TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3428 - رِکاز اور کان کی زکوٰۃ کا بیان - کھیتیوں اور پھلوں کی زکوۃ کا بیان - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 4 in this chapter
رِکاز اور کان کی زکوٰۃ کا بیان
۔ (۳۴۲۸) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((اَلْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَالْعَجْمَائُ جُبَارٌ، وَفِی الرِّکَازِ الْخُمْسُ۔)) (مسند احمد: ۷۱۲۰)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کنواں رائیگاں ہے، کان ضائع ہے اور جانور بھی رائیگاں ہے اور رِکاز میں پانچواں حصہ زکوۃ ہے۔
3428
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۳۴۲۸) تخر یـج:أخرجہ البخاری: ۲۳۵۵، ومسلم: ۱۷۱۰(انظر: ۷۱۲۰)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… اس حدیث کا مفہوم یہ ہے اگر کسی آدمی کو کسی کے کنویں، کان اور چوپائے سے کوئی نقصان پہنچ جائے، جبکہ اصل مالک کا اس میں کوئی دخل نہ ہو، تو وہ مالک اس کے نقصان سے بری ہو گا۔ صحیح بخاری کی حدیث (۱۴۹۹) میں اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((اَلْعَجْمَائُ جُبَارٌ،وَالْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِی الرِّکَازِ الْخُمْسُ۔)) اس مسلک کی تائید کرتے ہوئے کہ رکاز اور کان میں فرق ہے، شارح ابوداود امام عظیم آبادی کہتے ہیں: نبی کریم کے الفاظ ’’وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِی الرِّکَازِ الْخُمْسُ‘‘ (کان ضائع ہے اور رکاز میں پانچواں حصہ ہے۔) میں ’’اَلْمَعْدِنُ‘‘ پر ’’اَلرِّکَاز‘‘ کا عطف ڈالا گیا اور دونوں کا علیحدہ علیحدہ حکم بیان کیا گیا ، اس سے معلوم ہوا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نزدیک کان، رکاز نہیں ہے، بلکہ یہ دو مختلف اور متغایر چیزیں ہیں۔ اگر کان، رکاز ہی ہوتی تو حدیث ِ مبارکہ کے الفاظ یوں ہوتے: ’’وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِیْہِ الْخُمْسُ‘‘ ۔ لیکن چونکہ یہ الفاظ نہیں کہے گئے، اس لیے اس سے یہ ظاہر ہوا کہ رکاز اور کان دو الگ الگ چیزیں ہیں اور یہ بات بھی ہے کہ عطف مغایرت پر دلالت کرتا ہے۔ حافظ ابن حجر نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا واؤ عاطفہ کے ذریعے کان اور رکاز میں فرق کرنا، اس میں جمہور کے حق میں دلیل پائی جاتی ہے، سو ثابت ہوا کہ کان اور چیز ہے اور رکاز اور چیز ہے۔ (عون المعبود: ۲/ ۱۳۹۷) ان احادیث سے معلوم ہوا کہ رکاز میںپانچواں حصہ زکوۃ ہے۔ رہا مسئلہ کان کا، تو اس کے بارے میں کسی صحیح حدیث کی روشنی میں کوئی خاص حکم نہیں ہے، جو چیز کان سے نکلے گی، اس کو دیکھ کر اس کی زکوۃ کافیصلہ کیا جائے، لیکن اس پر ایک سال کے گزر جانے کی شرط بھی ہو گی۔

Related Chapters

183
1
(28)Chapter: [What Has Been Related About] Wiping The Outside And The Inside Of The Ears
باب: دونوں کانوں کے بالائی اور اندرونی حصوں کے مسح کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
(29)Chapter: What Has Been Related That The Ears Are Part Of The Head
باب: وضو میں دونوں کانوں کے سر میں داخل ہونے کا بیان​
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About Putting The Fingers In The Ears For The Adhan
باب: اذان کے وقت شہادت کی دونوں انگلیاں دونوں کانوں میں داخل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About Preparing Food For The Family OF The Deceased
باب: میت کے گھر والوں کے لیے کھانا پکانے کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About Hanging The Hand Of The Thief (Around His Neck)
باب: چور کا ہاتھ (کاٹنے کے بعد) گردن میں لٹکانے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: Regarding A Sacrificial Animal With A Stump Horn Or Ear
باب: ٹوٹی سینگ اور پھٹے کان والے جانوروں کی قربانی کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: The Adhan In The Ear Of The Newborn
باب: نومولود کے کان میں اذان کہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About Bells On Horses (Being Disliked)
باب: گھوڑوں کے گلے میں گھنٹیاں لٹکانے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About (Dragging) Women's Hems
باب: عورتوں کے دامن لٹکانے کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: About Hanging The 'Imamah Between The Shoulders
باب: دونوں شانوں کے بیچ عمامہ (پگڑی) لٹکانے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
باب: تعویذ گنڈا لٹکانے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What has been Related About It is Not Lawful To Intimidate A Muslim
باب: ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کو ڈرانا دھمکانا ناجائز ہے
Jam e Tirmazi
13
باب: تین آدمی ہوں تو ایک کو چھوڑ کر دو کانا پھوسی کریں یہ درست نہیں ہے
Jam e Tirmazi
14
بَابُ مَا يَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ
کن کن چیزوں پر زکوۃ واجب ہوتی ہے
Mishkat
15
عرب کے ایسے لوگوں کی آمد کا بیان، جن کانام نہیں لیا گیا
Musnad Ahmad
16
اسلام کے ارکان اور اس کے بڑے بڑے ستونوں کا بیان
Musnad Ahmad
17
سر، دونوں کانوں اور دونوں کنپٹیوں کے مسح کا بیان
Musnad Ahmad
18
رکوع کی مقدار، اس کے طریقہ اور اس میں اور تمام ارکان میں برابر کا اطمینان رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
19
اس شخص کا بیان جس نے روایت کیا ہے کہ نمازِ کسوف دو رکعتیں ہیں اور ہر رکعت میں دو رکوع ہیں نیز اس نماز کو مسجد میں باجماعت ادا کرنے اور مطوّل و مختصر ہونے کی صورت میں اس کے ارکان کا بیان
Musnad Ahmad
20
قریب الموت کو دکھائے جانے والے مناظر اور جسم سے جدا ہونے کے بعد روح کا ٹھکانہ
Musnad Ahmad
21
زکوۃ کی فضیلت اور اس کی انواع زکوۃ کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
22
زکوۃ کی فرضیت، اس کی ترغیب اور زکوۃ ادا نہ کرنے کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
23
جن چیزوں میں زکوۃ واجب ہے، ان کا اور ان میں سے ہر ایک کے نصاب کا بیان
Musnad Ahmad
24
گائے اور وقص کی زکوۃ کے بارے میں بیان
Musnad Ahmad
25
زکوۃ وصول کرتے ہوئے لوگوں کے قیمتی مال سے اجتناب کرنے، بکریوں میں سے کس قسم کی بکری کا کفایت کرنے اور زکوۃ کی واجب مقدار سے افضل یا زائد دینے کا بیان
Musnad Ahmad
26
غلاموں، گھوڑوں اور گدھوں میں زکوۃ کے نہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
27
سونے اور چاندی کی زکوۃ
Musnad Ahmad
28
کھیتیوں اور پھلوں کی زکوۃ کا بیان
Musnad Ahmad
29
شہد کی زکوٰۃ کا بیان
Musnad Ahmad
30
زیورات کی زکوٰۃ کا بیان
Musnad Ahmad
31
زکوۃ ادا کرنے میں جلدی کرنے، وقت سے پہلے ادا کردینے اور امام کا زکوۃ دینے والے کے حق میں دعا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
32
مالک کے ساتھ نرمی کرنے اور زکوۃ وصول کرنے والے نمائندے کا خود اس کی طرف چلے جانے اور اس پر زیادتی نہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
33
زکوۃ وصول کنندہ کو راضی کرنا
Musnad Ahmad
34
عاملینِ زکوۃ
Musnad Ahmad
35
ان لوگوںکا بیان، جن کو تالیف ِ قلبی کے لیے زکوۃ دی جاتی ہے
Musnad Ahmad
36
غلاموں کی آزادی پر زکوۃ صرف کرنا
Musnad Ahmad
37
قرض داروں کو زکوۃ دینا
Musnad Ahmad
38
اللہ کی راہ میں اور مسافروں کو صدقہ دینے اور مصارفِ زکوٰۃ کی تمام اصناف کو صدقہ دینے کا بیان
Musnad Ahmad
39
اعتکاف اور ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی فضیلت کا بیان اعتکاف کی فضیلت اور اس کے زمان و مکان کا بیان
Musnad Ahmad
40
ولادت کے بعد بچے کے دونوں کانوں میں اذان دینا اور پھر اس کے بعد گڑتی دینا
Musnad Ahmad
41
بادشاہ کے عطیے اور عاملین زکوٰۃ کی کمائی کا بیان
Musnad Ahmad
42
کان الاٹ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
43
قاضی کے فیصلے میں درستی اور خطا دونوں کے امکان، مجتہد قاضی کے اجر اور اس کے فیصلہ کرنے کی کیفیت کا بیان
Musnad Ahmad
44
کان کا بعض حصہ کاٹنے میں قصاص لینے کا بیان
Musnad Ahmad
45
ان امور کا بیان کہ چوری میں پہلے کون سا ہاتھ کاٹا جائے، کاٹنے کا جگہ، ہاتھ کاٹ کر چور کی گردن میں لٹکانا، بار بار چوری کرنے والے کی سزا اور اس آیت کے بارے میںمفسرین کے اقوال: ’’اور چوری کرنے والا مرد اور عورت،پس ان دونوں کے ہاتھ کاٹ دو‘‘
Musnad Ahmad
46
لعان کے بارے میں زمان و مکان کی حد بندی
Musnad Ahmad
47
گوشت کو پکانے، اس کو نوچ کر کھانے، اس میں زیادہ شوربا بنانے اور اس کو گرم گرم نہ کھانے کا بیان
Musnad Ahmad
48
لباس کے معاملے میں شہرت اور کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کی ممانعت اور ایسا کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
49
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے گھر کی طرف نقل مکانی تاکہ وہیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تیمار داری کی جائے نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا نماز کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خلیفہ بنانا
Musnad Ahmad
50
(17) CHAPTER. (The Statement of Allah) “But if they repent [by rejecting Shirk (polytheism) and accept Islamic Monotheism] and perform As-Salat (Iqamat-as-Salat) and give Zakat then leave their way free.” (V.9:5)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں کہ اگر وہ ( کافر ) توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو ( یعنی ان سے جنگ نہ کرو )
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

34
Musnad Ahmad
3427
۔ (۳۴۲۷) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَفِی الرِّکَازِ ِالْخُمْسُ۔ (مسند احمد: ۲۸۷۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رِکاز میں پانچواں حصہ زکوٰۃ کا فیصلہ کیا۔
Musnad Ahmad
3426
۔ (۳۴۲۶) عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ قَالَ: سَألْتُ جَابِرًا أَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((فِی الرِّکَازِ الْخُمْسُ؟)) فَقَالَ: نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۱۴۶۵۷)
۔ ابوزبیر کہتے ہیں: میں نے سیدناجابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے دریافت کیا کہ کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ رِکاز میں خمس یعنی پانچواں حصہ زکوٰۃ ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔
Musnad Ahmad
3612
۔ (۳۶۱۲) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَااَعْلَمُہُ إِلَّا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کُلُّ سُلَامٰی مِنِ ابْنِ آدَمَ عَلَیْہِ صَدَقَۃٌ حِیْنَیُصْبِحُ۔)) فَشَقَّ ذَالِکَ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((إِنْسَلَامَکَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ صَدَقَۃٌ، وَإِمَاطَتُکَ الْاَذٰی عَنِ الطَّرِیْقِ صَدَقَۃٌ، وَإِنَّ اَمْرَکَ بِالْمَعْرُوْفِ صَدَقَۃٌ، وَنَہْیَکَ عَنِ الْمُنْکَرِ صَدَقَۃٌ۔)) وَحَدَّثَ بِاَشْیَائَ مِنْ نَحْوِ ھٰذَا لَمْ اَحْفَظْہَا۔ (مسند احمد: ۸۳۳۶)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابن آدم پر لازم ہے کہ وہ ہر روز صبح کے وقت اپنے ہر جوڑ کی طرف سے صدقہ کرے۔ یہ بات صحابہ پر شاق گزری، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا لوگوں کو سلام کہنا بھی صدقہ ہے، ایذا دینے والی چیز کو راستے سے ہٹا دینا بھی صدقہ ہے، کسی کونیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس طرح کی کئی نیکیوں کا ذکر کیا، لیکن مجھے وہ یاد نہیں ہیں۔
Musnad Ahmad
3667
۔ (۳۶۶۷) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((اُعْطِیَتْ اُمَّتِی خَمْسَ خِصَالٍ فِی رَمَضَانَ لَمْ تُعْطَہَا اَمَّۃٌ قَبْلَہُمْ، خُلُوْفُ فَمِ الصَّائِمِ اَطْیَبُ عِنْدَ اللّٰہِ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ، وَتَسْتَغْفِرُ لَہُمْ الْمَلَائِکَۃُ حَتّٰییُفْطِرُوْا وَیُزَیِّنُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ کُلَّ یَوْمٍ جَنَّۃً، ثُمَّ یَقُوْلُ: یَوشِکُ عِبَادِیَ الصَّالِحُوْنَ اَنْ یُلْقُوْا عَنْہُمْ الْمَئُوْنَۃَ وَالْاَذٰی وَیَصِیْرُوا إِلَیْکِ، وَیُصَفَّدُ فِیْہِ مَرَدَۃُ الشَّیَاطِیْنِ، فَلَا یَخْلُصُوا إِلَی مَا کَانُوْا یَخْلُصُوْنَ فِی غَیْرِہِ، وَیَغْفِرُلہَمُ ْفیِ آخِرِ لَیْلَۃٍ۔)) قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَہِیَ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ؟ قَالَ: ((لَا وَلٰکِنَّ الْعَامِلَ إِنَّمَا یُوَفّٰی اَجْرَہُ إِذَا قَضٰی عَمَلَہُ۔)) (مسند احمد: ۷۹۰۴)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کو ماہِ رمضان میں پانچ ایسی خوبیاںدی گئی ہیں جو اس سے پہلے کسی امت کو نہیں دی گئیں تھیں، ان کی تفصیلیہ ہے: (۱)روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے، (۲)روزہ افطار کرنے تک فرشتے ان کے حق میں دعائے رحمت کرتے ہیں، (۳) اللہ تعالیٰ ہر روز اپنی جنت کو مزین کرتا ہے اور اس سے فرماتا ہے:قریب ہے کہ میرے نیک بندے اپنی مشقتوں اور تکلیفوں سے دست بردار ہو کر تیری طرف آ جائیں، (۴) اس مہینے میں سرکش شیطانوں کو قید کر دیا جاتا ہے اور جس طرح وہ عام دنوں میں کارروائیاںکرتے ہیں، اس مہینے میں نہیں کر سکتے، اور (۵) اللہ تعالیٰ اس مہینے کی آخری رات میں میری امت کو بخش دیتا ہے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ شب ِ قدر ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، نہیں، بات یہ ہے کہ مزدور کو اس وقت مزدوری دی جاتی ہے، جو وہ اپنا کام پورا کر لیتا ہے ۔
Musnad Ahmad
6425
۔ (۶۴۲۵)۔ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْأِمَامِ أَحْمَدَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ کَامِلٍ الْجَحْدَرِیُّ ثَنَا الْفُضَیْلُ بْنُ سُلَیْمَانَ ثَنَا مُوْسَی بْنُ عُقْبَۃَ عَنْ اِسْحَاقَ بْنِ یَحْیَ بْنِ الْوَلِیْدِ بْنِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ عُبَادَۃَ قَالَ: إِنَّ مِنْ قَضَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ الْمَعْدِنَ جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْعَجْمَائُ جَرْحُہَا جُبَارٌ، وَالْعَجْمَائُ: اَلْبَہِیْمَۃُ مِنَ الْأَنْعَامِ وَغَیْرِھَا، وَالْجُبَارُ: ھُوَ الْھَدْرُ وَالَّذِیْ لَا یُغَرَّمُ، (وَقَضٰی) فِی الرِّکَازِ الْخُمْسُ، (وَقَضٰی) اَنَّ تَمْرَ النَّخْلِ لِمَنْ أَبَّرَھَا اِلَّا أَنْ یَشْتَرِطُ الْمُبْتَاعُ، (وَقَضٰی) اَنَّ مَالَ الْمَمْلُوْکِ لِمَنْ بَاعَہُ اِلَّا أَنْ یَشْتَرِطُ الْمُبْتَاعُ، (وَقَضٰی) أَنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاھِرِ الْحَجَرُ، (وَقَضٰی بِِالشُّفْعَۃِ بَیْنَ الشُّرَکَائِ فِی الْاَرْضِیْنَ وَالدُّوْرِ، (وَقَضٰی) لِحَمَلِ (بِفَتْحِ الْحَائِ وَالْمِیْمِ) بْنِ مَالِکٍ الْھُذَلِیِّ بِمِیْرَاثِہِ عَنْ اِمْرَأَتِہِ الَّتِیْ قَتَلَتْہَا الْأُخْرٰی، (وَقَضٰی) فِی الْجَنِیْنِ الْمَقْتُوْلِ بِغُرَّۃٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَۃٍ، قَالَ: فَوَرِثَہَا بَعْلُہَا وَبَنُوْھَا، قَالَ: وَکَانَ لَہُ مِنْ إِمرَأَتَیْہِ کِلْتَیْہِمَا وَلَدٌ، قَالَ: فَقَالَ اَبُوْ الْقَاتِلَۃِ الْمَقْضِیُّ عَلَیْہِ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ اَغْرَمُ مَنْ لَاصَاحَ وَلا اسْتَہَلَّ وَلَا شَرِبَ وَلَا اَکَلَ فَمِثْلُ ذٰلِکَ یُطَلُّ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھٰذَا مِنَ الْکُہَّانِ۔))، قَالَ: (وَقَضٰی) فِی الرَّحْبَۃِ تَکُوْنُ بَیْنَ الطَّرِیْقِ ثُمَّ یُرِیْدُ أَھْلُہَا الْبُنْیَانَ فِیْہِمَا فَقَضٰی اَنَّ یُتْرَکَ لِلطَّرِیْقِ فِیْہَا سَبْعَۃُ اَذْرُعٍ وَقَالَ: وَکَانَتْ تِلْکَ الطَّرِیْقُ سُمِّیَ الْمِیْتَائُ، (وَقَضٰی) فِی النَّخْلَۃِ أَوِ النَّخْلَتَیْنِ أَوِ الثَّلَاثِ فَیَخْتَلِفُوْنَ فِیْ حُقُوْقِ ذٰلِکَ فَقَضٰی أَنَّ لِکُلِّ نَخْلَۃٍ مِنْ اُوْلٰئِکَ مَبْلَغُ جَرِیْدَتِہَا حَیِّزٌ لَھَا، (وَقَضٰی) فِیْ شُرْبِ النَّخْلِ مِنَ السَّیْلِ أَنَّ الْأَعْلٰییُشْرَبُ قَبْلَ الْأَسْفَلِ وَیُتْرَکُ الْمَائُ اِلَی الْکَعْبَیْنِ ثُمَّ یُرْسَلُ الْمَائُ اِلَی الْأَسْفَلِ الَّذِیْیَلِیْہِ وَکَذٰلِکَ تَنْقَضِی الْحَوَائِطُ أَوْ یَفْنَی الْمَائُ، (وَقَضٰی) أَنَّ الْمَرْأَۃَ لَا تُعْطِی مِنْ مَالِھَا شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ زَوْجِہَا، (وَقَضٰی) لِلْجَدَّتَیْنِ مِنِ الْمِیْرَاثِ بِالسُّدُسِ بَیْنَہُمَا بِالسَّوَائِ، (وَقَضٰی) أَنَّ مَنْ اَعْتَقَ شِرْکًا لَہُ فِیْ مَمْلُوْکٍ فَعَلَیْہِ جَوَازُ عِتْقِہِ إِنْ کَانَ لَہُ مَالٌ، (وَقَضٰی) أَنْ لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ، (وَقَضٰی) أَنَّہُ لَیْسَ لِعِرْقِ ظَالِمٍ حَقٌّ، (وَقَضٰی) بَیْنَ أَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ فِی النَّخْلِ لَا یُمْنَعُ نَقْعُ بِئْرٍ، (وَقَضٰی) بَیْنَ أَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ أَنَّہُ لَا یُمْنَعُ فَضْلُ مَائٍ لِیُمْنَعَ فَضْلُ الْکَلَائِ، (وَقَضٰی) فِیْ دِیَۃِ الْکُبْرَی الْمُغَلَّظَۃِ ثَلَاثِیْنَ ابْنَۃَ لَبُوْنٍٍ وَ ثَلَاثِیْنَ حِقَّۃً وَاَرْبَعِیْنَ خَلِفَۃً، (وَقَضٰی) فِیْ دِیَۃِ الصُّغْرٰی ثَلَاثِیْنَ ابْنَۃَ لَبُوْنٍ وَثَلَاثِیْنَ حِقَّۃً وَعِشْرِیْنَ ابْنَۃَ مَخَاضٍ وَعِشْرِیْنَ بَنِیْ مَخَاضٍ ذُکُوْرًا، ثُمَّ غَلَتِ الْاِبِلُ بَعْدَ وَفَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھَانَتِ الدَّرَاھِمُ فَقَوَّمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِبِلَ الْمَدِیْنَۃِ سِتَّۃَ آلافِ دِرْھَمٍ حِسَابَ اَوْ قِیَۃٍ وَنِصْفٍ لِکُلِّ بَعِیْرٍ، ثُمَّ غَلَتِ الْاِبِلُ وَھَانَتِ الْوَرِقُ فَزَادَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ اَلْفَیْنِ حِسَابَ أُوْقِیَتَیْنِ لِکُلِّ بَعِیْرٍ، ثُمَّ غَلَتِ الْأِبِلُ وَھَانَتِ الدَّرَاھِمُ فَأَتَمَّھَا عُمَرُ اثْنَیْ عَشَرَ اَلْفًا حِسَابَ ثَلَاثِ أَوَاقٍ لِکُلِّ بَعِیْرٍ، قَالَ: فَزَادَ ثُلُثُ الدِّیَۃِ فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ وَثُلُثٌ آخَرُ فِی الْبَلَدِ الْحَرَامِ قَالَ: فَتَمَّتْ دِیَۃُ الْحَرَمَیْنِ عِشْرِیْنَ اَلْفًا، قَالَ: فَکَانَ یُقَالُ: یُؤْخَذُ مِنْ أَھْلِ الْبَادِیَۃِ مِنْ مَاشِیَتِہِمْ لَا یُکَلَّفُوْنَ الْوَرَقَ وَلَا الذَّھَبَ، وَیُؤْخَذُ مِنْ کُلِّ قَوْمٍ مَالَھُمْ قِیْمَۃُ الْعَدْلِ مِنْ أَمْوَالِھِمْ۔ (مسند احمد: ۲۳۱۵۹)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ کان بھی رائیگاں ہے، کنواں بھی رائیگاں ہے، چوپائے کا زخم بھی رائیگاں ہے۔ عَجْمَائ سے مراد چوپایہ ہے اور جُبَار سے مراد ہدر ہو جانے والی وہ چیز ہے، جس کی چٹی نہیں بھری جاتی۔ رکاز میں پانچویں حصے کافیصلہ فرمایا۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ کھجور کے درخت کا پھل اس کاہے جس نے اس کو پیوند لگایا ہے، الا یہ کہ خریدار خریدتے وقت لینے کی شرط لگا لے۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ فروخت ہونے والے غلام کا مال بیچنے والے کی ملکیت ہوگا، الا یہ کہ خریدار سودا کرتے وقت اس کی شرط لگا لے۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ اولاد اس کی ہے، جس کے بستر پر پیدا ہوئی ہو، اور زانی کیلئے پتھر ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زمین اور گھروں میں حصہ داروں کیلئے شفعہ کرنے کا فیصلہ فرمایا۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ سیدنا حمل بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس کی بیوی کی میراث سے حصہ دیا جائے گا، جس کو اس کی دوسری بیوی نے قتل کر دیا تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پیٹ کے مقتول بچے کی دیت کا فیصلہ دیا کہ ایک لونڈییا غلام دیا جائے اور فرمایا کہ قتل ہونے والی عورت کا خاوند اور اسکے بیٹے وارث ہوں گے اور حمل بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی دونوں بیویوں سے اولاد تھی، قتل کرنے والی کے باپ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس کی چٹی کیسے بھروں، جس نے نہ توآواز نکالی، نہ چیخا، نہ پیا اور نہ کھایا۔اس قسم کا معاملہ تو باطل اور ہدر ہو جانا چاہیے، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کاہنوں کی قافیہ بندی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس چبوترے کے بارے میں فیصلہ کیا جو راستے میں تھا اور اس کے مالکوں نے عمارت تعمیر کر نے کا ارادہ کیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ سات سات ہاتھ راستہ چھوڑ کر عمارت بنائی جائے۔ اور وہ چلنے کا عام راستہ ہو گا۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ جب لوگ ایکیا دو یا تین کھجوروں کے درختوں میں اختلاف کریں تو ہر درخت کی ٹہنیوں کی مقدار تک کی جگہ مالک کی ملکیت قرار پائے گی۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ نالوں میں بہتے ہوئے پانی سے کھجوروں کو سیراب کرتے وقت نیچے والی زمین سے پہلے اوپر والی زمین اس طرح سیراب کی جائے کہ پانی ٹخنوں تک آ جائے، پھر اس کو اس سے متصل نیچے والی زمین کی طرف چھوڑا جائے، پھر اسی طریقے سے پانی آگے کی طرف پہنچایا جائے، یہاں تک کہ باغات ختم ہو جائیںیا پانی ختم ہو جائے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ کہ عورت اپنا مال بھی خاوند کی اجازت کے بغیر نہیں دے گی۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ دو جدّات کومیراث سے چھٹا حصہ ملے گا، وہ دونوں میں برابر تقسیم ہوگا۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ جس نے مشترک غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دیا تو اگراس کے پاس مال ہواتو اسے سارا غلام آزاد کرنا ہو گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہ فرمایا (اپنے بھائی کو اس کے حق میں کمی کر دینے والا ) نقصان پہچانا اور (پہنچائی گئی اذیت سے ) زیادہ ضرر پہنچانا جائز نہیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ ظالم جڑ کا کوئی حق نہیں ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ والوں کے درمیان کھجوروں کے بارے میںیہ فیصلہ کیا کہ کنوئیں کا زائد پانی نہ روکا جائے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیہات والوں کے درمیانیہ فیصلہ کیا کہ زائد پانی اس لیے نہ روکا جائے کہ زائد گھاس سے لوگوں کو روک دیا جائے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہ کیا دیت ِ کبری میں تیس اونٹنیاں دو دو سالوں کی، تیس تین تین سالوں کی اور چالیس حاملہ اونٹنیاں ہونی چاہئیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیت ِ صغری میں فیصلہ کیا کہ تیس دو دو سال کی اونٹنیاں، تیس تین تین سال کی ، بیس ایک ایک سال کی اونٹنیاں اور بیس ایک ایک سال کے اونٹ ہونے چاہئیں۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے بعد جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں اونٹ مہنگے ہوگئے اور درہم سستے ہوگئے تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دیت کے اونٹوں کی قیمت چھ ہزار درہم مقرر کی، ایک اونٹ کی ایک اوقیہ کے برابر قیمت لگائی، بعد میں پھر جب اونٹ مہنگے ہوئے اور درہم گر گئے تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہر اونٹ کے دو دو اوقیے قیمت لگا کر دو ہزار درہم کی قیمت بڑھا دی، پھر جب تیسری مرتبہ اونٹ مہنگے ہو گئے اور درہم گر گئے تو ہر اونٹ کی تین اوقیے قیمت لگا کر بارہ ہزار درہم کر دی۔ دیت کے ایک تہائی حصے کا اضافہ حرمت والے مہینے میںکیا اور مزید ایک تہائی کا حرمت والے شہر میںکیا، ان دو حرمتوں کی دیت بیس ہزار درہم ہو گئی۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا تھا کہ دیہاتیوں سے ان کے مویشیوں میں سے دیت لی جائے، انہیں سونے اور چاندی کا پابند نہ بنایا جائے، ہر قوم کے مال سے اندازہ لگا کر وہی چیز دیت میں لی جائے، جو ان کے پاس ہے۔
Musnad Ahmad
3441
۔ (۳۴۴۱) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی بَیْتِی فَجَائَ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا صَدَقَۃُ کَذَا وَکَذَا؟ قَالَ: ((کَذَا وَکَذَا۔)) قَالَ: فَإِنَّ فُلَانًا تَعَدّٰی عَلَیَّ، قَالَ: فَنَظَرُوْہُ فَوَجَدُوْہُ قَدْ تَعَدّٰی عَلَیْہِ بِصَاعٍ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((فَکَیْفَ بِکُمْ اِذَا سَعٰی مَنْ یَتَعَدّٰی عَلَیْکُمْ أَشَدَّ مِنْ ہٰذَا التَّعَدِّیْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۱۰۹)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے گھر تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی نے آ کر دریافت کیا: اتنے مال کی زکوٰۃ کتنی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اتنی اتنی۔ اس نے کہا: تو پھر فلاں آدمی نے مجھ پر زیادتی کی اور مجھ سے زیادہ زکوۃ وصول کی۔ پھر جب انھوں نے پڑتال کی تو دیکھا کہ اس نے واقعی ایک صاع کی مقدار زیادتی کی تھی، پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب تمہارے حکمران تم پر اس سے بڑھ کر زیادتی کریں گے۔
Musnad Ahmad
3452
۔ (۳۴۵۲) عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ اَبِی وَقَّاصٍ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ:اَعْطَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رِجَالاً وَلَمْ یُعْطِ رَجُلًا مِنْہُمْ شَیْئًا، فقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! اَعْطَیْتَ فُلَانًا وَلَمْ تُعْطِ فُلَانَا شَیْئًا وَہُوَ مُؤْمِنٌ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَوْ مُسْلِمٌ۔)) حَتّٰی اَعَادَہَا سَعْدٌ ثَلَاثًا وَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَوْ مُسْلِمٌ۔)) ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((إِنِّی لَاُعْطِی رِجَالاً وَاَدَعُ مَنْ ہُو اَحَبُّ إِلَیَّ مِنْہِمْ فَلَا اُعْطِیْہِ شَیْئًا مَخَافَۃَ اَنْ یُکَبُّوا فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۵۲۲)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کئی لوگوں کو مال دیا اور ان میں سے ایک فرد کو کچھ نہیں دیا، سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی ! آپ نے فلاں فلاں کو تو مال دیا ہے، مگر فلاں کو کچھ بھی نہیں دیا، حالانکہ وہ بھی تو مومن ہے؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا وہ مسلمان نہیں ہے؟ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہی فرماتے رہے کہ کیا وہ مسلمان نہیں ہے؟ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بسا اوقات یوں ہوتا ہے کہ میں بہت سے لوگوں کو عطیات دیتا ہوں اور ان میں سے جو مجھے زیادہ محبوب ہوتا ہے، اسے کچھ نہیں دیتا، مبادا کہ دوسرے لوگ (عطیہ نہ ملنے کی وجہ سے) چہروں کے بل جہنم میں جا پڑیں گے۔
Musnad Ahmad
3468
۔ (۳۴۶۸) وَعَنْہُ اَیْضًا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَکُنْیُسْئَلُ شَیْئًا عَنِ الْإِسْلَامِ إِلاَّ اَعْطَاہُ، قَالَ: فَاَتَاہُ رَجُلٌ فَسَاَلَہُ فامَرَ لَہُ بِشَائٍ کَثِیْرٍ بَیْنَ جَبَلَیْنِ مِنْ شَائِ الصَّدَقَۃِ، قَالَ: فَرَجَعَ إِلٰی قَوْمِہِ فقَاَلَ: یَا قَوْمِ! اَسْلِمُوْا فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَیُعْطِی عَطَائً مَا یَخْشَی الْفَاقَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۷۴)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی روایت ہے کہ جب بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسلام کے نام پر کوئی چیز مانگی جاتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہ دے دیتے تھے،ایک دن ایک آدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو پہاڑوں کے درمیان والی گھاٹی کو بھر دینے والی زکوۃ کی بہت زیادہ بکریاں اسے دے دیں، جب وہ اپنی قوم کی طرف لوٹا تو اس نے کہا: اے میری قوم! مسلمان ہو جائو، بے شک محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس قدر سخاوت کرتے ہیں کہ انہیں اپنے فاقے کا کوئی اندیشہ نہیں ہوتا۔
Musnad Ahmad
3481
۔ (۳۴۸۱) عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ شَیْبَانَ اَنَّہُ قَالَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما : مَا تَذَکُرُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: اَدْخَلَنِی غُرْفَۃَ الصَّدَقَۃِ فَاَخَذْتُ مِنْہَا تَمْرَۃً فَاَلْقَیْتُہَا فِی فَمِی، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْقِہَا فَإِنَّہَا لاَ یَحِلُّ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَوَلَالِاَحَدٍمِنْاَہْلِبَیْتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۴)
۔ ربیعہ بن شیبان کہتے ہیں: میں نے سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی خاص چیزیاد ہے؟ انہوں نے کہا: ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے زکوۃ والے سٹور میں لے گئے، میں نے وہاں سے ایک کھجور اٹھا کر منہ میں ڈال لی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو پھینک دو، یہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ان کے اہل بیت کے کسی فرد کے لئے حلال نہیں ہے۔