TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1798 - جو فرض کے علاوہ دن رات میں بارہ رکعتیں پڑھے اس کے ثواب کا بیان اور اس سلسلے میں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر، اور عطا پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔ - The book of qiyam al-lail (the night prayer) and voluntary prayers during the day - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 11 in this chapter
جو فرض کے علاوہ دن رات میں بارہ رکعتیں پڑھے اس کے ثواب کا بیان اور اس سلسلے میں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر، اور عطا پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ لِعَطَاءٍ:‏‏‏‏ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَرْكَعُ قَبْلَ الْجُمُعَةِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً مَا بَلَغَكَ فِي ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أُخْبِرْتُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ حَدَّثَتْ عَنْبَسَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ رَكَعَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ سِوَى الْمَكْتُوبَةِ بَنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ .
Ibn Juraij said: I said to Ata: 'I heard that you pray twelve rak'ahs before Jumu'ah. What did you hear concerning that?' He said: 'I was told that Umm Habibah bin Abi Sufyan said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Whoever prays twelve rak'ahs during the day and night, apart from the prescribed prayers, Allah (SWT), the Mighty and Sublime, will build for him a house in Paradise.'
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطا سے کہا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ جمعہ سے پہلے بارہ رکعتیں پڑھتے ہیں۔ اس سلسلے میں آپ کو کیا معلوم ہوا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے خبر دی گئی ہے کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عنبسہ بن ابی سفیان سے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:  جس نے رات دن میں فرض کے علاوہ بارہ رکعتیں پڑھیں، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا ۔
1798
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 1797 In-book reference : Book 20, Hadith 200 English translation : Vol. 2, Book 20, Hadith 1798
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1798
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ۱۵۸۵۹)، مسند احمد ۶/۳۲۶ (صحیح) (اس سند میں انقطاع ہے، لیکن پچھلی سند سے یہ روایت بھی صحیح ہے، مگر عطاء کی یہ سمجھ خطا ہے کہ ایک ہی وقت میں بارہ رکعتیں پڑھ لیں تو وہی ثواب ہے)

Related Chapters

175
1
شب بیداری کے سلسلے میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت میں راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
2
وتر کے سلسلے میں سعید بن جبیر کی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی حدیث میں ابواسحاق سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
3
وتر کے سلسلے میں ابوایوب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں زہری سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
4
پانچ رکعت وتر کیسے پڑھی جائے ؟ اور وتر کی حدیث کے سلسلے میں حکم سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
5
نماز کی فرضیت اور اس سلسلے میں انس بن مالک کی حدیث کی سند میں راویوں کے اختلاف اور اس (کے متن) میں ان کے لفظی اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
6
اللہ کے نبی موسیٰ علیہ السلام کی نماز کا بیان اور سلیمان التیمی سے اس حدیث کی روایت میں راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
7
نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کا بیان اور اس سلسلہ میں ابواسحاق سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
8
وتر کے سلسلے میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
9
اس حدیث میں شعبہ سے روایت میں راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
10
اس حدیث میں مالک بن مغول سے روایت میں راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
11
وتر سے فراغت کے بعد «سبحان الملک القدوس» پڑھنے کا بیان اور اس کی روایت میں سفیان سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
12
باب: بادل ہونے پر شعبان کے تیس دن پورے کرنے کا بیان اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
13
باب: اس حدیث میں عبیداللہ بن عمر سے روایت میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
14
باب: اس بارے میں سعد بن ابی وقاص (مالک) رضی الله عنہ کی روایت میں اسماعیل بن ابی خالد پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
15
باب: ابوسلمہ کی حدیث میں یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کرنے میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
16
باب: اس حدیث میں ابوسلمہ سے روایت کرنے میں یحییٰ بن ابی کثیر اور محمد بن عمرو پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
17
باب: اس سلسلہ میں عائشہ رضی الله عنہا کی روایت کے ناقلین کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
18
باب: روزے کی فضیلت اور اس سلسلے میں علی رضی الله عنہ کی حدیث کے بارے میں ابواسحاق سبیعی پر راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
19
باب: روزہ دار کی فضیلت کے سلسلے میں ابوامامہ رضی الله عنہ والی حدیث میں محمد بن ابی یعقوب پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
20
باب: اللہ کی راہ میں ایک دن کے روزہ رکھنے کا ثواب، اور اس سلسلہ کی روایت میں سہیل بن ابوصالح پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
21
باب: ہر مہینے تین روزے کس طرح رکھے؟ اس سلسلے کی حدیث کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
22
باب: طاؤس کی روایت «الرَّاجِعِ فِي هِبَتِهِ‘» میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
23
باب: جماعت سے الگ ہونے والے شخص کو قتل کرنے کا بیان اور زیاد بن علاقہ کی عرفجہ سے روایت پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
24
باب: سونے کے بدلے چاندی اور چاندی کے بدلے سونا لینے کا بیان اور اس سلسلے میں ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ میں اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
25
باب: اس سلسلے میں سہل کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ میں اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
26
باب: دیت کے سلسلے میں عمرو بن حزم کی حدیث کا ذکر اور اس کے راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
27
باب: چوری کرنے والی مخزومی عورت کے بارے میں زہری کی روایت میں راویوں کے الفاظ کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
28
اس شخص کا بیان جو یہ روایت کرتاہے کہ اس نماز کی دو رکعتیں (دوسری نمازوں کی) عام رکعات کی طرح ہوں گی
Musnad Ahmad
29
اس شخص کا بیان جس نے روایت کیا ہے کہ نمازِ کسوف دو رکعتیں ہیں اور ہر رکعت میں دو رکوع ہیں نیز اس نماز کو مسجد میں باجماعت ادا کرنے اور مطوّل و مختصر ہونے کی صورت میں اس کے ارکان کا بیان
Musnad Ahmad
30
پرورش میں والدین کے تنازعہ اور اختلاف کے وقت بچے کے سلسلے میں قرعہ اندازی کرنے اور سن تمیز تک پہنچنے کی صورت میں اس کا اختیار دینے کا بیان
Musnad Ahmad
31
ضعیف راویوں سے روایت کی ممانعت اور روایت کی (حفاظت اور بیان کی) ذمہ داری اٹھاتے ہوئے احتیاط
Sahih Muslim
32
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
Sahih Muslim
33
سلیمان الاعمش سے روایت میں ان کے تلامذہ کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
34
بکیر سے روایت میں ان کے تلامذہ کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
35
عصر کے پہلے سنت پڑھنے کا بیان اور اس سلسلے میں ابواسحاق سبیعی سے رواۃ حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
36
سجدہ سہو کے سلسلہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت میں ان کے تلامذہ کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
37
باب: نماز جمعہ میں سورتوں کی قرأت کے متعلق نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم سے روایت کرنے میں ان کے تلامذہ کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
38
اس حدیث کی روایت میں ابوحصین عثمان بن عاصم پر رواۃ کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
39
جب نماز کھڑے ہو کر شروع کرے تو کیسے کرے ؟ اور اس باب میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرنے والوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
40
وتر کے سلسلے میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کی حدیث میں حبیب بن ابی ثابت پر اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
41
اس حدیث میں شعبہ کی قتادہ سے روایت میں شعبہ کے شاگردوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
42
فجر کی دو رکعت (سنت) کا وقت اور نافع کی روایت میں رواۃ کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
43
اسماعیل بن ابی خالد پر راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
44
باب: (اس حدیث) میں زہری پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
45
باب: اس حدیث میں معمر پر (راویوں کے) اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
46
باب: ماہ رمضان کے چاند (دیکھنے) پر ایک آدمی کی گواہی قبول کرنے کا بیان اور سماک (والی) حدیث میں راویوں کے سفیان پر اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
47
باب: اس حدیث میں زہری پر راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
48
باب: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث میں عمرو بن دینار پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
49
باب: اس سلسلہ میں ربعی کی حدیث میں منصور پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
50
باب: مہینہ کتنے دنوں کا ہوتا ہے؟ نیز عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث میں زہری پر (راویوں کے) اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,261
Sunnan Abu Dawood
1133
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، ‏‏‏‏‏‏ أَنَّهُ رَأَى ابْنَ عُمَرَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَنْمَازُ عَنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ الْجُمُعَةَ قَلِيلًا غَيْرَ كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ يَمْشِي أَنْفَسَ مِنْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَرْكَعُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ لِعَطَاءٍ:‏‏‏‏ كَمْ رَأَيْتَ ابْنَ عُمَرَ يَصْنَعُ ذَلِكَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ مِرَارًا . قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وَرَوَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ وَلَمْ يُتِمَّهُ.
Narrated Abdullah ibn Umar: Ibn Jurayj said: Ata told me that he saw Ibn Umar pray after the Friday prayer. He moved a little from the place where he offered the Friday prayer. Then he would pray two rak'ahs. He then walked far away from that place and would offer four rak'ahs. I asked Ata: How many times did you see Ibn Umar do that? He replied: Many times. Abu Dawud said: This has been narrated by AbdulMalik ibn Abu Sulayman, but did not narrate it completely.
ابن جریج عطاء سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ جمعہ کے بعد نفل پڑھتے تو اپنی اس جگہ سے جہاں انہوں نے جمعہ پڑھا تھا، تھوڑا سا ہٹ جاتے زیادہ نہیں، پھر دو رکعتیں پڑھتے پھر پہلے سے کچھ اور دور چل کر چار رکعتیں پڑھتے۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے کہا: آپ نے ابن عمر کو کتنی بار ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ تو انہوں نے کہا: بارہا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالملک بن ابی سلیمان نے نامکمل طریقہ پر روایت کیا ہے۔
Sunnan Abu Dawood
1134
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، ‏‏‏‏‏‏ أَنَّهُ رَأَى ابْنَ عُمَرَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَنْمَازُ عَنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ الْجُمُعَةَ قَلِيلًا غَيْرَ كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ يَمْشِي أَنْفَسَ مِنْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَرْكَعُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ لِعَطَاءٍ:‏‏‏‏ كَمْ رَأَيْتَ ابْنَ عُمَرَ يَصْنَعُ ذَلِكَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ مِرَارًا . قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وَرَوَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ وَلَمْ يُتِمَّهُ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو خطبے ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ منبر پر آنے کے بعد بیٹھ جاتے، حتیٰ کہ مؤذن فارغ ہو جاتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور خطبہ دیتے۔ پھر بیٹھ جاتے اور کلام نہ کرتے۔ پھر کھڑے ہوتے اور خطبہ دیتے۔
Sunnan Nisai
1401
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ:‏‏‏‏ أَرَكَعْتَ رَكْعَتَيْنِ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَارْكَعْ .
Amr bin Dinar narrated that: He heard Jabir bin 'Abdullah say: A man came when the Prophet (ﷺ) was on the minbar on a Friday. He said to him: 'Have you prayed two rak'ahs?' He said: 'No.' He said: 'Pray.'
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر تھے، ایک آدمی  ( مسجد میں )  آیا تو آپ نے اس سے پوچھا:  کیا تم نے دو رکعتیں پڑھ لیں؟  اس نے کہا: نہیں، تو آپ نے فرمایا:  تو پڑھ لو  ۱؎۔
Jam e Tirmazi
1705
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ أَلَا كُلُّكُمْ رَاعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَالْأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ بَعْلِهَا وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا فَكُلُّكُمْ رَاعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ أَبِي مُوسَى غَيْرُ مَحْفُوظٍ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ أَنَسٍ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَكَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي بِذَلِكَ مُحَمَّدٌ بِنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بُرَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا وَهَذَا أَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ وَرَوَى إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ سَائِلٌ كُلَّ رَاعٍ عَمَّا اسْتَرْعَاهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْت مُحَمَّدًا، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ هَذَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا الصَّحِيحُ عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.
Ibrahim bin Bash-shar Ar-Ramadi reported it from Sufyan bin 'Uyainah, from Buraid bin 'Abdullah bin Abu Burdah, from Abu Burdah, from Abu Musa, from the Prophet (ﷺ). Muhammad informed me of that, from Ibrahim bin Bash-Shar [Ar-Ramadi]. Muhammad said: More than one has reported it from Sufyan, from Buraid bin Abu Burdah [from Abu Burdah] from the Prophet (ﷺ) in Mursal form. This is more correct. Muhammad said: Ishaq bin Ibrahim reported from Mu'adh bin Hisham, from his father, from Qatadah, from Anas, from the Prophet (ﷺ) who said: 'Indeed Allah will question everyone who is responsible about his charge.' I heard Muhammad saying: This is not preserved. It is only correct from Mu'adh bin Hisham from his father, from Qatadah, from Al-Hasan, from the Prophet (ﷺ), in Mursal form.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر آدمی نگہبان ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے، چنانچہ لوگوں کا امیر ان کا نگہبان ہے اور وہ اپنی رعایا کے بارے میں جواب دہ ہے، اسی طرح مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور ان کے بارے میں جواب دہ ہے، عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگہبان ہے اور اس کے بارے میں جواب دہ ہے، غلام اپنے مالک کے مال کا نگہبان ہے اور اس کے بارے میں جواب دہ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، انس اور ابوموسیٰ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- ابوموسیٰ کی حدیث غیر محفوظ ہے، اور انس کی حدیث بھی غیر محفوظ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اسے ابراہیم بن بشار رمادی نے بسند «سفيان بن عيينة عن بريد بن عبد الله بن أبي بردة عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، اس حدیث کو کئی لوگوں نے بسند «سفيان عن بريد عن أبي بردة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسل طریقہ سے روایت کی ہے، مگر یہ مرسل روایت زیادہ صحیح ہے۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: اسحاق بن ابراہیم نے بسند «معاذ بن هشام عن أبيه عن قتادة عن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے: بیشک اللہ تعالیٰ ہر نگہبان سے پوچھے گا اس چیز کے بارے میں جس کی نگہبانی کے لیے اس کو رکھا ہے، امام ترمذی کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: یہ روایت غیر محفوظ ہے، صحیح وہی ہے جو «عن معاذ بن هشام عن أبيه عن قتادة عن الحسن عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مرسل طریقہ سے آئی ہے۔
Jam e Tirmazi
3905
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ يُرِدْ هَوَانَ قُرَيْشٍ أَهَانَهُ اللَّهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ. حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
Narrated Sa'd: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever wishes to humiliate the Quraish then Allah will humiliate him.
سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قریش کی رسوائی چاہے گا اللہ اسے رسوا کر دے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: مجھے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے خبر دی، وہ کہتے ہیں: مجھ سے میرے والد نے بیان کیا اور انہوں نے صالح بن کیسان سے اور صالح نے ابن شہاب سے اسی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی۔
Sahih Bukhari
885
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ ذَكَرَ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : أَيَمَسُّ طِيبًا أَوْ دُهْنًا إِنْ كَانَ عِنْدَ أَهْلِهِ ، فَقَالَ : لَا أَعْلَمُهُ .
Narrated Tawus: Ibn `Abbas mentioned the statement of the Prophet regarding the taking of a bath on Friday and then I asked him whether the Prophet (p.b.u.h) had ordered perfume or (hair) oil to be used if they could be found in one's house. He (Ibn `Abbas) replied that he did not know about it
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں ہشام بن یوسف نے خبر دی، کہ انہیں ابن جریج نے خبر دی انہوں نے کہا کہ مجھے ابراہیم بن میسرہ نے طاؤس سے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے، آپ نے جمعہ کے دن غسل کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا ذکر کیا تو میں نے کہا کہ کیا تیل اور خوشبو کا استعمال بھی ضروری ہے؟ آپ نے فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں۔
Sahih Bukhari
1077
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهُدَيْرِ التَّيْمِيِّ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَكَانَ رَبِيعَةُ مِنْ خِيَارِ النَّاسِ عَمَّا حَضَرَ رَبِيعَةُ مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَرَأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ بِسُورَةِ النَّحْلِ حَتَّى إِذَا جَاءَ السَّجْدَةَ نَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ ، حَتَّى إِذَا كَانَتِ الْجُمُعَةُ الْقَابِلَةُ قَرَأَ بِهَا ، حَتَّى إِذَا جَاءَ السَّجْدَةَ ، قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا نَمُرُّ بِالسُّجُودِ فَمَنْ سَجَدَ فَقَدْ أَصَابَ ، وَمَنْ لَمْ يَسْجُدْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ، وَلَمْ يَسْجُدْ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَزَادَ نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَفْرِضْ السُّجُودَ إِلَّا أَنْ نَشَاءَ .
Narrated Rabi`a: `Umar bin Al-Khattab recited Surat-an-Nahl on a Friday on the pulpit and when he reached the verse of Sajda he got down from the pulpit and prostrated and the people also prostrated. The next Friday `Umar bin Al-Khattab recited the same Sura and when he reached the verse of Sajda he said, O people! When we recite the verses of Sajda (during the sermon) whoever prostrates does the right thing, yet it is no sin for the one who does not prostrate. And `Umar did not prostrate (that day). Added Ibn `Umar Allah has not made the prostration of recitation compulsory but if we wish we can do it.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں ہشام بن یوسف نے خبر دی اور انہیں ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے ابوبکر بن ابی ملیکہ نے خبر دی، انہیں عثمان بن عبدالرحمٰن تیمی نے اور انہیں ربیعہ بن عبداللہ بن ہدیر تیمی نے کہا۔۔۔ ابوبکر بن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ ربیعہ بہت اچھے لوگوں میں سے تھے ربیعہ نے وہ حال بیان کیا جو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی مجلس میں انہوں نے دیکھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن منبر پر سورۃ النحل پڑھی جب سجدہ کی آیت ( «‏‏‏‏ولله يسجد ما في السمٰوٰت» ‏‏‏‏ ) آخر تک پہنچے تو منبر پر سے اترے اور سجدہ کیا تو لوگوں نے بھی ان کے ساتھ سجدہ کیا۔ دوسرے جمعہ کو پھر یہی سورت پڑھی جب سجدہ کی آیت پر پہنچے تو کہنے لگے لوگو! ہم سجدہ کی آیت پڑھتے چلے جاتے ہیں پھر جو کوئی سجدہ کرے اس نے اچھا کیا اور جو کوئی نہ کرے تو اس پر کچھ گناہ نہیں اور عمر رضی اللہ عنہ نے سجدہ نہیں کیا اور نافع نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کیا کہ اللہ تعالیٰ نے سجدہ تلاوت فرض نہیں کیا ہماری خوشی پر رکھا۔
Sahih Muslim
1961
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ ذَكَرَ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَالَ طَاوُسٌ فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ وَيَمَسُّ طِيبًا أَوْ دُهْنًا إِنْ كَانَ عِنْدَ أَهْلِهِ قَالَ لَا أَعْلَمُهُ
Tawus reported that Ibn Abbas narrated the words of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) about taking bath on Friday. Tawus said: I asked Ibn Abbas it one should apply to oneself perfume or oil which is available with his wife. He (Ibn Abbas) said: I do not know of it.
روح بن عباوہ اور عبد الرزاق نے ابن جریج سے حدیث بیان کی انھوں نے کہا مجھے ابراہیم بن میسر ہ نے طاوس سے خبر دی اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے جمعے کے دن غسل کرنے کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فر ما ن بیان کیا ۔ طاوس نے کہا : میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا : اگر اس کے گھر والوں کے پاس موجود ہو تو وہ خوشبو تیل بھی استعمال کر سکتا ہے ؟انھوں نے ( جواب میں ) کہا : میں یہ بات نہیں جا نتا ۔
Sahih Muslim
7054
حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَقَالَ خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ التُّرْبَةَ يَوْمَ السَّبْتِ وَخَلَقَ فِيهَا الْجِبَالَ يَوْمَ الْأَحَدِ وَخَلَقَ الشَّجَرَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَخَلَقَ الْمَكْرُوهَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ وَخَلَقَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام بَعْدَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فِي آخِرِ الْخَلْقِ فِي آخِرِ سَاعَةٍ مِنْ سَاعَاتِ الْجُمُعَةِ فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ قَالَ إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا الْبِسْطَامِيُّ وَهُوَ الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى وَسَهْلُ بْنُ عَمَّارٍ وَإِبْرَاهِيمُ ابْنُ بِنْتِ حَفْصٍ وَغَيْرُهُمْ عَنْ حَجَّاجٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ
Abu Huraira reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) took hold of my hands and said: Allah, the Exalted and Glorious, created the clay on Saturday and He created the mountains on Sunday and He created the trees on Monday and He created the things entailing labour on Tuesday and created light on Wednesday and He caused the animals to spread on Thursday and created Adam (peace be upon him) after 'Asr on Friday; the last creation at the last hour of the hours of Friday, i. e. between afternoon and night. This hadith is narrated through another chain of transmitters.
سریج بن یونس اور ہارون بن عبداللہ نے مجھے حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں حجاج بن محمد نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ابن جریج نے کہا : مجھے اسماعیل بن امیہ نے ایوب بن خالد سے حدیث بیان کی ۔ انھوں نے ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن رافع سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا ، پھر فرمایا : "" اللہ عزوجل نے مٹی ( زمین ) کو ہفتے کےدن پیداکیا اور اس میں پہاڑوں کو اتوار کے دن پیدا کیا اور درختوں کو پیر کے دن پیدا کیا اور ناپسندیدہ چیزوں کو منگل کےدن پیدا کیا اور نور کو بدھ کے دن پیدا کیا اور اس میں چوپایوں کو جمعرات کے دن پھیلادیا اور سب مخلوقات کے آخر میں آخر میں آدم علیہ السلام کو جمعہ کے دن عصر کے بعد سے لے کر رات تک کے درمیان جمعہ ( کے دن کی آخری ساعتوں میں سے کسی ساعت میں پیدا فرمایا ۔ "" جلودی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے شاگرد ابراہیم نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حسین بن علی بسطامی ، سہل بن عمار ، حفص کے نواسے ابراہیم اور دوسروں نے حجاج سے یہی حدیث بیان کی ۔