TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

تشہد کے ابواب - تشہد کے ابواب - Book 30 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 30 of Musnad Ahmad, with 4 chapters and 50 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

50 Hadith · 4 Chapters
اس کے الفاظ کے بارے میں ثابت ہونے والے مواد کا بیان فَصْلٌ فِیْمَا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ فصل: سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی تشہد
۔ (۱۷۷۶) عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْأَ سْوَدِ بْنِ یَزِیْدَ النَّخَعِیِّ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: عَلَّمَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم التَّشَہُّدَ فِیْ وَسْطِ الصَّلاَۃِ وَفِیْ آخِرِ ھَا، فَکُنَّا نَحْفَظُ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ حِیْنَ أَخْبَرَنَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَّمَہُ إِیَّاہُ، فَکَانَ یَقُوْلُ إِذَا جَلَسَ فِیْ وََسْطِ الصَّلاَۃِ وَفِیْ آخِرِھَا عَلٰی وَرِکِہِ الْیُسْرٰی ((اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ،أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗوَرَسُوْلُہُ۔)) قَالَ: ثُمَّإِنْکَانَفِیْ وَسْطِ الصَّلاَۃ نَھَضَ حِیْنَیَفْرُغُ مِنْ تَشَھُّدِہِ، وَإِنْ کَانَ فِی آخِرِھَا دَعَا بَعْدَ تَشَھُّدِہِ بِمَاشَائَ اللّٰہُ أَنْ یَدْعُوَ ثُمَّ یُسَلِّمُ۔ (مسند احمد: ۴۳۸۲)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نماز کے درمیان میں اور اس کے آخر میں تشہد سکھایا،اسود بن یزید کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یادکرتے تھے جب انہوں نے ہمیں بتایا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو تشہد کی تعلیم دی تھی، پس وہ کہتے تھے: جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے درمیان میں اور اس کے آخر میں بائیں سرین پر بیٹھتے تو پڑھتے: اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ،أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗوَرَسُوْلُہُ۔ پھراگرنمازکےدـرمیان میں ہوتے تو تشہد سے فارغ ہونے کے بعد (تیسری رکعت کے لئے) کھڑے ہوجاتے اور اگر نماز کے آخر میں ہوتے تو اتنی دعائیں کرتے، جتنی اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتیں، پھر سلام پھیر دیتے۔ تشہد کا ترجمہ:تمام قولی، بدنی اور مالی عبادتیں صرف اللہ کیلئے ہیں، اے نبی: آپ پر اللہ پر سلامتی اور اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر (بھی) سلامتی ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں (یہ بھی) گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔
Takhreej
(۱۷۷۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۸۳۱، ومسلم: ۴۰۲ (انظر: ۳۶۲۲، ۴۳۸۲)
Explanation
فوائد:… تشہد کے پہلے تین کلمات التَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ کاایک ایک معنی ترجمہ میں بیان کر دیا ہے، ان الفاظ کے مزید معانی درج ذیل ہیں: اَلتَّحِیَّاتُ: سلامتی، بقا، عظمت، آفات اور نقائص سے سلامتی، بادشاہت الصَّلَوَاتُ: پانچ نمازیں، ہر نماز، تمام عبادات، دعائیں، رحمت الطَّیِّبَاتُ: پاکیزہ کلام، اللہ کا ذکر، اعمالِ صالحہ
1776
Sahih
اس کے الفاظ کے بارے میں ثابت ہونے والے مواد کا بیان فَصْلٌ فِیْمَا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ فصل: سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی تشہد
۔ (۱۷۷۷) عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَیْمِرَۃَ قَالَ: أَخَذَ عَلْقَمَۃُ بِیَدِیْ وَحَدَّثَنِیْ أَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ مَسْعُوْدٍ أَخَذَ بِیَدِہِ وَأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخَذَ بِیَدِ عَبْدِاللّٰہِ فَعَلَّمَہُ التَّشَہُّدَ فِی الصَّلاَۃِ، فَقَالَ: ((قُلْ اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ (کَمَا تَقَدَّمَ إِلٰی قَوْلِہِ) وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔ قَالَ: فَإِذَا قَضَیْتَ ھٰذَا أَوْقَالَ فَإِذَا فَعَلْتَ ھٰذَا فَقََدْ قَضَیْتَ صَلَاتَکَ، إِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُوْمُ فَقُمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ۔)) (مسند احمد: ۴۰۰۶)
سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کاہاتھ پکڑا اور نماز میں (پڑھا جانے والے) تشہد کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا: کہو: اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ ……أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗوَرَسُوْلُہُ (سابقہحدیث والا تشہد بیان کیا)۔ پھر فرمایا: جب تو یہ پورا کرلے توتونے اپنی نماز پوری کرلی، اگر کھڑا ہونا چاہے توکھڑا ہوجا اور اگر بیٹھنا چاہے تو بیٹھا رہ۔
Takhreej
(۱۷۷۷) تخریج: اسناد صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۹۷۰ (انظر: ۴۰۰۶)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کو السلام علیکم ورحمۃ اللہ کی عدمِ فرضیت پر دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، یعنی نماز سے نکلنے کے لیے سلام کہنا فرض نہیں، بلکہ کوئی خلافِ نماز حرکت کی جا سکتی ہے اور سلام کی فرضیت کے قائل اس حدیث کییوں تاویل کرتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے الفاظ تیری نماز مکمل ہو چکی ہے کا معنییہ ہے کہ تو تکمیلِ نماز کے قریب پہنچ چکا ہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے الفاظ اگر تو جانا چاہتا ہے تو چلا جا کے معنییہ ہیں کہ نماز سے خارج ہونے کا جو شرعی طریقہ ہے، اس کے ذریعے نماز سے خارج ہو جا۔ ہم آئندہ آنے والے سلام کے ابواب مین یہ واضح کریں گے کہ سلام کے بغیر نماز سے خارج ہونا درست نہیں ہے، رہا مسئلہ اس حدیث کا تو سب سے پہلی گزارش یہ ہے کہ سرے سے اس حدیث ِ مبارکہ کے عَبْدُہٗوَرَسُوْلُہُ کےبعدوالےالفاظکےبارےمیں اختلاف ہے کہ آیا ان کا تعلق نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حدیث سے ہے یا سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے کلام سے۔ میں اس مقام پر صرف علامہ عظیم آبادی کا کلام پیش کرنے پر اکتفا کرتا ہوں، وہ کہتے ہیں: خطابی نے معالم میں کہا کہ اہل علم کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ یہ الفاظ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قول کا حصہ ہیںیا عبد اللہ بن مسعود کے کلام کا، ……۔ ابو بکر خطیب نے کہا: یہ الفاظ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کلام کا حصہ نہیں ہیں، بلکہ یہ تو سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا قول ہے، جو حدیث میں مدرج ہو گیا، شبابہ بن سوار نے زہیر بن معاویہ سے بیان کردہ روایت میں اس کی وضاحت کی ہے اور ابن مسعود کے کلام کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حدیث سے الگ کر کے بیان کیا ہے، اسی طرح عبد الرحمن بن ثابت نے بھی حسین بن ابی حسین سے عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے کلام کو علیحدہ کر کے روایت کیا ہے۔ جبکہ ابو الحسن سندھی نے شرح شرح النخبۃ میں کہا: خطابی نے معالم میں اس کے بارے میں جو کچھ کہا، اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ اس کے وصل یا فصل کے بارے میں راویوں کا اختلاف ہے، پس بیشک حفاظ تو اس بات پر متفق ہیں کہ یہ مدرج کلام ہے۔ (عون المعبود: ۱/ ۴۸۴) ہمارا نظریہیہ ہے کہ اگر ہم اس جملے کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حدیث کا حصہ مان بھی لیں تو اس کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دوسری احادیث کی روشنی میں سمجھا جائے گا کہ اس کا معنییہ ہے کہ وہ نمازی تکمیلِ نماز کے قریب پہنچ چکا ہے، اس تاویل کی وجہ یہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیشہ سلام کے ساتھ نماز کو ختم کیا اور قولی احادیث کے ذریعے بھی اسی کی تعلیم دی، ان کی تفصیل سلام کے باب میں آئے گی۔ درود کے پڑھنے کا مسئلہ بھی آگے بیان ہو گا۔واللہ اعلم بالصواب۔
1777
Sahih
اس کے الفاظ کے بارے میں ثابت ہونے والے مواد کا بیان فَصْلٌ فِیْمَا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ فصل: سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی تشہد
۔ (۱۷۷۸) عَنْ أَبِی الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ: إِنَّ مُحَمَّدًا عُلِّمَ فَواتِحَ الْخَیْرِ وَجَوَامِعَہُ وَخَوَاتِمَہُ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: وَإِنَّا کُنَّا لَانَدْرِیْ مَا نَقُوْلُہُ فِیْ صَلَاتِنَا حَتّٰی عَلَّمَنَا) فَقَالَ: ((إِذَا قَعَدْتُّمْ فِیْ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ فَقُوْلُوْا: اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ (فَذَکَرَ مِثْلَ مَاتَقَدَّمَ إِلٰی قَوْلِہِ عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ) قَالَ ثُمَّ لِیَتَخَیَّرْ أَحَدُکُمْ مِنَ الدُّعَائِ أَعْجَبَہُ إِلَیْہِ فَلْیَدْعُ رَبَّہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۴۱۶۰)
سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: بلاشبہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خیر و بھلائی کی ابتدائی، جامع اور اختتامی چیزوں کی تعلیم دی گئی تھی، جبکہ ہم نہیں جانتے تھے کہ ہم نماز کے (تشہد) میں کیا کہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اس چیز کی تعلیم دی اور فرمایا: جب تم دو رکعتوں کے بعد بیٹھو تو پڑھو: اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ … … عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ پھر تم سے ہر کوئی اپنی پسندیدہ دعا کا انتخاب کرے اور اس کے ساتھ اپنے ربّ کو پکارے۔
Takhreej
(۱۷۷۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۸۳۱، ومسلم: ۴۰۲ (انظر: ۳۶۲۲، ۴۱۶۰)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے ثابت ہوا کہ درمیانے تشہد میں بھی خیر و بھلائی پر مشتمل کوئی دعا کی جا سکتی ہے، بعض مقتدی عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ تک پڑھ کر امام کی انتظار میں خاموش بیٹھے رہتے ہیں،یہ تعلیم کی کمی کے نتائج ہیں۔ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خیر و بھلائی کی ابتدائی، جامع اور اختتامی چیزوں کی تعلیم دی گئی تھی۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جوامع الکلم عطا کیے گئے تھے، سمندر کو کوزے میں بند کر دینا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کلام کا وصف تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی گفتگو فصاحت و بلاغت کی شاہکار ہوتی تھی۔ ابتدائی اور اختتامی کلمات دئیے جانے کا مطلب ہے کہ آپ کو خیر و بھلائی کی ہر قسم کی باتوں کی تعلیم دی گئی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
1778
Sahih
اس کے الفاظ کے بارے میں ثابت ہونے والے مواد کا بیان فَصْلٌ فِیْمَا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ فصل: سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی تشہد
۔ (۱۷۷۹) عَنْ أَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: عَلَّمَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم التَّشَہُّدَ وَأَمَرَہُ أَنْ یُعَلِّمَ النَّاسَ: ((اَلتَّحِیَِّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحَمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗوَرَسُوْلُہٗ۔)) (مسنداحمد: ۳۹۲۱)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے تشہد کی تعلیم دی اور یہ حکم بھی دیا کہ وہ لوگوں کو بھییہ سکھائے: ((اَلتَّحِیَِّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحَمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗوَرَسُوْلُہٗ۔))
Takhreej
(۱۷۷۹) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۸۹۹، والترمذی: ۲۸۹، والنسائی: ۲/۲۳۷، وانظر: ۷۰۸، ۷۰۱ (انظر: ۳۹۲۱)
1779
Sahih
اس کے الفاظ کے بارے میں ثابت ہونے والے مواد کا بیان فَصْلٌ فِیْمَا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ فصل: سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی تشہد
۔ (۱۷۸۰) عَنْ عَبِدِاللّٰہِ بْنِ سَخْبَرَۃَ أَبِیْ مَعْمَرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: عَلَّمَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم التَّشَہُدَ کَفِّیْ بَیْنَ کَفَّیْہِ کَمَا یُعَلِّمُنِیْ السُّوْرَۃَ مِنَ الْقُرْآنِ، قَالَ: ((اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔)) وَھُوَ بَیْنَ ظَہْرَانَیْنَا فَلَمَّا قُبِضَ قُلْنَا: اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ۔ (مسند احمد: ۳۹۳۵)
سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے قرآن کی سورت کی طرح اس تشہدکی تعلیم دی، جبکہ میری ہتھیلی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دو ہتھیلیوں میں تھی: اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔ جب آپ ہمارے درمیان موجود تھے (تو ہم اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَا النَّبِیُّ کہتے تھے)، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فوت ہوگئے تو ہم اس طرح کہتے تھے: اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ۔
Takhreej
(۱۷۸۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۲۶۵، ومسلم: ۴۰۲، وانظر ما تقدم من حدیث عبد اللہ بن مسعود (انظر: ۳۹۳۵)
Explanation
فوائد:… سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سمیت بعض صحابہ کا یہ نظریہ تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے بعد خطاب والا صیغہ استعمال کرتے ہوئے اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَا النَّبِیُّ نہ کہا جائے، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم موجود نہیں ہیں، اس لیے انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رحلت کے بعد اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ کہنا زیادہ مناسب سمجھا۔ آج کل جو لوگ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّھَا النَّبِیُّ کے الفاظ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سننے اور حاضر ہونے کا مفہوم کشید کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کو سب سے پہلے صحابہ کرام کے عقیدے پر غور کرنا چاہیے کہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سننے یا نہ سننے کے بارے میں کیا عقیدہ رکھتے تھے اور کس نظریہ کی بنا پر وہ خطاب والے الفاظ کہنے کو تیار نہ تھے؟ صحابہ کی ایک جماعت کے مطابق ہمارا نظریہیہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جن الفاظ کی تعلیم دی، انہی الفاظ کو نقل کر کے تشہد پڑھا جائے، کیونکہ خطاب والے الفاظ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا موجود ہونا یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سنانا یا سننا تو لازم نہیں آتا۔
1780
Sahih
اس کے الفاظ کے بارے میں ثابت ہونے والے مواد کا بیان فَصْلٌ فِیْمَا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ فصل: سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی تشہد
۔ (۱۷۸۱) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا إِذَا جَلَسْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الصَّلَاۃِ قُلْنَا: اَلسَّلَامُ عَلَی اللّٰہِ مِنْ عِبَادِہِ، اَلسَّلَامُ عَلٰی فُلاَنٍ وَفُلاَنٍ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَقُوْلُوْا: اَلسَّلَامُ عَلَی اللّٰہِ، فَإِنَّ اللّٰہَ ھُوَ السَّلاَمُ، وَلٰکِنْ إِذَا جَلَسَ أَحَدُکُمْ فَلْیَقُلْ: اَلتَّحِیَّاتُ لِلَّہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ، فَإِنَّکُمْ إِذَا قُلْتُمْ ذٰلِکَ أَصَابَتْ کُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ أَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ، ثُمَّ لِیَتَخَیَّرْ أَحَدُکُمْ مِنَ الدُّعَائِ أَعْجَبَہُ إِلَیْہِ فَلْیَدْعُ بِہِ۔ (مسند احمد: ۴۱۰۱)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نمازمیںبیٹھتے تو ہم کہتے: اَلسَّلَامُ عَلَی اللّٰہِ مِنْ عِبَادِہِ، اَلسَّلاَمُ عَلٰی فُلاَنٍ وَفُلاَنٍ (اللہ پر اس کے بندوں کی طرف سے سلامتی ہو اور فلاں اور فلاں پر سلامتی ہو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ نہ کہا کرو کہ اللہ تعالیٰ پر سلامتی ہو، کیونکہ اللہ تو خود سلام ہے، (آئندہ) جب تم سے کوئی شخص بیٹھے تو وہ یہ کہا کرے: اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ، جب تم یہ (دعا) کرو گے تو وہ زمین و آسمان کے مابین ہر عبادت گزار کو پہنچ جائے گی، أَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ پھر تم میں سے ہر کوئی اپنی پسندیدہ دعا منتخب کر لے اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکارے۔
Takhreej
(۱۷۸۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۸۳۵، ومسلم: ۴۰۲، وانظر ما تقدم من حدیث ابن مسعود (انظر: ۴۱۰۱)
1781
Sahih
اس کے الفاظ کے بارے میں ثابت ہونے والے مواد کا بیان فَصْلٌ فِیْمَا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ فصل: سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی تشہد
۔ (۱۷۸۲)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) بِنْحْوِہِ وَفِیْہِ: کُنَّا إِذَا جَلَسْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الصَّلاَۃِ قُلْنَا: اَلسَّلَامُ عَلَی اللّٰہِ قِبَلَ عِبَادِہِ، اَلسَّلَامُ عَلٰی جِبْرِیْلَ، اَلسَّلَامُ عَلٰی مِیْکَائِیلَ، اَلسَّلَامُ عَلٰی فُلاَنٍ۔ اَلْحَدِیث کَمَا تَـقَدَّمَ ۔ (مسند احمد: ۳۶۲۲)
۔ (دوسری سند)اس میں ہے: جب ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نمازمیں بیٹھتے تو کہتے: اَلسَّلَامُ عَلَی اللّٰہِ قِبَلَ عِبَادِہِ، اَلسَّلَامُ عَلٰی جِبْرِیْلَ، اَلسَّلاَمُ عَلٰی مِیْکَائِیلَ، اَلسَّلَامُ عَلَی فُلاَنٍ۔ (اللہ پر سلام ہو اس کے بندوں کی طرف سے، جبریل پر سلام ہو، میکائیل پر سلام ہو، فلاں پر سلام ہو، … …۔ آگے پہلی حدیث کی طرح۔
Takhreej
(۱۷۸۲) تخریج: انظر ۷۰۸، ۷۱۰ وما تقدم من حدیث ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌
Explanation
فوائد:… سیدنا عبد اللہ بن مسعور ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی تشہد ہی عام لوگوں کو یاد ہے، قارئین کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جب لوگوں کو اس تشہد کی تعلیم دی جا رہی تھی، اس وقت نماز میں درود شریف پڑھنے کا مسئلہ پیدا نہیں ہوا تھا، اس لیے ان روایات میں صرف تشہد اور دعاؤں کا ذکر ہے، درود کے مسئلے کی وضاحت آگے آ رہی ہے۔ اس مقام پر یہ تنبیہ بھی ضروری ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی تشہد کی طرح دوسرے صحابہ سے بھی اس تشہد کی احادیث مروی ہیں، جن کے الفاظ اِس تشہد سے مختلف ہیں، تو یہ ورائٹی خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے منقول ہے، اس لیے جو تشہد بھی پڑھ لیا جائے وہ کفایت کرے گا۔ یہ تو ثابت ہو چکا ہے کہ پہلے اور درمیانے تشہد میں بھی نمازی کو مختلف اور پسندیدہ دعائیں کرنے کا اختیار ہے، دوسری بات یہ ہے کہ اِس تشہد میں درود پڑھنا بھی درست ہے، اس کی دلیل درج ذیل حدیث ہے: سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو نو رکعت (اکٹھی) نمازِ وتر ادا کرتے، مسلسل آٹھ رکعات ادا کرنے کے بعد (درمیانے تشہد) کیلئے بیٹھتے، اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرتے اور نبی پر درود بھیجتے اور سلام پھیرے بغیر کھڑے ہو کر نویں رکعت ادا کرنے کے بعد بیٹھتے، اللہ کی حمد بیان کرتے، نبی پر درود بھیجتے، دعا کرتے اورسلام پھیر دیتے۔(نسائی: ۱۷۲۱)
1782
Sahih
اس کے الفاظ کے بارے میں ثابت ہونے والے مواد کا بیان فَصْلٌ فِیْمَا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ فصل: سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی تشہد
۔ (۱۷۸۳) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعَلِّمُنَا الَتَّشَہُّدَ کَمَا یُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ، فَکَانَ یَقُوْلُ: ((اَلتَّحِیَّاتُ الْمُبَارَکَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّیِّبَاتُ لِلّٰہِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ قَالَ حُجَیْرٌ سَلَامٌ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، سَلَامٌ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ وَأَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۲۶۶۵)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قرآن مجید کی طرح ہمیں تشہد کی تعلیم دیتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے تھے: اَلتَّحِیَّاتُ الْمُبَاَرَکَاتَ الصَّلَوَاتُ الطَّیِّبَاتُ لِلّٰہِ، سَلَامٌ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، سَلَامٌ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ وَأَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ۔ تشہد کا ترجمہ:تمام برکت والی قولی، بدنی اور مالی عبادتیں صرف اللہ کیلئے ہیں، اے نبی: آپ پر سلامتی اور اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر (بھی) سلامتی ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اللہ کے رسول ہیں۔
Takhreej
(۱۷۸۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۰۳ (انظر: ۲۶۶۵)
Explanation
فوائد:… ایک روایت میں سَلَامٌ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ کی بجائے السَّلَامٌ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ کے الفاظ ہیں۔
1783
Sahih
اس کے الفاظ کے بارے میں ثابت ہونے والے مواد کا بیان فَصْلٌ فِیْمَا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ فصل: سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی تشہد
۔ (۱۷۸۴) عَنْ أَبِیْ مُوسَی الْأَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی حَدِیثٍ ذَکَرَ فِیْہِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَّمَہُمْ الصَّلاَۃَ (إِلٰی أَنْ قَالَ:) ((فَإِذَا کَانَ عِنْدَ الْقَعْدَۃِ فَلْیَکُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِکُمْ أَنْ یَّقُوْلَ: اَلتَّحِیَّاتُ الطَّیِّبَاتُ الصَّلَوَات لِلَّہِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَاالنَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَ بَرَکَاَتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحیْنَ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إلاَّ اللَّہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ۔)) (مسنداحمد: ۱۹۸۹۹)
سیدناابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایسی حدیث نقل کرتے ہیں، جس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو نماز کی تعلیم دی،یہاں تک کہ فرمایا: جب تم سے کوئی قعدے میں ہو تو سب سے پہلے یہ کہے: اَلتَّحِیَّاتُ الطَّیِّبَاتُ الصَّلَوَات لِلَّہِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَاالنَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَ بَرَکَاَتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحیْنَ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إلاَّ اللَّہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ۔
Takhreej
(۱۷۸۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۰۴ (انظر: ۱۹۶۶۵)
1784
Sahih
تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت،انگشت ِ شہادت سے اشارہ کرنے کا اور دوسرے امور کا بیان
۔ (۱۷۸۵) عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِیْ عَنِ افْتِرَاشِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخِذَہُ الْیُسْرٰی فِی وَسَطِ الصَّلاَۃِ وَفِی آخِرِھَا وَقُعُودِہِ عَلٰی وَرِکِہِ الْیُسْرٰی وَوَضْعِہِ یَدَہُ الیُسْرٰی عَلٰی فَخِذَہِ الْیُسْرٰی وَنَصْبِہِ قَدَمَہُ الْیُمْنٰی وَوَضْعِہِ یَدَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی فَخِذَہِ الْیُمْنٰی وَنَصْبِہِ إِصْبَعَہُ السَّبَابَۃَیُوَحِّدُ بِہَا رَبَّہُ عَزَّوَجَلَّ عِمْرَانُ ابْنُ أَبِیْ أَنَسٍ أَخُوْ بَنِیْ عَامِرِ بْنِ لُؤَیٍّ وَکَانَ ثِقَۃً عَنْ أَبِی الْقَاسِمِ مِقْسَمٍ مَوْلٰیعَبْدِاللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، قَالَ حَدَّثَنِیِْ رَجُلٌ مِنْ أَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ قَالَ صَلَّیْتُ فِیْ مَسْجِدِ بَنِیْ غِفَارٍ، فَلَمَّا جَلَسْتُ فِیْ صَلاَتِیْ اِفْتَرَشْتُ فَخِذِیْ الْیُسْرٰی وَنَصَبْتُ السَّبَّابَۃَ، قَالَ: فَرَآنِیْ خُفَافُ بُنْ إِیِمَائِ ابْنِ رَحَضَۃَ الْغِفَارِیُّ وَکَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا أَصْنَعُ ذٰلِکَ، قَالَ: فَلَمَّا انْصَرَفْتُ مِنْ صَلاَتِیْ، قَالَ لِیْ: أَیْ بُنَیَّ لِمَ نَصَبْتَ إِصْبَعَکَ ھٰکَذَا؟ قَالَ: وَمَا تُنْکِرُ رَأَیْتُ النَّاسَ یَصْنَعُ ذٰلِکَ؟ قَالَ: فَإِنَّکَ أَصَبْتَ، إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا صَلّٰییَصْنَعُ ذٰلِکَ، فَکَانَ الْمُشْرِکُوْنَ یَقُوْلُوْنَ إِنَّمَا یَصْنَعَ ھٰذَا مُحَمَّدٌ بِإِصْبَعِہِ یَسْحَرُ بِہَا وَکَذَبُوْا، إِنَّمَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصْنَعُ ذٰلِکَ یُوَحِّدُ بِہَا رَبَّہُ عَزَّ وَجَلَّ۔ (مسند احمد: ۱۶۶۸۸)
ابن اسحاق کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نماز کے درمیان اور اس کے آخر میں بائیں ران کو بچھانے، دائیں قدم کو کھڑا رکھنے، دائیں ہاتھ کو ران پر رکھنے اور انگلی کے ساتھ ربّ تعالیٰ کی توحید بیان کرنے کے بارے میں مجھے عمران بن ابو انس نے بیان کیا، … … مدینہ منورہ کے ایک باشندے نے کہا: میں نے مسجد بنو غفار کی مسجد میں نماز پڑھی، جب میں بیٹھا تو بائیں ران کو بچھا دیا اور انگشت ِ شہادت کو گاڑھ دیا، مجھے صحابی رسول خفاف بن ایماء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس طرح کرتے ہوئے دیکھا، جب میں نماز سے فارغ ہواتو انھوں نے مجھے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! تو اس طرح اپنی انگلی کو کیوں گاڑھا ہوا ہے؟ میں نے کہا: آپ کون سے چیز کا انکار کرنا چاہتے ہیں، بس میں نے لوگوں کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا؟ انھوں نے کہا: بیشک تو نے سنت کے مطابق کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب نماز پڑھتے تھے تو اسی طرح کرتے تھے اور ربّ تعالیٰ کی توحید بیان کرتے تھے، جبکہ مشرکین کہتے تھے: محمد اپنی انگلی سے اس طرح کر کے جادو کرتا ہے، اور انہوں نے جھوٹ بولا ہے۔
Takhreej
(۱۷۸۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام الرجل الراوی عن خفاف بن ایمائ۔ أخرجہ البیھقی: ۲/ ۱۳۳ (انظر: ۱۶۵۷۲)
1785
Zaeef
تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت،انگشت ِ شہادت سے اشارہ کرنے کا اور دوسرے امور کا بیان
۔ (۱۷۸۶) عَنْ أَبِیْ الزُّبَیْرِ أَنَّہُ سَمِعَ طَاوٗسًایَقُوْلُ: قُلْنَا لِأِبْنِ عَبَّاسٍ فِی الإِقْعَائِ عَلَی القَدَمَیْنِ، فَقَالَ: ھِیَ السُّنَّۃُ، قَالَ: فَقُلْنَا: إِنَّا لَنَرَاہُ جَفَائً بِالرَّجُلِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ھِیَ سُنَّۃُ نَبِیِّکَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۸۵۳)
طاووس کہتے ہیں: ہم نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے قدموں پر بیٹھنے کے بارے میں پوچھا،انہوں نے کہا: یہ سنت ہے۔ ہم نے کہا: ہم تو اس کو آدمی کی اکھڑ مزاجی اور اجڈ پن خیال کرتے تھے۔ انھوں نے کہا: یہ تو تیری نبی کی سنت ہے۔
Takhreej
(۱۷۸۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۵۳۶ (انظر: ۲۸۵۳)
1786
Sahih
تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت،انگشت ِ شہادت سے اشارہ کرنے کا اور دوسرے امور کا بیان
۔ (۱۷۸۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) عَنْ طَاوُسٍ أَیْضَا قَالَ: رَأَیْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یَجْثُوْعَلَی صُدُوْرِ قَدَمِیْہِ فَقُلْتُ: ھَذَا یَزْعُمُ النَّاسُ أَنَّہُ مِنَ الْجَفَائِ، قَالَ ھُوَ سُنَّۃُ نَبِیِّکَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۸۵۵)
۔ (دوسری سند)طاووس کہتے ہیں: میں نے ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کودیکھا کہ وہ پاؤں کو کھڑا کر کے ان پر بیٹھ جاتے۔ میں نے کہا: لوگ تو اس کیفیت کو اکھڑ مزاجی اور اجڈ پن خیال کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا: یہ تو تیری نبی کی سنت ہے۔
Takhreej
(۱۷۸۷) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۲۸۵۵)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں دراصل جلسۂ استراحت کی ایک کیفیت بیان کی گئی ہے، اس کو اِقْعَائ کہتے ہیں،یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اِقْعَائ کی دو صورتیں ہیں، ایک صورت جائز اور مسنون ہے اور دوسری ناجائز اور غیر مسنون۔ جائز صورت: جلسۂ استراحت میں دونوں پاؤں کو کھڑا رکھنا اور ان کی ایڑھیوں پر بیٹھ جانا۔ ناجائز صورت: پنڈلیوں اور رانوں کو کھڑا کرکے سرینوں پر بیٹھنا اور ہاتھ زمین پر رکھنا۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: مِنَ السَّنُّۃِ فِی الصَّلاَۃِ أَنْ تَضَعَ اِلْیَتَیْکَ عَلٰی عَقِبَیْکَ بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی: ۳/۱۰۶/۱، الصحیحۃ:۳۸۳) یعنی: یہ سنت ہے کہ تو نماز میں دو سجدوں کے درمیان (جلسہ میں)اپنے سرینوں (چوتڑوں) کو اپنی ایڑیوں پر رکھے۔ نیز معاویہ بن خدیج رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے طاوس کو اقعاء کرتے ہوئے دیکھا اور کہا: آپ نماز میں اقعاء کر رہے تھے، کیوں؟ انھوں نے کہا: تو نے صرف مجھے اقعا کرتے ہوئے نہیں دیکھا، بلکہ یہ تو نماز کا ایک طریقہ ہے، میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس، سیدنا عبد اللہ بن عمر اور سیدنا عبد اللہ بن زبیر کو یہ اقعاء کرتے ہوئے دیکھا۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے کہا: اس حدیث اور ان آثار سے معلوم ہوا کہ اقعائ کی مذکورہ قسم مشروع ہے، یہ سنت ہے اور ایسا کرنا عبادت ہے۔ یہ کسی عذر کی بنا پر نہیں تھا، جیسا کہ بعض متعصّب لوگوں کا خیال ہے۔ ان کی بات کیسے درست ہو گی؟ جبکہ تین صحابہ نے سنت سمجھ کر اس پر عمل کیا اور جلیل القدر فقیہ تابعی طاوس نے ان کی پیروی کی اور امام احمد نے (مسائل المروزی: ۱۹) میں کہا: اہل مکہ بھی اقعائ کرتے تھے۔ پس جو آدمی اس سنت پر عمل کر کے اس کا احیاء کرنا چاہتا ہے، اس کے لیےیہی سلف کافی ہیں۔ ذہن نشین رہے کہ سجدوں کے درمیان بیٹھنے کے دو طریقے ہیں: (۱) دائیاں پاؤں کھڑا رکھنا اور بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھنا اور (۲) دونوں پاؤں کو کھڑا رکھنا اور ان کی ایڑھیوں پر بیٹھ جانا، جسے اقعاء کہتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیرت کو اپناتے ہوئے مختلف اوقات میں دونوں طریقوں پر عمل کیا کریں، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی سنت رہ نہ جائے۔(صحیحہ: ۳۸۳
1787
Sahih
تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت،انگشت ِ شہادت سے اشارہ کرنے کا اور دوسرے امور کا بیان
۔ (۱۷۸۸) عَنْ عَائِشَہَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فِیْ صِفَۃِ صَلاَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: وَکَانَ یَقُوْلُ فِیْ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ التَّحِیَّۃَ، وَکَانَ یَکْرَہُ أَنْ یَفْتَرِشَ ذِرَاعَیْہِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ، وَکَانَ یَفْرِشُ رِجْلَہُ الْیُسْرٰی وَیَنْصِبُ رِجْلَہُ الْیُمْنٰی، وَکَانَ یَنْھٰی عَنْ عَقِبِ الشَّیْطَانِ، وَکَانَ یَخْتِمُ الصَّلاَۃَ بِالتَّسْلِیْمِ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۳۵)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں:آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر دو رکعتوں میں التحیات پڑھتے تھے،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ناپسند کرتے تھے کہ آدمی (سجدے میں) اپنے بازؤں کو درندے کی طرح بچھائیں، آپ بائیں پاؤں کو بچھا لیتے اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے تھے اور آپ شیطان کی بیٹھک سے منع فرماتے تھے اور آپ نمازکو سلام کے ساتھ ختم کرتے تھے۔
Takhreej
(۱۷۸۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۹۸ (انظر: ۲۴۰۳۰)
Explanation
فوائد:… شیطان کی بیٹھک سے مراد اِقْعَائ کی ناجائز صورت ہے، گزشتہ حدیث میں اس کا بیان ہو چکا ہے۔
1788
Sahih
تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت،انگشت ِ شہادت سے اشارہ کرنے کا اور دوسرے امور کا بیان
۔ (۱۷۸۹) عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَصِفُ صَلاَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ثُمَّ قَعَدَ فَافْتَرَشَ رِجْلَہُ الْیُسْرٰی فَوَضَعَ کَفَّہُ الْیُسْرٰی عَلٰی فَخِذِہٖوَرُکْبَتِہِالْیُسْرٰی، وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِہِ الْأَیْمَنِ عَلَی فِخِذِہِ الْیُمْنٰی، ثُمَّ قَبَضَ بَیْنَ أَصَابِعِہِ فَحَلَّقَ حَلْقَۃً (وَفِیْ رِوَایَۃٍ حَلَّقَ بِالْوُ سْطٰی وَالإِْ بْہَامِ وَأَشَارِ بِالسَّبَّابَۃِ) ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَہُ فَرَأَیْتُہُیُحَرِّکُہَایَدْ عُوْبِہَا ۔ (مسند احمد: ۱۹۰۷۵)
یہ مکمل حدیث صحیح ہے، مذکورہ الفاظ کو شاذ قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں، کیونکہیہ ثقہ کی ایسی زیادتی نہیں ہے، جس سے ثقات کی روایت کی نفی ہو رہی ہو،ثقات کی روایت کے الفاظ وَأَشَارَ باِلسَّبَّابَۃِ اور زائدہ بن قدامہ کی روایت کے الفاظ ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَہُ فَرَأَیْتُہُیُحَرِّکُہَایَدْعُوْبِہَا میں سرے سے کوئی تضاد ہی نہیں ہے، امام البانی نے بھی اس کو صحیح کہا۔
Takhreej
(۱۷۸۹) تخریج: حدیث صحیح دون قولہ: فرأیتہیحرکھایدعو بھا فھو شاذ انفرد بہ زائدۃ بن قدامۃ من بین اصحاب عاصم بن کلیب
1789
Sahih
تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت،انگشت ِ شہادت سے اشارہ کرنے کا اور دوسرے امور کا بیان
۔ (۱۷۹۰) عَنْ شُعْبَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ یُحَدِّثُ أَنَّہُ سَمِعَ رَجُلاً مِنْ بَنِی تَمِیْمٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ قَوْلِ الرَّجُلِ بِإِصْبَعِہِ یَعْنِیْ ھٰکَذَافِی الصَّلاَۃِ قَالَ ذَاکَ الإِْ خْلاَصُ۔ (مسند احمد: ۳۱۵۲)
سیدناوائل بن حجر حضرمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: پھر آپ بیٹھے،بایاں پاؤں بچھا دیا، بائیں ہتھیلی ران اور بائیں گھٹنے پر رکھی اور دائیں کہنی کو بائیں ران سے اٹھا کر رکھا، پھر أپنی انگلیاں بند کرکے حلقہ بنایا۔ اور ایک روایت میں ہے: انگوٹھے اور درمیانی (انگلی) کا حلقہ بنایا اورسبابہ سے اشارہ کیا۔ پھر اپنی انگلی اٹھائی تو میں نے آپ کو دیکھا آپ اسے ہلا کر اس کے ساتھ دعا کرتے تھے۔
Takhreej
(۱۷۹۰) تخریج: حسن، وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ الرجل الذی من بنی تمیم، واسمہ اربدۃ التمیمی البصری۔ أخرجہ البیھقی: ۲/ ۱۳۳ (انظر: ۳۱۵۲)
Explanation
فوائد:… سَبَّابہ کے معانی برا بھلا کہنے والی اور سَبَّاحہ کے معانی پاکی بیان کرنے والی کے ہیں۔یہ دونوں انگشت ِ شہادت کے اوصاف ہیں، کیونکہ کسی کو گالی دیتے وقت یا اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتے وقت عام طور پر اسی انگلی سے اشارہ کیا جاتا ہے۔ ہم نے قارئین کی آسانی کے لیے ان الفاظ کا ترجمہ انگشت ِ شہادت کیا، کیونکہ ہمارے ہاں اس انگلی کو یہی نام دیا جاتا ہے، بہرحال بعض مقامات پر لفظ سَبَّابہ کا ذکر بھی آئے گا۔ دورانِ تشہد اشارے والی احادیث میں دعا کرنے سے مراد پورا تشہد، دعائیں اور درود ہوتا ہے۔ بنو تمیم کا ایک آدمی کہتا ہے: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے آدمی کا نماز میں انگلی کے ساتھ اشارہ کرنے کے بارے میں پوچھا توانہوں نے کہا: یہ اخلاص ہے۔ فوائد:… سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مقصد یہ ہے کہ تشہد میں انگلی سے اشارہ کرنا اخلاص اور توحید پر دلیل ہے۔
1790
Sahih
تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت،انگشت ِ شہادت سے اشارہ کرنے کا اور دوسرے امور کا بیان
۔ (۱۷۹۱) عَنْ نَاِفعٍ قَالَ: کَانَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِذَا جَلَسَ فِی الصَّلاَۃِ وَضَعَ یَدَیْہِ عَلَی رُکْبَتَیْہِ وَأَشَارَ بِاِصْبَعِہِ وَأَتْبَعَہَا بَصَرَہُ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَھِیَ أَشَدُّ عَلَی الشَّیْطَانِ مِنَ الْحَدِیْدِ)) یَعْنِی االسَّبَّابَۃَ۔ (مسند احمد: ۶۰۰۰)
نافع کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب نماز میں بیٹھتے تو اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے، اپنی انگلی سے اشارہ کرتے اور اپنی نظر اسی کے پیچھے لگاتے، پھر یہ بیان کرتے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلاشبہ یہ انگلی شیطان پر لوہے سے بھی زیادہ سخت ہے۔
Takhreej
(۱۷۹۱) تخریج: اسنادہ ضعیف، کثیر بن زید الاسلمی متکلم فیہ۔ أخرجہ البزار: ۵۶۳ (انظر: ۶۰۰۰)
Explanation
فوائد:… نمازی انگشت ِ شہادت سے اشارہ کر کے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے لیے عبادت میں اخلاص کا اظہار کرتا ہے اور یہ چیز شیطان کے لیے سب سے زیادہ باعث ِ تکلیف ہے، اس لیے اسے اس سے لوہے کی ضرب سے بھی زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کے شرّ سے محفوظ رکھے۔
1791
Zaeef
تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت،انگشت ِ شہادت سے اشارہ کرنے کا اور دوسرے امور کا بیان
۔ (۱۷۹۲) عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا جَلَسَ فِی التَّشَہُّدِ وَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنٰی عَلَی فَخِذِہِ الْیُمْنٰی وَیَدَہُ الْیُسْرٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُسْرٰی وَأَشَارَ باِلسَّبَّابَۃِ وَلَمْ یُجَاوِزْ بَصَرُہُ إِشَارَتَہُ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۹۹)
سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب تشہد میں بیٹھتے تو دایاں ہاتھ دائیں ران پر اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھتے اورسبابہ کے ساتھ اشارہ کرتے اور آپ کی نظر آپ کے اشارے سے آگے نہ گزرتی تھی۔
Takhreej
(۱۷۹۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۵۷۹ (انظر: ۱۶۱۰۰/۲)
1792
Sahih
تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت،انگشت ِ شہادت سے اشارہ کرنے کا اور دوسرے امور کا بیان
۔ (۱۷۹۳) عَنْ عَلَیِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَاوِیِّ أَنَّہُ قَالَ: رَآنِیَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ عُمَرَ وَأَنَا أَعْبَثُ بِالْحَصٰی فِی الصَّلاَۃِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ نَہَانِیْ، وَقَالَ: اِصْنَعْ کَمَا کَاَن رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصْنَعُ۔ قُلْتُ: وَکَیْفَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصْنَعُ؟ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا جَلَسَ فِی الصَّلاَۃِ وَضَعَ کَفَّہُ الْیُمْنٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُمْنٰی وَقَبَضَ أَصَابِعَہُ کُلَّہَا وَأَشَاَر بِإِصْبَعِہِ الَّتِی تَلِی الإِْبْھَامَ وَوَضَعَ کَفَّہُ الْیُسْرٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُسْرٰی۔ (مسند احمد: ۵۳۳۱)
علی بن عبد الرحمن معاوی کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے نماز میں کنکریوں سے کھیلتے ہوئے دیکھ لیا، جب وہ فارغ ہوئے تو مجھے ایسا کرنے سے منع کیا اور کہا: تم اس طرح کیا کرو جس طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کرتے تھے۔ میں نے پوچھا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کیسے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز میں بیٹھتے تو دائیں ہتھیلی دائیں ران پر رکھتے اور ساری انگلیاں بند کر لیتے اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی سے اشارہ کرتے اور بائیں ہتھیلی بائیں ران پر رکھتے۔
Takhreej
(۱۷۹۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۵۸۰ (انظر: ۵۳۳۱)
1793
Sahih
تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت،انگشت ِ شہادت سے اشارہ کرنے کا اور دوسرے امور کا بیان
۔ (۱۷۹۴) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) عَنْ ناَفِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا جَلَسَ وَضَعَ یَدَیْہِ عَلٰی رُکْبَتَیْہِ وَرَفَعَ إِصْبَعَہُ الْیُمْنٰی الَّتِی تَلِی الإِْ بْہَامَ فَدَعَا بِھَا وَیَدَہُ الْیُسْرٰی عَلٰی رُکْبَتِہِ بِاسِطَہَا عَلَیْہَا۔ (مسند احمد: ۶۳۴۸)
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بیٹھتے تو اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے اور انگوٹھے کے ساتھ والی دائیں انگلی کو اٹھا کر اس کے ساتھ دعا کرتے اوراپنا بایاں ہاتھ گھٹنے پر پھیلا کر رکھتے۔
Takhreej
(۱۷۹۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۵۸۰ وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۶۳۴۸)
Explanation
فوائد:… تشہد کے دوران شہادت والی انگلی سے اشارہ کرنا: مکمل تشہد، وہ پہلا ہو یا دوسرا، کے دوران انگشتِ شہادت سے اشارہ کرنا جاری رکھا جائے گا، جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أِذَا قَعَدَ فِیْ التَّشَہُّدِ وَضَعَ یَدَہُ الْیُسْرٰی عَلٰی رُکْبَتِہِ الْیُسْرٰی وَوَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی رُکْبَتِہِ الْیُمْنٰی وَعَقَدَ ثَلاثَۃً وَّ خَمْسِیْنَ وَاَشَارَ بِالسَّبَّابَۃِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: یَدْعُوْ بِھَا)۔ (صحیح مسلم: ۵۸۰) جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشہد کے لئے بیٹھتے تو بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر اور دایاں ہاتھ دائیں گھٹنے پررکھتے اور (دائیں ہاتھ کی) ترپن کی گرہ بنا کر شہادت والی انگلی سے اشارہ کرتے اور اس کے ساتھ دعا مانگتے۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أِذَا قَعَدَ یَدْعُوْ وَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُمْنٰی وَیَدَہُ الْیُسْرٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُسْرٰی وَاَشَارَ بِأِصْبَعِہِ السَّبَّابَۃِ …۔ (صحیح مسلم: ۵۷۹) جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (نماز میں) تشہد پڑھنے کے لئے بیٹھ جاتے تو دایاں ہاتھ دائیں ران پر اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھتے اور شہادت والی انگلی سے اشارہ کرتے۔ تنبیہ: مذکورہ بالا دو احادیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ تشہد کے دوران ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھنا اور رانوں پر رکھنا دونوں طرح درست ہے۔ تنبیہ: تشہد میں صرف اَشْھَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہنے کے وقت انگلی اٹھانا اور پھر رکھ دینا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ اشارہ کرنے کے طریقے: (۱)دوانگلیوں کو بند کر کے درمیانی انگلی اور انگوٹھے سے حلقہ بنا لینا اور انگشتِ شہادت سے اشارہ کرنا۔ (ابوداود: ۹۵۷، نسائی: ۱۲۶۵، ابن ماجہ: ۹۱۲) (۲)تین انگلیوں کو بند کرکے انگوٹھے کو درمیانی انگلی پر رکھنا اور انگشتِ شہادت سے اشارہ کرنا۔ (صحیح مسلم: ۵۷۹) (۳) ترپن کی گرہ لگانا(یعنی: تین انگلیوں کو ہتھیلی کے قریب ترین حصے کے ساتھ بند کرکے انگوٹھے کو شہادت والی انگلی کی آخری گرہ کے نیچے رکھنا)۔ (صحیح مسلم: ۵۸۰) تنبیہ: اشارے کے دوران انگلی کو حرکت دینا درست ہے، جیسا کہ حدیث نمبر (۱۷۸۹)سے ثابت ہو رہا ہے
1794
Sahih
تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت،انگشت ِ شہادت سے اشارہ کرنے کا اور دوسرے امور کا بیان
۔ (۱۷۹۵) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاٰی رَجُلاً سَاقِطًا یَدَہُ فِی الصَّلاَۃِ فَقَالَ: ((لَاتَجْلِسْ ھٰکَذَا، إِنَّمَا ھٰذِہِ جِلْسَۃُ الَّذِیْنَیُعَذَّبُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۵۹۷۲)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے نماز میں اپنا ہاتھ گرایا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: اس طرح نہ بیٹھ،یہ ان لوگوں کے بیٹھنے کی کیفیت ہے، جن کو عذاب دیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۱۷۹۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ھشام بن سعد المدنی، وقد روی موقوفا، وھو الصحیح۔ أخرج بنحوہ ابوداود: ۹۹۴ موقوفا (انظر: ۵۹۷۲)
1795
Zaeef