TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1139 - نماز عصر کی فضیلت اور اس کے نمازِ وسطی ہونے کا بیان - نمازوں کے اوقات کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 7 of 9 in this chapter
نماز عصر کی فضیلت اور اس کے نمازِ وسطی ہونے کا بیان
۔ (۱۱۳۹)۔عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلصَّلَاۃُ الْوُسْطٰی صَلَاۃُ الْعَصْرِ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۴۱۷)
سیدنا سمرہ بن جندب ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: صلاۃِ وُسْطٰی، نمازِ عصر ہی ہے۔
1139
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۱۳۹) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الترمذی: ۱۸۲، ۲۹۸۳ (انظر: ۲۰۱۵۵)

Related Chapters

1,984
1
نمازِ فجر اور نمازِ عصر کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
2
(16) CHAPTER. Superiority of the Asr prayer.
نماز عصر کی فضیلت کے بیان میں
Sahih Bukhari
3
Chapter: The evidence for those who say that “the middle prayer” is the `Asr prayer
ان کی دلیل جو کہتے ہیں الصلاۃ الوسطیٰ (درمیان کی نماز)عصر کی نماز ہے
Sahih Muslim
4
Chapter: The virtue of the Subh and the `Asr prayers, and of maintaining them
صبح اور عصر کی نماز کی فضیلت اور ان کی حفاظت
Sahih Muslim
5
نماز عصر کی فضیلت کا بیان۔
Sunnan Nisai
6
Chapter: What Has Been Related About Delaying The Asr Prayer
باب: نماز عصر دیر سے پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: Virtue Of Performing Salat at the Beginning Of Its Prescribed Time
باب: اول وقت میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: : What Has Been Related About Salatul-Wusta [And It Has Been Said That It Is Zuhr]
باب: صلاۃ وسطیٰ ہی صلاۃ عصر ہے، ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ صلاۃ ظہر ہے
Jam e Tirmazi
9
Chapter: : What Has Been Related About Prayer After Asr And After Fajr Is Disliked
باب: عصر اور فجر کے بعد نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: : What Has Been Related About Salat After Asr
باب: عصر کے بعد نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of The Five Prayers
باب: پنج وقتہ نمازوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About the Virtue Of Salat In Congregation
باب: باجماعت نماز کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About The Salat Performed In Masjid Quba
باب: مسجد قباء میں نماز کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Sitting In The Masjid And Waiting For The Salat
باب: مسجد میں بیٹھنے اور نماز کے انتظار کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Six Voluntary Rak'ah After Al-Maghrib
باب: مغرب کے بعد نفل نماز اور چھ رکعت پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Voluntary Salat In The House
باب: نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Al-Witr
باب: نماز وتر کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Salat For A Funeral
باب: نماز جنازہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About The Scaredness Of Salat
باب: نماز کے تقدس و فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
20
بَاب الْجَمَاعَة وفضلها
با جماعت نماز اور اس کی فضیلت کا بیان
Mishkat
21
وضو، مسجدوںکی طرف چلنے اور اِس وضو سے نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
22
وضو اور اس کے بعد پڑھی جانے والی نماز کی فضیلت
Musnad Ahmad
23
پانچ نمازوں کی فضیلت کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ یہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں
Musnad Ahmad
24
علی الاطلاق نماز کی فضیلت کے بارے میں
Musnad Ahmad
25
نماز کے انتظار اور مسجدوں کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
26
نفلی نماز کی فضیلت اور نوافل کے ذریعے فرائض کی کمی کو پورا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
27
نمازِ عصر کو ترک کرنے والے اور اس کو اس کے وقت سے مؤخر کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
28
فجر اور عشا کی نمازوں کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
29
نمازِ فجر سے طلوع آفتاب تک (جائے نماز پر) بیٹھے رہنے کی فضیلت
Musnad Ahmad
30
فجر اور عصر کی نمازوں کے بعد مزید نماز پڑھنے سے نہی کا بیان
Musnad Ahmad
31
عصر کے بعد مزید دو رکعت نماز پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
32
نمازی کا نماز کے بعد نماز والی جگہ میں ہی بیٹھنے رہنا، اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
33
نفل نماز کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ یہ فرض نماز میں ہو جانے والی کمی پوری کرتی ہے
Musnad Ahmad
34
نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
35
عصر کی سنن رواتب اور ان کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
36
رات کی نماز کی فضیلت، اس کی ترغیب اور اس کے افضل وقت کا بیان
Musnad Ahmad
37
یہ باب نماز تروایح کی فضیلت کے بارے میں ہے اور اس بارے میں کہ نماز تراویح سنت ہے واجب نہیں ہے
Musnad Ahmad
38
جب فتنوں کا اندیشہ ہو تو عورتوں کو مسجد میں نہ جانے دینے کا بیان اورگھروں میں ان کی نماز کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
39
نماز جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
40
مسجد قباء اور اس میں نماز کی فضیلت اور مسجد فضیخ کا بیان
Musnad Ahmad
41
(5) CHAPTER. Superiority of offering As-Salat (the prayer) at the stated times.
نماز وقت پر پڑھنے کی فضیلت کے بارے میں
Sahih Bukhari
42
(12) CHAPTER. To delay the Zuhr (prayer) up to the Asr (prayer) time.
اس بارے میں کہ کبھی ظہر کی نماز عصر کے وقت تک تاخیر کر کے پڑھی جا سکتی ہے
Sahih Bukhari
43
(13) CHAPTER. The time of the Asr prayer.
نماز عصر کے وقت کا بیان
Sahih Bukhari
44
(14) CHAPTER. The sin of one who misses the Asr prayer (intentionally).
اس بیان میں کہ نماز عصر چھوٹ جانے پر کتنا گناہ ہے ؟
Sahih Bukhari
45
(15) CHAPTER. One who omits (does not offer) the Asr prayer (intentionally).
اس بیان میں کہ نماز عصر چھوڑ دینے پر کتنا گناہ ہے ؟
Sahih Bukhari
46
(17) CHAPTER. Whoever got (or was able to offer) only one Raka of the Asr prayer before sunset.
جو شخص عصر کی ایک رکعت سورج ڈوبنے سے پہلے پہلے پڑھ سکا تو اس کی نماز ادا ہوگئی
Sahih Bukhari
47
(22) CHAPTER. Superiority of the lsha prayer.
نماز عشاء ( کے لیے انتظار کرنے ) کی فضیلت
Sahih Bukhari
48
(26) CHAPTER. Superiority of the Fajr (early morning) prayer.
نماز فجر کی فضیلت کے بیان میں
Sahih Bukhari
49
(32) CHAPTER. Whoever did not dislike to offer optional prayers except after the compulsory prayers of Asr and Fajr only.
اس شخص کی دلیل جس نے فقط عصر اور فجر کے بعد نماز کو مکروہ رکھا ہے
Sahih Bukhari
50
(33) CHAPTER. To offer the missed Salat (prayers) and the like after the Asr prayer.
عصر کے بعد قضاء نمازیں یا اس کے مانند مثلاً جنازہ کی نماز وغیرہ پڑھنا
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

26
Musnad Ahmad
80
۔ (۸۰)۔عَنْ زِیَادِ بْنِ نُعَیْمِ نِ الْحَضْرَمِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَرْبَعٌ فَرَضَہُنَّ اللّٰہُ فِی الْاِسْلَامِ فَمَنْ جَائَ بِثَلَاثٍ لَمْ یُغْنِیْنَ عَنْہُ شَیْئًا حَتَّی یَأْتِیَ بِہِنَّ جَمِیْعًا، اَلصَّلَاۃُ وَ الزَّکَاۃُ وَ صِیَامُ رَمَضَانَ وَ حَجُّ الْبَیْتِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۹۴۲)
زیاد بن نعیم حضرمی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: چار چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو اسلام میں فرض کیا ہے، جو بندہ ان میں تین ادا کرے گا، تو وہ اسے اس وقت تک کچھ کفایت نہیں کریں گی، جب تک وہ اِن سب کی ادائیگی نہیں کرے گا، وہ چار امور یہ ہیں: نماز، زکوۃ، رمضان کے روزے اور بیت اللہ کا حج۔
Musnad Ahmad
1010
۔ (۱۰۱۰)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلصَّلَاۃُ اِلَی الصَّلَاۃِ الَّتِیْ قَبْلَہَا کَفَّارَۃٌ، وَالْجُمْعَۃُ اِلَی الْجُمُعَۃِ الَّتِیْ قَبْلَہَا کَفَّارَۃٌ، وَالشَّہْرُ اِلَی الشَّہْرِ الَّذِیْ قَبْلَہُ کَفَّارَۃٌ اِلَّامِنْ ثَـلَاثٍ۔)) قَالَ: فَعَرَفْنَا أَ نَّہُ أَمْرٌ حَدَثَ، ((اِلَّا مِنَ الشِّرْکِ بِاللّٰہِ وَنَکْثِ الصَّفْقَۃِ وَ تَرْکِ السُّنَّۃِ۔)) قَالَ: ((أَمَّا نَکْثُ الصَّفْقَۃِ فَاَنْ تُعْطِیَ رَجُلًا بَیْعَتَکَ ثُمَّ تُقَاتِلَہُ بِسَیْفِکَ، وَأَمَّا تَرْکُ السُّنَّۃِ فَالْخُرُوْجُ مِنَ الْجَمَاعَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۵۸۴)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نماز پچھلی نماز تک کفارہ ہے، جمعہ پچھلے جمعہ تک کفارہ ہے اور ماہِ رمضان پچھلے مہینے تک کفارہ ہے، مگر تین گناہوں سے۔ ہم نے پہچان لیا کہ کوئی نئی صورتِ حال واقع ہوئی ہے، مگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، معاہدے کو توڑنا اور سنت کو ترک کرنا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: معاہدے کو توڑنا یہ ہے کہ تو کسی آدمی سے عہد و پیمان کرے، لیکن پھر تو تلوار کے ساتھ اس کے ساتھ لڑنا شروع کر دے، اور سنت کو ترک کرنے سے مراد جماعت سے خارج ہونا ہے۔
Musnad Ahmad
1050
۔ (۱۰۵۰)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْروٍؓ أَنَّ رَجُلًا جَائَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَأَلَہُ عَنْ أَفْضَلِ الْأَعْمَالِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اَلصَّلَاۃُ)) قَالَ: ثُمَّ مَہْ؟ قَالَ: (اَلصَّلَاۃُ۔)) قَالَ: ثُمَّ مَہْ؟ قَالَ: ( اَلصَّلَاۃُ) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: فَلَمَّا غَلَبَ عَلَیْہِ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اَلْجِہَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔)) قَالَ الرَّجُلُ: فَاِنَّ لِیْ وَالِدَیْنِ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((آمُرُکَ بِالْوَالِدَیْنِ خَیْرًا۔)) قَالَ: وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ نَبِیًّا لَأُجَاہِدَنَّ وَلَأَتْرُکَنَّہُمَا، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَنْتَ أَعْلَمُ۔)) (مسند أحمد: ۶۶۰۲)
سیدنا عبداللہ بن عمرو ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور اس نے سب سے افضل عمل کا سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نماز۔ اس نے کہا: پھر کون سے ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نماز۔ اس نے کہا: پھر کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نماز۔ ایسے تین دفعہ ہوا، پھر جب اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر زیادہ سوالات کیے توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا۔ اس آدمی نے کہا: میرے والدین بھی زندہ ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں تجھے والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیتا ہوں۔ اس نے کہا: اس ذات کی قسم، جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! میں ضرور ضرور جہاد کروں گا اور ضرور ضرور ان کو چھوڑ دوں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو خود زیادہ جانتا ہے۔
Musnad Ahmad
1054
۔ (۱۰۵۴)۔عَنْ أُمِّ فَرْوَۃَؓ وَکَانَتْ قَدْ بَایَعَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ أَفْضَلِ الْعَمَلِ، فَقَالَ: ((اَلصَّلَاۃُ لِأَوَّلِ وَقْتِہَا۔)) (مسند أحمد: ۲۷۶۴۵)
سیدہ ام فروہ ؓ، جنھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیعت کی تھی، کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے افضل عمل کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نمازکو اس کے اول وقت میں ادا کرنا۔
Musnad Ahmad
1077
۔ (۱۰۷۷)۔عَنْ عَلِیٍّؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ثَلَاثَۃٌ یَا عَلِیُّ لَا تُؤَخِّرُہُنَّ، اَلصَّلَاۃُ اِذَا اَتَتْ وَالْجَنَازَۃُ اِذَا حَضَرَتْ وَالْأَیِّمُ اِذَا وَجَدْتَ کُفُوًا۔)) (مسند أحمد: ۸۲۸)
سیدنا علیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اے علی! تین چیزوں کو لیٹ نہیں کرنا، نماز جب اس کا وقت آ جائے، جنازہ جب حاضر ہو جائے اوروہ عورت کہ جس کا خاوند نہ، جب تو اس کے لیے کوئی مناسب آدمی پا لے۔
Musnad Ahmad
1099
۔ (۱۰۹۹)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَعْنَاہُ وَفِیْہِ: ((وَصَلَّی الصُّبْحَ حِیْنَ کَادَتِ الشَّمْسُ تَطْلُعُ، ثُمَّ قَالَ: اَلصَّلَاۃُ فِیْمَا بَیْنَ ہٰذَیْنِ الْوَقْتَیْنِ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۲۶۹)
سیدنا ابو سعید خدری ؓ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: اور (دوسرے دن) نمازِ فجر اس وقت پڑھائی کہ قریب تھا کہ سورج طلوع ہو جائے اور پھر کہا: اِن دو وقتوں کے درمیان نماز کا وقت ہے۔
Musnad Ahmad
1267
۔ (۱۲۶۷)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ) وَزَادَ ثُمَّ أَمَرَ بِالتَّأْ ذِیِن فَکَانَ بِلَالٌ مَوْلیٰ أَبیِ بَکْرٍ یُؤَذِّنُ بِذَالِکَ وَیَدْعُوْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَی الصَّلَاۃِ قَالَ، فَجَائَ ہُ فَدَعَاہُ ذَاتَ غَدَاۃٍ إِلَی الفَجْرِ، فَقِیلَ لَہُ إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَائِمٌ، قَالَ فَصَرَخَ بِلَالٌ بِأَعْلٰی صَوْتِہِ: اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ ، قَالَ سَعِیدُ بِنْ اَلْمَسَیِّبِ فَأُ دْ خِلَتْ ھَذِہِ الْکَلِمَۃُ فِی التَّأْذِینِ إِلٰی صَلَاۃِ الفَجْرِ (مسند احمد: ۱۶۵۹۱)
سیّدنا عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی دوسری سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث مروی ہے اور اس میں مزید اس چیز کا ذکر ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اذان کہنے کا حکم دے دیا۔ سیّدنا ابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے آزاد کردہ غلام سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ انہی کلمات کے ساتھ اذان کہا کرتے تھے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز کے لیے بلایا کرتے تھے۔ سیّدناعبد اللہ بن زید کہتے ہیں: بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک دن صبح کے وقت فجر کی نماز کے لیے آپ کو بلانے گئے تو انہیں بتایا گیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سوئے ہوئے ہیں تو بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بآوازِ بلند کہا: الصلاۃ خیر من النوم (نماز نیند سے بہتر ہے)۔ سعید بن مسیّبکہتے ہیں: تو یہ کلمات فجر کی اذان میں داخل کر دیے گئے۔
Musnad Ahmad
1273
۔ (۱۲۷۳) عَنْ أَبِی مَحْذُورَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ کُنْتُ اُاَذِّنُ فِیْ زَمَنِ النَّبِییً ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فیِ صَلَاۃِ الصُّبْحِ فَاِذَا قُلْتُ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ قُلْتُ اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ الصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ الْأَ ذَانَ الْأَوَّلَ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۵۲)
سیّدنا ابو محذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں صبح کی نماز کے لیے اذان کہا کرتا تھا، جب میں حَيَّ عَلَی الْفَـلَاحِ کہتا تو اَلصَّلَاۃُخَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ الصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کہتا، یہ پہلی اذان کی بات ہے۔
Musnad Ahmad
1275
۔ (۱۲۷۵) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِیْ مَحْذُوْرَۃَ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! عَلِّمْنِیْ سُنَّۃَ الْأَذَانِ فَمَسَحَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِیْ وَقَالَ: ((قُلْ: اَللّٰہُ أکْبَرُ، اللّٰہُ أکْبَرْ تَرْفَعُ بِہَا صَوْتَکَ، ثُمَّ تَـقُوْلُ أَشْہَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أشْہَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، مَرَّتَیْنِ تَخْفِضُ بِہَا صَوْتَکَ، ثُمَّ تَرْفَعُ صَوْتَکَ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، مَرَّتَیْنِ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، مَرَّتَیْنِِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، مَرَّتَیْنِ، فَإِنْ کَانَ صَلَاۃُ الصُّبْحِ قَلْتَ: اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ، اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ، اَللّٰہُ أَکْبَر اَللّٰہُ أَکْبَر لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، (زَادَفِی رِوَایَۃٍ) قَالَ وَالْإِ قَامَۃُ مَثْنٰی مَثْنٰی لَا یُرَجِّعُ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۵۳)
سیّدنا ابو محذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اذان کا طریقہ سکھائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے سر کے اگلے حصہ پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: بلند آواز سے اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہہ، پھر أَشْھَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْھَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ دو دو مرتبہ آہستہ آواز کے ساتھ کہہ، پھر اپنی آواز بلند کر کے دو دفعہ أَشْھَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ اور دو دفعہ أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، پھر دو دو مرتبہ ہی کہہ: حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ۔ اگر صبح کی نماز ہو تو اَلصَّلَاۃُخَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ، الصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلَا اللّٰہُ کہہ۔ ایک روایت میں مزید فرمایا: اقامت بغیر ترجیع کے دو دو کلمے کہے گا۔