TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3726 - باب: اس باب میں عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث میں اختلاف کا ذکر۔ - The book of gifts (hiba) - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 8 in this chapter
باب: اس باب میں عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث میں اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ .
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Prophet said: The one who takes back his gift is like the one who goes back to his vomit.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہبہ ( کر کے واپس ) لینے والا قے کر کے چاٹنے والے کی طرح ہے“۔
3726
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 3696 In-book reference : Book 32, Hadith 9 English translation : Vol. 4, Book 32, Hadith 3726
صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3696
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: ۳۷۲۳

Related Chapters

239
1
باب: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث میں عمرو بن دینار پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
2
باب: سفر میں روزہ رکھنے کا بیان اور اس باب میں عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
3
باب: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث میں سفیان پر رواۃ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
4
باب: ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن افطار کرنے کا بیان اور اس سلسلہ میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
5
باب: روزہ میں زیادتی و کمی کا بیان اور اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
6
باب: مہینے میں دس دن کا روزہ اور اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
7
باب: اس باب میں عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث کا بیان۔
Sunnan Nisai
8
باب: وقف کس طرح لکھا جائے گا؟ ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث ابن عون پر ان کے تلامذہ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
9
باب: عطیہ و ہبہ (بخشش) کے سلسلہ میں نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کی حدیث کے ناقلین کے سیاق کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
10
باب: سونے کے بدلے چاندی اور چاندی کے بدلے سونا لینے کا بیان اور اس سلسلے میں ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ میں اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
11
باب: انگوٹھی کس ہاتھ میں پہنی جائے؟ اس باب میں علی و عبداللہ بن جعفر (رضی الله عنہما) کی حدیث کا ذکر۔
Sunnan Nisai
12
باب: تشبیہ اور مثال کے ذریعہ فیصلہ کرنا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ولید بن مسلم کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
13
باب: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
14
(24) CHAPTER. Narrations about Ibn Abbas.
حضرت عبداللہبنعباس رضیاللہعنہما کا ذکرخیر
Sahih Bukhari
15
وتر کے سلسلے میں سعید بن جبیر کی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی حدیث میں ابواسحاق سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
16
وتر کے سلسلے میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کی حدیث میں حبیب بن ابی ثابت پر اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
17
باب: مہینہ کتنے دنوں کا ہوتا ہے؟ نیز عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث میں زہری پر (راویوں کے) اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
18
باب: سحری میں تاخیر سے متعلق عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث میں سلیمان بن مہران اعمش پر راویوں اور ان کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
19
باب: روزہ دار کی فضیلت کے سلسلے میں ابوامامہ رضی الله عنہ والی حدیث میں محمد بن ابی یعقوب پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
20
باب: مسافر کے روزہ نہ رکھنے کا بیان اور عمرو بن امیہ رضی الله عنہ کی حدیث میں اوزاعی پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
21
باب: حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کی حدیث میں عروہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
22
باب: روزہ میں نیت کا بیان اور اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا والی حدیث میں طلحہ بن یحییٰ بن طلحہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
23
باب: اس باب میں حفصہ رضی الله عنہا کی حدیث کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
24
باب: ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کے سلسلہ میں ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث میں ابوعثمان نہدی پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
25
باب: کسی لڑکے کے نسبت کے بارے میں جھگڑا ہو جائے تو قرعہ اندازی کی جائے گی اور زید بن ارقم رضی الله عنہ کی حدیث میں شعبی کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
26
باب: میراث کی تقسیم سے پہلے قرض کی ادائیگی کا بیان اور اس سلسلہ میں جابر رضی الله عنہ کی حدیث کے ناقلین کے اختلاف الفاظ کا ذکر۔
Sunnan Nisai
27
باب: اس باب میں زید بن ثابت رضی الله عنہ کی حدیث میں علی بن أبی نجیح پر اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
28
باب: عمریٰ سے متعلق جابر رضی الله عنہ کی حدیث کے رواۃ کے الفاظ میں اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
29
باب: سب سے بڑے گناہ کا بیان (واصل عن ابی وائل عن عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی سفیان سے روایت کرنے میں یحییٰ اور عبدالرحمٰن کے اختلاف کا ذکر)۔
Sunnan Nisai
30
باب: حمید کی انس بن مالک رضی الله عنہ سے مروی حدیث میں ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
31
باب: غلام مشرکین کے علاقہ میں بھاگ جائے اس کا بیان اور جریر رضی الله عنہ کی حدیث کی روایت میں شعبی پر اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
32
باب: دانت کاٹ لینے کا قصاص اور اس بابت عمران بن حصین رضی الله عنہ کی حدیث میں راویوں کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
33
باب: قتل شبہ عمد کی تشریح اور اس بات کا بیان کہ بچے کی اور شبہ عمد کی دیت کس پر ہو گی اور اس بابت مغیرہ رضی الله عنہ کی حدیث میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
34
باب: (اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث کی روایت میں) تلامذہ زہری کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
35
باب: عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
36
باب: عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
37
باب: جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
38
سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
39
ٔٔباب دوم: پیچھے مناقب اہل بیت میں بیان کیے جانے والے فضائل کے علاوہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ایک مفصل وجامع حدیث
Musnad Ahmad
40
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مناقب و فضائل
Sunnan Ibn e Maja
41
نماز کی فرضیت اور اس سلسلے میں انس بن مالک کی حدیث کی سند میں راویوں کے اختلاف اور اس (کے متن) میں ان کے لفظی اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
42
باب: بادل ہونے پر شعبان کے تیس دن پورے کرنے کا بیان اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
43
باب: اس بارے میں سعد بن ابی وقاص (مالک) رضی الله عنہ کی روایت میں اسماعیل بن ابی خالد پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
44
باب: اس سلسلہ میں عائشہ رضی الله عنہا کی روایت کے ناقلین کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
45
باب: روزے کی فضیلت اور اس سلسلے میں علی رضی الله عنہ کی حدیث کے بارے میں ابواسحاق سبیعی پر راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
46
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم (میرے باپ ماں آپ پر فدا ہوں) کا روزہ اور اس سلسلہ میں ناقلین حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
47
باب: صیام الدھر (ہمیشہ روزہ رکھنے) کی ممانعت، اور اس سلسلہ کی حدیث میں مطرف بن عبداللہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
48
باب: اس حدیث کے الفاظ میں عبداللہ بن دینار پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
49
باب: اس حدیث میں عمرہ سے روایت کرنے میں ابوبکر بن محمد اور عبداللہ بن ابی بکر کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
50
باب: گودوانے والی عورتوں کا بیان اور اس حدیث کی روایت میں عبداللہ بن مرہ اور شعبی کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

2,055
Sahih Muslim
4174
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: One who gets back the gift is like one who eats vomit.
شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی : میں نے قتادہ سے سنا ، وہ سعید بن مسیب سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : اپنے ہبہ کو واپس لینے والا اپنی قے کی طرف لوٹنے والے کی طرح ہے
Jam e Tirmazi
2887
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ هَارُونَ أَبِي مُحَمَّدٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ قَلْبًا وَقَلْبُ الْقُرْآنِ يس، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ قَرَأَ يس كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِقِرَاءَتِهَا قِرَاءَةَ الْقُرْآنِ عَشْرَ مَرَّاتٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِالْبَصْرَةِ لَا يَعْرِفُونَ مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَهَارُونُ أَبُو مُحَمَّدٍ شَيْخٌ مَجْهُولٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِهَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَصِحُّ حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
Narrated Anas: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Indeed for everything there is a heart, and the Qur'an's heart is Ya Sin. Whoever recites Ya Sin, then for its recitation, Allah writes for him that he recited the Qur'an ten times.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کا ایک دل ہوتا ہے، اور قرآن کا دل سورۃ یاسین ہے۔ اور جس نے سورۃ یاسین پڑھی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے پڑھنے کے صلے میں دس مرتبہ قرآن شریف پڑھنے کا ثواب لکھے گا“۔ اس سند سے بھی یہ سابقہ حدیث کی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس حدیث کو ہم صرف حمید بن عبدالرحمٰن کی روایت سے جانتے ہیں۔ اور اہل بصرہ قتادہ کی روایت کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ اور ہارون ابو محمد شیخ مجہول ہیں۔ ۳- اس باب میں ابوبکر صدیق سے بھی روایت ہے، اور یہ روایت سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے۔ ۴- اس کی سند ضعیف ہے اور اس باب میں ابوہریرہ سے بھی روایت ہے۔
Sahih Muslim
1554
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، ثُمَّ تَرَكَهُ
Anas reported that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observed Qunut for one month invoking curse upon some tribes of Arabia (those who were responsible for the murders in Bi'r Ma'una and Raji'), but then abandoned it.
ہشام نے قتادہ کے حوالے سے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینے تک عرب کے قبائل میں سے کچھ قبیلوں کے خلاف بددعا کرتے ہوئے قنوت کی ، پھر چھوڑ دی ۔
Sahih Muslim
2862
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: خَمْسٌ فَوَاسِقُ، يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ: الْحَيَّةُ، وَالْغُرَابُ الْأَبْقَعُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْحُدَيَّا
A'isha (Allah be pleased with her) reported Allah'* Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Five are the harmful things which should be killed in the state of Ihram or otherwise: snake, speckled crow. rat. voracious dog, and kite.
سعید بن مسیب نے حضڑت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" پانچ موذی ( جا ندار ) ہیں ۔ حل وحرم میں ( جہاں بھی مل جا ئیں ) مار دیے جا ئیں سانپ ، کوا ، جس کے سر پر سفید نشان ہو تا ہے چوہا ، کٹنا کتا اور چیل ۔
Sunnan Abu Dawood
286
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهَا كَانَتْ تُسْتَحَاضُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا كَانَ دَمُ الْحَيْضَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ أَسْوَدُ يُعْرَفُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَأَمْسِكِي عَنِ الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا كَانَ الْآخَرُ فَتَوَضَّئِي وَصَلِّي، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا بِهِ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏مِنْ كِتَابِهِ هَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ حَدَّثَنَا بِهِ بَعْدُ حِفْظًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ فَاطِمَةَ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد وَقَدْ رَوَى أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏فِي الْمُسْتَحَاضَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا رَأَتِ الدَّمَ الْبَحْرَانِيَّ فَلَا تُصَلِّي، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا رَأَتِ الطُّهْرَ وَلَوْ سَاعَةً فَلْتَغْتَسِلْ وَتُصَلِّي، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ مَكْحُولٌ: إِنَّ النِّسَاءَ لَا تَخْفَى عَلَيْهِنَّ الْحَيْضَةُ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ دَمَهَا أَسْوَدُ غَلِيظٌ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا ذَهَبَ ذَلِكَ وَصَارَتْ صُفْرَةً رَقِيقَةً، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهَا مُسْتَحَاضَةٌ فَلْتَغْتَسِلْ وَلْتُصَلِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏فِي الْمُسْتَحَاضَةِ، ‏‏‏‏‏‏إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ تَرَكَتِ الصَّلَاةَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا أَدْبَرَتِ اغْتَسَلَتْ وَصَلَّتْ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى سُمَيٌّ وَغَيْرُهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏تَجْلِسُ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَكَذَلِكَ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ،‏‏‏‏ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وَرَوَى يُونُسُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏الْحَائِضُ إِذَا مَدَّ بِهَا الدَّمُ تُمْسِكُ بَعْدَ حَيْضَتِهَا يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ التَّيْمِيُّ،‏‏‏‏ عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏إِذَا زَادَ عَلَى أَيَّامِ حَيْضِهَا خَمْسَةُ أَيَّامٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلْتُصَلِّ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ التَّيْمِيُّ:‏‏‏‏ فَجَعَلْتُ أَنْقُصُ حَتَّى بَلَغَتْ يَوْمَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِذَا كَانَ يَوْمَيْنِ فَهُوَ مِنْ حَيْضِهَا، ‏‏‏‏‏‏وسُئِلَ ابْنُ سِيرِينَ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ النِّسَاءُ أَعْلَمُ بِذَلِكَ.
Narrated Fatimah daughter of Abu Hubaysh: Urwah ibn az-Zubayr reported from Fatimah daughter of Abu Hubaysh that her blood kept flowing, so the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said to her: When the blood of the menses comes, it is black blood which can be recognised; so when that comes, refrain from prayer; but when a different type of blood comes, perform ablution and pray, for it is (due only to) a vein. Abu Dawud said: Ibn al-Muthanna narrates this tradition from his book on the authority of Ibn Adi in a similar way. Later on he transmitted it to us from his memory: Muhammad bin Amr reported to us from al-Zuhri from Urwah on the authority of Aishah who said: Fatimah used to have her blood flowing. He then reported the tradition conveying the same meaning. Abu Dawud said: Anas bin Sirin reported from Ibn Abbas about the woman who has a prolonged flow of blood. He said: If she sees thick blood, she should not pray; if she finds herself purified even for a moment, she should was an pray. Makhul said: Menses are not hidden from women. Their blood is black and thick. When it (blackness and thickness) goes away and there appears yellowness and liquidness, that is the flow of blood (from vein). She should wash and pray. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Saeed bin al-Musayyab through a different chain of narrators, saying: The woman who has a prolonged flow of blood should abandon prayer when the menstruation begins; when it is finished, she should wash and pray. Sumayy and others have also reported it from Saeed bin al-Musayyab. This version adds: She should refrain (from prayer) during her menstrual period. Hammad bin Salamah has reported it similarly from Yahya bin Saeed on the authority of Saeed bin al-Musayyab. Abu Dawud said: Yunus has reported from Al-Hasan: When the bleeding of a menstruating woman extends (beyond the normal period), she should refrain (from prayer), after her menses are over, for one or two days. Now she becomes the woman who has a prolonged flow of blood. Al-Taimi reported from Qatadah: If her menstrual period is prolonged by five days, she should pray. Al-Taimi said: I kept on reducing (the number of days) until I reached two days. He said: If the period extends by two days, they will be counted from the menstrual period. When Ibn Sirin was questioned about it, he said: Women have better knowledge of that.
فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہیں استحاضہ کا خون آتا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: حیض کا خون سیاہ ہوتا ہے جو پہچان لیا جاتا ہے، جب یہ خون آئے تو نماز سے رک جاؤ، اور جب اس کے علاوہ خون ہو تو وضو کرو اور نماز پڑھو، کیونکہ یہ رگ ( کا خون ) ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن مثنی کا بیان ہے کہ ابن ابی عدی نے اسے ہم سے اپنی کتاب سے اسی طرح بیان کی ہے پھر اس کے بعد انہوں نے ہم سے اسے زبانی بھی بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہم سے محمد بن عمرو نے بیان کیا ہے، انہوں نے زہری سے، زہری نے عروہ سے اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کا خون آتا تھا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: انس بن سیرین نے مستحاضہ کے سلسلے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ جب وہ گاڑھا کالا خون دیکھے تو نماز نہ پڑھے اور جب پاکی دیکھے ( یعنی کالا خون کا آنا بند ہو جائے ) خواہ تھوڑی ہی دیر سہی، تو غسل کرے اور نماز پڑھے۔ اور مکحول نے کہا ہے کہ عورتوں سے حیض کا خون پوشیدہ نہیں ہوتا، اس کا خون کالا اور گاڑھا ہوتا ہے، جب یہ ختم ہو جائے اور زرد اور پتلا ہو جائے، تو وہ ( عورت ) مستحاضہ ہے، اب اسے غسل کر کے نماز پڑھنی چاہیئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مستحاضہ کے بارے میں حماد بن زید نے یحییٰ بن سعید سے، یحییٰ نے قعقاع بن حکیم سے، قعقاع نے سعید بن مسیب سے روایت کی ہے کہ جب حیض آئے تو نماز ترک کر دے، اور جب حیض آنا بند ہو جائے تو غسل کر کے نماز پڑھے۔ سمیّ وغیرہ نے سعید بن مسیب سے روایت کی ہے کہ وہ ایام حیض میں بیٹھی رہے ( یعنی نماز سے رکی رہے ) ۔ ایسے ہی اسے حماد بن سلمہ نے یحییٰ بن سعید سے اور یحییٰ نے سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور یونس نے حسن سے روایت کی ہے کہ حائضہ عورت کا خون جب زیادہ دن تک جاری رہے تو وہ اپنے حیض کے بعد ایک یا دو دن نماز سے رکی رہے، پھر وہ مستحاضہ ہو گی۔ تیمی، قتادہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب اس کے حیض کے دنوں سے پانچ دن زیادہ گزر جائیں، تو اب وہ نماز پڑھے۔ تیمی کا بیان ہے کہ میں اس میں سے کم کرتے کرتے دو دن تک آ گیا: جب دو دن زیادہ ہوں تو وہ حیض کے ہی ہیں۔ ابن سیرین سے جب اس کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا: عورتیں اسے زیادہ جانتی ہیں۔
Sunnan Abu Dawood
572
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏أن أبا هريرة، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَأْتُوهَا تَسْعَوْنَ وَأْتُوهَا تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ كَذَا قَالَ الزُّبَيْدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعْمَرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَشُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ،‏‏‏‏:‏‏‏‏ وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ:‏‏‏‏ عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَحْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَاقْضُوا، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو:‏‏‏‏ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَجَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَعْرَجِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتِمُّوا، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏كُلُّهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ فَأَتِمُّوا.
Abu Hurairah said: I heard the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم say: When the iqamah is pronounced for prayer, do not come to it running, but come walking (slowly). You should observe tranquility. The part of the prayer you get (along with the imam) offer it, and the part you miss complete it (afterwards). Abu Dawud said: The version narrated by al-Zubaidi, Ibn Abi Dhi’b, Ibrahim bin Saad, Mamar, Shuaib bin Abi Hamzah on the authority of al-Zuhri has the words: “the part you miss then complete it”. Ibn ‘Uyainah alone narrated from al-Zuhri the words “then offer it afterwards”. And Muhammad bin Amr narrated from Abu Salamah on the authority of Abu Hurairah, and Jafar bin Rabiah narrated from al-A’raj on the authority of Abu Hurairah the words “then complete it”. And Ibn Masud narrated from the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم and Abu Qatadah and Anas reported from the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم the words” then complete it”.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب نماز کی تکبیر کہہ دی جائے تو نماز کے لیے دوڑتے ہوئے نہ آؤ، بلکہ اطمینان و سکون کے ساتھ چلتے ہوئے آؤ، تو اب جتنی پاؤ اسے پڑھ لو، اور جو چھوٹ جائے اسے پوری کر لو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زبیدی، ابن ابی ذئب، ابراہیم بن سعد، معمر اور شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے اسی طرح: «وما فاتكم فأتموا» کے الفاظ روایت کئے ہیں، اور ابن عیینہ نے تنہا زہری سے لفظ: «فاقضوا» روایت کی ہے۔ محمد بن عمرو نے ابوسلمہ سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، اور جعفر بن ربیعہ نے اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے لفظ: «فأتموا» سے روایت کی ہے، اور اسے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اور انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور ان سب نے: «فأتموا» کہا ہے۔
Sunnan Abu Dawood
3448
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَيَّاضٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبِي. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَيَّاضِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْقَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَيْسَ فِي التَّمْرِ حُكْرَةٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى:‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ عَنِ الْحَسَنِ فَقُلْنَا لَهُ:‏‏‏‏ لَا تَقُلْ عَنِ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ هَذَا الْحَدِيثُ عِنْدَنَا بَاطِلٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ كَانَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏يَحْتَكِرُ النَّوَى وَالْخَبَطَ وَالْبِزْرَ. و أَحْمَدَ بْنَ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ سُفْيَان، ‏‏‏‏‏‏عَنْ كَبْس الْقَتِّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كَانُوا يَكْرَهُونَ الْحُكْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَسَأَلْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَيَّاشٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اكْبِسْهُ.
Qatadah said: Hoarding does not apply to dried dates. Ibn al-Muthanna said that he (Yahya bin Fayyad) reported on the authority of al-Hasan. We (Ibn al-Muthanna) said to him (Yahya): Do not say: on the authority of al-Hasan. Abu Dawud said: This tradition according to us is false. Abu Dawud said: Saeed bin al-Musayyab used to hoard kernel, fodder, and seeds. Abu Dawud said: I heard Ahmad bin Yunus say: I asked Sufyan about hoarding fodder. He replied: They (the people in the past) disapproved of hoarding. I asked Abu Bakr bin Ayyash (about it). He replied: Hoard it.
قتادہ کہتے ہیں کھجور میں احتکار ( ذخیرہ اندودزی ) نہیں ہے۔ ابن مثنی کی روایت میں یحییٰ بن فیاض نے یوں کہا «حدثنا همام عن قتادة عن الحسن» محمد بن مثنی کہتے ہیں تو ہم نے ان سے کہا: «عن قتادة» کے بعد «عن الحسن» نہ کہیے ( کیونکہ یہ قول حسن بصری کا نہیں ہے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ہمارے نزدیک باطل ہے۔ سعید بن مسیب کھجور کی گٹھلی، جانوروں کے چارے اور بیجوں کی ذخیرہ اندوزی کرتے تھے۔ اور میں نے احمد بن یونس کو کہتے سنا کہ میں نے سفیان ( ابن سعید ثوری ) سے جانوروں کے چاروں کے روک لینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: لوگ احتکار ( ذخیرہ اندوزی ) کو ناپسند کرتے تھے۔ اور میں نے ابوبکر بن عیاش سے پوچھا تو انہوں نے کہا: روک لو ( کوئی حرج نہیں ہے ) ۔
Sunnan Abu Dawood
4555
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فِي الدِّيَةِ الْمُغَلَّظَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً.
Narrated Abu Dawud: Abu Dawud and others have said: When a she-camel enters fourth year, the female is called hiqqah, and the male is called hiqq, for it deserves that it should be loaded and ridden. When a camel enters its fifth year, the male is called Jadha' and the female is called Jadha'ah. When it enters its sixth year, and sheds its front teeth, it is called thani (male) and thaniyyah (female). When it enters its seventh year, it is called raba' and raba'iyyah. When it enters its ninth year and cuts its canine teeth, it is called bazil. When it enters its tenth year, it is called mukhlif. Then there is no name for it, but is called bazil'am and bazil'amain, and mukhlif'am and mukhlif'amain, upto any year it increases. Nad d. Shumail said: Bint makhad is a she-camel of one year, and bin labun is s she-camel of two years, hiqqah is a she-camel of three years, jadha'ah is a she-camel of four years, thani is a camel of five years, raba' is a camel of six years, sadis is a camel of seven years, and bazil is a camel of eight years. Abu Dawud said: Abu Hatim and al-Asmai said: Al-Jadhu'ah is a time when no tooth is growing. Abu Hatim said: Some of them said: When it sheds its teeth between front and canine teeth, it is called raba' and when it sheds its front teeth, it is called thani. Abu Ubaid said: When it becomes pregnant, it is called khalifah, and it remains khalifah for ten months; when it reaches ten months, it is called 'ushara', Abu Hatim said: When it shed its front teeth, it is called thani and when it sheds its teeth between front and canine teeth it is called raba'.
زید بن ثابت سے دیت مغلظہ یعنی شبہ عمد میں مروی ہے پھر راوی نے ہو بہو اسی کے مثل ذکر کیا جیسے اوپر گزرا۔
Sunnan Ibn e Maja
2385
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ .
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “The one who takes back his gift is like the one who goes back to his vomit.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہبہ کر کے واپس لینے والا قے کر کے چاٹنے والے کے مانند ہے ۔