TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3685 - باب: میت کی طرف سے صدقہ و خیرات کی فضیلت کا بیان۔ - The book of wills - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 9 in this chapter
باب: میت کی طرف سے صدقہ و خیرات کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا : زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَجُلًا قَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمَّهُ تُوُفِّيَتْ أَفَيَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنَّ لِي مَخْرَفًا فَأُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَنْهَا.
It was narrated from Ibn 'Abbas that a man said: O Messenger of Allah, my mother died; will it benefit her if I give in charity on her behalf? He said: Yes. He said: I have a garden and I ask you to bear witness that I am giving it in charity on her behalf.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں تو کیا انہیں اس کا فائدہ پہنچے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، تو اس نے کہا: پھر تو میرے پاس کھجور کا ایک باغ ہے، آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنی ماں کی طرف سے اسے صدقہ میں دے دیا۔
3685
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 3655 In-book reference : Book 30, Hadith 45 English translation : Vol. 4, Book 30, Hadith 3685
صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3655
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ

Related Chapters

995
1
Chapter: What Has Been Related About (Giving) Charity On Behalf Of The Dead
باب: میت کی طرف سے صدقہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
(19) CHAPTER. It is recommended that something should be given in charity on behalf of a person who dies suddenly. And the execution of the vows of the deceased.
اگر کسی کو اچانک موت آ جائے تو اس کی طرف سے خیرات کرنا مستحب ہے اور میت کی نذروں کو پوری کرنا
Sahih Bukhari
3
Chapter: The virtue of charity
صدقہ و خیرات کی فضیلت کا بیان۔
Sunnan Ibn e Maja
4
باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں صدقہ و خیرات کی فضیلت کا بیان۔
Sunnan Nisai
5
Chapter: What Has Been Related About Walking To The Masjid
باب: مسجد کی طرف چل کر جانے کی فضیلت
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About The One Who Works In Collecting Sadaqah In Truth
باب: صحیح ڈھنگ سے صدقہ وصول کرنے والے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Charity
باب: صدقہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Behalf Of The Dead
باب: میت کی طرف سے روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About Hajj On Behalf Of The Elderly Man And The Dead
باب: زیادہ بوڑھے آدمی اور میت کی طرف سے حج کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About Slaughtering On Behalf Of The Deceased
باب: میت کی طرف سے قربانی کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About Fulfilling The Vow Of The Deceased
باب: میت کی طرف سے نذر پوری کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
12
بَاب فضل الصَّدَقَة
صدقہ کی فضیلت کا بیان
Mishkat
13
وضو، مسجدوںکی طرف چلنے اور اِس وضو سے نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
14
نماز کے انتظار اور مسجدوں کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
15
مساجد میں بیٹھنے اور ان کی طرف جانے کی فضیلت اور ان سے قریب محلے والوں کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
16
دور والی مسجد کی اور مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چلنے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
17
سکون کے ساتھ جماعت کی طرف چلنے کی فضیلت
Musnad Ahmad
18
نماز جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
19
قبروں کے اوپر عمارت بنانے، ان کو چونا گچ کرنے، ان کے اوپر بیٹھنے اور ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان اور میت کی ہڈی توڑنے اور جوتے پہن کر قبروں کے درمیان چلنے (کے جواز یا عدم جواز) کا بیان
Musnad Ahmad
20
اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
21
مخفی طور پر صدقہ کرنے کی فضیلت
Musnad Ahmad
22
عمر رسیدہ اور مستقل بیمار پر حج کے فرض ہونے کا بیان، بشرطیکہ ان کی طرف سے نیابت ممکن ہو اور میت کی طرف سے حج کے جواز کا بیان، جبکہ اس پر واجب ہو
Musnad Ahmad
23
میت کی وصیت کی بناء پر اس کی طرف سے قربانی کرنا اور قربانی کا گوشت اچکنے کی اجازت دینے والوں کا اور اچک لینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
24
باب دوم: سیدنا عثمان کے مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آزمائشوں کی طرف اشارہ کرنا اور ان میں ان کا حق پر ہونا
Musnad Ahmad
25
CHAPTER. Superiority of (praying) facing the Qiblah with the toes toward it as well.
قبلہ کی طرف منہ کرنے کی فضیلت
Sahih Bukhari
26
(2) CHAPTER. To give Sadaqa (things or money given in charity) during the eclipse.
سورج گرہن میں صدقہ خیرات کرنا
Sahih Bukhari
27
(10) CHAPTER. To start from the right side while giving a bath to a dead body.
اس بیان میں کہ ( غسل ) میت کی دائیں طرف سے شروع کیا جائے
Sahih Bukhari
28
(11) CHAPTER. What kind of As-Sadaqa (charity) is superior? The superiority of charity practised by a niggardly healthy person.
تندرستی اور مال کی خواہش کے زمانہ میں صدقہ دینے کی فضیلت
Sahih Bukhari
29
(23) CHAPTER. As-Sadaqa (charity) expiates sins.
صدقہ خیرات سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں
Sahih Bukhari
30
(30) CHAPTER. Every Muslim has to give in charity; and whoever does not find anytingto give, should do all that is good [i.e. enjoin Al-Maruf (Islamic Monotheism, and all that Islam has ordained)].
ہر مسلمان پر صدقہ کرنا ضروری ہے اگر ( کوئی چیز دینے کے لیے ) نہ ہو تو اس کے لیے اچھی بات پر عمل کرنا یا اچھی بات دوسرے کو بتلا دینا بھی خیرات ہے
Sahih Bukhari
31
(22) CHAPTER. To perform Hajj on behalf of a dead person and to fulfil his vows. A man can perform Hajj on behalf of a woman.
میت کی طرف سے حج اور نذر ادا کرنا اور مرد کسی عورت کے بدلہ میں حج کر سکتا ہے
Sahih Bukhari
32
(6) CHAPTER. To file a case for fulfilling the will of the deceased.
میت کا وصی اس کی طرف سے دعویٰ کر سکتا ہے
Sahih Bukhari
33
(15) CHAPTER. If someone says, “My land or my garden is Sadaqa for Allah's sake on my mother's behalf, his Sadaqa is valid even if he did not specify to whom it is to be given.
کسی نے کہا کہ میری زمین یا میرا باغ میری ( مرحومہ ) ماں کی طرف سے صدقہ ہے
Sahih Bukhari
34
Chapter: The virtue of taking many steps to the masjid
مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چلنے کی فضیلت
Sahih Muslim
35
Chapter: The virtue of spending and giving charity to relatives, spuses, children and parents, even if they are idolaters
رشتہ داروں ‘خاوند‘اولاد ‘اور والدین پرچاہے وہ کافر ہوں ‘خرچ کرنے اور صدقہ کرنے کی فضیلت
Sahih Muslim
36
Chapter: Charity given on behalf of the deceased will reach him
میت کی طرف سے کیے جانے والے صدقے کا ثواب اس تک پہنچنا
Sahih Muslim
37
اس شخص کس فضیلت جس نے صدقہ کے ساتھ دوسرے بھلائی کے کام بھی شامل کر دیے
Sahih Muslim
38
Chapter: The virtue of concealing (what is given in) charity
چھپا کر صدقہ دینے کی فضیلت
Sahih Muslim
39
Chapter: Making up fasts on behalf of the deceased
میت کی طرف سے روزوں کی قضا دینا
Sahih Muslim
40
Chapter: Hajj on behalf of one who is incapable of doing it because of chronic illness, old age and the like, or on behalf of one who has died
دائمی معذور اور بوڑھے وغیرہ کی طرف سے اور میت کی طرف سے حج کرنا
Sahih Muslim
41
Chapter: The virtue of Charity in the Cause of Allah, and its Manifold reward
اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے صدقہ کرنے کی فضیلت اور اس کے اجر میں کئی گنا اضافہ
Sahih Muslim
42
CHAPTER: What Has Been Related About Giving Charity On Behalf Of The Deceased.
باب: میت کی جانب سے صدقہ کے ثواب کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
43
CHAPTER: What Has Been Related About Giving In Charity For One Who Died Without Leaving A Will.
باب: آدمی وصیت کئے بغیر مر جائے تو اس کی طرف سے صدقہ دینا کیسا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
44
CHAPTER: The Virtue Of Performing The Funeral Prayer And Accompanying The Janazah.
باب: جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت ۔
Sunnan Abu Dawood
45
CHAPTER: How The Deceased Should Be Placed Into His Grave.
باب: میت کو کیسے ( کس طرف سے ) قبر میں اتارا جائے ؟
Sunnan Abu Dawood
46
CHAPTER: Fulfilling A Vow On Behalf Of One Who Had Died.
باب: میت کی طرف سے نذر پوری کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
47
میت کی طرف سے قرض ادا کرنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
48
کوئی شخص وصیت کیے بغیر مر جائے تو کیا اس کی طرف سے صدقہ دیا جائے؟
Sunnan Ibn e Maja
49
میت کی طرف سے حج کرنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
50
Chapter: The Virtue of giving water in charity
پانی صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
No related chapter matched that.

Related Hadith

27
Jam e Tirmazi
669
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ أَفَيَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنَّ لِي مَخْرَفًا فَأُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَنْهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ أَهْلُ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُونَ:‏‏‏‏ لَيْسَ شَيْءٌ يَصِلُ إِلَى الْمَيِّتِ إِلَّا الصَّدَقَةُ وَالدُّعَاءُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَمَعْنَى قَوْلِهِ إِنَّ لِي مَخْرَفًا يَعْنِي:‏‏‏‏ بُسْتَانًا.
Ikrimah narrated from Ibn Abbas that : a man said: O Messenger of Allah! My mother died, will it benefit her if I give charity on her behalf? He said: 'Yes.' He said: 'I have a Makhraf, so bear witness that I have given it in charity on her behalf.'
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری والدہ فوت ہو چکی ہیں، اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا یہ ان کے لیے مفید ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، اس نے عرض کیا: میرا ایک باغ ہے، آپ گواہ رہئیے کہ میں نے اسے والدہ کی طرف سے صدقہ میں دے دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- بعض لوگوں نے یہ حدیث بطریق «عن عمرو بن دينار عن عكرمة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً روایت کی ہے، ۳- اور یہی اہل علم بھی کہتے ہیں کہ کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو میت کو پہنچتی ہو سوائے صدقہ اور دعا کے ۱؎، ۴- «إن لي مخرفا» میں «مخرفاً» سے مراد باغ ہے۔
Sunnan Abu Dawood
2882
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَجُلًا قَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ أَفَيَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنَّ لِي مَخْرَفًا وَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَنْهَا.
Narrated Ibn Abbas: A man said: Messenger of Allah, my mother has died ; will it benefit her if I give sadaqah on her behalf ? He said: Yes. He said: I have a garden, and I call you to witness that I have given it as sadaqah on her behalf.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص ( سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے، کیا اگر میں ان کی طرف سے خیرات کروں تو انہیں فائدہ پہنچے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ( پہنچے گا ) ، اس نے کہا: میرے پاس کھجوروں کا ایک باغ ہے، میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے اسے اپنی ماں کی طرف سے صدقہ کر دیا۔
Sunnan Ibn e Maja
1827
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ ذَكْوَانَ، ‏‏‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْخَوْلَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَيَّارِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّدَفِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ طُهْرَةً لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ، ‏‏‏‏‏‏وَالرَّفَثِ، ‏‏‏‏‏‏وَطُعْمَةً لِلْمَسَاكِينِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ أَدَّاهَا قَبْلَ الصَّلَاةِ فَهِيَ زَكَاةٌ مَقْبُولَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ أَدَّاهَا بَعْدَ الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَهِيَ صَدَقَةٌ مِنَ الصَّدَقَاتِ .
It was narrated that: Ibn Abbas said: “The Messenger of Allah (ﷺ) enjoined Zakatul-Fitr as a purification for the fasting person from idle talk and obscenities, and to feed the poor. Whoever pays it before the (Eid) prayer, it is an accepted Zakah, and whoever pays it after the prayer, it is (ordinary) charity.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر روزہ دار کو فحش اور بیہودہ باتوں سے پاک کرنے، اور مسکینوں کی خوراک کے لیے فرض قرار دیا، لہٰذا جس نے اسے نماز عید سے پہلے ادا کر دیا، تو یہ مقبول زکاۃ ہے اور جس نے نماز کے بعد ادا کیا تو وہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہے ۱؎۔
Sunnan Ibn e Maja
2718
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْجَدِّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا أَجِدُ شَيْئًا وَلَيْسَ لِي مَالٌ وَلِي يَتِيمٌ لَهُ مَالٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُلْ مِنْ مَالِ يَتِيمِكَ غَيْرَ مُسْرِفٍ وَلَا مُتَأَثِّلٍ مَالًا قَالَ:‏‏‏‏ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَلَا تَقِي مَالَكَ بِمَالِهِ .
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib from his father, that his a grandfather said: “A man came to the Prophet (ﷺ) and said: 'I do not have anything and I have no wealth, but I have an orphan (under my care) who has wealth.” He said: “Eat from the wealth of your orphan, without being extravagant or use it for trade.” He (narrator) said: “And I think he said: 'Do not preserve your wealth using his instead.'”
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا، اور اس نے عرض کیا: میرے پاس کچھ بھی نہیں اور نہ مال ہی ہے، البتہ میری پرورش میں ایک یتیم ہے جس کے پاس مال ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یتیم کے مال میں سے فضول خرچی کئے اور بغیر اپنے لیے پونجی بنائے کھاؤ میرا خیال ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا مال بچانے کے لیے اس کا مال اپنے مصرف میں نہ خرچ کرو ۔
Silsila Sahih
1864
عَنْ أَنَسٍ رضی اللہ عنہ ، أَنَّ سَعْدًا أَتَى النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أُمِّيَ تُوُفِّيَتْ وَلَمْ تُوصِ أَفَيَنْفَعُهَا أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ. وَعَلَيْكَ بِالمْاَء.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سعد‌رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! میری والدہ فوت ہو گئیں لیکن کوئی وصیت نہیں کرسکیں۔ اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اسے فائدہ پہنچے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جی ہاں،تم لوگوں کے لئے ]انی کا انتظام کردو
Sunnan Abu Dawood
4489
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ الْفَتْحِ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ يَتَخَلَّلُ النَّاسَ يَسْأَلُ عَنْ مَنْزِلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، ‏‏‏‏‏‏فَأُتِيَ بِشَارِبٍ فَأَمَرَهُمْ فَضَرَبُوهُ بِمَا فِي أَيْدِيهِمْ فَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِالسَّوْطِ وَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِعَصًا وَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِنَعْلِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَحَثَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التُّرَابَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا كَانَ أَبُو بَكْرٍ أُتِيَ بِشَارِبٍ فَسَأَلَهُمْ عَنْ ضَرْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي ضَرَبَهُ فَحَزَرُوهُ أَرْبَعِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَضَرَبَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ كَتَبَ إِلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ:‏‏‏‏ إِنَّ النَّاسَ قَدِ انْهَمَكُوا فِي الشُّرْبِ وَتَحَاقَرُوا الْحَدَّ وَالْعُقُوبَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هُمْ عِنْدَكَ فَسَلْهُمْ وَعِنْدَهُ الْمُهَاجِرُونَ الْأَوَّلُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلَهُمْ فَأَجْمَعُوا عَلَى أَنْ يَضْرِبَ ثَمَانِينَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وقَالَ عَلِيٌّ:‏‏‏‏ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا شَرِبَ افْتَرَى فَأَرَى أَنْ يَجْعَلَهُ كَحَدِّ الْفِرْيَةِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ أَدْخَلَ عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ بَيْنَ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَبَيْنَ ابْنِ الْأَزْهَرِ، ‏‏‏‏‏‏فِي هَذَا الْحَدِيثِ:‏‏‏‏ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَزْهَرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ.
Narrated Abdur Rahman ibn Azhar: I saw the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم on the morning of the conquest of Makkah when I was a young boy. He was walking among the people, seeking the camp of Khalid ibn al-Walid. A man who had drunk wine was brought (before him) and he ordered them (to beat him). So they beat him with what they had in their hands. Some struck him with whips, some with sticks and some with sandals. The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم threw some dust on his face. When a man who had drunk wine was brought before Abu Bakr, he asked them (i. e. the people) about the number of beatings which they gave him. They numbered it forty. So Abu Bakr gave him forty lashes. When Umar came to power, Khalid ibn al-Walid wrote to him: The people have become addicted to drinking wine and they look down upon the prescribed punishment and its penalty. He said: They are with you, ask them. The immigrants who embraced Islam in the beginning were with him. He asked them and they agreed on the fact that (a drunkard) should be given eighty lashes. Ali said: When a man drinks wine, he tells lies. I, therefore, think that he should be prescribed punishment that is prescribed for telling lies. . Abu Dawud said: 'Uqail bin Khalid included in the chain of this tradition: Abdullah bin Abdur-Rahman bin al-Azhar from his father between al-Zuhri and Ibn al-Azhar.
عبدالرحمٰن بن ازہر کہتے ہیں کہ میں نے فتح مکہ کے دوسرے دن صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا میں ایک کمسن لڑکا تھا، لوگوں میں گھس کر آیا جایا کرتا تھا، آپ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیام گاہ ڈھونڈ رہے تھے کہ اتنے میں ایک شرابی لایا گیا، آپ نے اسے مارنے کا حکم دیا، تو لوگوں کے ہاتھوں میں جو چیز بھی تھی اسی سے انہوں نے اس کی پٹائی کی، کسی نے اسے کوڑے سے، کسی نے لاٹھی سے، کسی نے جوتے سے پیٹا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے منہ پر مٹی ڈال دی، پھر جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو ان کے پاس ایک شرابی لایا گیا تو انہوں نے لوگوں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس مار کے متعلق دریافت کیا جسے آپ نے مارا تھا تو لوگوں نے اس کا اندازہ لگایا کہ یہ چالیس کوڑے رہے ہوں گے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی حد چالیس کوڑے مقرر کر دی، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو خالد بن ولید نے انہیں لکھا کہ لوگ کثرت سے شراب پینے لگے ہیں اور اس کی حد اور سزا کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور لکھا کہ لوگ آپ کے پاس ہیں ان سے پوچھ لیں، اس وقت ان کے پاس مہاجرین اولین موجود تھے، آپ نے ان سے پوچھا تو سب کا اس بات پر اتفاق ہو گیا کہ اسی کوڑے مارے جائیں، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: آدمی جب شراب پیتا ہے تو بہتان باندھتا ہے اس لیے میری رائے یہ ہے کہ اس کی حد بہتان کی حد کر دی جائے۔
Sunnan Ibn e Maja
71
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، ‏‏‏‏‏‏وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ .
It was narrated that Abu Hurairah said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'I have been commanded to fight the people until they testify to La ilaha ill-allah (none has the right to be worshipped but Allah) and that I am the Messenger of Allah, and establish regular prayers and pay Zakat.'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں، یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دینے لگیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور وہ نماز قائم کرنے، اور زکاۃ دینے لگیں ۱؎۔
Sunnan Ibn e Maja
72
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، ‏‏‏‏‏‏وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ .
It was narrated that Mu'adh bin Jabal said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'I have been commanded to fight the people until they testify to La ilaha ill-allah (none has the right to be worshipped but Allah) and that I am the Messenger of Allah, and establish regular prayers and pay Zakat.'
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے لوگوں سے قتال ( لڑنے ) کا حکم دیا گیا ہے، یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دینے لگیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور نماز قائم کرنے، اور زکاۃ دینے لگیں ۔
Sunnan Ibn e Maja
126
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هَذَا مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ .
It was narrated that Mu'awiyah bin Abu Sufyan said: The Prophet looked at Talhah and said: 'This is one of those who fulfilled their covenant.'
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طلحہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو فرمایا: یہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے کئے ہوئے عہد کو پورا کر دیا ۔