TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نماز میں جامع منقول دعاؤں کا بیان - نماز میں جامع منقول دعاؤں کا بیان - تشہد کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of تشہد کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 4 · 5 Hadith
۔ (۱۸۲۱) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍوعَنْ أَبِیْ بَکْرٍ الصِّدِّیْقِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : عَلِّمْنِیْ دُعَائً أَدْعُوْ بِہِ فِیْ صَلاَتِیْ، قَالَ: ((قُلْ: اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ ظُلْمًا کَثِیْرًا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ کَبِیْرًا بَدْلَ کَثِیْرًا) وَلَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلاَّ أَنْتَ فَاغْفِرْ لِیْ مَغْفِرَۃً مِّنْ عِنْدِکَ وَارْحَمْنِیْ إِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُوْرُالرَّحِیْمُ۔)) (مسند احمد: ۲۸)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدناابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: مجھے کسی دعا کی تعلیم دیں تاکہ اسے نماز میں پڑھ سکوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ دعا پڑھا کرو: اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ ظُلْمًا کَثِیْرًا وَّلاَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلاَّ أَنْتَ فَاغْفِرْ لِیْ مَغْفِرَۃً مِّنْ عِنْدِکَ وَارْحَمْنِیْ إِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُوْرُالرَّحِیْمُ۔ (اے اللہ! بلاشبہ میں نے اپنے نفس پر بہت زیادہ ظلم کیا ہے اورتیرے علاوہ گناہوں کو بخشنے والا کوئی نہیں ہے، سو تو مجھے بخش دے اپنی طرف سے بخش دینا اور مجھ پر رحم کر بلاشبہ تو ہی بخشنے والا اوررحم کرنے والا ہے)۔
Takhreej
(۱۸۲۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۸۳۴، ۶۳۲۶، ومسلم: ۲۷۰۵ (انظر: ۸)
1821
Sahih
۔ (۱۸۲۲) عَنْ أَبِیْ مِجْلَزٍ قَالَ: صَلّٰی بِنَا عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ صَلَاۃ فَأَوْجَزَ فِیْہَا فَأَنْکَرُوْا ذٰلِکَ، فَقَالَ: أَلَمْ أُتِمَّ الرُّکُوْعَ وَالسُّجُوْدَ؟ قَالُوْا: بَلٰی، قَالَ: أَمَا إِنِّیْ دَعَوْتُ فِیْہَا بِدُعَائٍ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدْعُوْ بِہِ: ((اَللّٰہُمَّ بِعِلْمِکَ الْغَیْبِ وَقُدْرَتِکَ عَلَی الْخَلْقِ أَحْیِنِیْ مَاعَلِمْتَ الْحَیَاۃَ خَیْرًا لِّیْ وَتَوَفَّنِیْ إِذَا کَانَتِ الْوَفَاۃُ خَیْرًا لِّیْ، أَسْأَلُکَ خَشْیَتَکَ فِی الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ وَکَلِمَۃَ الْحَقِّ فِی الْغَضَبِ وَالرِّضَا، وَالْقَصْدَ فِی الْفَقْرِ وَالْغِنٰیَ، وَلَذَّۃَ النَّظْرِ إِلٰی وَجْہِکَ وَالشَّوْقَ إِلٰی لِقَائِکَ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ ضَرَّائَ مُضِرَّۃٍ وَمِنْ فِتْنَۃٍ مُضِلَّۃٍ، اَللّٰہُمَّ زَیِّنَّا بِزِیْنَۃِ الإِْ یْمَانِ وَاجْعَلْنَا ھُدَاۃً مَھْدِیِّیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۱۵)
ابو مجلز کہتے ہیں: سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں ایک نماز پڑھائی، انھوں نے اس میں اختصار کیا، اس لیے لوگوں نے اس چیز کا انکار کیا،لیکن انھوں نے کہا: کیا میں نے رکوع وسجود کو پوری طرح ادا نہیں کیا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، پھر انھوں نے کہا: میں نے تو اس نماز میں ایسی دعا کی ہے، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پڑھتے تھے، وہ دعا یہ ہے: اَللّٰہُمَّ بِعِلْمِکَ الْغَیْبِ وَقُدْرَتِکَ …… وَالشَّہَادَۃِ وَکَلِمَۃَ الْحَقِّ فِی الْغَضَبِ وَالرِّضَا، وَالْقَصْدَ فِی الْفَقْرِ وَالْغِنٰیَ، وَلَذَّۃَ النَّظْرِ إِلٰی وَجْہِکَ وَالشَّوْقَ إِلٰی لِقَائِکَ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ ضَرَّائَ مُضِرَّۃٍ وَمِنْ فِتْنَۃٍ مُضِلَّۃٍ، اَللّٰہُمَّ زَیِّنَّا بِزِیْنَۃِ الإِْ یْمَانِ وَاجْعَلْنَا ھُدَاۃً مَھْدِیِّیْنَ۔ (اے اللہ! میں تیرے علم غیب اور مخلوق پر تیری قدرت کی وجہ سے تجھ (سے سوال کرتا ہوں کہ) جب تک تو میرے لئے زندگی کو بہتر سمجھے مجھے زندہ رکھ اور جب میرے لئے وفات بہتر ہو تو مجھے فوت کر دینا، میں تجھ سے خلوت اور جلوت (دونوں حالتوں میں) میں تیری خشیت کا، غصے اور خوشی میں کلمۂ حق کہنے کا، فقیری اورمالداری میں میانہ روی اختیار کرنے کا، تیرے چہرے کی طرف دیکھنے کی لذت کا اور تیری ملاقات کا شوق رکھنے کا سوال کرتا ہوں۔ اور میں نقصان پہنچانے والی مصیبت سے اور گمراہ کرنے والے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ ہمیں ایمان کی زینت سے مزین کر دے اور ایسے رہنما بنا دے جو خود بھی ہدایتیافتہ ہوں)۔
Takhreej
(۱۸۲۲) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ النسائی: ۳/۵۵ (انظر: ۱۸۳۲۵)
Explanation
فوائد:… حدیث ِ مبارکہ کے ابتدائی حصے پر غور کریں، اگر رکوع و سجود مکمل ہوں تو قیام میں تخفیف کر لینے میں کوئی حرج نہیں، پھر سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے واضح کیا کہ ٹھیک ہے کہ اس نے لمبا قیام تو نہیں کیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے منقول ایسی دعا بھی تو کی ہے، جو بڑی خیر پر مشتمل ہے۔
1822
Sahih
۔ (۱۸۲۳) عَنْ زَاذَانَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ صَلاَۃٍ وَھُوَ یَقُوْلُ: ((رَبِّ اغْفِرْلِیْ۔)) قَالَ شُعْبَۃُ: أَوْقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ وَتُبْ عَلَیَّ إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُوْرُ۔)) مِائَۃَ مَرَّۃِ۔ (مسند احمد: ۲۳۵۳۷)
ایک انصاری صحابی ٔ رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز میں یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ وَتُبْ عَلَیَّ إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُوْرُ۔ (اے اللہ! مجھے بخش دے اور میری توبہ قبول کر، کیونکہ تو ہی توبہ قبول کرنے والا بخشنے والا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سو دفعہ یہ دعا پڑھی۔
Takhreej
(۱۸۲۳) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ النسائی: ۱۰۳، وابن ابی شبیۃ: ۱۰/ ۲۳۴ (انظر: ۲۳۱۵۰)
Explanation
فوائد:… ہمیں بھی اپنی نمازوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ ہماری جلد بازی اور دین میں عدم دلچسپی نے ہمیں بہت نقصان دیا ہے۔
1823
Sahih
۔ (۱۸۲۴) عَنْ أَبِیْ السَّلِیْلِ عَنْ عَجُوْزٍ مِنْ بَنِیْ نُمَیْرٍ أَنَّہَا سَمِعَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یُصَلِّیِْ بِالنَّاسِ وَوَجْہُہُ إِلَی الْبَیْتِ، قَالَتْ فَحَفِظَتُ مِنْہُ: ((رَبِّ اغْفِرْلِیْ خَطَایَایَ وَجَہْلِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۸۱)
بنو نمیر کی ایک بڑھیا نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور آپ کا چہرہ بیت اللہ کی طرف تھا، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ دعا یاد کی: رَبِّ اغْفِرْلِیْ خَطَایَایَ وَجَہْلِیْ۔ (اے میرے رب! میرے لیے میری خطائیں اور میرے جہالت والے امور معاف کردے۔)
Takhreej
(۱۸۲۴) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، وھذا اسناد منقطع، ابو السلیل ضریب لم یسمع من احد الصحابۃ (انظر: ۱۶۵۵۵)
1824
Sahih
۔ (۱۸۲۵) عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَقِیَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَامُعَاذُ! إِنِّی لَأُحِبُّکَ۔)) فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَأَنَا وَاللّٰہِ أُحِبُّکَ، قَالَ: ((فَإِنِّیْ أُوْصِیْکَ بِکَلِمَاتٍ تَقُوْلُھُنَّ فِی کُلِّ صَلاَۃٍ: اَللّٰہُمَّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۷۷)
سیدنامعاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے ملے اور فرمایا: اے معاذ! بلاشبہ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔ میں نے جواباًکہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تجھے چند کلمات کی وصیت کرتا ہوں، تو نے ہر نماز میں ان کو پڑھنا ہے، وہ یہ ہیں: اَللّٰہُمَّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ۔ (اے اللہ! اپنا ذکر، شکر اور اچھی عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔)
Takhreej
(۱۸۲۵) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۱۵۲۲، والنسائی: ۳/ ۵۳ (انظر: ۲۲۱۱۹)
Explanation
فوائد:… عام طور پر چھوٹے کتابچوں میں اس دعا کو نماز کے بعد والے اذکار میں ذکر کیا جاتا ہے، لیکن حقیقتیہ ہے کہ اس کے بعض طرق سے ثابت ہوتا ہے کہ سلام سے پہلے کی دعا ہے، جیسا کہ اس حدیث کے الفاظ سے بھی ثابت ہو رہا ہے۔ جن روایات میں صرف دبر الصلوۃ کے الفاظ ہیں، صرف ان کو دیکھ کر یہ فیصلہ کر دیا گیا ہے کہ یہ دعا سلام کے بعد پڑھی جائے اور دوسرے طرق والے فی کل صلاۃ کے واضح الفاظ نہیں دیکھے گئے، جن سے یہ فیصلہ کرنا آسان ہو جاتا ہے کہ یہ دعا سلام سے پہلے پڑھی جائے۔ جبکہ دبر الصلاۃ کے الفاظ میں بھییہ احتمال پایا جاتا ہے کہ اس سے مراد نماز سے خارج ہونے سے پہلے کہنا ہے۔ یہ مسنون دعائیں ہیں، دیگر احادیث سے بھی بعض دعائیں ثابت ہیں، ان کے علاوہ نمازی کوئی پسندیدہ دعا بھی کر سکتا ہے، جیسا کہ پہلے اس کا بیان ہو چکا ہے۔
1825
Sahih