TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 290 - حالت حیض میں جماع سے اللہ عزوجل کی ممانعت جان لینے کے بعد جو شخص اپنی بیوی سے حالت حیض میں جماع کرے تو اس کے کفارہ کا بیان۔ - The book of purification - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
حالت حیض میں جماع سے اللہ عزوجل کی ممانعت جان لینے کے بعد جو شخص اپنی بیوی سے حالت حیض میں جماع کرے تو اس کے کفارہ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُقْسَمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فِي الرَّجُلِ يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ .
It was narrated from Ibn 'Abbas from the Prophet (ﷺ) concerning a man who has had intercourse while she was menstruating: Let him give a Dinar or half a Dinar in charity.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو اپنی بیوی سے جماع کرے، اور وہ حائضہ ہو کہ وہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرے۔
290
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 1, Book 1, Hadith 290 Arabic reference : Book 1, Hadith 291
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 290
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطھارة ۱۰۶ (۲۶۴)، النکاح ۴۸ (۲۱۶۸)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ۱۲۳ (۶۴۰)، (تحفة الأشراف: ۶۴۹۰)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطھارة ۱۰۳ (۱۳۷)، مسند احمد ۱/۲۲۹، ۲۳۷، ۲۷۲، ۲۸۶، ۳۱۲، ۳۲۵، ۳۶۳، ۳۶۷، سنن الدارمی/الطھارة ۱۱۲ (۱۱۴۶، ۱۱۴۷)، ویأتي عند المؤلف في الحیض ۹، (برقم: ۳۷۰) (صحیح)
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کا کہنا ہے کہ جب وہ بیوی سے شروع حیض میں جماع کرے تو ایک دینار صدقہ کرے، اور جب خون بند ہو جانے پر جماع کرے تو آدھا دینار صدقہ کرے، بعض لوگوں نے کہا ہے کہ یہاں نوعیت بتانا مقصود نہیں بلکہ یہ راوی کا تردد ہے، واضح رہے کہ یہ حکم استحبابی ہے وجوبی نہیں۔

Related Chapters

525
1
شرعی ممانعت کا علم رکھنے کے باوجود حالت حیض میں بیوی سے جماع کرنے کے کفارہ کا بیان۔
Sunnan Nisai
2
(31) CHAPTER. The marriage of a Muhrim.
احرام والا شخص صرف نکاح ( عقد ) کرسکتاہے حالت احرام میں اپنی بیوی سے جماع کرنا جائز نہیں ہے ۔
Sahih Bukhari
3
باب: جو اناج ناپ کر خریدا جائے، اسے پورا اپنی تحویل میں لے لینے سے پہلے بیچنے کی ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
4
(103)Chapter: What Has Been Related About The Atonement For That
باب: حائضہ سے جماع کے کفارہ کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: [What Had Been Related] About The Lord Blessed And Exalted Is He, Descending To The Earth's Heaven Every Night
باب: اللہ عزوجل کے ہر رات آسمان دنیا پر اترنے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What has been related about the one who has uttered Zihar and has intercourse (with his wife) before atoning
باب: ظہار کرنے والے کا بیان جو کفارہ کی ادائیگی سے پہلے جماع کر بیٹھے
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What has been Related About The Prohibition of Passing an Unsheathed Sword
باب: ننگی تلوار لینے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: Concerning Having Good Thoughts About Allah The Mighty And Sublime
باب: اللہ عزوجل کے ساتھ حسن ظن رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
بَابُ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالتَّقَرُّبِ إِلَيْهِ
اللہ عزوجل کے ذکر اور اس کے تقرب کا بیان
Mishkat
10
اذان پر اجرت لینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
11
میت کی وصیت کی بناء پر اس کی طرف سے قربانی کرنا اور قربانی کا گوشت اچکنے کی اجازت دینے والوں کا اور اچک لینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
12
محمد نام رکھنا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نام اور کنیت کو جمع کرنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
13
ان امور سے ممانعت کابیان: احتلام ہونے یا زیر ناف بالوں کے اگنے سے پہلے قیدی کو قتل کرنا، دوسرے کے قیدی کو قتل کرنا، قیدیوں میں والدہ اور اس کی اولاد میں تفریق ڈالنا، حاملہ قیدی خواتین سے جماع کرنا اور قیدی کو باندھ کر مارنا
Musnad Ahmad
14
صرف اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھانے اور آباء کی قسم اٹھانے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
15
جو آدمی کسی چیز پر قسم اٹھائے، لیکن جب دیکھے کہ زیادہ بہتری دوسری چیز میں ہے تو وہ بہتر چیز کو اختیار کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے
Musnad Ahmad
16
ٓپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان غصے میں کوئی نذر نہیں ہے اور اس کا کفارہ قسم والا کفارہ ہے کا بیان
Musnad Ahmad
17
خریدار کو قبضے میں لینے سے پہلے خریدی ہوئی چیز کو آگے فروخت کر دینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
18
والد کے علاوہ سب کے لیے ہبہ کی ہوئی چیز کو واپس لینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
19
وصیت کرنے پر رغبت دلانے، اس میںظلم کرنے کی ممانعت اور زندگی میں ہی اس کا اہتمام کرلینے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
20
قضا اور قاضی کے آداب کا بیان فریقین کا کلام سن لینے سے پہلے فیصلہ کر دینے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
21
غصے کی حالت میں فیصلہ کرنے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
22
زخم کے درست ہونے سے پہلے قصاص لینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
23
بیوی کو پیچھے سے استعمال کرنے کی ممانعت اور تجبیب کے جواز کا بیانیعنی پچھلی سمت سے عورت کی قبل میں جماع کرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
24
حالت حیض میں اور طہر میں مجامعت کے بعد حمل کے واضح ہونے سے پہلے تک طلاق دینے کی ممانعت
Musnad Ahmad
25
پانی پلانے کی فضیلت اور زائد پانی کو روک لینے سے ممانعت اور اس معاملے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
26
شراب کو بہانے اور اس کے برتنوں کو توڑ دینے کا اور شراب کو سرکہ بنا لینے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
27
(17) CHAPTER. “(A little lump of flesh) some formed and some unformed.” (V. 22:5)
اللہ عزوجل کے قول مخلقہ و غیر مخلقہ ( کامل الخلقت اور ناقص الخلقت ) کے بیان میں
Sahih Bukhari
28
CHAPTER. The Statement of Allah: “... And take you (people) the Maqam (place) of Ibrahim (Abraham) (or the stone on which Abrahim stood while he was building the Kabah) as a place of prayer (for some of your Salat e.g., two Raka after the Tawaf of Kabah) ...”
اللہ عزوجل کا ارشاد ہے کہ ’’ مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ ۔ ‘‘ ( البقرہ : 125 )
Sahih Bukhari
29
(6) CHAPTER. The five Salat (prayers) are expiations (of sins).
اس بیان میں کہ پانچوں وقت کی نمازیں گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہیں جب کوئی ان کو جماعت سے یا اکیلا ہی اپنے وقت پر پڑھے
Sahih Bukhari
30
(25) CHAPTER. If the Imam says, “Remain at your places till I return”, then wait for him.
اگر امام مقتدیوں سے کہے کہ تم لوگ اسی حالت میں ٹھہرے رہو تو جب تک وہ لوٹ کر آئے اس کا انتظار کریں ( اور اپنی حالت پر ٹھہرے رہیں )
Sahih Bukhari
31
(40) CHAPTER. The Statement of Allah: Then when the (Jumuah) Salat (prayer) is ended, you may disperse through the land, and seek of the Bounty of Allah...” (V.62:10)
اللہ عزوجل کا ( سورۃ الجمعہ میں ) یہ فرمانا کہ جب جمعہ کی نماز ختم ہو جائے تو اپنے کام کاج کے لیے زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کے فضل ( روزی ، رزق یا علم ) کو ڈھونڈو
Sahih Bukhari
32
(15) CHAPTER. The Statement of Allah: “It is made lawful for you to have sexual relations with your wives on the night of the As-Saum (the fasts)”.
اللہ عزوجل کا فرمانا کہ
Sahih Bukhari
33
(24) CHAPTER. What is said regarding kissing by a fasting person.
روزہ دار کا روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا
Sahih Bukhari
34
(28) CHAPTER. (What about) a disbeliever who kills a Muslim and later on embraces Islam and starts doing good deeds and gets killed (in Allah's Cause)?
کافر اگر کفر کی حالت میں مسلمان کو مارے پھر مسلمان ہو جائے ‘ اسلام پر مضبوط رہے اور اللہ کی راہ میں مارا جائے تو اس کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
35
(8) CHAPTER. The Prophet re-allowed the use of (certain kinds of) bowl and containers after he had forbidden their use.
ممانعت کے بعد ہر قسم کے برتنوں میں نبیذ بھگو نے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اجازت کا ہونا
Sahih Bukhari
36
(1) CHAPTER. The saying that sickness is expiation for sins.
بیماری کے کفارہ ہونے کا بیان اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء میں فرمایا جو کوئی برا کرے گا اس کو بدلہ ملے گا ۔
Sahih Bukhari
37
(12) CHAPTER. To be cupped while on a journey or while in a state of Ihram.
سفر میں پچھنا لگوانا اور حالت احرام میں بھی ، اسے ابنبحینہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے
Sahih Bukhari
38
(34) CHAPTER. The statement of the Prophet : (O Allah!) If I should harm somebody, let that be a means of purification and mercy for him.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ اے اللہ ! اگر مجھ سے کسی کو تکلیف پہنچی ہو تو اس کے گناہوں کے لئے کفارہ اور رحمت بنا دے
Sahih Bukhari
39
(5) CHAPTER. The Sa (measuring unit) of Al-Madina.
سورۃ المائدہ میں اللہ تعالیٰ کا رشاد ” یعنی قسم کے کفارہ میں ایک غلام کی آزادی “ اور کس طرح کے غلام کی آزادی افضل ہے
Sahih Bukhari
40
Chapter: The evidence that the one who dies not associating anything with Allah will enter paradise, and the one who dies as idolator will enter the fire
جو شخص اس حالت میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرایا ، وہ جنت میں داخل ہو گا اور اگر شرک کی حالت میں مر گیا تو آگ میں داخل ہو گا
Sahih Muslim
41
Chapter: The Prophet saws foretold that the people will abandon Al-Madinah when it is the best it ever was
مدینہ کو بہترین حالت میں ہونے کے باوجود لوگوں کے اسے چھوڑدینے کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی پشین گوئی
Sahih Muslim
42
Chapter: Expiation must be offered by one who declares his wife to be unlawful for him but does not intend divorce thereby
جس نے اپنی بیوی کو حرام ٹھہرالیااور طلاق کی نیت نہ کی اس پرکفارہ واجب ہے
Sahih Muslim
43
Chapter: The prohibition of swearing by something other than Allah
غیر اللہ کی قسم کھانے کی ممانعت
Sahih Muslim
44
Chapter: It is recommended for the one who swears an oath then sees that something else is better than it; To do that which is better and offer expiation for his oath
جس نے (کسی کام کی )قسم کھائی ‘پھر کسی دوسرے کام کو اس سے بہتر سمجھا تو اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ وہی کرے جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے
Sahih Muslim
45
Chapter: The prohibition of slaughtering a sacrifice for anything other than Allah, and the one who does that is cursed
غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنے کی ممانعت اور ذبح کرنے والے پر لعنت
Sahih Muslim
46
Chapter: The Prohibition Of Making Others Despair Of The Mercy Of Allah
کسی انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نااُمید کرنے کی ممانعت
Sahih Muslim
47
Chapter: Exhortation To Repent And Rejoicing Therein
توبہ کی تلقین اور اس پر (اللہ عزوجل کی) خوشی
Sahih Muslim
48
Chapter: The Disbelievers
کافروں کے بارے میں(اللہ عزوجل کا تحمل)
Sahih Muslim
49
CHAPTER: Regarding The Penalty For The One Who Approaches His Wife While She Is Menstruating
باب: حائضہ عورت سے جماع کے کفارہ کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
50
CHAPTER: Expiation For A Man Who Has Sexual Intercourse With His Wife During Ramadan.
باب: رمضان میں بیوی سے جماع کے کفارہ کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
No related chapter matched that.

Related Hadith

317
Sunnan Ibn e Maja
640
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مِقْسَمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ قَالَ:‏‏‏‏ يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ .
It was narrated from Ibn 'Abbas that: The Prophet said concerning one who has intercourse with a woman when she is menstruating: Let him give a Dinar or half a Dinar in charity.
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنی بیوی سے حیض کی حالت میں مجامعت کرے، وہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرے ۔
Sunnan Nisai
370
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مِقْسَمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فِي الرَّجُلِ يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، ‏‏‏‏‏‏يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ .
It was narrated from Ibn 'Abbas from the Prophet (ﷺ) concerning a man who has had intercourse with his wife while she was menstruating: Let him give a Dinar or half a Dinar in charity.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جو آدمی اپنی بیوی کے پاس آئے ۱؎ اور وہ حائضہ ہو تو وہ ایک دینار یا آدھا دینار صدقہ کرے ۲؎۔
Sahih Muslim
1424
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ عَلِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ يَحْيَى، سَمِعَ عَلِيًّا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ، وَهُوَ قَاعِدٌ عَلَى فُرْضَةٍ مِنْ فُرَضِ الْخَنْدَقِ: «شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، مَلَأَ اللهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ»، أَوْ قَالَ: «قُبُورَهُمْ وَبُطُونَهُمْ نَارًا»
Yahya heard 'Ali saying that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said on the day (of the Battle) of Ahzab, while sitting in one of the openings of the ditch: They (the enemies) have diverted us from the middle prayer till the sun set. May Allah fill their graves and their houses with fire, or their graves and stomachs with fire.
یحییٰ بن جزار نے حضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے غزوہ احزاب کے موقع پر جب آپ خندق کی گزر گاہوں میں سے کسی گزر گا ہ پر تشریف فرما تھے ، فرمایا : انھوں نے ہمیں درمیانی نما ( عصر ) سے مشغول کر دیا حتی کہ سورج ڈوب گیا ، اللہ تعالیٰ ان کی قبروں اور گھروں کو یا فرمایا : ان کی قبروں او ر پیٹوں کو آگ سے بھر دے ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim
2849
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورًا، يُحَدِّثُ عَنِ الْحَكَمِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، جَمِيعًا عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فِي رِوَايَةِ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، أَهْدَى الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجْلَ حِمَارِ وَحْشٍ، وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَجُزَ حِمَارِ وَحْشٍ يَقْطُرُ دَمًا. وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ، عَنْ حَبِيبٍ، أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِقُّ حِمَارِ وَحْشٍ فَرَدَّهُ
The narration transmitted by Hakam (the words are): Al-Sa'b b. Jaththama presented to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) the leg of a wild ass. And in the narration transmitted by Shu'ba (the words are): (He presented to him) the rump of a wild ass as the blood was trickling from it. In the narration transmitted by Shu'ba on the authority of Habib (the words are): A part of a wild ass was presented to the Apostle (may peace he upon him) and he returned it to him (who presented it).
منصور نے حکم سے اسی طرح شعبہ نے حکم کے واسطے سے اور واسطے کے بغیر ( براہ راست ) بھی حبیب سے انھوں نے سعید بن جبیر سے اور انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ۔ حکم سے منصور کی روایت کے الفاظ ہیں کہ صعب بن جثامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زیبے کی ران ہدیتاً پیش کی ۔ حکم سے شعبہ کی روایت کے الفاظ ہیں زیبرے کا پچھلا دھڑپیش کیا جس سے خون ٹپک رہا تھا ۔ اور حبیب سے شعبہ کی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زیبرے کا ( ایک جانب کا ) آدھا حصہ ہدیہ کیا گیا تو آپ نے اسے واپس کر دیا ۔
Sunnan Abu Dawood
326
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ذَرٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْأَبِيهِ،‏‏‏‏عَنْ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏فِي هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَضْرِبَ بِيَدَيْكَ إِلَى الْأَرْضِ فَتَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَكَ وَكَفَّيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَسَاقَ الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَمَّارًا يَخْطُبُ بِمِثْلِهِ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ لَمْ يَنْفُخْ، ‏‏‏‏‏‏وَذَكَرَ حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏فِي هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ضَرَبَ بِكَفَّيْهِ إِلَى الْأَرْضِ وَنَفَخَ.
This is also transmitted by Ibn Abdur-Rahman bin Abza on the authority of his father from Ammar. He reported the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم as saying: It would have been enough for you to strike the ground with you hands and then wipe them your face and your hands (up to the wrists). He then narrated the rest of the tradition. Abu Dawud said: This is also transmitted by Shubah from Husain on the authority of Abu Malik. He said: I heard Ammar saying so him his speech, except that in this version he added the words: He blew. And Husain bin Muhammad narrated from Shubah on the authority of al-Hakam and in this version added the words: He (the Prophet) struck the earth with his plans and blew.
اس طریق سے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے بواسطہ عمار رضی اللہ عنہ اس حدیث میں مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مار کر انہیں اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں پر پھیر لینا تمہارے لیے کافی تھا ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے شعبہ نے حصین سے، حصین نے ابو مالک سے روایت کیا ہے، اس میں ہے: میں نے عمار رضی اللہ عنہ کو اسی طرح خطبہ میں بیان کرتے ہوئے سنا ہے مگر اس میں انہوں نے کہا: پھونک نہیں ماری ، اور حسین بن محمد نے شعبہ سے اور انہوں نے حکم سے روایت کی ہے، اس میں انہوں نے کہا ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر اپنی دونوں ہتھیلیوں کو مارا اور اس میں پھونک ماری۔
Sunnan Nisai
1255
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى،‏‏‏‏ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،‏‏‏‏ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْإِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلْقَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ خَمْسًا،‏‏‏‏ فَقِيلَ لَهُ:‏‏‏‏ أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ وَمَا ذَاكَ ،‏‏‏‏ قَالُوا:‏‏‏‏ صَلَّيْتَ خَمْسًا،‏‏‏‏ فَثَنَى رِجْلَهُ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ.
It was narrated that 'Abdullah said: The Prophet(ﷺ) prayed Zuhr with five rak'ahs, and it was said to him: 'Has something been added to the prayer?' He said: 'Why are you asking?' They said: 'You prayed five.' So he turned around and prostrated twice.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پانچ  ( رکعت )  پڑھی، تو آپ سے عرض کیا گیا: کیا نماز میں زیادتی کر دی گئی ہے؟ تو آپ نے پوچھا:  وہ کیا؟  لوگوں نے کہا: آپ نے پانچ  ( رکعت )  پڑھی ہے، تو آپ نے اپنا پاؤں موڑا اور دو سجدے کیے۔
Jam e Tirmazi
2489
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ عَائِشَةَ:‏‏‏‏ أَيُّ شَيْءٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ يَكُونَ فِي مَهْنَةِ أَهْلِهِ فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ قَامَ فَصَلَّى ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Aswad bin Yazid narrated: I said: 'O 'Aishah! What would the Prophet (s.a.w) do when he entered his house?' She said: 'he would busy himself with serving his family, then when (the time for) Salat was due he would stand (to go) for it.'
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تھے تو کیا کرتے تھے؟ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کے کام کاج میں مشغول ہو جاتے تھے، پھر جب نماز کا وقت ہو جاتا تو کھڑے ہوتے اور نماز پڑھنے لگتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
2662
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ حَدَّثَ عَنِّي حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ ،‏‏‏‏ وفي الباب عن عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسَمُرَةَ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْحَدِيثَ. وَرَوَى الْأَعْمَشُ، وَابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَأَنَّ حَدِيثَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَمُرَةَ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ أَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ حَدَّثَ عَنِّي حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ مَنْ رَوَى حَدِيثًا وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ إِسْنَادَهُ خَطَأٌ أَيُخَافُ أَنْ يَكُونَ قَدْ دَخَلَ فِي حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ أَوْ إِذَا رَوَى النَّاسُ حَدِيثًا مُرْسَلًا فَأَسْنَدَهُ بَعْضُهُمْ أَوْ قَلَبَ إِسْنَادَهُ يَكُونُ قَدْ دَخَلَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا إِنَّمَا مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ إِذَا رَوَى الرَّجُلُ حَدِيثًا وَلَا يُعْرَفُ لِذَلِكَ الْحَدِيثِ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْلٌ فَحَدَّثَ بِهِ فَأَخَافُ أَنْ يَكُونَ قَدْ دَخَلَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ.
Narrated Al-Mughirah bin Shu'bah: that the Prophet (ﷺ) said: Whoever narrates a Hadith from me which he knows is a lie, then he is one of the liars.
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے میری طرف منسوب کر کے جان بوجھ کر کوئی جھوٹی حدیث بیان کی تو وہ دو جھوٹ بولنے والوں میں سے ایک ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ نے حکم سے، حکم نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے، عبدالرحمٰن نے سمرہ سے، اور سمرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی ہے، ۳- اعمش اور ابن ابی لیلیٰ نے حکم سے، حکم نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے، عبدالرحمٰن نے علی رضی الله عنہ سے اور علی رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، اور عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کی حدیث جسے وہ سمرہ سے روایت کرتے ہیں، محدثین کے نزدیک زیادہ صحیح ہے، ۴- اس باب میں علی ابن ابی طالب اور سمرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۵- میں نے ابو محمد عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث «من حدث عني حديثا وهو يرى أنه كذب فهو أحد الكاذبين» کے متعلق پوچھا کہ اس سے مراد کیا ہے، میں نے ان سے کہا کیا یہ کہ جس نے کوئی حدیث بیان کی اور وہ جانتا ہے کہ اس کی اسناد میں کچھ خطا ( غلطی اور کمی ) ہے تو کیا یہ خوف و خطرہ محسوس کیا جائے کہ ایسا شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کی زد اور وعید میں آ گیا۔ یا اس سے مراد یہ ہے کہ لوگوں نے حدیث مرسل بیان کی تو انہیں میں سے کچھ لوگوں نے اس مرسل کو مرفوع کر دیا یا اس کی اسناد کو ہی الٹ پلٹ دیا تو یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کی زد میں آئیں گے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں۔ اس کا معنی ( و مطلب ) یہ ہے کہ جب کوئی شخص حدیث روایت کرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک اس حدیث کے مرفوع ہونے کی کوئی اصل ( وجہ و سبب ) نہ جانی جاتی ہو، اور وہ شخص اسے مرفوع کر کے بیان کر دے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا یا ایسا کیا ہے تو مجھے ڈر ہے کہ ایسا ہی شخص اس حدیث کا مصداق ہو گا۔
Sahih Muslim
1
وَاعْلَمْ وَفَّقَكَ اللهُ تَعَالَى أَنَّ الْوَاجِبَ عَلَى كُلِّ أَحَدٍ عَرَفَ التَّمْيِيزِ بَيْنَ صَحِيحِ الرِّوَايَاتِ وَسَقِيمِهَا، وَثِقَاتِ النَّاقِلِينَ لَهَا مِنَ الْمُتَّهَمِينَ، أَنْ لَا يَرْوِيَ مِنْهَا إِلَّا مَا عَرَفَ صِحَّةَ مَخَارِجِهِ، وَالسِّتَارَةَ فِي نَاقِلِيهِ، وَأَنْ يَتَّقِيَ مِنْهَا مَا كَانَ مِنْهَا عَنْ أَهْلِ التُّهَمِ وَالْمُعَانِدِينَ مِنْ أَهْلِ الْبِدَعِ‘وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الَّذِي قُلْنَا مِنْ هَذَا هُوَ اللَّازِمُ دُونَ مَا خَالَفَهُ، قَوْلُ اللهُ جَلَّ ذِكْرُهُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ} [الحجرات: 6]، وَقَالَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ} [البقرة: 282]، وَقَالَ عَزَّ وَجَلَّ: {وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ} [الطلاق: 2]، فَدَلَّ بِمَا ذَكَرْنَا مِنْ هَذِهِ الْآيِ أَنَّ خَبَرَ الْفَاسِقِ سَاقِطٌ غَيْرُ مَقْبُولٍ، وَأَنَّ شَهَادَةَ غَيْرِ الْعَدْلِ مَرْدُودَةٌ، وَالْخَبَرُ وَإِنْ فَارَقَ مَعْنَاهُ مَعْنَى الشَّهَادَةِ فِي بَعْضِ الْوُجُوهِ، فَقَدْ يَجْتَمِعَانِ فِي أَعْظَمِ مَعَانِيهِمَا، إِذْ كَانَ خَبَرُ الْفَاسِقِ غَيْرَ مَقْبُولٍ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ كَمَا أَنَّ شَهَادَتَهُ مَرْدُودَةٌ عِنْدَ جَمِيعِهِمْ، وَدَلَّتِ السُّنَّةُ عَلَى نَفْيِ رِوَايَةِ الْمُنْكَرِ مِنَ الْأَخْبَارِ كَنَحْوِ دَلَالَةِ الْقُرْآنِ عَلَى نَفْيِ خَبَرِ الْفَاسِقِ وَهُوَ الْأَثَرُ الْمَشْهُورُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مَنْ حَدَّثَ عَنِّي بِحَدِيثٍ يُرَى أَنَّهُ كَذِبٌ، فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ». حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ أَيْضًا، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، وَسُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ
Know - may Allah, exalted is He, grant you success – that what is obligatory upon everyone who is aware of the distinction between the Sahīh transmissions and their weak, the trustworthy narrators from those who stand accused, is to not transmit from them except what is known for the soundness of its emergence and the protection of its narrators; and that they fear what may be from those accused (of deficiency in narrating) and the stubborn people of innovation. The proof that what we have said is required above what opposes it is in the verse: {Oh you who believe! If a sinful person comes to you with news, then verify it lest you afflict people through ignorance then you become sorry about what you did}[al-Hujurāt: 6]; and the verse: {… from whom you are pleased with from the witnesses}[al-Baqarah: 282] and the verse: {And let two who possess integrity among you bare witness}[at-Talāq: 2]. Thus it demonstrates what we mentioned from these two verses that the report of the sinful is dropped and not accepted, and that the testimony [Shahādah] of one who does not possess integrity is rejected, and the report [Khabar] as well- even though its significance is separated from the meaning of testimony in some respects, they are in agreement regarding the overall conditions they share since the report of the sinful is not acceptable according to Ahl ul-Ilm just as his testimony is rejected according to all of them . The Sunnah demonstrates the prohibition of transmitting abominable transmissions just as in the example from the Qur’ān regarding the prohibition of the report of the sinful. There is a famous narration on authority of the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah upon him, that: ‘Whoever relates on my authority a narration while aware that it is a lie, then he is one of the liars’ . Abū Bakr ibn Abī Shaybah narrated it to us that Wakī narrated to us, on authority of Shu’bah, on authority of al-Hakam, on authority of Abd ir-Rahman ibn Abī Laylā, on authority of Samurah bin Jundab. And also Abū Bakr ibn Abī Shaybah narrated to us, that Wakī narrated to us, on authority of Shu’bah and Sufyān, on authority of Habīb, on authority of Maymūn ibn Abī Shabīb, on authority of al-Mughīrat ibn Shu’bah, they both said that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah upon him, said the same thing.
جان تو! اللہ تجھ کو توفیق دے جو شخص صحیح اور ضعیف حدیث میں تمیز کرنے کی قدرت رکھتا ہو اور ثقہ (‏‏‏‏معتبر) اور متہم (‏‏‏‏جن پر تہمت لگی ہو کذب وغیرہ کی) راویوں کو پہچانتا ہو اس پر واجب ہے کہ نہ روایت کرے مگر اس حدیث کو جس کے اصل کی صحت ہو اور اس کے نقل کرنے والے وہ لوگ ہوں جن کا عیب فاش نہ ہوا ہو، اور بچے ان لوگوں کی روایت سے جن پر تہمت لگائی ہے یا جو عناد رکھتے ہیں اہل بدعت میں سے۔ اور دلیل اس پر جو ہم نے کہا: یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا: ”اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ جا پڑو کسی قوم پر نادانی سے پھر کل کو پچھتاؤ اپنے کیے ہوئے پر“۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور گواہ کرو دو مردوں کو یا ایک مرد اور دو عورتوں کو جن کو تم پسند کرتے ہو“ (گواہی کیلئے یعنی جو سچے اور نیک معلوم ہوں) اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے گواہ کرو دو شخصوں کو جو عادل ہوں“ تو ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ فاسق کی بات بے اعتبار ہے اور اسی طرح حدیث شریف سے یہ بھی بات معلوم ہوتی ہے کہ منکر روایت کا بیان کرنا (جس کے غلط ہونے کا احتمال ہو) درست نہیں جیسے قرآن سے معلوم ہوتا ہے اور وہ حدیث وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہ شہرت منقول ہے کہ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور وہ خیال کرتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹا ہے۔“ امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی اسناد سے روایت کیا سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ اور سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یعنی وہی حدیث جو اوپر گزری کہ جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور وہ سمجھتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹا ہے)۔