں بھیجا ہوتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا کیا تم یہ جانتے ہو کہ صُعْلُوْک (غریب و نادار) کون ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جس کے پاس مال نہیں ہوتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ مکمل طور پر صُعْلُوْک ہے، وہ سارے کا سارا صُعْلُوْک ہے، بس وہی صُعْلُوْک ہے، جو مالدار ہونے کے باوجود اس حال میں مر جاتا ہے کہ اس نے کوئی مال آگے نہیں بھیجا ہوتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیاتم جانتے ہو کہ بڑا پہلوان کون ہے؟ انھوں نے کہا: پچھاڑنے والا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سارے کا سارے پہلوان، بڑے سے بڑاپہلوان وہ آدمی ہے جسے غصہ آتا ہے، پھر اس کا غصہ سخت ہو جاتا ہے، چہرہ سرخ ہونے لگتا ہے اور رونگٹے کھڑے ہونے لگتے ہیں، لیکن وہ اپنے غصے پر قابو پا لیتا ہے۔
Takhreej
(۹۴۰۵) تخریج: صحیح لغیرہ، دون قصۃ الصعلوک، وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ ابی حصبۃ او ابن حصبۃ، أخرجہ البیھقی فی الشعب : ۳۳۴۱ (انظر: ۲۳۱۱۵)
9405
Sahih
بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
۔ (۹۴۰۶)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَا تَعُدُّوْنَ فِیْکُمُ الرَّقُوْبَ؟)) قَالَ: قُلْنَا الَّذِیْ لا وَلَدَ لَہُ، قَالَ: ((لا وَلٰکِنَّ الرَّقُوْبَ الَّذِیْ لَمْ یُقَدِّمْ مِنْ وَلَدِہِ شَیْئًا۔)) (مسند احمد: ۳۶۲۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنے اندر کس کو رَقُوْب (بے اولاد) شمار کرتے ہو؟ ہم نے کہا: جس کی اولاد نہیں ہوتی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، رَقُوْب تو وہ ہوتا ہے، جس نے کوئی نابالغ بچہ آگے نہیں بھیجا ہوتا۔
Takhreej
(۹۴۰۶) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ مسلم: ۲۶۰۸ (انظر: ۳۶۲۶)
9406
Sahih
بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
۔ (۹۴۰۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ کَانَ لَہُ فَرَطَانِ مِنْ اُمَّتِیْ، دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔))، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: بِاَبِیْ، فَمَنْ کَانَ لَہُ فَرَطٌ؟ فَقَالَ: ((وَمَنْ کَانَ لَہُ فَرَطٌ یَا مُوَفَّقَۃُ!)) قَالَتْ: فَمَنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ فَرَطٌ مِنْ اُمَّتِکَ؟ قَالَ: ((فَاَنَا فَرَطُ اُمَّتِیْ، لَمْ یُصَابُوْا بِمِثْلِیْ۔)) (مسند احمد: ۳۰۹۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے جس شخص کے دو پیش رو ہوں گے، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میرے باپ کی قسم! جس کا ایک پیش رو ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ جس کا ایک پیش رو ہو گا، اے توفیق دی ہوئی خاتون! پھر سیدہ نے کہا: آپ کی امت میں سے جس کا کوئی پیش رو نہیں ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس میں اپنی امت کے لیے پیش رو ہوں گا، میری امت کو میری جیسی تکلیف نہیں پہنچی۔
Takhreej
(۹۴۰۷) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الترمذی: ۱۰۶۲ (انظر: ۳۰۹۸)
9407
Sahih
بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
۔ (۹۴۰۸)۔ عَنْ مُعَاذٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَا مِنْ مُسْلِمَیْنِیُتَوَفّٰی لَھُمَا ثَلاثَۃٌ اِلَّا اَدْخَلَھُمَا اللّٰہُ الْجَنَّۃَ بِفَضْلِ رَحْمَتِہِ اِیَّاھُمَا۔))، فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَوِاثْنَانِ؟ قَالَ: ((اَوِ اثْنَانِ۔))، قَالُوْا: اَوْ وَاحِدٌ؟ قَالَ: ((اَوْ وَاحِدٌ۔)) ثُمَّ قاَلَ: ((وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَِدِہِ، اِنَّ السِّقْطَ لَیَجُرُّ اُمَّہُ بِسَرَرِہِ اِلَی الْجَنَّۃِ اِذَا احْتَسَبَتْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۴۰)
۔ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان میاں بیوی کے تین بچے فوت ہوگئے تو اللہ تعالیٰ ان پر بہت زیادہ رحمت کرنے کی وجہ سے ان کو جنت میں داخل کرے گا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر دو بچے ہوں تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں۔ لوگوں نے پھر کہا: اگر ایک ہو تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ ایک ہو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بیشک ناتمام بچہ ناف کے کٹے ہوئے حصے سے اپنے ماں کو کھینچ کر جنت کی طرف لے جائے گا، بشرطیکہ وہ اس پر ثواب کی نیت سے صبر کرے۔
Takhreej
(۹۴۰۸) تخریج: صحیح لغیرہ دون قصۃ السقط فی آخرہ، وھذا اسناد ضعیف لضعف یحییٰ التیمی، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۶۰۹ (انظر: ۲۲۰۹۰)
9408
Sahih
بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
۔ (۹۴۰۹)۔ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ اُقَیْشٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُسْلِمَیْنِ یَمُوْتُ لَھُمَا اَرْبَعَۃُ اَوْلادٍ، اِلاَّ اَدْخَلَھُمَا اللّٰہُ الْجَنَّۃَ۔)) قَالُوْا: یَارَسْوُلَ اللّٰہِ! وَثَـلَاثَۃٌ؟ قَالَ: ((وَثَـلَاثَۃٌ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَاثْنَانِ قَالَ: ((وَاثْنَانِ، وَاِنَّ مِنْ اُمَّتِیْ لَمَنْ یَعْظُمُ لِلنَّارِ حَتّٰییَکُوْنَ اَحَدَ زَوَایَاھَا، وَاِنَّ مِنْ اُمَّتِیْ لَمَنْ یَدْخُلُ بِشَفَاعَتِہِ الْجَنَّۃَ اَکْثَرُ مِنْ مُضَرَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۰۴۱)
۔ سیدنا حارث بن اُقیش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان میاں بیوی کے چار بچے فوت ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں داخل کرے گا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر تین ہوں تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ تین ہوں۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر د وہوں تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں، اور بیشک میرے امت میں ایسے افراد بھی ہیں کہ ان کو آگ کے لیے اتنا بڑا کر دیا جائے گا کہ وہ اس کا ایک کونہ بن جائیں گے اور میری امت میں ایسے افراد بھی ہیں کہ جن کی سفارش سے مضر قبیلے کے افراد سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔
Takhreej
(۹۴۰۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ عبد اللہ بن قیس، أخرجہ مختصرا ابن ماجہ: ۴۳۲۳(انظر: ۲۲۶۶۵)
Explanation
فوائد:… یہ بات درست ہے کہ بعض جہنمیوں کے جسم بڑے بنا دیئے جائیں گے، جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((ضِرْسُ الْکَافِرِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِثْلُ أُحُدٍ وَعَرْضُ جِلْدِہِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا وَفَخِذُہُ مِثْلُ وَرِقَانَ وَمَقْعَدُہُ مِنْ النَّارِ مِثْلُ مَا بَیْنِی وَبَیْنَ الرَّبَذَۃِ۔)) … قیامت کے دن کافر کی داڑھ احد پہاڑ جتنی ہو جائے گی، اس کی جلد ستر ہاتھ موٹی ہو جائے گی، اس کی ران ورقان پہاڑ جتنی ہو جائے گی اور آگ میں اس کے بیٹھنے کی جگہ اتنی ہو گی، جتنا میں (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اور ربذہ گاؤں کے درمیان فاصلہ ہے۔ (مسند احمد: ۲/ ۳۲۸، رقم: ۸۳۴۵) جسم کوبڑا کرنے کا مقصد یہ ہو گا کہ وہ عذاب کو زیادہ محسوس کریں۔ اَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنَ النَّارِ۔
9409
Zaeef
بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
۔ (۹۴۱۰)۔ عَنْ اَبِیْ ثَعْلَبَۃَ الْاَشْجَعِیِّ، قَالَ: قُلْتُ: مَاتَ لِیْیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَلَدَانِ فِی الْاِسْلامِ، فَقَالَ: ((مَنْ مَاتَ لَہُ وَلَدَانِ فِی الْاِسْلامِ اَدْخَلَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ الْجَنَّۃَ بِفَضْلِ رَحْمَتِہِ اِیَّاھُمَا۔)) فَلَمَّا کَانَ بَعْدَ ذٰلِکَ لَقِیَنِیْ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: فَقَالَ: اَنْتَ الَّذِیْ قَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ فِی الْوَلَدَیْنِ مَا قَالَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَقَالَ: لَاَنْ یَکُوْنَ قَالَہُ لَہُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا غُلِّقَتْ عَلَیْہِ حِمْصُ وَفِلَسْطِیْنُ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۶۲)
۔ سیدنا ابو ثعلبہ اشجعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے دو بچے اسلام میں فوت ہو چکے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص کے دو بچے اسلام میں فوت ہو جائیں، اللہ تعالیٰ ان بچوں پر رحمت کرنے کی وجہ سے اس شخص کو بھی جنت میں داخل کر دے گا۔ بعد میں جب سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مجھے ملے تو انھوں نے مجھ سے کہا: تم وہ آدمی ہو، جن کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے والدین کے بارے میں خوشخبری سنائی تھی؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ بات میرے لیے فرماتے تو یہ بات مجھے ان چیزوں سے زیادہ پسند ہوتی، جن پر حمص اور فلسطین کو بند کیا گیا۔
Takhreej
(۹۴۱۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ عمر بن نبھان، أخرجہ الطبرانی: ۲۲/ ۶۰۱ (انظر: ۲۷۲۲۰)
Explanation
فوائد:… حمص اور فلسطین اور ان کے خزانوں کامالک بننا مراد ہے۔
9410
Zaeef
بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
۔ (۹۴۱۱)۔ عَنْ صَعْصَعَۃَ بْنِ مُعَاوِیَۃَ، قَالَ: اَتَیْتُ اَبَاذَرٍّ قُلْتُ: مَابَالُکَ؟ قَالَ: لِیْ عَمَلِیْ، قُلْتُ: حَدِّثْنِیْ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُسْلِمَیْنِیَمُوْتُ بَیْنَھُمَا ثَلاثَۃٌ مِّنْ اَوْلادِھِمَا، لَمْ یَبْلُغُوْا الْحِنْثَ اِلَّا غَفَرَ اللّٰہُ لَھُمَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۶۷)
۔ صعصعہ بن معاویہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور کہا: تمہارا کیا حال ہے؟ انھوں نے کہا: میرے لیے میرا کام ہے، میں نے کہا: مجھے کوئی حدیث بیان کرو، انھوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان میاں بیوی کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا۔
Takhreej
(۹۴۱۱) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ النسائی: ۴/ ۲۴، ۶/ ۴۸ (انظر: ۲۱۳۴۱)
9411
Sahih
بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
۔ (۹۴۱۲)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَدَّمَ ثَـلَاثَۃً مِّنْ وَلَدِہِ حَجَبُوْہُ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۲۲)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے تین بچے آگے بھیج دیئے، وہ اس کے لیے جہنم سے رکاوٹ بن جائیں گے۔
Takhreej
(۹۴۱۲) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۱۱۱۰۶)
9412
Sahih
بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
۔ (۹۴۱۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُسْلِمَیْنِیَمُوْتُ لَھُمَا ثَلاثَۃُ اَوْلَادٍ لَمْ یَبْلُغُوْا الْحِنْثَ، اِلاَّ اَدْخَلَھُمَا اللّٰہُ وَاِیَّاھُمْ بِفَضْلِ رَحْمَتِہِ الْجَنَّۃَ، وَقَالَ: یُقَالُ لَھُمْ: اُدْخُلُوْا الْجَنَّۃَ، قَالَ: فَیَقُوْلُوْنَ حَتّٰییَجِیْئَ اَبَوَانَا، قَالَ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، فَیَقُوْلُوْنَ مِثْلَ ذٰلِکَ، فَیُقَالُ لَھُمْ: اُدْخُلُوْا الْجَنَّۃَ اَنْتُمْ وَاَبَوَاکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۳۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان میاں بیوی کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ اپنی بڑی رحمت سے ان کو ان کے بچوں سمیت جنت میں داخل کر دے گا، جب ان بچوں سے کہا جائے گا کہ جنت میں داخل ہو جاؤ، وہ کہیں گے: ہمارے والدین آ لیں، (پھر داخل ہوں گے)، تین مرتبہ ان سے یہ بات کہی جائے گی، وہ یہی جواب دیں گے، بالآخر ان سے کہا جائے گا: تم بھی اور تمہارے والدین بھی، سب جنت میں داخل ہو جاؤ۔
Takhreej
(۹۴۱۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ النسائی: ۴/ ۲۵ (انظر: ۱۰۶۲۲)
9413
Sahih
بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
۔ (۹۴۱۴)۔ عَنْ اَبِیْ حَسَّانَ، قَالَ: تُوُفِّیَ ابْنَانِ لِیْ فَقُلْتُ لِاَبِیْ ھُرَیْرَۃَ: سَمِعْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدِیْثًا تُحَدِّثُنَاہُ یُطَیِّبُ بِاَنْفُسِنَا عَنْ مَوْتَانَا؟ قَالَ: نَعَمْ، ((صِغَارُھُمْ دَعَامِیْصُ الْجَنَّۃِیَلْقٰی اَحَدُھُمْ اَبَاہُ اَوْ قَالَ: اَبَوَیْہِ، فَیَاْخُذُ بِنَاحِیَۃِ ثَوْبِہٖاَوْیَدِہِ کَمَا آخُذُ بِصَنَفَۃِ ثَوْبِکَ ھٰذَا، فَلا یُفَارِقُہُ حَتَّییُدْخِلَہُ اللّٰہُ وَاَبَاہُ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۳۳۶)
۔ ابو حسان کہتے ہیں: میرے دو بیٹے فوت ہو گئے، پس میں نے سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی ایسی حدیث بیان کرو جو ہمارے نفسوں کو ہمارے مردوں کے بارے میں خوش کر دے، انھوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (مومنوں کے) چھوٹے بچے جنت کے کیڑے ہوں گے (یعنی بے روک ٹوک جنت میں آتے جاتے رہیں گے)۔ ایسا بچہ اپنے باپ یا اپنے والدین سے ملاقات کرے گا، اس کا ہاتھ پکڑ لے گا، جس طرح میں نے تیرے کپڑے کا کنارہ پکڑ لیا ہے، اور اسے نہیں چھوڑے گا، حتی کہ اللہ تعالیٰ اسے اور اس کے باپ دونوں کو جنت میں داخل کر دے گا۔
Takhreej
(۹۴۱۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۳۵(انظر: ۱۰۳۳۱)
9414
Sahih
بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
۔ (۹۴۱۵)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّ رجلًا کَانَ یَاْتِیْ النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ومَعَہُ اِبْنٌ لَہُ فَقَالَ لَہُ: النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَتُحِبُّہُ؟)) فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَحَبَّکَ اللّٰہُ کَمَا اُحِبُّہُ، فَفَقَدَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مافَعَلَ ابْنُ فَـلَانٍ؟)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَاتَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِاَبِیْہِ: ((اَمَا تُحِبُّ اَنْ لَّا تَاْتِیَ بَابًا مِنْ اَبْوَابِ الْجَنِّۃِ اِلَّا وَجَدْتَہُ یَنْتَظِرُکَ؟)) فَقَالَ الرَّجُل: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلَہُ خَاصَّۃًاَوْ لِکُلِّنَا؟ قَالَ: ((بَلْ لِکُلِّکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۳۶)
۔ سیدنا قرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آتا تھا، جبکہ اس کا بچہ اس کے ساتھ ہوتا تھا، ایک دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تو اس سے محبت کرتا ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ آپ سے اس طرح محبت کرے، جیسے میں اس سے کرتا ہوں، پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو گم پایا اور پوچھا: فلاں کے بیٹے کا کیا بنا؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ تو فوت ہو گیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے باپ سے کہا: کیا تو یہ بات پسند نہیں کرتا کہ تو جنت کے جس دروازے پر آئے، اسی پر اپنے بچے کو انتظار کرتے ہوئے پائے؟ ایکآدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ اس شخص کے لیے خاص ہے، یا ہم سب کے لیے ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں،یہ تو تم سب کے لیے ہے۔
Takhreej
(۹۴۱۵) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ النسائی: ۴/ ۲۲، ۲۳(انظر: ۲۰۳۶۵)
Explanation
فوائد:… آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلے سوال کے جواب میں اس آدمی نے جو کچھ کہا، اس سے اس کا مقصود محبت کی شدت کو بیان کرنا تھا۔
9415
Sahih
بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
۔ (۹۴۱۶)۔ عَنْ حَسَّانَ بْنِ کُرَیْبٍ، اَنَّ غُلَامًا مِنْھُمْ تُوُفِّیَ فَوَجَدَہُ عَلَیْہِ اَبَوَاہُ اَشَدَّ الْوَجْدِ، فَقَالَ حَوْشَبُ صَاحِبُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اَلَا اُخْبِرُکُمْ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: فِیْ مِثْلِ اِبْنِکَ اَنَّ رَجُلًا مِنْ اَصْحَابِہٖکَانَلَہُابْنٌقَدْاَدَّبَاَوْدَبَّوَکَانَیَاْتِیْ مَعَ اَبِیْہِ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ اِنَّ اِبْنَہُ تُوُفِّیَ فَوَجَدَہُ عَلَیْہِ اَبُوْہُ قَرِیْبًا مِنْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ لَایَاْتِیْ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا اَرٰی فُلَانًا؟)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ ابْنَہُ تُوُفِّیَ فَوَجَدَ عَلَیْہِ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا فُلَانُ! اَتُحِبُّ لَوْ اَنَّ ابْنَکَ عِنْدَکَ الْآنَ کَانْشَطِ الصِّبْیَانِ نَشَاطًا؟ اَتُحِبُّ اَنَّ ابْنَکَ عِنْدَکَ اَجْرَاُ الْغِلْمَانِ جَرَائَ ۃً؟ اَتُحِبُّ اَنَّ ابْنَکَ عِنْدَکَ کَھْلًا کَاَفْضَلِ الْکُھُوْلِ اَوْ یُقَالَ لَکَ: اُدْخُلِ الْجَنَّۃَ ثَوَابَ مَا اُخِذَ مِنْکَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۳۷)
۔ حسان بن کریب کہتے ہیں: ہم میں سے ایک بچہ فوت ہو گیا، اس کے والدین کو بہت زیادہ صدمہ ہوا، صحابی ٔ رسول سیدنا حوشب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا میں تم لوگوں کو وہ بات بیان کروں، جو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تیرے اس بیٹے کی طرح کے بیٹے کے حق میں بیان کرتے ہوئے سنی تھی، اس کی تفصیلیہ ہے کہ ایک صحابی کا بیٹا تھا، اس نے اس کو ادب سکھایا تھا، یا ابھی تک وہ زمین پر ہاتھ پیر مار کر گھسٹتا تھا، وہ بچہ اپنے باپ کے ساتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بھی آتا تھا، پھر ہوا یوں کہ وہ بچہ فوت ہو گیا اور اس کے باپ نے اس کی وجہ سے اتنا غم محسوس کیا کہ وہ چھ دن تک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بھی نہیں آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دن پوچھا: کیا وجہ ہے کہ فلاں آدمی نظر نہیں آتا؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا بچہ فوت ہو گیا ہے اور وہ اس کی وجہ سے پریشان ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے فلاں آدمی! اچھا بتا کہ کیا تو یہ چاہتا ہے کہ اب تیرا بچہ تیرے پاس ہوتا اور بچوں میں سب سے زیادہ پھرتیلا ہوتا؟ یا تو یہ چاہتا ہے کہ تیر ا بچہ سب بچوں سے زیادہ جرأت والا ہوتا؟ یا تو یہ پسند کرتا ہے کہ تیرا بچہ تیس سے پچاس برس کا بھرپور نوجوان ہو؟ یا تو یہ چاہتا ہے کہ کل قیامت والے دن تجھے کہا جائے: جو بچہ تجھ سے لے لیا گیا تھا، اس کے ثواب میں جنت میں داخل ہو جا؟
Takhreej
(۹۴۱۶) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابن لھیعۃ سییء الحفظ (انظر: ۱۵۸۴۳)
9416
Zaeef
بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
۔ (۹۴۱۷)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِنْطَلَقَ حَارِثَۃُ بْنُ عَمَّتِیْیَوْمَ بَدْرٍ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غُلَامًا نَظَّارًا مَا انْطَلَقَ لِلْقِتَالِ، قَالَ: فَاَصَابَہُ سَھْمٌ فَقَتَلَہُ، قَالَ: فَجَائَ تْ اُمُّہُ عَمَّتِیْ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِبْنِیْ حَارِثَۃُ، اِنْ یَکُ فِی الْجَنَّۃِ اَصْبِرُ وَاَحْتَسِبُ، وَاِلَّا فَسَیَرَی اللّٰہُ مَا اَصْنَعُ قَالَ: ((یَا اُمَّ حَارِثَۃَ! اِنَّھَا جِنَانٌ کَثِیْرَۃٌ وَاِنَّ حَارِثَۃَ فِی الْفِرْدَوْسِ الْاَعْلٰی۔)) (مسند احمد: ۱۳۲۸۳)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میری پھوپھی کا بیٹا سیدنا حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بدر والے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چلا، یہ لڑکا لڑائی دیکھنے کے لیے گیا تھا، لڑنے کے لیے نہیں گیا تھا، لیکن اچانک اس کو تیر لگا اور اس کو قتل کر دیا، پس میری پھوپھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرا بیٹا حارثہ، اگر وہ جنت میں ہے تو میں ثواب کی نیت سے صبر کرتی ہوں، وگرنہ اللہ تعالیٰ دیکھے گا کہ میں کیا کرتی ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ام حارثہ! جنتیں تو بہت زیادہ ہیں اور بیشک حارثہ تو فردوسِ اعلی میں ہے۔
Takhreej
(۹۴۱۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۵۹۸ (انظر: ۱۳۲۵۰)
Explanation
فوائد:… اس خاتون کا مقصد رونا اور نوحہ کرنا تھا، جیسا کہ صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے: اِجْتَھَدْتُّ عَلَیْہِ فِیْ الْبُکَائِ۔ … میں اس پر رونے میں کوشش کروں گی۔ امام خطابی نے کہا: چونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس عورت کو اس کے دعوے پر برقرار رکھا، اس لیے اس حدیث سے اس طرح کے رونے کا جواز ملتا ہے، لیکن حافظ ابن حجر نے ان کا تعاقب کیا اور کہا کہ یہ واقعہ نوحہ کی حرمت سے پہلے کا ہے، کیونکہ غزوۂ احد کے بعد نوحہ کو حرام قرار دیا گیا تھا، جبکہ یہ واقعہ تو غزوۂ بدر کے بعد کا ہے۔
9417
Sahih
سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا اپنے خاوند سیدنا ابو طلحہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ اس وقت کے قصے کا بیان، جب ان کا بیٹا فوت ہوا تھا
۔ (۹۴۱۸)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَاتَ ابْنٌ لاَبِی طَلْحَۃَ مِنْ اُمِّ سُلَیْمٍ فَقَالَتْ: لِاَھْلِھَا لَا تُحِدِّثُوْا اَبَاطَلْحَۃَ بِاِبْنِہِ حَتّٰی اَکُوْنَ اَنَا اُحَدِّثُہُ، قَالَ: فَجَائَ فَقَرَّبَتْ اِلَیْہِ عَشَائً فَاَکَلَ وَشَرِبَ، قَالَ: ثُمَّ تَصَنَّعَتْ لَہُ اَحْسَنَ مَاکَانَتْ تَصَنَّعُ قَبْلَ ذٰلِکَ، فَوَقَعَ بِھَا، فَلَمَّا رَاَتْ اَنَّہُ قَدْ شَبِعَ وَاَصَابَ مِنْھَا، قَالَتْ: یَا اَبَاطَلْحَۃَ اَرَاَیْتَ اَنَّ قَوْمًا اَعَارُوْا عَارِیَتَھُمْ اَھْلَ بَیْتٍ وَطَلَبُوْا عَارِیَتَھُمْ اَلَھُمْ اَنْ یَمْنَعُوْھُمْ؟ قَالَ:لَا، قَالَتْ: فَاحْتَسِبِ ابْنَکَ، فَانْطَلَقَ حَتّٰی اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَخْبَرَہُ بِمَا کَانَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَارَکَ اللّٰہُ لَکَمَا فِیْ غَابِرِ لَیْلَتِکُمَا۔)) قَالَ: فَحَمَلَتْ قَالَ: فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ وَھِیَ مَعَہُ ،وکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا اَتَی الْمِدِیْنَۃَ مِنْ سَفَرٍ لَا یَطْرُقُھَا طُرُوْقًا، فَدَنَوْا مِنَ الْمَدِیْنَۃِ فَضَرَبَھَا الْمَخَاضُ، وَاحْتَبَسَ عَلَیْھَا اَبُوْطَلْحَۃَ وَانْطَلَقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ اَبُوْ طَلْحَۃَ: یَارَبِّ! اِنَّکَ لَتَعْلَمُ اَنَّہُ یُعْجِبُنِیْ اَنْ اَخْرُجَ مَعَ رَسُوْلِکَ اِذَا خَرَجَ، وَاَدْخُلَ مَعَہُ اِذَا دَخَلَ، وَقَدِ احْتَبَسْتُ بِمَا تَرٰی، قَالَ: تَقُوْلُ اُمُّ سُلَیْمٍ: یَا اَبَاطَلْحَۃَ مَا اَجِدُ الَّذِیْ کُنْتُ اَجِدُ فَانْطَلَقْنَا، قَالَ: وَضَرَبَھَا الْمَخَاضُ حِیْنَ قَدِمُوْا فَوَلَدَتْ غُلَامًا، فَقَالَتْ لِیْ اُمِّیْ: یَا اَنَسُ! لَا یُرْضِعَنَّہُ اَحَدٌ حَتّٰی تَغْدُوَ بِہٖعَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَصَادَفْتُہُ وَمَعَہُ مِیْسَمٌ فَلَمَّا رَآنِی قَالَ: ((لَعَلَّ اُمَّ سُلَیْمٍ وَلَدَتْ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَوَضَعَ الْمِیْسَمَ قَالَ: فَجِئْتُ بِہٖفَوَضَعْتُہُفِیْحِجْرِہِ قَالَ: وَدَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعَجْوَۃٍ مِنْ عَجْوَۃِ الْمَدِیْنَۃِ فَـلَا کَھَا فِیْ فِیْہِ حَتّٰی ذَابَتْ ثُمَّ قَذَفَھَافِیْ فِی الصَّبِیِّ فَجَعَلَ الصَّبِیُّیَتَلَمَّظُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اُنْظُرُوْا اِلٰی حُبِّ الْاَنْصَارِ التَّمْرَ۔))، قَالَ: فَمَسَحَ وَجْھَہَ وَسَمَّاہُ عُبْدَ اللّٰہِ۔ (مسند احمد: ۱۳۰۵۷)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو طلحہ اور سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا بیٹا فوت ہو گیا، سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اپنے اہل والوں سے کہا: تم نے ابو طلحہ کو اس کے بیٹے کے بارے میں نہیں بتلانا، میں خود اس کو بتاؤں گی، پس جب وہ آئے تو اس نے ان کو شام کا کھانا پیش کیا، انھوں نے کھانا کھایا اور مشروب پیا، پھر سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اپنے خاوند کے لیے اچھی طرح تیاری کی، جیسا کہ وہ پہلے کرتی تھیں، پس انھوں نے ان سے جماع کیا، جب ام سلیم نے دیکھا کہ اس کاخاوند خوب سیر ہو گیا گیا اور حق زوجیت بھی ادا کر لیا تو اس نے کہا: اے ابو طلحہ! اس کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے کہ لوگ ایک گھر والوں کو کوئی چیز عاریۃً دیتے ہیں، پھر جب وہ ان سے واپس کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تو کیا وہ روک سکتے ہیں؟ انھوں نے کہا: نہیں، نہیں روک سکتے، ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: تو پھر اپنے بیٹے کی وفات پر ثواب کی نیت سے صبر کر، سیدنا ابوطلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ چل پڑے، یہاں تک کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سارے ماجرے کی خبر دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری گزشتہ رات میں برکت فرمائے۔ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو حمل ہو گیا، ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر میں تھے اور ام سلیم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھیں، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر سے واپسی پر مدینہ آتے تھے تو رات کو شہر میں داخل نہیں ہو تے تھے، پس جب وہ مدینہ کے قریب پہنچے تو ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو دردِ زہ شروع ہو گیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو آگے چل دیئے، لیکن سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی بیوی کے پاس رک گئے اور انھوں نے کہا: اے میرے ربّ! تو جانتا ہے کہ مجھے یہ بات پسند لگتی ہے کہ تیرے رسول کے ساتھ سفر میں نکلوں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ہی مدینہ میں داخل ہوں، لیکن اب تو دیکھ رہا ہے کہ میں رک گیا ہوں، اتنے میں ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: جو چیز میں پہلے پاتی تھی، ابھی وہ نہیں پا رہی، پس ہم چل پڑے اور جب مدینہ پہنچے تو دوبارہ دردِ زہ شروع ہوا اور انھوں بچہ جنم دیا۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میری ماں نے مجھے کہا: اے انس! کوئی بھی اس کو دودھ نہ پلائے،یہاں تک کہ تو صبح کو اس کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے جائے، وہ کہتے ہیں: میں بچہ لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جانوروں کو داغنے والا ایک آلہ تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: شاید ام سلیم نے بچہ جنم دیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ آلہ رکھ دیا، میں بچے کو لے کر آگے بڑھا اور اس کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی گودی میں رکھ دیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ کی عجوہ کھجورمنگوائی، اس کو اپنے منہ مبارک میں ڈال کر چبایا،یہاں تک کہ وہ نرم ہو گئی، پھر اس کو بچے کے منہ میں ڈالا اور بچہ زبان پھیر کر اس کو نگلنے لگ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دیکھو کہ انصاریوں کو کھجور سے کتنی محبت ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور اس کا نام عبد اللہ رکھا۔
Takhreej
(۹۴۱۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ص ۱۹۰۹ (انظر: ۱۳۰۲۶)
9418
Sahih
سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا اپنے خاوند سیدنا ابو طلحہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ اس وقت کے قصے کا بیان، جب ان کا بیٹا فوت ہوا تھا
۔ (۹۴۱۹)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ سِیْرِیْنَ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: تَزَوَّجَ اَبُوْطَلْحَۃَ اُمَّ سُلَیْمٍ وَھِیَ اُمُّ اَنَسٍ (بْنِ مالک) وَالْبَرَائِ، قَالَ: فَوَلَدَتْ لَہُ بُنَیًّا، قَالَ: فَکَانَ یُحِبُّہُ حُبًّا شَدِیْدًا، قَالَ: فَمَرِضَ الْغُلَامُ مَرْضًا شَدِیْدًا، فَکَانَ اَبُوْ طَلْحَۃَیَقُوْمُ صَلَاۃَ الْغَدَاۃِیَتَوَضَّاُ وَیَاْتِیْ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیُصَلِّیْ مَعَہُ، وَیَکُوْنُ مَعَہُ اِلٰی قَرِیْبٍ مِّنْ نِصْفِ النَّھَارِ، وَیَجِيْئُیَقِیْلُ وَیَاْکُلُ، فَاِذَا صَلَّی الظُّھْرَ تَھَیَّاَ وَذَھَبَ فَلَمْ یَجِیئْ اِلٰی صَلَاۃِ الْعَتَمَۃِ قَالَ: فَرَاحَ عَشِیَّۃً وَمَاتَ الصَّبِیُّ، قَالَ: وَجَائَ اَبُوْ طَلْحَۃَ قَالَ: نَسَجَتْ عَلَیْہِ ثَوْبًا وَتَرَکَتْہُ، قَالَ: فقَالَ لَھْا اَبُوْ طلحۃ: یَا اُمَّ سُلَیْمٍ! کَیْفَ بَاتَ بُنَیَّ اللَّیْلَۃَ؟ قَالَتْ: یَا اَبَا طَلْحَۃَ! مَا کَانَ ابْنُکَ مُنْذُ اشْتَکٰی اَسْکَنَ مِنْہُ اللَّیْلَۃَ، قَالَ: ثُمَّ جَائَ تْہُ بِالطَّعَامِ فَاَکَلَ وَطَابَتْ نَفْسُہُ، قَالَ: فَقَامَ اِلٰی فِرَاشِہِ فَوَضَعَ رَاْسَہُ قَالَتْ: وَقُمْتُ اَنَا فَمَسِسْتُ شَیْئًا مِنْ طِیْبٍ ثُمَّ جِئْتُ حَتّٰی دَخَلْتُ مَعَہُ الْفِرَاشَ، فَمَا ھُوَ اِلَّا اَنْ وَجَدَ رِیْحَ الْطِیْبِ کَانَ مِنْہُ مَایَکُوْنُ مِنَ الرَّجُلِ اِلَیٰ اَھْلِہِ، قَالَ: ثُمَّ اَصْبَحَ اَبُوْطَلْحَۃَیَتَھَیَّاُ کَمَا کاَنَ یَتَھَیَّاُ کُلَّ یَوْمٍ، قَالَ: فَقَالَتْ لَہُ: یَا اَبَا طَلْحَۃَ! اَرَاَیْتَ لَوْ اَنَّ رَجُلًا اِسْتَوْدَعَکَ وَدِیْعَۃً فَاسْتَمْتَعْتَ بِھَا ثُمَّ طَلَبَھَا فَاَخَذَھَا مِنْکَ تَجْزَعُ مِنْ ذٰلِکَ؟ قَالَ: لَا ، قَالَتْ: فَاِنَّ ابْنَکَ قَدْ مَاتَ، قَالَ اَنَسٌ فَجَزِعَ عَلَیْہِ جَزْعًا شَدِیْدًا، وَحَدَّثَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَا کَانَ مِنْ اَمْرِھَا فِی الطَّعَامِ وَالطِّیْبِ، وَمَا کَانَ مِنْہُ اِلَیْھَا، قَالَ: فَقَالَ َرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَبِتُّمَا عَرُوْسَیْنِ وَھُوَ اِلٰی جَنْبِکُمَا؟)) قَالَ: نَعَمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، فَقَالَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَارَکَ اللّٰہُ لَکَمَا فِیْ لَیْلَتِکُمَا۔)) قَالَ: فَحَمَلَتْ اُمُّ سلیم تِلْکَ اللَّیْلَۃِ، قَالَ: فَتَلِدُ غُلَامًا، قَالَ: فَحِیْنَ اَصْبَحْنَا قَالَ لِیْ اَبُوْ طَلْحَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ احْمِلْہُ فِیْ خِرْقَۃٍ حَتّٰی تَاْتِیَ بِہٖرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاحْمَلْ مَعَکَ تَمْرَ عَجْوَۃٍ، قَالَ: فَحَمَلْتُہُ فِیْ خِرْقَۃٍ قَالَ: وَلَمْ یُحَنِّکْ وَلَمْ یَذُقْ طَعَامًا وَلَا شَیْئًا، قَالَ: فَقُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَلَدَتْ اُمُّ سُلَیْمٍ، قَالَ: ((اَللّٰہُ اَکْبَرُ، مَا وَلَدَتْ؟)) قُلْتُ: غُلَامًا، قَالَ: ((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ۔))، فَقَالَ: ((ھَاتِہِ اِلَیَّ۔)) فَدَفَعْتُہُ اِلَیْہِ فَحَنَّکَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ ثُمَّ قَالَ لِیْ: ((مَعَکَ تَمْرُ عَجْوَۃٍ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، فَاَخْرَجْتُ تَمَرَاتٍ فَاَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَمْرَۃً وَاَلْقَاھَا فِیْ فِیْہِ، فَمَا زَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَلُوْکُھَا حَتَّی اخْتَلَطَتْ بِرِیْقِہِ ثُمَّ دَفَعَ الصَّبِیَّ فَمَا ھُوَ اِلَّا اَنْ وَجَدَ الصَّبِیُّ حَلَاوَۃَ التَّمْرِ، جَعَلَ یَمُصُّ بَعْضَ حَلَاوَۃِ التَّمْرِ وَرَیِقِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ اَنَسٌ: فَکَانَ اَوَّلُ مَنْ فَتَحَ اَمْعَائَ ذٰلِکَ الصَّبِیِّ عَلٰی رِیْقِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حِبُّ الْاَنْصَارِ التَّمْرُ۔)) فَسَمَّی عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ اَبِی طَلْحَۃَ، قَالَ: فَخَرَجَ مِنْہُ رَجُلٌ کَثِیْرٌ قَالَ: وَاسْتُشْھِدَ عَبْدُ اللّٰہِ بِفَارِسَ۔(مسند احمد: ۱۲۸۹۶)
۔ (دوسری سند) سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے شادی کی،یہ سیدنا انس بن مالک اور سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی ماں تھیں، سیدہ ام سلیم نے ان کے لیے ایک پیارا سا بیٹا جنم دیا، سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس سے بہت محبت کرتے تھے، لیکن ہوا یوں کہ بچہ بہت سخت بیمار ہو گیا، سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روٹینیہ تھی کہ وہ نماز فجر کے لیے اٹھتے، وضو کرتے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے اور نصف النہار کے قریب تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ہی ٹھہرتے، پھر واپس آ کر قیلولہ کرتے اور کھانا کھاتے، پھر نمازِ ظہر کی تیاری کر کے چلے جاتے اور نمازِ عشا تک واپس نہیں آتے تھے، ایک دن جب وہ رات کو واپس آئے تو بچہ فوت ہو چکا تھا، سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے (شروع میں اس کی موت کو چھپانے کے لیے) اس کپڑے سے ڈھانپ دیا اور اس کو چھوڑ دیا، جب سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ واپس آئے تو کہا: اے ام سلیم! میرے پیارے بیٹے نے رات کیسے گزاری ہے؟ انھوں نے کہا: اے ابو طلحہ! تیرا بیٹا جس دن سے بیمار ہوا، آج رات کو سب سے زیادہ سکون میں تھا، پھر وہ کھانا لے کر آئیں، انھوں نے کھانا کھایا اور ان کا نفس خوشگوار ہو گیا، پھر وہ اپنے بستر کی طرف گئے اور سونے کے لیے اپنا سر رکھا، سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے خوشبو لگائی اور ان کے پاس آ کر بستر میں ان کے ساتھ داخل ہو گئی، جب انھوں نے خوشبو محسوس کی تو وہی معاملہ چلا جو میاں بیوی کا ہوتا ہے ، پھر جب صبح ہوئی تو انھوں نے روٹین کے مطابق تیاری کرنا شروع کر دی، جیسا کہ ہر روز کرتے تھے، اب سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے ابو طلحہ! اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک آدمی نے آپ کو امانت دی، آپ نے اس سے استفادہ کیا، پھر اس نے تجھ سے طلب کی اور پھر لے لی، کیا تو اس معاملے میں بے صبری کرے گا؟ انھوں نے کہا: نہیں، سیدہ نے کہا: تو پھر آپ کا بیٹا فوت ہو چکا ہے، وہ بہت زیادہ گھبرائے اور پریشان ہوئے اور جا کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سارے معاملے کی خبردی کہ اس کی بیوی نے اس طرح کھانا کھلایا، خوشبو لگائی اور پھر جو کچھ ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے حق زوجیت ادا کیا ہے اور وہ بچہ تمہارے پہلوؤں میں تھا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری اس رات میں برکت فرمائے۔ پس سیدہ ام سلیم کو اسی رات حمل ہو گیا، بعد میں جب انھوں نے بچہ جنم دیا تو صبح کو سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے میں (انس) سے کہا: اس کو کسی کپڑے میں اٹھا لے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے جا اور عجوہ کھجور بھی لیتا جا، پس میں نے اس کو کپڑے میں لپیٹ کر اٹھایا، نہ اس کو گڑتی دی گئی تھی، نہ اس نے کھانا کھایا، بلکہ کوئی چیز نہیں چکھی، جب میں پہنچا تو کہا: اے اللہ کے رسول! سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بچہ پیدا ہوا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (خوشی سے) فرمایا: اَللّٰہُ اَکْبَرُ، کیا جنم دیا ہے اس نے؟ میں نے کہا: جی لڑکا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لے آ اس کو میرے پاس۔ پس میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پکڑا دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو گڑتی دینا چاہی، اس لیے مجھ سے پوچھا: کیا تیرے پاس عجوہ کھجور ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں ہے، پھر میں نے کھجوریں نکالیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک کھجور لے کر اس کو اپنے منہ مبارک میں ڈالا اور اتنی دیر تک چبایا کہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لعاب کے ساتھ مکس ہو گئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بچے کو دی اور فوراً یوں لگا کہ بچہ کھجور کی مٹھاس محسوس کر رہا ہے، وہ کھجور کی حلاوت اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے تھوک کو چوسنے لگا۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: پہلی چیز جس نے اس بچے کی انتڑیاں کھولیں، وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تھوک تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انصاریوں کی محبوب چیز کھجور ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس بچے کا نام عبد اللہ رکھا، اس عبد اللہ کی کافی ساری اولاد پیدا ہوئی تھی،یہ عبد اللہ فارس میں شہید ہو گئے تھے۔
Takhreej
(۹۴۱۹) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۱۲۸۶۶)
Explanation
فوائد:… صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ایک انصاری آدمی نے کہا: رَاَیْتُ تِسْعَۃَ اَوْلَادٍ کُلُّھُمْ قَدْ قَرَؤُوْا الْقُرْآنَ یَعْنِیْ مِنْ اَوْلَادِ عَبْدِ اللّٰہِ۔ … میں نے اس عبد اللہ کے نو بیٹے دیکھے، سب نے قرآن مجید پڑھا ہوا تھا۔ ایک اور روایت کے مطابق ان میں سے اکثر نے علم حدیث بھی حاصل کیا تھا۔
9419
Sahih
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان بیشک صدمہ کی ابتداء میں صبر ہوتا ہے کا بیان
۔ (۹۴۲۰)۔ عَنْ ثَابِتٍ الْبَنَانِیِّ، قَالَ: سَمِعْتُ اَنَسًا یَقُوْلُ لِاِمْرَاۃٍ مِّنْ اَھْلِہِ: اَتَعْرِفِیْنَ فُلَانَۃً؟ فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ بِھَا وَھِیَ تَبْکِیْ عَلٰی قَبْرٍ فَقَالَ َلھا: ((اِتَّقِیْ اللّٰہَ وَاصْبِرِیْ۔))، فَقَالَتْ لَہُ: اِیَّاکَ عَنِّیْ فَاِنَّکَ لَا تُبَالِیْ بِمُصِیْبَتِیْ۔ قَالَ: وَلَمْ تَکُنْ عَرَفَتْہُ، فَقِیْلَ لَھَا: اِنَّہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فاَخَذَ بِھَا مِثْلُ الْمَوْتِ، فَجَائَ تْ اِلٰی بَابِہٖفَلَمْتَجِدْعَلَیْہِ بَوَّابًا، فَقَالَت: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ لَمْ اَعْرِفْکَ، فَقَالَ: ((اِنَّ الصَّبْرَ عِنْدَ اَوَّلِ صَدَمَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۸۵)
۔ ثابت بنانی سے مروی ہے کہ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنے اہل وعیال کی ایک خاتون سے کہتے کہ کیا تو فلاں عورت کو جانتی ہے؟ اس کا قصہ یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے پاس سے گزرے اور وہ ایک قبر کے پاس رو رہی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے کہا: اللہ تعالیٰ سے ڈر اور صبر کر۔ اس نے آگے سے کہا: پرے ہٹ جائیں آپ مجھ سے، آپ کو میرے مصیبت کی کیا پرواہ ہے۔ دراصل وہ خاتون آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پہچانتی نہیں تھی، جب اس کو بتلایا گیا کہ یہ تو اللہ کے رسول تھے، تو یوں لگا کہ اس پر موت کی سی کیفیت طاری ہو گئی ہے، پھر وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دروازے تک پہنچی اور اس پر کوئی پہرہ دار نہیں پایا، اس نے آ کر کہا: اے اللہ کے رسول! میںنے آپ کو پہچانا نہیں تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک صبر وہ ہوتا ہے، جو صدمہ کے شروع میں کیا جائے۔
Takhreej
(۹۴۲۰) تخریج: أخرجہ البخاری۷۱۵۴،ومسلم: ۹۲۶ (انظر: ۱۲۴۵۸)
Explanation
فوائد:… جب مسلمان کو صدمے کی خبر موصول ہو تو اسی وقت سے صبر کے تقاضے پورے کرنے چاہئیں،یہ صبر نہیں ہے کہ فوراً واویلا شروع کر دیا جائے، اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی نہ ہونے کا انداز پیش کیا جائے، اپنے لیے ہلاکت کی بد دعائیں کی جائیں، خوب رویا پیٹا جائے، چیخ و پکار کی جائے اور جب طبیعت تھک جائے تو اللہ تعالیٰ کا فیصلہ سمجھ کر خاموشی اختیار کر لی جائے۔
9420
Sahih
مصیبت میں مبتلاہونے والے کی دعا کا بیان
۔ (۹۴۲۱)۔ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ، اَنَّ اَبَا سَلَمَۃَ حَدَّثَھَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا اَصَابَتْ اَحَدَکُمْ مُصِیْبَۃٌ فَلْیَقُلْ {اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ} اَللّٰھُمَّ عِنْدَکَ اَحْتَسِبُ مُصِیْبَتِیْ فَأْجُرْنِیْ فِیْھَا، وَاَبْدِلْنِیْ بِھَا خَیْرًا مِنْھَا۔)) فَلَمَّا قُبِضَ اَبُوْ سَلَمَۃَ خَلَفَنِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِیْ اَھْلِیْ خَیْرًا مِنْہُ۔ (مسند احمد: ۱۶۴۵۴)
۔ سیدنا ابو سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کسی کو کوئی مصیبت لاحق ہو تو وہ کہے: {اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ} اَللّٰھُمَّ عِنْدَکَ اَحْتَسِبُ مُصِیْبَتِیْ فَأْجُرْنِیْ فِیْھَا، وَاَبْدِلْنِیْ بِھَا خَیْرًا مِنْھَا۔ (بیشک ہم اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور بیشک ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں، اے اللہ! میں اپنی مصیبت پر تجھ سے ثواب کی امید رکھتا ہوں، پس مجھے اس میں اجر عطا فرما اور اس کا بہترین متبادل عطا فرما) سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: پس جب سیدنا ابو سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے عوض میں مجھے بہترین خاوند عطا کیا۔
Takhreej
(۹۴۲۱) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۳۵۱۱، وابن ماجہ: ۱۵۹۸ (انظر: ۱۶۳۴۳)
Explanation
فوائد:… سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اپنے خاوند سیدنا ابو سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کے بعد ام المؤمنین بن گئی تھیں۔
9421
Sahih
مصیبت میں مبتلاہونے والے کی دعا کا بیان
۔ (۹۴۲۲)۔ وَعَنْھَا اَیْضًا، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَا مِنْ عَبْدٍ تُصِیْبُہُ مُصِیْبَۃٌ فیَقُوْلُ: {اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ} اَللّٰھُمَّ أْجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاخْلُفْ لِیْ خَیْرًا مِنْھَا، اِلَّا اَجَرَہُ اللّٰہُ فِیْ مُصِیْبَۃٍ وَاَخْلَفَ لَہُ خَیْرًا مِنْھَا۔)) قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّیَ اَبُوْسَلَمَۃَ قُلْتُ: مَنْ خَیْرٌ مِّنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَتْ: ثُمَّ عَزَمَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لِیْ فَقُلْتُھَا: اَللّٰھُمَّ أْجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاخْلُفْ لِیْ خَیْرًا مِّنْھَا، قَالَتْ: فَتَزَوَّجْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔(مسند احمد: ۲۷۱۷۰)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو بندہ کسی مصیبت میں مبتلا ہونے کے بعد یہ دعا پڑھتا ہے: {اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ} اَللّٰھُمَّ أْجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاخْلُفْ لِیْ خَیْرًا مِنْھَا۔ (بیشک ہم اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور بیشک ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں، اے اللہ! مجھے میری مصیبت میں اجر اور بہترین متبادل عطا فرما)تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کی مصیبت میں اجر دیتا ہے اور اس کو بہترین متبادل عطا کرتا ہے۔ پس جب میرے خاوند سیدنا ابو سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہوئے اور میں نے کہا: صحابی ٔ رسول ابو سلمہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے، لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے طاقت اور برداشت عطا کی اور میں نے یہ دعا کرتے ہوئے کہا: اے اللہ! مجھے میری مصیبت میں اجر دے اور مجھے اس کا بہترین متبادل عطا فرما، پس میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شادی کر لی۔
Takhreej
(۹۴۲۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۹۱۸ (انظر: ۲۶۶۳۵)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ مبتلائے مصیبت کو یہ دعا پڑھنی چاہیے: اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، اَللّٰھُمَّ أْجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاخْلُفْ لِیْ خَیْرًا مِنْھَا۔ جو احادیث ِ مبارکہ پہلے گزر چکی ہیں، ان سے پتہ چلتا ہے کہ اس دعا کے شروع میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کا اضافہ کرنا چاہیے۔
9422
Sahih
مصیبت میں مبتلاہونے والے کی دعا کا بیان
۔ (۹۴۲۳)۔ عَنِ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ وَلَا مُسْلِمَۃٍیُصَابُ بِمُصِیْبَۃٍ فَیَذْکُرُھَا، وَاِنْ طَالَ عَھْدُھَا (وَفِیْ لَفْظٍ) وَاِنْ قَدُمَ عَھْدُھَا فَیُحَدِّثُ لِذٰلِکَ اِسْتِرْجَاعًا اِلَّا جَدَّدَ اللّٰہُ لَہُ عِنْدَ ذَالِکَ فَاَعْطَاہُ مِثْلَ اَجْرِھَا یَوْمَ اُصِیْبَ بِھَا۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۴)
۔ سیدنا حسین بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان مرد اور عورت کو کوئی تکلیف پہنچی ہو، اگرچہ اس کو کافی زمانہ گزر چکا ہو، پھر وہ نئے سرے سے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کہتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس پر پہلی حالت کو واپس کرتا ہے اور اس کو اُتنا اجر عطا کر دیتا ہے، جتنا مصیبت والے دن عطا کیا تھا۔
Takhreej
(۹۴۲۳) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، ھشام بن ابی ھشام متروک، وامہ لایعرف حالھا، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۶۰۰ (انظر: ۱۷۳۴)
9423
Zaeef

Chapters

12
01
اس چیز کا بیان کہ انبیاء سب سے زیادہ آزمائش والے ہوتے اور پھر دوسرے نیکوکار
14 Hadith
02
ناپسندیدہ امور پر مطلق طور پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
03
مطلق طور پر ہر بیماری پر صبر کرنے کی ترغیب، اگرچہ وہ انسان کے کسی عضو میں ہو اور اس کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
04
بخار اور درد سر پر صبر کرنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
05
مرگی کی بیماری پر صبر کرنے کی ترغیب کرنے اور اس کے ثواب کا بیان
2 Hadith
06
آنکھوں سے محروم ہو جانے پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
6 Hadith
07
اس چیز کا بیان کہ جس آدمی کو بیماری نیک عمل کرنے سے روک دے، اس کے لیے اس عمل کا ثواب لکھا جاتا ہے
4 Hadith
08
جس کو دنیا میں آزمایا نہیں گیا، اس کے غیر مقبول ہونے کا بیان
2 Hadith
09
بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
26 Hadith
10
سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا اپنے خاوند سیدنا ابو طلحہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ اس وقت کے قصے کا بیان، جب ان کا بیٹا فوت ہوا تھا
2 Hadith
11
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان بیشک صدمہ کی ابتداء میں صبر ہوتا ہے کا بیان
1 Hadith
12
مصیبت میں مبتلاہونے والے کی دعا کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.