نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے بعد تعوذ اور دعا کا بیان
۔ (۱۸۱۶) عَنْ مِحْجِنِ بْنِ الْأَدْرَعِ رضی اللہ عنہ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا ھُوَ بِرَجُلٍ قَدْ قَضٰی صَلَاتَہُ وَھُوَ یَتَشَہَّدُ وَھُوَ یَقُوْلُ: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ یَا اللَّہُ الْوَاحِدُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہُ کُفُوًا أَحَدٌ أَنْ تَغْفِرَلِیْ ذُنُوْبِیْ إِنَّکَ
أَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ۔ قَالَ: فَقَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((قَدْغُفِرَ لَہُ، قَدْغُفِرَلَہُ، قَدْغُفِرَلَہُ۔)) ثَلاَثَ مَرَّاتٍ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۸۳)
سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور دیکھا کہ ایک آدمی اپنی نماز پوری کر کے تشہد میں یہ دعا کر رہا ہے: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ یَا اللَّہُ الْوَاحِدُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِی لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْیَکُنْ لَّہُ کُفُوًا أَحَدٌ أَنْ تَغْفِرَلِیْ ذُنُوْبِیْ إِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ۔ (اے اللہ! بیشک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اے اللہ! جو یکتا و یگانہ ہے، بے نیاز ہے، جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا اور کوئی بھی اس کا ہم سر نہیں ہے، یہ کہ تو میرے لیے میرے گناہ بخش دے، بیشک تو بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ اسے بخش دیا گیا ہے ، بلاشبہ اسے بخش دیا گیا ہے۔ بلاشبہ اسے بخش دیا گیا ہے۔ یعنی تین مرتبہ فرمایا۔
Takhreej
(۱۸۱۶) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود ۹۸۵ (انظر: ۱۸۹۷۴)
Explanation
فوائد:… آخری دو احادیث سے معلوم ہوا کہ تشہد میں کوئی بھی پسندیدہ دعا کی جا سکتی ہے، سابقہ ابواب میں بھی اس مسئلہ کی توضیح موجود ہے، مزید دعاؤں کا ذکر آنے والے دوسرے باب میں آئے گا۔
1816
Sahih