TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

تشہد کے ابواب - تشہد کے ابواب - Book 30 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 30 of Musnad Ahmad, with 4 chapters and 50 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

50 Hadith · 4 Chapters
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کے بعد تعوذ اور دعا کا بیان
۔ (۱۸۱۶) عَنْ مِحْجِنِ بْنِ الْأَدْرَعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا ھُوَ بِرَجُلٍ قَدْ قَضٰی صَلَاتَہُ وَھُوَ یَتَشَہَّدُ وَھُوَ یَقُوْلُ: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ یَا اللَّہُ الْوَاحِدُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہُ کُفُوًا أَحَدٌ أَنْ تَغْفِرَلِیْ ذُنُوْبِیْ إِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ۔ قَالَ: فَقَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَدْغُفِرَ لَہُ، قَدْغُفِرَلَہُ، قَدْغُفِرَلَہُ۔)) ثَلاَثَ مَرَّاتٍ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۸۳)
سیدنا محجن بن ادرع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور دیکھا کہ ایک آدمی اپنی نماز پوری کر کے تشہد میں یہ دعا کر رہا ہے: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ یَا اللَّہُ الْوَاحِدُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِی لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْیَکُنْ لَّہُ کُفُوًا أَحَدٌ أَنْ تَغْفِرَلِیْ ذُنُوْبِیْ إِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ۔ (اے اللہ! بیشک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اے اللہ! جو یکتا و یگانہ ہے، بے نیاز ہے، جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا اور کوئی بھی اس کا ہم سر نہیں ہے، یہ کہ تو میرے لیے میرے گناہ بخش دے، بیشک تو بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلاشبہ اسے بخش دیا گیا ہے ، بلاشبہ اسے بخش دیا گیا ہے۔ بلاشبہ اسے بخش دیا گیا ہے۔ یعنی تین مرتبہ فرمایا۔
Takhreej
(۱۸۱۶) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود ۹۸۵ (انظر: ۱۸۹۷۴)
Explanation
فوائد:… آخری دو احادیث سے معلوم ہوا کہ تشہد میں کوئی بھی پسندیدہ دعا کی جا سکتی ہے، سابقہ ابواب میں بھی اس مسئلہ کی توضیح موجود ہے، مزید دعاؤں کا ذکر آنے والے دوسرے باب میں آئے گا۔
1816
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کے بعد تعوذ اور دعا کا بیان
۔ (۱۸۱۷) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ أَبْزٰی عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا جَلَسَ فِی الصَّلاَۃِ فَدَعَا وَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی فِخَذِہِ ثُمَّ کَانَ یُشِیْرُ بِإِصْبَعِہِ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۴۴)
سیدناعبد الرحمن بن ابزی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب نماز میں بیٹھ کر دعا کرتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنی ران پر رکھتے پھر انگلی کے ساتھ اشارہ کرتے۔
Takhreej
(۱۸۱۷) تخریج: حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف، ولہ شواھد (انظر: ۱۵۳۶۸، ۱۵۳۷۰)
1817
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کے بعد تعوذ اور دعا کا بیان
۔ (۱۸۱۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُشِیْرُ بِإِصْبَعِہِ السَّبَّاحَۃِ فِی الصَّلاَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۴۲)
۔ (دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز میں انگشت ِ شہادت کے ساتھ اشارہ کرتے تھے۔
Takhreej
(۱۸۱۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
1818
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کے بعد تعوذ اور دعا کا بیان
۔ (۱۸۱۹) عَنْ مَالِکِ بِنْ نُمَیْرٍ الْخُزَاعِیِّ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ قَاعِدٌ فِی الصَّلاَۃِ قَدْ وَضَعَ ذِرَاعَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُمْنٰی رَافِعًا بِاِصْبَعِہِ السَّبَّابَۃِ قَدْ حَنَأَھَا شَیْئًا وَھُوَ یَدْعُوْ۔ (مسند احمد: ۱۵۹۶۰)
سیدنانمیر خزاعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز میں بیٹھے ہوئے تھے اور دایاں بازو دائیں ران پر رکھا ہوا تھا اور انگشت ِ شہادت کو اٹھا کر دعا کر رہے تھے، جبکہ اس انگلی کو کچھ جھکایا ہوا تھا۔
Takhreej
(۱۸۱۹) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، دون قولہ: قد حناھا شیئا، وھذا اسناد ضعیف۔ مالک بن نمیر الخزاعی البصری، قال الدارقطنی: یعتبر بہ، وقال یحییٰ القطان: لایعرف حالہ، وقال الذھبی: لا یعرف۔ أخرجہ ابوداود: ۹۹۱، و النسائی: ۳/ ۳۹ ، وابن ماجہ: ۹۱۱ (انظر: ۱۵۸۶۶)
1819
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کے بعد تعوذ اور دعا کا بیان
۔ (۱۸۲۰) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَرَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِسَعْدٍ وَھُوَ یَدْعُوْ بِاِصْبَعَیْنِ فَقَالَ: ((أَحِّدْ یَاسَعْدُ!)) (مسند احمد: ۱۲۹۳۲)
سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ دو انگلیوں کے ساتھ دعا کر رہے تھے توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے سعد! ایک کے ساتھ دعا کرو۔
Takhreej
(۱۸۲۰) تخریج: صحیح لغیرہ، وھذا الاسناد ضعیف لابھام الراوی عن انس (انظر: ۱۲۹۰۱)
Explanation
فوائد:… باب تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت،انگشت ِ شہادت سے اشارہ کرنے کا اور دوسرے امور کا بیان کے آخر میں دوران تشہد انگشت ِ شہادت سے اشارہ کرنے کے بارے میں مکمل تفصیل کی وضاحت کی جا چکی ہے۔
1820
Sahih
نماز میں جامع منقول دعاؤں کا بیان
۔ (۱۸۲۱) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍوعَنْ أَبِیْ بَکْرٍ الصِّدِّیْقِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : عَلِّمْنِیْ دُعَائً أَدْعُوْ بِہِ فِیْ صَلاَتِیْ، قَالَ: ((قُلْ: اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ ظُلْمًا کَثِیْرًا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ کَبِیْرًا بَدْلَ کَثِیْرًا) وَلَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلاَّ أَنْتَ فَاغْفِرْ لِیْ مَغْفِرَۃً مِّنْ عِنْدِکَ وَارْحَمْنِیْ إِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُوْرُالرَّحِیْمُ۔)) (مسند احمد: ۲۸)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدناابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: مجھے کسی دعا کی تعلیم دیں تاکہ اسے نماز میں پڑھ سکوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ دعا پڑھا کرو: اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ ظُلْمًا کَثِیْرًا وَّلاَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلاَّ أَنْتَ فَاغْفِرْ لِیْ مَغْفِرَۃً مِّنْ عِنْدِکَ وَارْحَمْنِیْ إِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُوْرُالرَّحِیْمُ۔ (اے اللہ! بلاشبہ میں نے اپنے نفس پر بہت زیادہ ظلم کیا ہے اورتیرے علاوہ گناہوں کو بخشنے والا کوئی نہیں ہے، سو تو مجھے بخش دے اپنی طرف سے بخش دینا اور مجھ پر رحم کر بلاشبہ تو ہی بخشنے والا اوررحم کرنے والا ہے)۔
Takhreej
(۱۸۲۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۸۳۴، ۶۳۲۶، ومسلم: ۲۷۰۵ (انظر: ۸)
1821
Sahih
نماز میں جامع منقول دعاؤں کا بیان
۔ (۱۸۲۲) عَنْ أَبِیْ مِجْلَزٍ قَالَ: صَلّٰی بِنَا عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ صَلَاۃ فَأَوْجَزَ فِیْہَا فَأَنْکَرُوْا ذٰلِکَ، فَقَالَ: أَلَمْ أُتِمَّ الرُّکُوْعَ وَالسُّجُوْدَ؟ قَالُوْا: بَلٰی، قَالَ: أَمَا إِنِّیْ دَعَوْتُ فِیْہَا بِدُعَائٍ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدْعُوْ بِہِ: ((اَللّٰہُمَّ بِعِلْمِکَ الْغَیْبِ وَقُدْرَتِکَ عَلَی الْخَلْقِ أَحْیِنِیْ مَاعَلِمْتَ الْحَیَاۃَ خَیْرًا لِّیْ وَتَوَفَّنِیْ إِذَا کَانَتِ الْوَفَاۃُ خَیْرًا لِّیْ، أَسْأَلُکَ خَشْیَتَکَ فِی الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ وَکَلِمَۃَ الْحَقِّ فِی الْغَضَبِ وَالرِّضَا، وَالْقَصْدَ فِی الْفَقْرِ وَالْغِنٰیَ، وَلَذَّۃَ النَّظْرِ إِلٰی وَجْہِکَ وَالشَّوْقَ إِلٰی لِقَائِکَ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ ضَرَّائَ مُضِرَّۃٍ وَمِنْ فِتْنَۃٍ مُضِلَّۃٍ، اَللّٰہُمَّ زَیِّنَّا بِزِیْنَۃِ الإِْ یْمَانِ وَاجْعَلْنَا ھُدَاۃً مَھْدِیِّیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۱۵)
ابو مجلز کہتے ہیں: سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں ایک نماز پڑھائی، انھوں نے اس میں اختصار کیا، اس لیے لوگوں نے اس چیز کا انکار کیا،لیکن انھوں نے کہا: کیا میں نے رکوع وسجود کو پوری طرح ادا نہیں کیا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، پھر انھوں نے کہا: میں نے تو اس نماز میں ایسی دعا کی ہے، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پڑھتے تھے، وہ دعا یہ ہے: اَللّٰہُمَّ بِعِلْمِکَ الْغَیْبِ وَقُدْرَتِکَ …… وَالشَّہَادَۃِ وَکَلِمَۃَ الْحَقِّ فِی الْغَضَبِ وَالرِّضَا، وَالْقَصْدَ فِی الْفَقْرِ وَالْغِنٰیَ، وَلَذَّۃَ النَّظْرِ إِلٰی وَجْہِکَ وَالشَّوْقَ إِلٰی لِقَائِکَ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ ضَرَّائَ مُضِرَّۃٍ وَمِنْ فِتْنَۃٍ مُضِلَّۃٍ، اَللّٰہُمَّ زَیِّنَّا بِزِیْنَۃِ الإِْ یْمَانِ وَاجْعَلْنَا ھُدَاۃً مَھْدِیِّیْنَ۔ (اے اللہ! میں تیرے علم غیب اور مخلوق پر تیری قدرت کی وجہ سے تجھ (سے سوال کرتا ہوں کہ) جب تک تو میرے لئے زندگی کو بہتر سمجھے مجھے زندہ رکھ اور جب میرے لئے وفات بہتر ہو تو مجھے فوت کر دینا، میں تجھ سے خلوت اور جلوت (دونوں حالتوں میں) میں تیری خشیت کا، غصے اور خوشی میں کلمۂ حق کہنے کا، فقیری اورمالداری میں میانہ روی اختیار کرنے کا، تیرے چہرے کی طرف دیکھنے کی لذت کا اور تیری ملاقات کا شوق رکھنے کا سوال کرتا ہوں۔ اور میں نقصان پہنچانے والی مصیبت سے اور گمراہ کرنے والے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ ہمیں ایمان کی زینت سے مزین کر دے اور ایسے رہنما بنا دے جو خود بھی ہدایتیافتہ ہوں)۔
Takhreej
(۱۸۲۲) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ النسائی: ۳/۵۵ (انظر: ۱۸۳۲۵)
Explanation
فوائد:… حدیث ِ مبارکہ کے ابتدائی حصے پر غور کریں، اگر رکوع و سجود مکمل ہوں تو قیام میں تخفیف کر لینے میں کوئی حرج نہیں، پھر سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے واضح کیا کہ ٹھیک ہے کہ اس نے لمبا قیام تو نہیں کیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے منقول ایسی دعا بھی تو کی ہے، جو بڑی خیر پر مشتمل ہے۔
1822
Sahih
نماز میں جامع منقول دعاؤں کا بیان
۔ (۱۸۲۳) عَنْ زَاذَانَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ صَلاَۃٍ وَھُوَ یَقُوْلُ: ((رَبِّ اغْفِرْلِیْ۔)) قَالَ شُعْبَۃُ: أَوْقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ وَتُبْ عَلَیَّ إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُوْرُ۔)) مِائَۃَ مَرَّۃِ۔ (مسند احمد: ۲۳۵۳۷)
ایک انصاری صحابی ٔ رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز میں یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ وَتُبْ عَلَیَّ إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُوْرُ۔ (اے اللہ! مجھے بخش دے اور میری توبہ قبول کر، کیونکہ تو ہی توبہ قبول کرنے والا بخشنے والا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سو دفعہ یہ دعا پڑھی۔
Takhreej
(۱۸۲۳) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ النسائی: ۱۰۳، وابن ابی شبیۃ: ۱۰/ ۲۳۴ (انظر: ۲۳۱۵۰)
Explanation
فوائد:… ہمیں بھی اپنی نمازوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ ہماری جلد بازی اور دین میں عدم دلچسپی نے ہمیں بہت نقصان دیا ہے۔
1823
Sahih
نماز میں جامع منقول دعاؤں کا بیان
۔ (۱۸۲۴) عَنْ أَبِیْ السَّلِیْلِ عَنْ عَجُوْزٍ مِنْ بَنِیْ نُمَیْرٍ أَنَّہَا سَمِعَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یُصَلِّیِْ بِالنَّاسِ وَوَجْہُہُ إِلَی الْبَیْتِ، قَالَتْ فَحَفِظَتُ مِنْہُ: ((رَبِّ اغْفِرْلِیْ خَطَایَایَ وَجَہْلِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۸۱)
بنو نمیر کی ایک بڑھیا نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور آپ کا چہرہ بیت اللہ کی طرف تھا، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ دعا یاد کی: رَبِّ اغْفِرْلِیْ خَطَایَایَ وَجَہْلِیْ۔ (اے میرے رب! میرے لیے میری خطائیں اور میرے جہالت والے امور معاف کردے۔)
Takhreej
(۱۸۲۴) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، وھذا اسناد منقطع، ابو السلیل ضریب لم یسمع من احد الصحابۃ (انظر: ۱۶۵۵۵)
1824
Sahih
نماز میں جامع منقول دعاؤں کا بیان
۔ (۱۸۲۵) عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَقِیَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَامُعَاذُ! إِنِّی لَأُحِبُّکَ۔)) فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَأَنَا وَاللّٰہِ أُحِبُّکَ، قَالَ: ((فَإِنِّیْ أُوْصِیْکَ بِکَلِمَاتٍ تَقُوْلُھُنَّ فِی کُلِّ صَلاَۃٍ: اَللّٰہُمَّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۷۷)
سیدنامعاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے ملے اور فرمایا: اے معاذ! بلاشبہ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔ میں نے جواباًکہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تجھے چند کلمات کی وصیت کرتا ہوں، تو نے ہر نماز میں ان کو پڑھنا ہے، وہ یہ ہیں: اَللّٰہُمَّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ۔ (اے اللہ! اپنا ذکر، شکر اور اچھی عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔)
Takhreej
(۱۸۲۵) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۱۵۲۲، والنسائی: ۳/ ۵۳ (انظر: ۲۲۱۱۹)
Explanation
فوائد:… عام طور پر چھوٹے کتابچوں میں اس دعا کو نماز کے بعد والے اذکار میں ذکر کیا جاتا ہے، لیکن حقیقتیہ ہے کہ اس کے بعض طرق سے ثابت ہوتا ہے کہ سلام سے پہلے کی دعا ہے، جیسا کہ اس حدیث کے الفاظ سے بھی ثابت ہو رہا ہے۔ جن روایات میں صرف دبر الصلوۃ کے الفاظ ہیں، صرف ان کو دیکھ کر یہ فیصلہ کر دیا گیا ہے کہ یہ دعا سلام کے بعد پڑھی جائے اور دوسرے طرق والے فی کل صلاۃ کے واضح الفاظ نہیں دیکھے گئے، جن سے یہ فیصلہ کرنا آسان ہو جاتا ہے کہ یہ دعا سلام سے پہلے پڑھی جائے۔ جبکہ دبر الصلاۃ کے الفاظ میں بھییہ احتمال پایا جاتا ہے کہ اس سے مراد نماز سے خارج ہونے سے پہلے کہنا ہے۔ یہ مسنون دعائیں ہیں، دیگر احادیث سے بھی بعض دعائیں ثابت ہیں، ان کے علاوہ نمازی کوئی پسندیدہ دعا بھی کر سکتا ہے، جیسا کہ پہلے اس کا بیان ہو چکا ہے۔
1825
Sahih