TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1193 - کنکریوں پر ایک بار ہاتھ پھیرنے کی رخصت کا بیان۔ - The book of forgetfulness (in prayer) - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
کنکریوں پر ایک بار ہاتھ پھیرنے کی رخصت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مُعَيْقِيبٌ،‏‏‏‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ إِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَمَرَّةً .
Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman said: Mu'aiqib told me that the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'If you have to do that, then do it only once.'
معیقب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:  اگر تمہیں  ( کنکریوں پر )  ہاتھ پھیرنا ضروری ہی ہو تو ایک بار پھیر سکتے ہو ۔
1193
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 1192 In-book reference : Book 13, Hadith 14 English translation : Vol. 2, Book 13, Hadith 1193
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1193
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العمل فی ال صلاة ۸ (۱۲۰۷)، صحیح مسلم/المساجد ۱۲ (۵۴۶)، سنن ابی داود/الصلاة ۱۷۵ (۹۴۶)، سنن الترمذی/الصلاة ۱۶۳ (۳۸۰)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ۶۲ (۱۰۲۶)، مسند احمد ۳/۴۲۶ و ۵/۴۲۵، ۴۲۶، سنن الدارمی/الصلاة ۱۱۰ (۱۴۲۷)، (تحفة الأشراف: ۱۱۴۸۵) (صحیح)

Related Chapters

472
1
چور کے اقرار پر ہاتھ کاٹنے، حد کے بارے میں تلقین کرنے اور کاٹنے کے بعد ہاتھ کو داغنے کا بیان، نیز اس چیز کا بیان کہ کیا ایک مرتبہ چوری کا اعتراف کافی ہے
Musnad Ahmad
2
تیمم میں زمین پر ضرب (ہاتھ مارنا) ایک بار
Sunnan Ibn e Maja
3
Chapter: Something Else About That
باب: سجدے میں ہاتھوں سے پہلے گھٹنے رکھنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
4
Chapter: Something Else About That
باب: سلام پھیرنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked to Intertwine The Fingers During Salat
باب: نماز میں ایک ہاتھ کی انگلیوں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About Giving Permission For The Shepherds To Stone A Day And Leave (Stoning) A Day
باب: چرواہوں کو ایک دن چھوڑ کر ایک دن جمرات کی رمی کرنے کی رخصت ہے
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About The Permission (For Walking In) One Sandal
باب: ایک جوتا پہن کر چلنے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: The One Who Is Patient Upon His Religion During Fitan Is like One Holding An Ember
باب: ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ دین پر جمے رہنا ہاتھ میں چنگاری رکھنے کی طرح ہو گا
Jam e Tirmazi
9
اس عقیدے کا بیان کہ بارش اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، اس کی مخلوق ہے اور اسی کی ایجاد کردہ ہے اور اس آدمی کے کفر کا بیان جو یہ کہتا ہے کہ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے
Musnad Ahmad
10
دعا کرتے وقت قبلہ رخ ہونے کا، ہاتھ اٹھانے کا اور اس چیز کا کہ کس چیز سے دعا کو شروع کیا جائے، نیز دعا سے فراغت کے وقت ہاتھوں کو چہرے پر پھیرنے کا بیان
Musnad Ahmad
11
زمین کو غصب کرنے یا اس کو چوری کرنے والے کا بیان، اگرچہ وہ ایک بالشت یا ایک ہاتھ کے برابر ہو
Musnad Ahmad
12
اس چیز کا بیان کہ ایک آدمی کسی کا ہاتھ کاٹنے کے لیے منہ میں ڈالے اور وہ اپنا ہاتھ کھینچے جس کے نتیجے میں اس کے سامنے والا دانت گر جائے
Musnad Ahmad
13
چوری میں محفوظ جگہ کا اعتبار کرنے کا بیان اور لوٹنے والے، ڈاکہ ڈالنے والے، خیانت کرنے والے اور عاریہ کا انکار کرنے والے کا بیان اور ان چیزوں کی وضاحت جن میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
Musnad Ahmad
14
ان امور کا بیان کہ چوری میں پہلے کون سا ہاتھ کاٹا جائے، کاٹنے کا جگہ، ہاتھ کاٹ کر چور کی گردن میں لٹکانا، بار بار چوری کرنے والے کی سزا اور اس آیت کے بارے میںمفسرین کے اقوال: ’’اور چوری کرنے والا مرد اور عورت،پس ان دونوں کے ہاتھ کاٹ دو‘‘
Musnad Ahmad
15
یتیم کی کفالت کرنے، اس کے ساتھ احسان کرنے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے اوربیواؤں اور مسکینوں کی حفاظت و نگرانی کرنے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
16
مکہ مکرمہ کے مردوں اور عورتوں کے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیعت کرنے اور ان کے اپنی اولاد کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لانے کا بیان تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان پر اپنا ہاتھ مبارک پھیر دیں
Musnad Ahmad
17
صحابۂ کرام کاآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مبارک ہاتھ اور انگلیوں کے اثر سے تبرک حاصل کرنا
Musnad Ahmad
18
امت کے لیے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی برکتوںمیں سے ایک برکت یہ بھی ہے کہ ان کی وجہ سے تیمم کی رخصت کا حکم نازل ہوا
Musnad Ahmad
19
(24) CHAPTER. Whoever gave a religious verdict by beckoning or by nodding.
اس شخص کے بارے میں جو ہاتھ یا سر کے اشارے سے فتویٰ کا جواب دے
Sahih Bukhari
20
(7) CHAPTER. To wash the face with both hands by a handful of water.
دونوں ہاتھوں سے چہرے کا صرف ایک چلو ( پانی ) سے دھونا بھی جائز ہے
Sahih Bukhari
21
(19) CHAPTER. While passing urine one should not hold his penis with his right hand.
اس بارے میں کہ پیشاب کے وقت اپنے عضو کو اپنے داہنے ہاتھ سے نہ پکڑے
Sahih Bukhari
22
(8) CHAPTER. The rubbing of hands with earth in order to clean them thoroughly.
اس بارے میں کہ ( گندگی پاک کرنے کے بعد ) ہاتھ مٹی سے ملنا تاکہ وہ خوب صاف ہو جائیں
Sahih Bukhari
23
(18) CHAPTER. The removing of water from one's body with one's hands after taking the bath of Janaba.
اس بارے میں کہ غسل جنابت کے بعد ہاتھوں سے پانی جھاڑ لینا ( سنت نبوی ہے )
Sahih Bukhari
24
(4) CHAPTER. Can a person blow off the dust from his hands in performing Tayammum (before passing them over his face).
اس بارے میں کہ کیا مٹی پر تیمم کے لیے ہاتھ مارنے کے بعد ہاتھوں کو پھونک کر ان کو چہرے اور دونوں ہتھیلوں پر مل لینا کافی ہے ؟
Sahih Bukhari
25
(8) CHAPTER. Tayammum with one light stroke (on the earth).
تیمم میں ایک ہی دفعہ مٹی پر ہاتھ مارنا کافی ہے
Sahih Bukhari
26
(88) CHAPTER. To clasp one's hands by interlocking the fingers in the mosque or outside the mosque.
مسجد وغیرہ میں ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کر کے قینچی کرنا درست ہے
Sahih Bukhari
27
(118) CHAPTER. To put the hands (palms) on both knees while bowing.
اس بارے میں کہ رکوع میں ہاتھ گھٹنوں پر رکھنا
Sahih Bukhari
28
(17) CHAPTER. Whoever ordered his servant to give something in charity and did not give it himself.
اس کے بارے میں کہ جس نے اپنے خدمت گار کو صدقہ دینے کا حکم دیا اور خود اپنے ہاتھ سے نہیں دیا
Sahih Bukhari
29
(109) CHAPTER. Whoever puts the garlands round the necks of the Hady (animals meant for sacrifice) with one's own hands.
اس کے بارے میں جس نے اپنے ہاتھ سے ( قربانی کے جانوروں کو ) قلائد پہنائے
Sahih Bukhari
30
(96) CHAPTER. Selling of a joint property by one partner to the other.
ایک ساجھی اپنا حصہ دوسرے ساجھی کے ہاتھ بیچ سکتا ہے
Sahih Bukhari
31
(9) CHAPTER. Whoever slaughtered his sacrifice with his own hands.
اس بارے میں جس نے قربانی کے جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کئے ۔
Sahih Bukhari
32
(10) CHAPTER. Whoever slaughtered the sacrifices on behalf of others.
جس نے دوسرے کی قربانی ذبح کی ۔ ایک صاحب نے حضرت ابنعمر رضیاللہعنہما کی ان کے اونٹ کی قربانی میں مدد کی حضرت ابوموسیٰاشعری رضیاللہعنہ نے اپنی لڑکیوں سے کہا کہ اپنی قربانی وہ اپنے ہاتھ ہی سے ذبح کریں ۔
Sahih Bukhari
33
(28) CHAPTER. The shaking of hands with both the hands.
دونوں ہاتھ پکڑنا اور حماد بنزید نے ابنمبارک سے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا
Sahih Bukhari
34
(33) CHAPTER. Whoever does not care slanders made by ignorant people against the Amirs (leaders).
حکم ( بیوقوف اور غائب لوگوں کی جائیداد منقولہ اور غیر منقولہ دونوں کو بیچ سکتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مدبر غلام بن نحام کے ہاتھ بیچ ڈالا
Sahih Bukhari
35
(11) CHAPTER. The One Who turns the hearts. The Statement of Allah: And We shall turn their hearts and their eyes… (V.6:110)
اللہ کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ دلوں کا پھیرنے والا ہے ۔
Sahih Bukhari
36
Chapter: His Closeness To The People, Their Seeking Blessing From Him And His Humility Towards Them
آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کے جسم مبارک) کی خوشبو،ہاتھ کی ملائمت اورآپ کے چھوانے کا تبرک:۔
Sahih Muslim
37
Chapter: (Parts of) This Ummah Will Destroy One Another
اس امت کی ہلاکت آپس میں ایک دوسرے کے ہاتھوں ہوگی
Sahih Muslim
38
CHAPTER: Being Kind To Horses, And Keeping Them, And Rubbing Down Their Rump.
باب: گھوڑوں کی مناسب دیکھ بھال کرنے اور ان کے پٹھوں پر ہاتھ پھیرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
39
تیمم میں زمین پر ضرب (ہاتھ مارنا) دو بار
Sunnan Ibn e Maja
40
ایک سلام پھیرنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
41
دعا میں ہاتھ اٹھانے اور اس کو چہرے پر پھیرنے کا بیان۔
Sunnan Ibn e Maja
42
ایک آدمی نے دوسرے کے ہاتھ میں دانت کاٹا، اس کے ہاتھ کھینچنے پر کاٹنے والے کے آگے کے دو دانت گر گئے تو اس کے حکم کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
43
دونوں ہاتھ کو کتنی بار دھوئے ؟
Sunnan Nisai
44
دونوں ہاتھ برتن میں ڈالنے سے پہلے انہیں کتنی بار دھویا جائے ؟
Sunnan Nisai
45
تیمم کے ایک دوسرے طریقے کا اور دونوں ہاتھوں پر پھونک مارنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
46
شوہر اور بیوی کے ایک ساتھ غسل کرنے کی رخصت کا بیان۔
Sunnan Nisai
47
نماز میں کنکری پر ہاتھ پھیرنے سے ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
48
سلام پھیرنے کے بعد ایک اور دعا کا بیان۔
Sunnan Nisai
49
سلام پھیرنے کے بعد کی ایک اور دعا و ذکر کا بیان۔
Sunnan Nisai
50
بارش روکنے کی دعا کے وقت امام اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

670
Jam e Tirmazi
3309
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَعَدْنَا نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَذَاكَرْنَا، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْنَا:‏‏‏‏ لَوْ نَعْلَمُ أَيَّ الْأَعْمَالِ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ لَعَمِلْنَاهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى:‏‏‏‏ سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ‏‏‏‏ 1 ‏‏‏‏ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لا تَفْعَلُونَ ‏‏‏‏ 2 ‏‏‏‏ سورة الصف آية 1-2 ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ:‏‏‏‏ فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو سَلَمَةَ:‏‏‏‏ فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا ابْنُ سَلَامٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ يَحْيَى:‏‏‏‏ فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا أَبُو سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ كَثِيرٍ:‏‏‏‏ فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَبْدُ اللَّهِ:‏‏‏‏ فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا ابْنُ كَثِيرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَقَدْ خُولِفَ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ فِي إِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى ابْنُ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏نَحْوَ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ.
Abdullah bin Salam said: “A group of us Companions of the Messenger of Allah sat talking, and we said: ‘If we knew which deed was most beloved to Alllah then we would do it.’ So Allah, Most High, revealed: Whatsoever is in the heavens and whatsoever is on the earth glorifies Allah. And He is Almighty, the All-Wise. O you who believe! Why do you say that which you do not do?” Abdullah bin Salam said: “So the Messenger of Allah recited it to us.” Abu Salamah (one of the narrators) said: “So Ibn Salam recited it to us.” Yahya (one of the narrators) said: “So Abu Salamah narrated it to us.” Ibn Kathir said: “So Al-Awza’i recited it to us.” Abdullah said: “So Ibn Kathir recited it to us.”
عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم چند صحابہ بیٹھے ہوئے تھے، آپس میں باتیں کرنے لگے، ہم نے کہا: اگر ہم جان پاتے کہ کون سا عمل اللہ کو زیادہ پسند ہے تو ہم اسی پر عمل کرتے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «سبح لله ما في السموات وما في الأرض وهو العزيز الحكيم يا أيها الذين آمنوا لم تقولون ما لا تفعلون» ”زمین و آسمان کی ہر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے اور وہی غالب حکمت والا ہے، اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو“ ( الصف: ۱-۳ ) ۱؎ عبداللہ بن سلام کہتے ہیں: یہ سورۃ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھ کر سنائی، ابوسلمہ کہتے ہیں: یہ سورۃ ہمارے سامنے ابن سلام نے پڑھی، اور یحییٰ کہتے ہیں: یہ سورۃ ہمارے سامنے ابوسلمہ نے پڑھ کر سنائی، اور محمد بن کثیر کہتے ہیں: ہمارے سامنے اسے اوزاعی نے پڑھ کر سنایا، اور عبداللہ کہتے ہیں: یہ سورۃ ہمیں ابن کثیر نے پڑھ کر سنائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی اوزاعی سے روایت کرنے میں محمد بن کثیر کی مخالفت کی گئی ہے۔ ( اس کی تفصیل یہ ہے ) ۲- ابن مبارک نے اوزاعی سے روایت کی، اوزاعی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، یحییٰ نے ہلال بن ابومیمونہ سے، ہلال نے عطاء بن یسار سے، اور عطاء نے عبداللہ بن سلام سے، یا ابوسلمہ کے واسطہ سے عبداللہ بن سلام سے، ۳- ولید بن مسلم نے اوزاعی سے یہ حدیث اسی طرح روایت کی ہے جس طرح محمد بن کثیر نے روایت کی ہے۔
Sunnan Abu Dawood
1800
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتٍ مِنْ عِنْدِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَهُوَ بِالْعَقِيقِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ صَلِّ فِي هَذَا الْوَادِي الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ . قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ رَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏وَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ وَقُلْ عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ . قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وَكَذَا رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ وَقُلْ عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ .
Umar bin Al Khattab heard the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم say Someone came to me at night from Allaah the Exalted. The narrator said When he was staying at ‘Aqiq said Pray in his blessed valley. Then he said ‘Umrah has been included in Hajj. Abu Dawud said Al Walid bin Musilm and Umar bin Abd Al Wahid narrated in this version from Al Auzai the words “And say An ‘Umrah included in Hajj”. Abu Dawud said Ali bin Al Mubarak has also narrated similarly from Yahya bin said Abi Kathir in this version “And say An ‘Umrah included in Hajj”.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: آج رات میرے پاس میرے رب عزوجل کی جانب سے ایک آنے والا ( جبرائیل ) آیا ( آپ اس وقت وادی عقیق ۱؎ میں تھے ) اور کہنے لگا: اس مبارک وادی میں نماز پڑھو، اور کہا: عمرہ حج میں شامل ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ولید بن مسلم اور عمر بن عبدالواحد نے اس حدیث میں اوزاعی سے یہ جملہ «وقل عمرة في حجة» ( کہو! عمرہ حج میں ہے ) نقل کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اس حدیث میں علی بن مبارک نے یحییٰ بن ابی کثیر سے «وقل عمرة في حجة» کا جملہ نقل ۲؎ کیا ہے۔
Sunnan Abu Dawood
3292
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِابْنِ أَبِي عَتيِقٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَرْقَمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ:‏‏‏‏ إِنَّمَا الْحَدِيثُ حَدِيثُ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَرَادَ أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ أَرْقَمَ وَهِمَ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَحَمَلَهُ عَنْهُ الزُّهْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَرْسَلَهُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَحِمَهَا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ رَوَى بَقِيَّةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، بِإِسْنَادِ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ مِثْلَهُ.
Narrated Aishah: The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم as saying: No vow must be taken to do an act of disobedience, and the atonement for it is the same as for an oath. Ahmad bin Muhammad al-Marwazi said: The correct chain of this tradition is: Ali bin al-Mubarak, from Yahya bin Abi Kathir, from Muhammad bin al-Zubair, from his father, on the authority of Imran bin Husain from the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم Abu Dawud said: By this he (al-Marwazi) means that the narrator Sulaiman bin Arqam had some misunderstanding about this tradition. Al-Zuhri narrated it from him and then transmitted it (omitting his name) from Abu Salamah on the authority of Aishah. Abu Dawud said: Baqiyyah has transmitted it from al-Auzai from Yahya, from Muhammad bin al-Zubair with a similar chain of Ibn al-Mubarak.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت کی نذر نہیں ہے ( یعنی اس کا پورا کرنا جائز نہیں ہے ) اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے ۔ احمد بن محمد مروزی کہتے ہیں: اصل حدیث علی بن مبارک کی حدیث ہے جسے انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے انہوں نے محمد بن زبیر سے اور محمد نے اپنے والد زبیر سے اور زبیر نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے اور عمران نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ احمد کی مراد یہ ہے کہ سلیمان بن ارقم کو اس حدیث میں وہم ہو گیا ہے ان سے زہری نے لے کر اس کو مرسلاً ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بقیہ نے اوزاعی سے، اوزاعی نے یحییٰ سے، یحییٰ نے محمد بن زبیر سے علی بن مبارک کی سند سے اسی کے ہم مثل روایت کیا ہے۔
Sunnan Abu Dawood
3649
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ. ح وحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْيَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْخُطْبَةَ خُطْبَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ أَبُو شَاهَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏اكْتُبُوا لِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهَ .
It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: We used not to write anything but the Tasha-hud and the Quran.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب مکہ فتح ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، پھر انہوں نے ( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ کا ذکر کیا، پھر کہا کہ ایک یمنی شخص کھڑا ہوا جسے ابو شاہ کہا جاتا تھا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے لیے ( یہ خطبہ ) لکھ دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو شاہ کے لیے لکھ دو ۔
Sunnan Nisai
1696
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،‏‏‏‏ وَنَافِعٌ،‏‏‏‏ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ:‏‏‏‏ صَلَاةُ اللَّيْلِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا خِفْتُمُ الصُّبْحَ فَأَوْتِرُوا بِوَاحِدَةٍ .
It was narrated from Ibn 'Umar that: He heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Prayer at night is two rak'ahs by two rak'ahs, then when you fear tat dawn will break, pray witr with one rak'ah.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:  رات کی نماز  ( تہجد )  دو دو رکعت ہے، تو جب تمہیں صبح ہو جانے کا ڈر ہو تو ایک رکعت پڑھ کر اسے وتر کر لو ۔
Sunnan Nisai
3527
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي شَاذَانُ بْنُ عُثْمَانَ أَخُو عَبْدَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ الرُّبَيِّعَ بِنْتَ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ أَخْبَرَتْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ ضَرَبَ امْرَأَتَهُ فَكَسَرَ يَدَهَا وَهِيَ:‏‏‏‏ جَمِيلَةُ بِنْتُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَى أَخُوهَا يَشْتَكِيهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ:‏‏‏‏ خُذْ الَّذِي لَهَا عَلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَخَلِّ سَبِيلَهَا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏ فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَنْ تَتَرَبَّصَ حَيْضَةً وَاحِدَةً، ‏‏‏‏‏‏فَتَلْحَقَ بِأَهْلِهَا .
Ar-Rubayy' bint Mu'awwidh bin 'Afra' narrated that Thabit bin Qais bin Shammas hit his wife and broke her arm --her name was Jamilah bint 'Abdullah bin Ubayy. Her brother came to the Messenger of Allah to complain about him, and the Messenger of Allah sent for Thabit and said: Take what she owes you and let her go. He said: Yes. And the Messenger of Allah ordered her to wait for one menstrual cycle and then go to her family.
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو مارا اور ( ایسی مار ماری کہ ) اس کا ہاتھ ( ہی ) توڑ دیا۔ وہ عورت عبداللہ بن ابی کی بیٹی جمیلہ تھی، اس کا بھائی اس کی شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس کو بلا بھیجا ( جب وہ آئے تو ) آپ نے ان سے فرمایا: ”تمہاری دی ہوئی جو چیز اس کے پاس ہے اسے لے لو اور اس کا راستہ چھوڑ دو“ ۱؎ انہوں نے کہا: اچھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ( یعنی عورت جمیلہ کو ) حکم دیا کہ ایک حیض کی عدت گزار کر اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ ۲؎۔
Jam e Tirmazi
254
دَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْحَسَنِ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكَبِّرُ وَهُوَ يَهْوِي . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ يُكَبِّرُ الرَّجُلُ وَهُوَ يَهْوِي لِلرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ.
Abu Hurairah narrated: Allah's Messenger would say the Takhir while he was going down.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جھکتے وقت «الله أكبر» کہتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے تابعین میں سے اہل علم کا قول یہی ہے کہ رکوع اور سجدہ کے لیے جھکتے ہوئے آدمی «الله أكبر» کہے۔
Jam e Tirmazi
297
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ حَذْفُ السَّلَامِ سُنَّةٌ . قَالَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ:‏‏‏‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ:‏‏‏‏ يَعْنِي أَنْ لَا يَمُدَّهُ مَدًّا. قال أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ الَّذِي يَسْتَحِبُّهُ أَهْلُ الْعِلْمِ وَرُوِيَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ التَّكْبِيرُ جَزْمٌ وَالسَّلَامُ جَزْمٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهِقْلٌ يُقَالُ كَانَ كَاتِبَ الْأَوْزَاعِيِّ.
Abu Hurairah narrated: Hadhf the Salam is a Sunnah.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: «حذف سلام» سنت ہے۔ علی بن حجر بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: «حذف سلام» کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسے یعنی سلام کو زیادہ نہ کھینچے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہی ہے جسے اہل علم مستحب جانتے ہیں، ۳- ابراہیم نخعی سے مروی ہے وہ کہتے ہیں تکبیر جزم ہے اور سلام جزم ہے ( یعنی ان دونوں میں مد نہ کھینچے بلکہ وقف کرے ) ۔
Jam e Tirmazi
380
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُعَيْقِيبٍ، قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَسْحِ الْحَصَى فِي الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَمَرَّةً وَاحِدَةً . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Mu'aiqib narrated: I asked Allah's Messenger (S) about smoothening the pebbles during Salat. He said: 'If you must do so, then let it be only once.'
معیقیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نماز میں کنکری ہٹانے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”اگر ہٹانا ضروری ہی ہو تو ایک بار ہٹا لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔