TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

رِکاز اور کان کی زکوٰۃ کا بیان - رِکاز اور کان کی زکوٰۃ کا بیان - کھیتیوں اور پھلوں کی زکوۃ کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 5 of کھیتیوں اور پھلوں کی زکوۃ کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 5 · 4 Hadith
۔ (۳۴۲۵) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی خَیْبَرَ فَدَخَلَ صَاحِبٌ لَنَا إِلٰی خَرِبَۃٍ،یَقْضِی حَاجَتَہُ، فَتَنَاوَلَ لَبِنَۃً لِیَسْتَطِیَب بِہَا فَانْہَارَتْ عَلَیْہِ تِبْرًا، فأَخَذَہَا فَأَتٰی بِہَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرَہُ بِذٰلِکَ، قَالَ: زِنْہَا فَوَزَنَھَا، فَإِذَا مِئَتَا دِرْہَمٍ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ہَذَا رِکَازٌ، وَفِیْہِ الْخُمْسُ۔ (مسند احمد: ۱۲۳۲۳)
۔ سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف گئے، ہمارا ایک ساتھی قضائے حاجت کے لئے ایک ویرانے کی طرف گیا، جب اس نے استنجاء کرنے کے لئے ایک اینٹ اٹھائی تو اسے وہاں سے سونے کی ایک ڈلی ملی،اس نے وہ اٹھا لی اور اسے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے آیا اور ساری بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلا دی،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کا وزن کرو۔ اس نے وزن کیا تو وہ دو سو درہم کی ہوئی۔نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ رکاز ہے اور اس میںخُمُسیعنی پانچواں حصہ زکوٰۃ ہے۔
Takhreej
(۳۴۲۵) تخر یـج: اسنادہ ضعیف لضعف عبد الرحمن بن زید۔ أخرجہ البزار ۸۹۳، والبیھقی: ۴/۱۵۵ (انظر: ۱۲۲۹۸)
Explanation
فوائد:… رِکاز کی تعریف میں اختلاف پایا جاتا ہے: جمہور، امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک اس سے مراد دورِ جاہلیت کا زمین میں مدفون خزانہ ہے، جو بغیر کسی محنت و مشقت کے حاصل ہو جاتا ہے۔ امام ابو حنیفہ اور امام ثوری کے نزدیک اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا زمین میں پیدا کیا ہوا اصلی حالت میں معدنیات کا ذخیرہ ہے۔ ابن اثیر اور صاحب قاموس نے رکاز کے یہ دونوں معانی ذکر کیے ہیں، ظاہر بات ہے کہ کسی ایک معنی کا تعین کرنا ضروری ہے۔ جمہور کا مسلک راجح معلوم ہوتا ہے، جیسا کہ شیخ البانی نے کہا: لغت میں دونوں معنے مراد ہیں، لیکن شرعا صرف جاہلیت کا دفینہ مراد ہے، جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کی حدیث سے معلوم ہو رہا ہے۔ (تمام المنۃ: ص ۳۷۶) تیسرے نمبر پر آنے والی ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کییہ حدیث اور اس کی شرح ملاحظہ فرمائیں۔
3425
Zaeef
۔ (۳۴۲۶) عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ قَالَ: سَألْتُ جَابِرًا أَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((فِی الرِّکَازِ الْخُمْسُ؟)) فَقَالَ: نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۱۴۶۵۷)
۔ ابوزبیر کہتے ہیں: میں نے سیدناجابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے دریافت کیا کہ کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ رِکاز میں خمس یعنی پانچواں حصہ زکوٰۃ ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔
Takhreej
(۳۴۲۶) تخر یـج: صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لضعف ابن لھیعۃ،(انظر: ۱۴۶۰۳)
3426
Sahih
۔ (۳۴۲۷) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَفِی الرِّکَازِ ِالْخُمْسُ۔ (مسند احمد: ۲۸۷۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رِکاز میں پانچواں حصہ زکوٰۃ کا فیصلہ کیا۔
Takhreej
(۳۴۲۷) تخر یـج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۲۲۵، والطبرانی: ۱۱۷۲۶(انظر: ۲۸۷۰)
3427
Sahih
۔ (۳۴۲۸) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((اَلْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَالْعَجْمَائُ جُبَارٌ، وَفِی الرِّکَازِ الْخُمْسُ۔)) (مسند احمد: ۷۱۲۰)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کنواں رائیگاں ہے، کان ضائع ہے اور جانور بھی رائیگاں ہے اور رِکاز میں پانچواں حصہ زکوۃ ہے۔
Takhreej
(۳۴۲۸) تخر یـج:أخرجہ البخاری: ۲۳۵۵، ومسلم: ۱۷۱۰(انظر: ۷۱۲۰)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا مفہوم یہ ہے اگر کسی آدمی کو کسی کے کنویں، کان اور چوپائے سے کوئی نقصان پہنچ جائے، جبکہ اصل مالک کا اس میں کوئی دخل نہ ہو، تو وہ مالک اس کے نقصان سے بری ہو گا۔ صحیح بخاری کی حدیث (۱۴۹۹) میں اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((اَلْعَجْمَائُ جُبَارٌ،وَالْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِی الرِّکَازِ الْخُمْسُ۔)) اس مسلک کی تائید کرتے ہوئے کہ رکاز اور کان میں فرق ہے، شارح ابوداود امام عظیم آبادی کہتے ہیں: نبی کریم کے الفاظ ’’وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِی الرِّکَازِ الْخُمْسُ‘‘ (کان ضائع ہے اور رکاز میں پانچواں حصہ ہے۔) میں ’’اَلْمَعْدِنُ‘‘ پر ’’اَلرِّکَاز‘‘ کا عطف ڈالا گیا اور دونوں کا علیحدہ علیحدہ حکم بیان کیا گیا ، اس سے معلوم ہوا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نزدیک کان، رکاز نہیں ہے، بلکہ یہ دو مختلف اور متغایر چیزیں ہیں۔ اگر کان، رکاز ہی ہوتی تو حدیث ِ مبارکہ کے الفاظ یوں ہوتے: ’’وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِیْہِ الْخُمْسُ‘‘ ۔ لیکن چونکہ یہ الفاظ نہیں کہے گئے، اس لیے اس سے یہ ظاہر ہوا کہ رکاز اور کان دو الگ الگ چیزیں ہیں اور یہ بات بھی ہے کہ عطف مغایرت پر دلالت کرتا ہے۔ حافظ ابن حجر نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا واؤ عاطفہ کے ذریعے کان اور رکاز میں فرق کرنا، اس میں جمہور کے حق میں دلیل پائی جاتی ہے، سو ثابت ہوا کہ کان اور چیز ہے اور رکاز اور چیز ہے۔ (عون المعبود: ۲/ ۱۳۹۷) ان احادیث سے معلوم ہوا کہ رکاز میںپانچواں حصہ زکوۃ ہے۔ رہا مسئلہ کان کا، تو اس کے بارے میں کسی صحیح حدیث کی روشنی میں کوئی خاص حکم نہیں ہے، جو چیز کان سے نکلے گی، اس کو دیکھ کر اس کی زکوۃ کافیصلہ کیا جائے، لیکن اس پر ایک سال کے گزر جانے کی شرط بھی ہو گی۔
3428
Sahih