TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

زیورات کی زکوٰۃ کا بیان - زیورات کی زکوٰۃ کا بیان - کھیتیوں اور پھلوں کی زکوۃ کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of کھیتیوں اور پھلوں کی زکوۃ کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 5 · 2 Hadith
۔ (۳۴۲۳) عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: أَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِمْرَأَتَانِ فِی أَیْدِیْہِمَا أَسَاوِرُ مِنْ ذَہَبٍ، فَقَالَ لَہُمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَتُحِبَّانِ أَنْ یُسَوِّرَکُمَا اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَسَاوِرَ مِنْ نَارٍ؟)) قَالَتَا: لَا، َقاَل: ((فَأَدِّیَا حَقَّ ہٰذَا الَّذِی فِی أیْدِیْکُمَا۔)) (مسند احمد: ۶۶۶۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ دو عورتیں نبی کریم کی خدمت حاضر ہوئیں، ان کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن تھے، رسول اللہ نے ان سے پوچھا: کیا تم اس بات کو پسند کرتی ہو کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمہیں آگ کے کنگن پہنائے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر اس زیور کا حق (زکوۃ) ادا کیا کرو جو تمہارے ہاتھوں میں ہے۔
Takhreej
(۳۴۲۳) تخر یـج: حدیث حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۱۵۶۳، والترمذی: ۶۳۷، والنسائی: ۵/ ۳۸(انظر: ۶۶۶۷)
3423
Sahih
۔ (۳۴۲۴) عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیْدَ قَالَتْ: دَخَلْتُ أَنَا وَخاَلَتِیْ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَلَیْنَا أَسْوِرَۃٌ مِنْ ذَہَبِ، فَقَالَ لَنَا: ((أتُعْطِیَانِ زَکَاتَہُ؟)) قَالَتْ: فَقُلْنَا: لَا، قَالَ: ((أَماَ تَخَافَانِ أَنْ یُسَوِّرَ کُمَا اللّٰہُ أَسْوِرَۃً مِنْ نَارِ، أَدِّیَا زَکَاَتُہ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۶۶)
۔ سیدہ اسماء بنت یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہے: میں اور میری خالہ ہم دونوں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، جبکہ ہم نے سونے کے کنگن بھی پہنے ہوئے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے پوچھا: کیا تم اس زیور کی زکوٰۃ ادا کیا کرتی ہو؟ ہم نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات سے نہیں ڈرتیں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس کے عوض آگ کے کنگن پہنائے، اس کی زکوٰۃ ادا کیا کرو۔
Takhreej
(۳۴۲۴) تخر یـج: اسنادہ ضعیف لضعف علی بن عاصم الواسطی وشھر بن حوشب۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۴ (۴۳۱) (انظر: ۲۷۶۱۴)
Explanation
فوائد:… عبداللہ بن شداد بن ہاد کہتے ہیں: ہم سیدہ زوجۂ رسول عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گئے، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میرے ہاتھ میں چاندی کی بڑی بڑی انگوٹھیاں دیکھ کر فرمایا: ’’عائشہ! یہ کیا ہیں؟‘‘ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے یہ تیار کیےہیں، تاکہ آپ کے لیے زینت اختیار کروں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’کیا تم ان کی زکوۃ ادا کرتی ہو؟‘‘ میں نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’تو پھر تجھے جہنم کے لیےیہی چیز کافی ہے۔‘‘ (ابوداود: ۱۵۶۵) اس باب کی دوسری حدیث بھی اِن شواہد کی روشنی میں قابل حجت معلوم ہوتی ہے، سونے اور چاندی کی زکوۃ کے نصاب اور شرح پر پہلے بحث ہو چکی ہے، اصل معیار وہی نصاب اور شرح ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ سونا اور چاندی ڈلی کی صورت میںپڑا ہو یا زیورات میں ڈھلا ہوا ہو، وہ استعمال کیا جا رہا ہو یا نہ کیا جا رہا ہو۔ واضح رہے کہ زکوٰۃ صرف سونے اور چاندی کے زیورات پر واجب ہے، ان کے علاوہ دیگر قیمتی دھاتوں اور پتھروں کے بنے ہوئے زیورات پر زکوۃ نہیں ہے، اگرچہ ان کی قیمت سونے سے بھی زیادہ ہو۔
3424
Zaeef