۔ (۱۸۱۲) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((إِذَا فَرَغَ أَحَدُکُمْ مِنَ التَّشَہُّدِ الْآخِرِ فَلْیَتَعَوَّذْ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنْ عَذَابِ جَہَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ۔)) (مسند احمد: ۷۲۳۶)
سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آخری تشہد سے فارغ ہو تووہ ان چار چیزوں سے پناہ مانگا کرے: جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، موت کے فتنہ سے اورمسیح دجال کے شر سے۔
Takhreej
(۱۸۱۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۵۸۸ (انظر: ۷۲۳۷)
Explanation
فوائد:… مَسِیْح کے مختلف معانییہ ہیں:(۱)اس سے مراد مَمْسْوْحُ الْعَیْن ہے، یعنی جس کی ایک آنکھ مٹی ہوئی ہو گی۔ (۲) یہ فعیل بمعنی فاعل ہے، یعنی زمین کا سروے کرنے والا۔ (۳) اس سے مراد بھینگا ہے۔ دَجَّال کا مادہ دجل ہے، جس کے معانی ڈھانپنے کے ہیں، اس کی وجہ تسمیہیہ ہے کہ دجال اپنے باطل کے ذریعے حق پر پردہ ڈال دے گا۔
1812
Sahih