سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعتوں(کے تشہد میں اس طرح ہوتے کہ) گویا کہ آپ گرم پتھر پر ہیں، میںنے کہا: یہاں تک کہ کھڑے ہو جاتے؟ انھوں نے کہا: حتی کہ آپ کھڑے ہوجاتے۔
Takhreej
(۱۷۹۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، ابو عبیدۃ لم یسمع من ابیہ عبد اللہ بن مسعود۔ أخرجہ ابوداود: ۹۹۵، والترمذی: ۳۶۶ (انظر: ۳۶۵۶)
۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا:گویا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دو رکعتوں میں بیٹھنا گرم پتھر پر ہوتاتھا۔
Takhreej
(۱۷۹۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۴۰۷۴)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث ضعیف ہے، گزشتہ احادیث مین یہ تفصیل گزر چکی ہے کہ درمیانے تشہد میں عَبْدُہٗوَرَسُوْلُہٗ پراکتفاکرنابھی درست ہے اور اس کے پسندیدہ دعائیں اور درود ملانا بھی درست ہے۔
تشہد میں بیٹھنے کا طریقہ:
درمیانے تشہد میں دایاں پاؤں کھڑا رکھیں اور بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھ جائیں۔ جن احادیث ِ مبارکہ میں تشہد
میں اس طریقہ سے بیٹھنے کا عام ذکر ہے، ان کو پہلے تشہد پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ تورک والی احادیث مقید ہیں۔ آخری تشہد میں تورک کریں۔
تورک کا بیان
تورک کی دو صورتیں ہیں: مسنون اور جائز صورت:نمازی کا آخری تشہد میں سرین پر اس طرح بیٹھنا کہ دائیناں پائوں کھڑا ہو اور اس کی انگلیوں کا رخ قبلہ کی طرف ہو، اور بائیں پیر کو پھیلا کردائیں پنڈلی کے نیچے سے دائیں طرف نکالنا۔ تورّک کی ناجائز صورت: نماز میںکھڑے ہو کر دونوں ہاتھوںکو دونوں کولھوں کے برابر رکھنا، یہ ممنوع ہے۔ پہلی صورت مسنون ہے، اس کے دلائل درج ذیل ہیں:
(۱)محمد بن عطاء کہتے ہیں: سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دس صحابہ میں موجود تھے، ان میں ایک سیدنا ابو قتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ تھے، سیدنا ابو حمید رضی اللہ عنہ نے کہا:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز تم سب سے زیادہ جانتا ہوں۔ لیکن انھوں نے کہا:تم نہ تو ہماری بہ نسبت قدیم صحبت والے ہو اور نہ ہم سے زیادہ آپ کے پیروی کرنے والے ہو۔ توانہوں نے کہا: کیوں نہیں، (یہ تمہاری بات تو ٹھیک ہے)۔ بہرحال ان لوگوں نے کہہ دیا کہ اچھا بیان کرو۔ سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوتے … …جب وہ آخری رکعت ہوتی جس میں نماز کا اختتام ہوتا تو اپنا بائیاں پاؤں (نیچے سے دائیں طرف) نکالتے اور اپنی سرین پر تورک کی حالت میں بیٹھ جاتے پھر سلام پھیرتے۔ (صحیح بخاری: ۸۲۸ابوداود: ۷۳۰، ۹۶۳، وابن ماجہ: ۸۶۲، والترمذی: ۳۰۴، والنسائی: ۲/ ۱۸۷) یہ حدیث أَبْوَابُ صِفَۃِ الصَّلاَۃِ (نماز کے طریقہ کے آداب ) کے پہلے باب کے آخر میں گزر چکی ہے۔
(۲)سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو بائیں پاؤں کو ران اور پنڈلی کے درمیان میں کر لیتے اور داہنا پاؤں بچھا لیتے۔ (صحیح مسلم: ۵۷۹)
(۳) بَابُ مَاجَائَ فِیْ الصَّلاَۃِ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَقِبَ التَّشَہُّدِ الْاَخِیْرِ وَکَذَا آلِہٖ
آخری تشہد کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر درود بھیجنے کا بیان
تنبیہ: قارئین سے گزارش ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درود کے مختلف الفاظ اور صیغے منقول ہیں، چونکہ عام آدمی کے لیے ان سب کا یاد کرنا مشکل ہے، اس لیے مختصر الفاظ والا کوئی ایک طریقہ بھییاد ہونا چاہیے، تاکہ جلدی کی صورت میں اس کا سہارا لے لیا جائے۔
سیدناابو مسعود عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی آیا اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، جبکہ ہم بھی آپ کے پاس موجود تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو ہم پہچان چکے کہ آپ پر سلام کیسے بھیجنا ہے، (اب سوال یہ ہے کہ) جب ہم نماز ادا کریں تو آپ پر درود پڑھنے کا کیا طریقہ ہے، اللہ تعالیٰ آپ پر رحمت نازل فرمائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جواباً خاموش ہو گئے (اور اتنی دیر خاموش رہے کہ ہم یہ چاہنے لگے کہ کاش اس آدمی نے سوال نہ کیا ہوتا، بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم مجھ پر درود بھیجو تو اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ الْأُمِّیِّ وَعَلیَ آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَآلِ إِبْرَاھِیْمَ وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ الْأُمِّیِّکَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاہِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔
۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا: آپ سے پوچھا گیا کہ ا ے اللہ کے رسول! ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح کہو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا باَرَکْتَ عَلٰی إِبْرَاہِیْمَ فِی الْعَالَمِیْنَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔
فوائد:… اُمِّی سے مراد وہ شخص ہے جس نے کسی انسان سے پڑھنا لکھنا نہیں سیکھا،یہ علیحدہ بات ہے کہ وہ اعلی درجے کا دانا، حکیم، فیصل، فصیح، بلیغ بلکہ رسول ہو، جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا دین و دنیا کے بارے میں کچھ نہ جانتا ہو۔
۔ (دوسری سند)سیدنا عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے ، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس سعد بن عبادہ کی مجلس میں تشریف لائے، سیدنا بشر بن سعد رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ پر درودبھیجیں ، پس ہم آپ پر کیسے درود بھیجیں؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہوگئے حتی کہ ہم یہ تمنا کرنے لگے کہ کاش اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال نہ کیا ہوتا، اتنے میں آپ نے فرمایا: تم اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ فِی الْعَاَلَمِیْنَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ اور سلام کے بارے میں تو تم جان چکے ہو۔
Takhreej
(۱۸۰۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۰۵ (انظر: ۲۲۳۵۲)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ کا درود کا حکم دینا، اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: {اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗیُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ ط ٰٓیاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔} (سورۂ احزاب: ۵۶)
یعنی: بیشک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھی بھیجتے رہا کرو۔ اس درود سے پہلے صحابہ کرام کو تشہد میں اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ… کے الفاظ سے سلام بھیجنے کا طریقہ سکھایا جا چکا تھا۔
صحابی رسول سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو نماز میں دعا کرتے ہوئے سنا، جبکہ اس نے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا، اور فرمایا: اس بندے نے جلدی کی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلایا اور اسے اور دوسرے لوگوں سے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے ساتھ ابتدا کرے، پھر نبی پر درود بھیجے، پھر جو چاہے دعا کرے۔
سیدناکعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ معرفت تو ہم حاصل کر چکے ہیں کہ آپ پر سلام کیسے بھیجا جائے، اب سوال یہ ہے کہ درود بھیجنے کا کیا طریقہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ، اَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔
ابن ابی لیلی کہتے ہیں: مجھے سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ملے اور کہا: کیا میں تجھے ایک ہدیہ نہ دوں؟ (اور وہ یہ ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! بلاشبہ ہم نے یہ تو پہچان لیا ہے کہ آپ پر سلام کیسے بھیجا جائے، اب درود پڑھنے کا کیاطریقہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ، اَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:: جب یہ آیت {إِنَّ اللَّہَ وَمَلاَئِکَتَہُ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ} نازل ہوئی تو لوگوں نے کہا:اے اللہ کے نبی! ہم آپ کیسے درود کیسے بھیجا کریں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ وہ کہتے ہیں: ہم یہ درود پڑھتے وقت یہ الفاظ بھی کہہ دیتے تھے: وَعَلَیْنَا مَعَھْمْ (اور ہم پر بھی ہو) ۔ یزید راوی کہتا ہے: میں اس چیز کو نہ سمجھ سکا کہ یہ آخری الفاظ ابن ابی لیلی نے اپنی طرف سے زیادہ کیے ہیںیا سیدنا کعب نے ان کو باقاعدہ روایت کیا ہے۔
Takhreej
(۱۸۰۵) تخریج: انظر الحدیث: ۷۲۹، ۷۳۰ (انظر: ۱۸۱۳۳)
Explanation
فوائد:… دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وَعَلَیْنَا مَعَھْمْ کے الفاظ ابن ابی لیلی کی طرف سے کہے گئے ہیں۔
سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہتے ہیں کہ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم یہ تو جانتے ہیں کہ آپ پر سلام کیسے بھیجا جائے، اب آپ پر درود بھیجنے کا کیا طریقہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُوْلِکَ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّآلِ مَحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَآلِ أَبْرَاھِیْمَ۔
سیدنا بریدہ خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے کہا: یا رسول اللہ! بلاشبہ ہم نے جان لیا ہے کہ ہم آپ پر سلام کیسے بھیجیں، اب ہم آپ پر درود کیسے پڑھا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس طرح پڑھا کرو: اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِکَ وَرَحْمَتَکَ وَبَرَکَاتِکَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا جَعَلْتَہَا عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔))
Takhreej
(۱۸۰۷) تخریج: اسنادہ ضعیف جدّا، ابوداود نفیع بن الحارث الاعمی متروک الحدیث، وکذبہ ابن معین۔ أخرجہ أحمد بن منیع فی مسندہ کما فی أِتحاف الخیرۃ : ۸۴۴۶، والخطیب البغدادی فی تاریخ بغداد : ۸/ ۱۴۲(انظر: ۲۲۹۸۸)
سیدنازید بن خارجہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ آپ پر درود کیسے بھیجا جائے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (مجھ پر) درود پڑھو اورکوشش کرو، پھرکہو: اَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مَحُمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔
فوائد:… سنن نسائی (۱۲۹۲)میں اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: صَلُّوْا عَلَیَّ وَاجْتَھِدُوْا فِیْ الدُّعَائِ، وقولوا: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ۔ یعنی: مجھ پر درود بھیجو اور دعا میں کوشش کرو اور کہو: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ۔ دونوں روایات کو جمع کر کے درود کو مکمل کیا جائے، یعنی درود والے الفاظ نسائی کی روایت سے اور برکت والے الفاظ مسند احمد کی روایت سے لیے جائیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗیُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّط ٰٓیاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔} (سورۂ احزاب: ۵۶)
یعنی: بیشک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھی بھیجتے رہا کرو۔ اگرچہ جمہور اہل علم نماز میں درود کے وجوب کے قائل نہیں ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں درود و سلام کا حکم دیاہے، جس کا کم از کم مصداق نماز ہے، جیسا کہ صحابہ کرام کے سوال سے بھی پتہ چلتا ہے، اس لیے محتاط بات یہ ہے کہ نماز میں درود پڑھنا واجب ہے، جبکہ اس حقیقت پر علمائے امت کا اجماع ہے کہ نماز کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دورد بھیجنا واجب نہیں ہے۔
ایک صحابی رسول سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح کہتے تھے: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی أَھْلِ بَیْتِہِ وَعَلٰی أَزْوَاجِہِ وَذُرِّیِّتِہِ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰیأَھْلِ بَیْتِہِ وَعَلٰی أَزَوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی آلِ اِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ ابن طاؤس کہتے ہیں: میرا باپ بھی اسی طرح کہا کرتا تھا۔
Takhreej
(۱۸۱۰) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ عبد الرزاق فی مصنفہ : ۳۱۰۳، والطحاوی فی شرح مشکل الآثار : ۲۲۳۹ (انظر: ۲۳۱۷۳)
سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّأَزْوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّأَزْوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔
فوائد:… درود کے الفاظ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل سے مراد کون لوگ ہیں؟ اس کے بارے میں درج ذیل تین اقوال پیش کیے جاتے ہیں:
(۱)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پوری امت (۲) بنو ہاشم اور بنو مطلب
(۳)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت اور اولاد
جس نے جس معنی کو راجح سمجھا، اس نے اس کے حق میں مختلف دلائل تو پیش کیے، لیکن ہمارا نظریہیہ ہے کہ لفظ آل کا پہلا اطلاق تیسرے معنی پر ہی ہوتا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ جن روایات میں وَآلِہٍ کی بجائے بخاری اور مسلم میں وَأَزْوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کے الفاظ ہیں، ان سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل کے افراد کی وضاحت ہو رہی ہے، تیسری بات یہ ہے کہ اسی معنی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل کی خاصیت اور امتیاز ہے۔
سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آخری تشہد سے فارغ ہو تووہ ان چار چیزوں سے پناہ مانگا کرے: جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، موت کے فتنہ سے اورمسیح دجال کے شر سے۔
Takhreej
(۱۸۱۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۵۸۸ (انظر: ۷۲۳۷)
Explanation
فوائد:… مَسِیْح کے مختلف معانییہ ہیں:(۱)اس سے مراد مَمْسْوْحُ الْعَیْن ہے، یعنی جس کی ایک آنکھ مٹی ہوئی ہو گی۔ (۲) یہ فعیل بمعنی فاعل ہے، یعنی زمین کا سروے کرنے والا۔ (۳) اس سے مراد بھینگا ہے۔ دَجَّال کا مادہ دجل ہے، جس کے معانی ڈھانپنے کے ہیں، اس کی وجہ تسمیہیہ ہے کہ دجال اپنے باطل کے ذریعے حق پر پردہ ڈال دے گا۔
جناب طاؤوس نمازِ عشاء میں آخری تشہد کے بعد یہ کلمات پڑھتے تھے اور ان کو بہت عظیم سمجھتے تھے: أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ جَہَنَّمَ، وَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَاوَ الْمَمَاتِ۔ (میںجہنم کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور میں مسیح دجال کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور میں قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اورمیںزندگی و موت کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔) وہ ان کو عظیم سمجھتے تھے اور ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کرتے تھے۔
Takhreej
(۱۸۱۳) تخریج: حدیث صحیح، لیکن عشاء کی نماز کی قید لگانا صحیح نہیں ہے۔ لم یسمع ابن جریج من ابن طاووس الا حدیثا فی محرم اصاب ذرات۔ أخرجہ عبد الرزاق: ۳۰۸۶، وابن خزیمۃ: ۷۲۲ (انظر: ۲۵۶۴۸)
سیدناعروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ زوجۂ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَفِتْنَۃِ الْمَمَاتَ، اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ۔ (اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے اور میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کے فتنے سے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں گناہ اور قرض سے)۔ کسی آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ آپ قرض سے بہت زیادہ پناہ مانگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی مقروض ہوتا ہے تو بات کرتا ہے لیکن جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے لیکن اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
ایک صحابی ٔ رسول رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے پوچھا: تو نماز میں کیا کہتا ہے؟ اس نے کہا: میں پہلے تشہد پڑھتا ہوں پھر اس طرح دعا کرتا ہوں کہ اے اللہ میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور آگ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ مجھ سے آپ اور معاذ کے گنگنانے کی طرح نہیں گنگنایا جا سکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم بھی ان کے گرد ہی گنگناتے ہیں۔
Takhreej
(۱۸۱۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ ابوداود: ۷۹۲، وابن ماجہ: ۹۱۰، ۳۸۴۷ (انظر: ۱۵۸۹۸)
Explanation
فوائد:… دَنْدَنَہ (گنگنانا) ایسے کلام کو کہتے ہیں، جس کو سمجھا نہ جا سکے، اس صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی دعاؤںکو دندنہ اس بنا پر کہا کہ وہ یا تو بدو ہونے کی وجہ سے ان کو نہ سمجھ سکا یا پھرنہ سمجھنے کی وجہ یہ ہے کہ سرّی آواز میں ان کو پڑھا جاتا تھا، معلوم ایسے ہوتا تھا کہ یہ صحابی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے مقتدیوںمیں سے تھا، تبھی تو ان کا بطورِ خاص ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم بھی ان کے گرد ہی گنگناتے ہیں۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ہماری دعاؤں کا لب لباب بھییہی ہوتا ہے کہ اچھی چیز کی طلب کا اور بری چیز سے بچنے کا سوال کیا جائے۔