TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کے بعد تعوذ اور دعا کا بیان - نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کے بعد تعوذ اور دعا کا بیان - تشہد کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of تشہد کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 4 · 9 Hadith
۔ (۱۸۱۲) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا فَرَغَ أَحَدُکُمْ مِنَ التَّشَہُّدِ الْآخِرِ فَلْیَتَعَوَّذْ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنْ عَذَابِ جَہَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ۔)) (مسند احمد: ۷۲۳۶)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آخری تشہد سے فارغ ہو تووہ ان چار چیزوں سے پناہ مانگا کرے: جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، موت کے فتنہ سے اورمسیح دجال کے شر سے۔
Takhreej
(۱۸۱۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۵۸۸ (انظر: ۷۲۳۷)
Explanation
فوائد:… مَسِیْح کے مختلف معانییہ ہیں:(۱)اس سے مراد مَمْسْوْحُ الْعَیْن ہے، یعنی جس کی ایک آنکھ مٹی ہوئی ہو گی۔ (۲) یہ فعیل بمعنی فاعل ہے، یعنی زمین کا سروے کرنے والا۔ (۳) اس سے مراد بھینگا ہے۔ دَجَّال کا مادہ دجل ہے، جس کے معانی ڈھانپنے کے ہیں، اس کی وجہ تسمیہیہ ہے کہ دجال اپنے باطل کے ذریعے حق پر پردہ ڈال دے گا۔
1812
Sahih
۔ (۱۸۱۳) عَنِ ابْنِ طَاؤُوْسٍ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّہُ کَانَ یَقُوْلُ بَعْدَ التَّشَہُّدِ فِی الْعِشَائِ الْآخِرَۃِ کَلِمَاتٍ کَانَ یُعَظِّمُھُنَّ جِدَّا، یَقُولُ: أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ جَہَنَّمَ، وَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَاوَ الْمَمَاتِ، قَالَ: کَانَ یُعَظِّمُہُنَّ وَیَذْکُرُھُنَّ عَنْ عَائِشَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۶۷)
جناب طاؤوس نمازِ عشاء میں آخری تشہد کے بعد یہ کلمات پڑھتے تھے اور ان کو بہت عظیم سمجھتے تھے: أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ جَہَنَّمَ، وَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَاوَ الْمَمَاتِ۔ (میںجہنم کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور میں مسیح دجال کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور میں قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اورمیںزندگی و موت کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔) وہ ان کو عظیم سمجھتے تھے اور ان کو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے حوالے سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کرتے تھے۔
Takhreej
(۱۸۱۳) تخریج: حدیث صحیح، لیکن عشاء کی نماز کی قید لگانا صحیح نہیں ہے۔ لم یسمع ابن جریج من ابن طاووس الا حدیثا فی محرم اصاب ذرات۔ أخرجہ عبد الرزاق: ۳۰۸۶، وابن خزیمۃ: ۷۲۲ (انظر: ۲۵۶۴۸)
1813
Sahih
۔ (۱۸۱۴) عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ أَنَّ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخْبَرَتْہُ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَدْعُوْ فِی الصَّلاَۃِ: ((اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَفِتْنَۃِ الْمَمَاتَ، اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ۔)) قَالَتْ: فَقَالَ لَہُ قَائِلٌ: مَا أَکْثَرَمَا تَسْتَعِیْذُ مِنَ الْمَغْرَمِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ فَقَالَ: ((إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَکَذَبَ وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ۔)) (مسند احمد: ۲۵۰۸۵)
سیدناعروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ زوجۂ رسول سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے ان کو بتایا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز میں یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَفِتْنَۃِ الْمَمَاتَ، اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ۔ (اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے اور میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کے فتنے سے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں گناہ اور قرض سے)۔ کسی آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ آپ قرض سے بہت زیادہ پناہ مانگتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب آدمی مقروض ہوتا ہے تو بات کرتا ہے لیکن جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے لیکن اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
Takhreej
(۱۸۱۴) تخریج: أخرجہ بتمامہ و مختصرا البخاری: ۸۳۲، ۲۳۹۷، ومسلم: ۵۸۹ (انظر: ۲۴۵۷۸)
1814
Sahih
۔ (۱۸۱۵) عَنْ أَبِیْ صَالِحٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِرَجُلٍ: ((کَیْفَ تَقُوْلُ فِی الصَّلاَۃِ؟)) قَالَ: أَتَشَہَّدُ ثُمَّ أَقُوْلُ: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ الْجَنَّۃَ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنَ النَّاِر، أَمَا إِنِّیْ لَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَکَ وَلاَ دَنْدَنَۃَ مُعَاذٍ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حَوْ لَھُمَا نْدَنْدِنُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۹۳)
ایک صحابی ٔ رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی سے پوچھا: تو نماز میں کیا کہتا ہے؟ اس نے کہا: میں پہلے تشہد پڑھتا ہوں پھر اس طرح دعا کرتا ہوں کہ اے اللہ میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور آگ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ مجھ سے آپ اور معاذ کے گنگنانے کی طرح نہیں گنگنایا جا سکتا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم بھی ان کے گرد ہی گنگناتے ہیں۔
Takhreej
(۱۸۱۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ ابوداود: ۷۹۲، وابن ماجہ: ۹۱۰، ۳۸۴۷ (انظر: ۱۵۸۹۸)
Explanation
فوائد:… دَنْدَنَہ (گنگنانا) ایسے کلام کو کہتے ہیں، جس کو سمجھا نہ جا سکے، اس صحابی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی دعاؤںکو دندنہ اس بنا پر کہا کہ وہ یا تو بدو ہونے کی وجہ سے ان کو نہ سمجھ سکا یا پھرنہ سمجھنے کی وجہ یہ ہے کہ سرّی آواز میں ان کو پڑھا جاتا تھا، معلوم ایسے ہوتا تھا کہ یہ صحابی سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقتدیوںمیں سے تھا، تبھی تو ان کا بطورِ خاص ذکر کیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم بھی ان کے گرد ہی گنگناتے ہیں۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ہماری دعاؤں کا لب لباب بھییہی ہوتا ہے کہ اچھی چیز کی طلب کا اور بری چیز سے بچنے کا سوال کیا جائے۔
1815
Sahih
۔ (۱۸۱۶) عَنْ مِحْجِنِ بْنِ الْأَدْرَعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا ھُوَ بِرَجُلٍ قَدْ قَضٰی صَلَاتَہُ وَھُوَ یَتَشَہَّدُ وَھُوَ یَقُوْلُ: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ یَا اللَّہُ الْوَاحِدُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہُ کُفُوًا أَحَدٌ أَنْ تَغْفِرَلِیْ ذُنُوْبِیْ إِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ۔ قَالَ: فَقَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَدْغُفِرَ لَہُ، قَدْغُفِرَلَہُ، قَدْغُفِرَلَہُ۔)) ثَلاَثَ مَرَّاتٍ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۸۳)
سیدنا محجن بن ادرع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور دیکھا کہ ایک آدمی اپنی نماز پوری کر کے تشہد میں یہ دعا کر رہا ہے: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ یَا اللَّہُ الْوَاحِدُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِی لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْیَکُنْ لَّہُ کُفُوًا أَحَدٌ أَنْ تَغْفِرَلِیْ ذُنُوْبِیْ إِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ۔ (اے اللہ! بیشک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اے اللہ! جو یکتا و یگانہ ہے، بے نیاز ہے، جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا اور کوئی بھی اس کا ہم سر نہیں ہے، یہ کہ تو میرے لیے میرے گناہ بخش دے، بیشک تو بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلاشبہ اسے بخش دیا گیا ہے ، بلاشبہ اسے بخش دیا گیا ہے۔ بلاشبہ اسے بخش دیا گیا ہے۔ یعنی تین مرتبہ فرمایا۔
Takhreej
(۱۸۱۶) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود ۹۸۵ (انظر: ۱۸۹۷۴)
Explanation
فوائد:… آخری دو احادیث سے معلوم ہوا کہ تشہد میں کوئی بھی پسندیدہ دعا کی جا سکتی ہے، سابقہ ابواب میں بھی اس مسئلہ کی توضیح موجود ہے، مزید دعاؤں کا ذکر آنے والے دوسرے باب میں آئے گا۔
1816
Sahih
۔ (۱۸۱۷) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ أَبْزٰی عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا جَلَسَ فِی الصَّلاَۃِ فَدَعَا وَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی فِخَذِہِ ثُمَّ کَانَ یُشِیْرُ بِإِصْبَعِہِ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۴۴)
سیدناعبد الرحمن بن ابزی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب نماز میں بیٹھ کر دعا کرتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنی ران پر رکھتے پھر انگلی کے ساتھ اشارہ کرتے۔
Takhreej
(۱۸۱۷) تخریج: حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف، ولہ شواھد (انظر: ۱۵۳۶۸، ۱۵۳۷۰)
1817
Sahih
۔ (۱۸۱۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُشِیْرُ بِإِصْبَعِہِ السَّبَّاحَۃِ فِی الصَّلاَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۴۲)
۔ (دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز میں انگشت ِ شہادت کے ساتھ اشارہ کرتے تھے۔
Takhreej
(۱۸۱۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
1818
Sahih
۔ (۱۸۱۹) عَنْ مَالِکِ بِنْ نُمَیْرٍ الْخُزَاعِیِّ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ قَاعِدٌ فِی الصَّلاَۃِ قَدْ وَضَعَ ذِرَاعَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُمْنٰی رَافِعًا بِاِصْبَعِہِ السَّبَّابَۃِ قَدْ حَنَأَھَا شَیْئًا وَھُوَ یَدْعُوْ۔ (مسند احمد: ۱۵۹۶۰)
سیدنانمیر خزاعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز میں بیٹھے ہوئے تھے اور دایاں بازو دائیں ران پر رکھا ہوا تھا اور انگشت ِ شہادت کو اٹھا کر دعا کر رہے تھے، جبکہ اس انگلی کو کچھ جھکایا ہوا تھا۔
Takhreej
(۱۸۱۹) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، دون قولہ: قد حناھا شیئا، وھذا اسناد ضعیف۔ مالک بن نمیر الخزاعی البصری، قال الدارقطنی: یعتبر بہ، وقال یحییٰ القطان: لایعرف حالہ، وقال الذھبی: لا یعرف۔ أخرجہ ابوداود: ۹۹۱، و النسائی: ۳/ ۳۹ ، وابن ماجہ: ۹۱۱ (انظر: ۱۵۸۶۶)
1819
Sahih
۔ (۱۸۲۰) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَرَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِسَعْدٍ وَھُوَ یَدْعُوْ بِاِصْبَعَیْنِ فَقَالَ: ((أَحِّدْ یَاسَعْدُ!)) (مسند احمد: ۱۲۹۳۲)
سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ دو انگلیوں کے ساتھ دعا کر رہے تھے توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے سعد! ایک کے ساتھ دعا کرو۔
Takhreej
(۱۸۲۰) تخریج: صحیح لغیرہ، وھذا الاسناد ضعیف لابھام الراوی عن انس (انظر: ۱۲۹۰۱)
Explanation
فوائد:… باب تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت،انگشت ِ شہادت سے اشارہ کرنے کا اور دوسرے امور کا بیان کے آخر میں دوران تشہد انگشت ِ شہادت سے اشارہ کرنے کے بارے میں مکمل تفصیل کی وضاحت کی جا چکی ہے۔
1820
Sahih