أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ وَهُوَ ابْنُ مُهَلْهَلٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَلْيَتَحَرَّ الَّذِي يَرَى أَنَّهُ الصَّوَابُ فَيُتِمَّهُ، ثُمَّ يَعْنِي يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ وَلَمْ أَفْهَمْ بَعْضَ حُرُوفِهِ كَمَا أَرَدْتُ .
It was narrated from 'Abdullah and attributed to the Prophet (ﷺ):
If one of you is not sure about his prayer, let him estimate what he thinks is most likely to be correct and complete the prayer on that basis, then let him prostrate twice.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو اس کی نماز میں شک ہو جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ ( غور و فکر کے بعد ) اس چیز کا قصد کرے جسے اس نے درست سمجھا ہو، اور اسی پر اتمام کرے، پھر اس کے بعد یعنی دو سجدے کرے ، راوی کہتے ہیں: آپ کے بعض حروف کو میں اس طرح سمجھ نہیں سکا جیسے میں چاہ رہا تھا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة ۳۱ (۴۰۱) مطولاً، ۳۲ (۴۰۴)، السھو ۲ (۱۲۲۶)، الأیمان ۱۵ (۶۶۷۱) مطولاً، أخبار الآحاد ۱ (۷۲۴۹)، صحیح مسلم/المساجد ۱۹ (۵۷۲)، سنن ابی داود/الصلاة ۱۹۶ (۱۰۲۰)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة ۱۳۳ (۱۲۱۱، ۱۲۱۲)، (تحفة الأشراف: ۹۴۵۱)، مسند احمد ۱/۳۷۹، ۴۲۹، ۴۳۸، ۴۵۵، سنن الدارمی/الصلاة ۱۷۵ (۱۵۳۹)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ۱۲۴۲، ۱۲۴۳، ۱۲۴۴، ۱۲۴۵ (صحیح)
1241
Sahih