TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

کھیتیوں اور پھلوں کی زکوۃ کا بیان - کھیتیوں اور پھلوں کی زکوۃ کا بیان - کھیتیوں اور پھلوں کی زکوۃ کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of کھیتیوں اور پھلوں کی زکوۃ کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 5 · 10 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۳۴۰۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((فِیْمَا سَقَتِ السَّمَائُ وَالْعُیُوْنُ الْعُشْرُ، وَفِیْمَا سَقَتِ السَّانِیَۃُ نِصْفُ الْعُشْرِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۲۱)
۔ سیدناجابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس (کھیتی کو) آسمان اور چشمے سیراب کریں، اس میں دسواں حصہ زکوۃ ہے اور جس کو اونٹ سیراب کریں، اس میں بیسواں حصہ زکوۃ ہے۔
Takhreej
(۳۴۰۸) تخر یـج:…أخرجہ مسلم: ۹۸۱ (انظر: ۱۴۶۶۶)
3408
Sahih
۔ (۳۴۰۹)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ َرسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((فِیْمَا سَقَتِ الْأَنْہَارُ وَالْغَیْمُ الْعُشُوْرُ وَفِیْمَا سَقَتِ الْسَانِیَۃُ نِصْفُ الْعُشُوْرِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۲۲)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس زمین کو نہریں اور بادل سیراب کریں، اس میں دسواں حصہ زکوۃ ہے اور جس کو اونٹ سیراب کریں، اس میں بیسواں حصہ زکوۃ ہے۔
Takhreej
(۳۴۰۹)تخر یـج:…انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… ہمارے ہاں عام طور پر فصلوں کی زکوۃ کو زکوۃ نہیں کہا جاتا، بلکہ ’’عشر‘‘ کہا جاتا ہے، حالانکہ ’’عشر‘‘ اور ’’نصف العشر‘‘ یعنی دسویں اور بیسویں حصے میں زکوۃ کی مقدار بیان کی گئی ہے۔
3409
Sahih
۔ (۳۴۱۰) حدثنا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا جَرِیْرُ بَنْ مَحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ عَنْ عَلِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلِیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ: ((فِیْمَا سَقَتِ السَّمَائُ فَفِیْہِ الْعُشْرُ، وَمَا سُقِیَ بِالْغَرْبِ وَالدَّالِیَۃِ فَفِیْہِ نِصْفُ الْعُشْرِ۔)) قَالَ أبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ: ، فَحَدَّثْتُ أَبِی بحَدِیْثِ عُثْمَانَ عَنْ جَرِیْرٍ فَأَنْکَرہُ جِدًّا وَکَانَ أَبِی لاَ یُحَدَّثَنَا عَنْ مَحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ لِضَعْفِہِ عِنْدَہُ وَإِنْکَارِہِ لِحَدِیْثِہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۰)
۔ سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس (کھیتی) کو آسمان سیراب کریں، اس میں دسواں حصہ زکوۃ ہے اور جس کو ڈول اور اونٹ سے سیراب کیا جائے، اس میں بیسواں حصہ ہے۔
Takhreej
(۳۴۱۰) تخر یـج:…حدیث صحیح أخرجہ البزار: ۶۹۰، ۶۹۱(انظر: ۱۲۴۰)
Explanation
فوائد:… یہ تینوں احادیث اس اعتبار سے انتہائی قابل غور ہیں کہ آج کل عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ نہری علاقے کی فصل کا بیسواں حصہ اور بارانی علاقے کی فصل کا دسواں حصہ زکوۃ میں دیا جائے۔ لیکن ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ چشموں اور نہروں اور دریاؤں سے سیراب ہونے والی فصلوں کی شرح زکوۃ بھی دسواں حصہ ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ دسویں اور بیسویں حصے کا دارومدار فصلوں کو پانی پلانے کیلئے کی گئی محنت پر ہے اگر آبپاشی کے لیے چرخی اور رہٹ استعمال کیا جائے یابالٹی سے پانی نکالا جائے یا سواریوں پر پانی لاد کر فصلوں کو سیراب کیا جائے، تو ایسی فصل کا بیسواں حصہ زکوۃ میں ادا کیا جائے گا۔ اگر ٹیوب ویلیا ٹربائن وغیرہ کو استعمال کیا جائے یا مزدوروں کے ذریعے زمین کو سیراب کیا جائے تو اس کا بھی بیسویں حصے والا معاملہ ہو گا، کیونکہیہ محنت کا متبادل ہیں، جسے پیسہ خرچ کر کے حاصل کیا جاتا ہے۔ اب اگر کوئی زمین کسی نہر یا چشمے کے اتنے قریب ہے کہ پانی حاصل کرنے کے لیے کوئی بڑی محنت نہیں کرنا پڑتی، بلکہ زمیندار کی صرف یہ ذمہ داری ہے کہ وہ پانی کو اپنی زمین میں پھیر لے، تو ایسے زمین کی پیداوار کا دسواں حصہ ادا کرنا پڑے گا، کیونکہ مذکورہ بالا احادیثمیں جن نہروں اور چشموں کا ذکر کیا گیا ہے، ان سے زمین کو سیراب کرنے کے لیے بھی اتنی محنت تو کرنی پڑتی ہے، یہاں اس امر کی وضاحت کرنا ضروری ہے کہ زمیندار لوگ نہری پانی کے عوض میں جو قیمت ادا کرتے ہیں، اس کی مقدار اتنی معمولی ہوتی ہے کہ زکوۃ کے دسویںیا بیسویں حصے کے ساتھ اس کا تعلق نہیں جوڑا جا سکتا، مثلا ۲۰۱۲؁ءمیں مجھے ایک زمیندار نے بتایا کہ وہ ایک سال میں پچاس روپے فی ایکڑ نہر کا معاملہ ادا کرتے ہیں۔ اور اگر کوئی زمین، نہر سے اتنی دور ہے کہ اس سے زمین تک پانی پہنچانے کے لیے کھالوں وغیرہ کی تیاری کی صورت میں بڑی محنت درکار ہے تو اس کی پیداوار کا بیسواں حصہ ادا کیا جائے گا۔مشینری، کھاد، سپرے، ملازموں یا موچیوں اور حجاموں کی اجرتوں وغیرہ جیسی سہولیات اور امور کا زکوۃ کے دسویںیا بیسویں حصے سے قطعی طور پر کوئی تعلق نہیں ہے۔
3410
Sahih
۔ (۳۴۱۱) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ فِیْمَا دُوْنَ خَمْسَۃِ أوْسُقٍ صَدَقَۃٌ، وَلَا فِیْمَا دُوْنَ خَمْسِ اَوَاقٍ صَدَقَۃٌ، وَلَا دُوْنَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَۃٌ)) (مسند احمد: ۹۲۱۰)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پانچ وسق سے کم (فصل) پر، پانچ اوقیوں سے کم (چاندی) پر اور پانچ اونٹوں سے کم پر کوئی زکوۃ نہیں۔
Takhreej
(۳۴۱۱) تخر یـج:…اسنادہ صحیح (انظر: ۹۲۲۱)
3411
Sahih
۔ (۳۴۱۲)عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( لَیْسَ فِیْمَا دُوْنَ خَمْسَۃِ أوْسَاقٍ مِنْ تَمْرٍ وَلَا حَبٍّ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۵۳)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پانچ وسق سے کم کھجور اور اناج پر زکوۃ نہیں ہے۔
Takhreej
(۳۴۱۲)تخر یـج:…أخرجہ مسلم: ۹۷۹ (انظر: ۱۱۹۳۱)
3412
Sahih
۔ (۳۴۱۳)وَعَنْہُ أیضًا قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا۔)) (مسند احمد: ۱۱۸۰۷)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک وسق میں (۶۰) صاع ہوتے ہیں۔
Takhreej
(۳۴۱۳)تخر یـج:…اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، ابو البختری لم یسمع من ابی سعید، ولضعف شریک أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۱۳۸ (انظر: ۱۱۷۸۵)
3413
Zaeef
۔ (۳۴۱۴)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) یَرْفَعُہُ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَیْسَ فِیْمَا دُوْنَ خَمْسَۃِ أَوْسَاقٍ صَدَقَۃٌ وَاَلْوَسْقُ سِتُّوْنَ مَخْتُوْمًا۔)) (مسند احمد: ۱۱۵۸۵)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پانچ وسق سے کم (فصل) پر کوئی زکوۃ نہیں ہے اور ایک وسق ساٹھ مہرزدہ صاع کا ہوتا ہے۔
Takhreej
(۳۴۱۴)تخر یـج:…صحیح دون قولہ: ((والوسق ستون مختوما)) وھذا اسناد منقطع، انظر الحدیث بالطریق الاول أخرجہ ابوداود: ۱۵۵۹، وابن ماجہ: ۱۸۳۲، والنسائی: ۵/ ۴۰(انظر: ۱۱۵۶۴)
Explanation
فوائد: اس صاع کے اوپر والے حصے پر امراء کی طرف سے مہر لگائی جاتی تھی، تاکہ اس کی مقدار کو کم یا زیادہ نہ کر دیا جائے۔ زمین سے فصلیں پیدا کرکے انسان کو رزق مہیا کرنا اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے، اللہ تعالیٰ نے اس احسان کا بدلہ یوں طلب کیا ہے کہ زرعی پیدا وار کا دسواںیا بیسواں حصہ بطورِ زکوۃ اس کی راہ میں دیا جائے، جو پیدا ہونے والی کل فصل کے مقابلے میں انتہائی کم مقدار ہے۔ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ فصل میں زکوۃ کو لاگو کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ پانچ وسق ہو، اس کو نصابِ زکوۃ کہتے ہیں، اس کی تفصیلیہ ہے کہ ایک وسق میں (۶۰) صاع ہوتے ہیں، اس طرح پانچ اوساق کی کل مقدار (۳۰۰)صاع ہوگئی، جبکہ ایک صاع کا وزن تقریبا دو کلو سو گرام ہوتا ہے، اس طرح پانچ وسق کا کل وزن پندرہ من اورتیس کلو گرام بن جاتا ہے، معلوم ہوا کہ فصلوں کا نصابِ زکوۃ (۱۵) من اور (۳۰) کلو گرام ہے۔
3414
Sahih
۔ (۳۴۱۵) عَنِ الْعَلَائِ بْنِ اَلْحَضْرَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَعَثَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہَ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ إِلَی الْبَحْرَیْنِ أَوْ أَہْلِ ہَجَرَ شَکَّ أَبُوْ حَمْزَہَ قَالَ: کُنْتُ آتِی الحَائِطَ، یَکُوْنُ بَیْنَ الْإِخْوَۃ ِفَیُسْلِمُ أَحَدُہُمْ فَآخُذُ مِنَ الْمُسْلِمِ الْعُشْرَ، وَمِنَ الْآخَرِ الْخَرَاجَ۔ (مسند احمد: ۲۰۸۰۱)
۔ سیدنا علاء بن حضرمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بحرینیا ہجر کی طرف بھیجا تھا، میں جب ایسے باغ میں جاتا، جو مختلف بھائیوںکا ہوتا اور ان میں سے ایک مسلمان ہو چکا ہوتا تو مسلمان سے دسواں حصہ زکوۃ لیتا اور دوسروں سے خراج وصول کرتا تھا۔
Takhreej
(۳۴۱۵) تخر یـج:…اسنادہ ضعیف، المغیرۃ الازدی مجھول أخرجہ ابن ماجہ: ۱۸۳۱(انظر: ۲۰۵۲۷)
Explanation
فوائد: خراج: وہ جزیہ جو ذمیوں سے وصول کیا جاتا ہے۔ یہ حدیث تو ضعیف ہے، لیکن ذمی لوگوں سے جزیہ وصول کرنا ایک شرعی مسئلہ ہے، اس کی ماہانہ یا سالانہ مقدار کا فیصلہ حاکمِ وقت کرے گا، ویسے سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌بیان کرتے ہیں : اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَمَرَہٗاَنْیَّاْخُذَ مِنْ کُلِّ حَالِمٍ دِیْنَارًا۔ (نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہر بالغ سے ایک دینار وصول کریں)۔ (ابوداود: ۳۰۳۸، ترمذی: ۶۲۳، نسائی: ۵/ ۲۶، ابن ماجہ: ۱۸۰۳) ایک دینار ساڑھے چار (4+) ماشے سونے کا ہوتا ہے۔ یہ خراج سالانہ فی کس کے لحاظ سے لیا جاتا تھا۔ (عبداللہ رفیق)
3415
Zaeef
۔ (۳۴۱۶) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ کُلِّ جَادٍّ عَشَرَۃَ أَوْسُقٍ مِنْ تَمْرٍ بِقِنْوٍ، یُعَلَّقُ فِی الْمَسْجِدِ لِلْمَسَاکِیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۴۹۲۸)
۔ سیدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا کہ جو شخص دس وسق کھجور کاٹ لے، وہ مسجد میں مساکین کے لیے ایک خوشہ لٹکا دے۔
Takhreej
(۳۴۱۶) تخر یـج:…اسنادہ حسن أخرجہ ابوداود: ۱۶۶۲(انظر: ۱۴۸۶۷)
Explanation
فوائد: امام ابوداود نے اس حدیث کو ’’باب فی حقوق المال‘‘ میں ذکر کیا ہے، ذہن نشین رہنا چاہیے کہ اس حدیث کا تعلق زکوۃ سے نہیں ہے، بلکہ نفلی صدقہ سے ہے، اس لیے اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ زکوۃ کے علاوہ بھی مال میں دوسروں لوگوں کے حقوق موجود ہیں۔
3416
Sahih
۔ (۳۴۱۷) عَنْ مُوْسَی بْنِ طَلْحَۃَ قَالَ: عِنْدَنَا کِتَابُ مُعَاذٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ إِنَّمَا أَخَذَ الصَّدَقَۃَ مِنَ الْحِنْطَۃِ وَالشَّعِیْرِ وَالزَّبِیْبِ وَالتَّمْرِ۔ (مسند احمد: ۲۲۳۳۸)
۔ موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں: ہمارے پاس سیدنامعاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ایک تحریر ہے، اس میں یہ لکھا ہوا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صرف گندم، جو، منقیٰ اور کھجور سے زکوۃ وصول کی ہے۔
Takhreej
(۳۴۱۷) اسنادہ صحیح۔ أخرجہ الدارقطنی: ۲/۹۶، والحاکم: ۱/۴۰۱، والبیھقی: ۴/۱۲۸(انظر: ۲۱۹۸۹)
Explanation
فوائد:… سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نصابِ زکوۃ اور شرحِ زکوۃ کے تعین کے بعد وہ کون کون سی فصلیں ہیں، جن پر زکوۃ عائد ہوتی ہے یا جو زکوۃسے مستثنی ہیں، اس مسئلہ ہم درج ذیل بحث کرتے ہیں: عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌،قَالَ: إِنَّمَا سَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الزَّکَاۃَ فِی ھٰذِہِ الْأَرْبَعَۃِ: الْحِنْطَۃِ، وَالشَّعِیْرِ، وَالزَّبِیْبِ وَالتَّمْرِ۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان چار اصناف میں زکوۃ نافذ کی: گندم، جو، منقی اور کھجور۔ (الدارقطني:۲۰۱، صحیحہ: ۸۷۹) شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے اس حدیث کی سندی حیثیت پر درج ذیل بحث کی ہے: یہ حدیث سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی ہے، اس کی سند میں محمد بن عبید اللہ عزرمی ’’متروک‘‘ ہے، لیکن اس کی متابعت موجود ہے، جسے امام دار قطنیؒ اور امام حاکم نے روایت کیا کہ موسی بن طلحہ نے کہا: عِنْدَناَ کِتَابُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہٗاَنَّمَااَخَذَالصَّدَقَۃَ مِنَ الْحِنْطَۃِ … آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گندم اور … سے زکوۃ وصول کی ہے۔ امام حاکم نے کہا: موسی بن طلحہ عظیم تابعی ہیں اور سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کے زمانے کو ان کے پانے کا انکار نہیں کیا گیا۔ لیکن ابن عبد البر نے کہا کہ موسی بن طلحہ ، سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کو نہ ملے ہیں اور نہ ان کو پایا ہے۔ لیکن امام حاکم نے صحیح سند کے ساتھ اس کا یہ شاہد ذکر کیا ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((لَاتَاْخُذُوا اِلاَّ مِنْ ھٰذِہِ الْاَرْبَعۃِ…)) صرف ان چار اصناف میں زکوۃ وصول کرو۔ ان احادیث کی روشنی میں سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ، امام عبد اللہ بن مبارک، امام حسن بصریاور امیر صنعانی وغیرہ کا یہ مسلک ہے کہ زرعی پیدوار کی تمام اقسام میں سے صرف گندم، جو، کھجور اور منقی پر زکوۃ فرض ہے۔ امام صنعانی نے کہا: قطعی اور حتمی بات تو یہ ہے کہ مسلمان کا مال حرمت والا ہے، کسی قطعی دلیل کی روشنی میں ہی اس حرمت کو ختم کیا جا سکتا ہے، احتیاط اور دوسرے عام دلائل ناکافی ہیں، دوسری بات یہ ہے کہ اصل قانون تو براء ت ِ ذمہ کا ہے، یہ دو بنیادی اصول ہیں، جن کا حکم ختم کرنے کے لیے اِن کے مقابلے کی قطعی دلیل درکار ہے۔ رہا مسئلہ احتیاط کا، تو اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ مکئی وغیرہ پر بھی زکاۃ عائد نہ کی جائے، کیونکہ اس قسم کی فصلوں کے لیے جس عموم کا سہارا لیا گیا، ان کی تخصیص ثابت ہو چکی ہے۔ (سبل السلام: ۴/ ۳۶) جبکہ بعض علمائے کرام کا یہ مسلک ہے کہ زمین سے پیدا ہونے والی ہر قسم کی زرعی پیداوار پر عُشر یعنی زکوۃ فرض ہے، انھوں نے اپنے حق میں درج ذیل عام آیات پیش کی ہیں،ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَآتُوا حَقَّہٗیَوْمَ حَصَادِہٖ} (سورۂانعام: ۱۴۲) … ’’کھیتی کٹنے کے دن اس کا حق ادا کر دو۔‘‘ نیز فرمایا: {مِمَّا اَخْرَجْنَا لَکُمْ مِنَ الْاَرْضِ} (سورۂ بقرہ: ۲۶۷) … ’’ اس چیز میں سے خرچ کرو جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالی۔‘‘ نیز بعض احادیث بھی اس عموم پر دلالت کرتی ہیں، جیسے ((فِیْمَا سَقَتِ السَّمَائُ وَالْعُیُونُ … عُشر… وَنِصْفُ الْعُشْرِ۔))
3417
Sahih