TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5340 - باب: عورتوں کے دامن کی لمبائی کی حد کا بیان۔ - The book of adornment (minal mujtaba) - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 4 in this chapter
باب: عورتوں کے دامن کی لمبائی کی حد کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَفِيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ:‏‏‏‏ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ذُكِرَ، ‏‏‏‏‏‏فِي الْإِزَارِ مَا ذُكِرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ:‏‏‏‏ فَكَيْفَ بِالنِّسَاءِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ يُرْخِينَ شِبْرًا ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ إِذًا تَبْدُوَ أَقْدَامُهُنَّ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ فَذِرَاعًا لَا يَزِدْنَ عَلَيْهِ .
It was narrated from Umm Salamah that: When the Prophet [SAW] said what he said about the Izar, Umm Salamah said: What about women? He said: Let it down a hand span. She said: But then their feet will show. He said: Then (let it down) a forearm's length, but no more than that.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تہبند کے بارے میں جو کچھ کیا اس پر ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: پھر عورتیں کیسے کریں؟ آپ نے فرمایا: ”ایک بالشت لٹکائیں“، وہ بولیں تب تو ان کے قدم کھل جائیں گے! آپ نے فرمایا: ”پھر ایک ہاتھ اور لٹکا لیں، اس سے زیادہ نہ لٹکائیں“۔
5340
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 5338 In-book reference : Book 48, Hadith 299 English translation : Vol. 6, Book 48, Hadith 5340
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5338
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/اللباس ۴۰ (۴۱۱۷)، (تحفة الأشراف: ۱۸۲۸۲)، موطا امام مالک/اللباس ۶ (۱۳)، مسند احمد (۶/۲۹۵)، سنن الدارمی/الإستئذان ۱۶ (۲۶۸۶)

Related Chapters

220
1
Chapter: What Has Been Related About (Dragging) Women's Hems
باب: عورتوں کے دامن لٹکانے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
(44) CHAPTER. To accuse the chaste women.
پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا گناہ ہے
Sahih Bukhari
3
Chapter: What Has Been Related About The 'The Tasbih Is For The Men And Clapping Is For The Women'
باب: نماز میں امام کے سہو پر مردوں کے ”سبحان اللہ“ کہنے اورعورتوں کے دستک دینے کا بیان​
Jam e Tirmazi
4
Chapter: About The Women Going Out For The Two Eid
باب: عیدین میں عورتوں کے عیدگاہ جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: (What Has Been Related) About Women Going Out To The Masjid
باب: عورتوں کے مسجد جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: About Prayer In A Woman's Cover Being Disliked
باب: عورتوں کی چادروں میں نماز پڑھنے کی کراہت
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About The Permission For The Pregnant And Breast-Feeding Women To Break The Fast
باب: حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کو روزہ نہ رکھنے کی رخصت
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About The Weak Departing Early From Jam During The Night
باب: مزدلفہ سے کمزوروں (عورتوں اور بچوں) کو رات ہی میں بھیج دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For Women To Shave
باب: عورتوں کے بال مونڈانے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What has been related about it being disliked for women to visit the graves
باب: عورتوں کے لیے قبروں کی زیارت کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About Women's Dowries
باب: عورتوں کی مہر کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What has been mentioned about it being disliked to enter women in their behinds
باب: عورتوں کی دبر میں صحبت کرنے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What has been related about it being disliked for women to go out while wearing their adornments
باب: بناؤ سنگار کر کے عورتوں کے باہر نکلنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: The warning about that due to the Shaitan flowing (through the body) like the flow of blood
باب: غیر محرم عورتوں سے خلوت کی حرمت سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
15
Chapter: The Shaitan seeks to tempt the woman when she goes out
باب: عورتوں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What has been related about the women who seek a Khul'
باب: خلع لینے والی عورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What has been related about treating women kindly
باب: عورتوں کی خاطر داری کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Have Intercourse With Pregnant Female Prisoners
باب: حاملہ قیدی عورتوں سے جماع کرنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Killing Women And Children
باب: عورتوں اور بچوں کے قتل کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About Women Going Out For War
باب: جنگ میں عورتوں کے جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About The Women's Pledge
باب: عورتوں کی بیعت کا بیان
Jam e Tirmazi
22
باب: ولاء میں سے عورتوں کی میراث کا بیان
Jam e Tirmazi
23
باب: جنتیوں کی عورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
24
باب: جہنم میں اکثریت عورتوں کی ہو گی
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About Giving The Salam to Women
باب: عورتوں کو سلام کرنا
Jam e Tirmazi
26
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر ان کی عورتوں کے پاس جانے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
27
باب: عورتوں کے فتنے سے بچنے کا بیان
Jam e Tirmazi
28
باب: مردوں سے مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
29
نماز میں گونگی بکل، سدل، اسبال، نقش و نگار والے کپڑوں اور عورتوں کی چادروں کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
30
عورتوں کے سفر کرنے،ان کے ساتھ نرمی کرنے، سفر کے لیے ان کے درمیان قرعہ اندازی کرنے اور محرم کے بغیر ان کا سفر نہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
31
عورتوں کو مسجد میں جانے کے لیے اجازت کا بیان
Musnad Ahmad
32
جب فتنوں کا اندیشہ ہو تو عورتوں کو مسجد میں نہ جانے دینے کا بیان اورگھروں میں ان کی نماز کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
33
عورتوں کے مسجد کے لیے نکلنے اور اس میں نماز پڑھنے کے آداب کا بیان
Musnad Ahmad
34
نابینا آدمی اور بچے کی اور عورت کی عورتوں کی امامت کا بیان
Musnad Ahmad
35
مردوں کے ساتھ عورتوں اور بچوں کے کھڑے ہونے کے مقام کا بیان
Musnad Ahmad
36
عورتوں کا عیدین کی طرف جانے کی مشروعیت
Musnad Ahmad
37
عیدین کے خطبہ اور اس کے احکامات کا بیان، اور عورتوں کو وعظ کرنے اور ان کو صدقہ کرنے پر ابھارنے کا بیان
Musnad Ahmad
38
نماز کسوف کی طوالت اور اس نماز کے لیے عورتوں کی مسجد میں جماعت کے لیے حاضری کا بیان
Musnad Ahmad
39
جنازے کے ساتھ آگ لے جانے، چیخ و پکار کرنے اور عورتوں کے جانے کا ممنوع ہونا
Musnad Ahmad
40
اس امر کا بیان کہ قبروں کی زیارت صرف مردوں کے لیے مستحب ہے، نہ کہ عورتوں کے لیے
Musnad Ahmad
41
قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں اور قبروں کو سجدہ گاہ بنانے والوں اور ان پر چراغ جلانے والوں پر لعنت کا بیان
Musnad Ahmad
42
استحاضہ والی خاتون سمیت عورتوں کے اعتکاف کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
43
عورتوں، بچوں، پادریوں اور انتہائی بوڑھے لوگوں کو بالارادہ قتل کرنے سے روکنے کا بیان
Musnad Ahmad
44
عورتوں کی گواہی کا بیان
Musnad Ahmad
45
ہیجڑوں کا عورتوں پر داخل ہونے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
46
بچوں کی پرورش کی خاطر دوسرا نکاح نہ کرنے والی خاتون کی فضیلت اور قریشی عورتوں کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
47
عورتوں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
48
اس چیز کا بیان کہ عورتوں کے لئے کون سی زینت مستحب ہے اور کون سی مکروہ
Musnad Ahmad
49
عورتوں کے لیے سونے اور ریشم کی رخصت کا بیان، نہ کہ مردوں کے لیے
Musnad Ahmad
50
عورت کا اپنا دامن لمبا کرنے کی رخصت کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

33
Sunnan Nisai
1021
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قالت:‏‏‏‏ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةَ أَبِي مُوسَى فَقَالَ:‏‏‏‏ لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام .
It was narrated that 'Aishah said: The Messenger of Allah (ﷺ) heard the recitation of Abu Musa and said: 'This man has been given a Mizmar among the Mazamir of the family of Dawud, peace be upon him.'
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی قرأت سنی تو فرمایا:  یقیناً انہیں آل داود کے لحن  ( سُر )  میں سے ایک لحن عطا کیا گیا ہے ۔
Sunnan Nisai
1858
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَصَّهُ لَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ .
Ibn 'Abbas said: Aishah said: Rather the Messenger of Allah said: 'Allah, the Mighty and Sublime increases the punishment of the disbeliever due to some of his family's weeping for him. '
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کافر کے عذاب کو اس پر اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے بڑھا دیتا ہے ۔
Sunnan Nisai
1902
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ جَابِرًا، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ وَقَدْ وُضِعَ فِي حُفْرَتِهِ فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ لَهُ فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
It was narrated from Sufyan, from 'Amr who said he heard Jabir say: The Prophet came to the grave of 'Abdullah bin Ubayy when he had been placed in his grave and stood over it. He commanded that he be brought out to him and placed on his knees, and he dressed him in his shirt and blew on him (for blessing). And Allah knows best.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کی قبر پر آئے، اور اسے اس کی قبر میں رکھا جا چکا تھا، تو آپ اس پر کھڑے ہوئے، اور اس کے نکالنے کا حکم دیا تو اسے نکالا گیا، تو آپ نے اسے اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھا، اور اپنی قمیص پہنائی اور اس پر تھو تھو کیا، واللہ تعالیٰ اعلم۔
Sunnan Nisai
2602
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَعْطَانِي، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا حَكِيمُ،‏‏‏‏ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ أَخَذَهُ بِطِيبِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ، ‏‏‏‏‏‏لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى .
It was narrated that Kakim bin Hizam said: I asked the Messenger of Allah and he gave me, then I asked him and he gave me, then I asked him and he gave me. Then he said: This wealth is attractive and sweet. Whoever takes it without insisting, it will be blessed for him, and whoever takes it with avarice, it will not be blessed for him. He is like one who eats and is not satisfied. And the upper hand is better than the lower hand. '
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تو آپ نے دیا، پھر مانگا تو پھر دیا، پھر آپ نے فرمایا: ”یہ مال ہری بھری اور میٹھی چیز ہے، جو شخص اسے دل کی پاکیزگی کے ساتھ لے گا تو اسے اس میں برکت ملے گی، اور جو شخص اسے نفس کی حرص و طمع سے لے گا تو اس میں اسے برکت نہیں دی جائے گی۔ وہ اس شخص کی طرح ہو گا جو کھائے لیکن اس کا پیٹ نہ بھرے۔ ( جان لو ) اوپر والا ( یعنی دینے والا ) ہاتھ نیچے والے ( یعنی لینے والے ) ہاتھ سے بہتر ہے“۔
Sunnan Nisai
4770
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ:‏‏‏‏ أَنَّ رَجُلًا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ،‏‏‏‏ فَانْتُزِعَتْ ثَنِيَّتُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَهَا .
It was narrated from Safwan bin Ya'la, from his father, that: a man bit the hand of another man and his front tooth fell out. He came to the Prophet but he considered it in vain.
یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کا ہاتھ کاٹ کھایا تو پہلے شخص کا دانت اکھڑ گیا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ نے اسے لغو قرار دیا ۱؎۔
Jam e Tirmazi
3707
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا نَقُولُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ أَبُو بَكْرٍ،‏‏‏‏ وَعُمَرُ،‏‏‏‏ وَعُثْمَانُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ يُسْتَغْرَبُ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
Narrated Ibn 'Umar: While the Messenger of Allah (ﷺ) alive, we used to say: 'Abu Bakr, and (then) 'Umar, and (then) 'Uthman.'
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کہتے تھے: ”ابوبکر، عمر، اور عثمان ۱؎۔
Sahih Muslim
6145
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَامُ، قَطُّ إِلَّا ثَلَاثَ كَذَبَاتٍ، ثِنْتَيْنِ فِي ذَاتِ اللهِ، قَوْلُهُ: إِنِّي سَقِيمٌ، وَقَوْلُهُ: بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا، وَوَاحِدَةٌ فِي شَأْنِ سَارَةَ، فَإِنَّهُ قَدِمَ أَرْضَ جَبَّارٍ وَمَعَهُ سَارَةُ، وَكَانَتْ أَحْسَنَ النَّاسِ، فَقَالَ لَهَا: إِنَّ هَذَا الْجَبَّارَ، إِنْ يَعْلَمْ أَنَّكِ امْرَأَتِي يَغْلِبْنِي عَلَيْكِ، فَإِنْ سَأَلَكِ فَأَخْبِرِيهِ أَنَّكِ أُخْتِي، فَإِنَّكِ أُخْتِي فِي الْإِسْلَامِ، فَإِنِّي لَا أَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ مُسْلِمًا غَيْرِي وَغَيْرَكِ، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْضَهُ رَآهَا بَعْضُ أَهْلِ الْجَبَّارِ، أَتَاهُ فَقَالَ لَهُ: لَقَدْ قَدِمَ أَرْضَكَ امْرَأَةٌ لَا يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تَكُونَ إِلَّا لَكَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَأُتِيَ بِهَا فَقَامَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى الصَّلَاةِ، فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَيْهِ لَمْ يَتَمَالَكْ أَنْ بَسَطَ يَدَهُ إِلَيْهَا، فَقُبِضَتْ يَدُهُ قَبْضَةً شَدِيدَةً، فَقَالَ لَهَا: ادْعِي اللهَ أَنْ يُطْلِقَ يَدِي وَلَا أَضُرُّكِ، فَفَعَلَتْ، فَعَادَ، فَقُبِضَتْ أَشَدَّ مِنَ الْقَبْضَةِ الْأُولَى، فَقَالَ لَهَا مِثْلَ ذَلِكَ، فَفَعَلَتْ، فَعَادَ، فَقُبِضَتْ أَشَدَّ مِنَ الْقَبْضَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ، فَقَالَ: ادْعِي اللهَ أَنْ يُطْلِقَ يَدِي، فَلَكِ اللهَ أَنْ لَا أَضُرَّكِ، فَفَعَلَتْ، وَأُطْلِقَتْ يَدُهُ، وَدَعَا الَّذِي جَاءَ بِهَا فَقَالَ لَهُ: إِنَّكَ إِنَّمَا أَتَيْتَنِي بِشَيْطَانٍ، وَلَمْ تَأْتِنِي بِإِنْسَانٍ، فَأَخْرِجْهَا مِنْ أَرْضِي، وَأَعْطِهَا هَاجَرَ. قَالَ: فَأَقْبَلَتْ تَمْشِي، فَلَمَّا رَآهَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ انْصَرَفَ، فَقَالَ لَهَا: مَهْيَمْ؟ قَالَتْ: خَيْرًا، كَفَّ اللهُ يَدَ الْفَاجِرِ، وَأَخْدَمَ خَادِمًا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَتِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Prophet Ibrahim (peace be upon him) never told a lie but only thrice: two times for the sake of Allah (for example, his words): I am sick, and his words: But it was the big one amongst them which has done that and because of Sara (his wife). He had come in a land inhabited by haughty and cruel men along with Sara. She was very good-looking amongst the people, so he said to her: If these people were to know that you are my wife they would snatch you away from me, so if they ask you tell them that you are my sister and in fact you are my sister in Islam, and I do not know of any other Muslim in this land besides I and you. And when they entered that land the tyrants came to see her and said to him (the king): 'There comes to your land a woman, whom you alone deserve to possess', so he (the king) sent someone (towards her) and she was brought to him, and Ibrahim (peace be upon him) stood in prayer. When she visited him (the tyrant king came) he could help but stretch his hand towards her and his hand was tied up. He said: 'Supplicate to Allah so that He may release my hand and I will do no harm to you.' She did that and the man repeated (the same highhandedness) and his hand was again tied up more tightly than on the first occasion. He said the same thing to her again, and she again did that (supplicated), but he repeated (the same highhandedness and his hands were tied up more tightly than on the previous occasion). He then again said: 'Supplicate your Lord so that He may set my hand free; by Allah I shall do no harm to you.' She did and his hand was freed. Then he called the person who had brought her and said to him: 'You have brought to me the satan and you have not brought to me a human being, so turn them out from my land,' and he gave Hajar as a gift to her. She returned (along with Hajar) and when Ibrahim (peace be upon him) saw her, he said: 'How have you returned?' She said: 'With full safety (have I returned). Allah held the hand of that debauch and he gave me a maid-servant.' Abu Huraira said: 'O sons of the rain of the sky, she is your mother.'
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے کبھی جھوٹ نہیں بولا مگر ، تین دفعہ ( بولا ) ( یہ اصطلاحاً جھوٹ کہے گئے ہیں ، حقیقت میں جھوٹ نہیں ہیں بلکہ یہ توریہ کی ایک شکل ہیں ) ان میں سے دو جھوٹ اللہ کے لئے تھے ، ایک تو ان کا یہ قول کہ ”میں بیمار ہوں“ اور دوسرا یہ کہ ”ان بتوں کو بڑے بت نے توڑا ہو گا“تیسرا جھوٹ سیدہ سارہ علیہا السلام کے بارے میں تھا ۔ اس کا قصہ یہ ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام ایک ظالم بادشاہ کے ملک میں پہنچے ان کے ساتھ ان کی بیوی سیدہ سارہ بھی تھیں اور وہ بڑی خوبصورت تھیں ۔ انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس ظالم بادشاہ کو اگر معلوم ہو گا کہ تو میری بیوی ہے تو مجھ سے چھین لے گا ، اس لئے اگر وہ پوچھے تو یہ کہنا کہ میں اس شخص کی بہن ہوں اور تو اسلام کے رشتہ سے میری بہن ہے ۔ ( یہ بھی کچھ جھوٹ نہ تھا ) اس لئے کہ ساری دنیا میں آج میرے اور تیرے سوا کوئی مسلمان معلوم نہیں ہوتا جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام اس کی قلم رو ( اس کے علاقہ ) سے گزر رہے تھے تو اس ظالم بادشاہ کے کارندے اس کے پاس گئے اور بیان کیا کہ تیرے ملک میں ایک ایسی عورت آئی ہے جو تیرے سوا کسی کے لائق نہیں ہے ۔ اس نے سیدہ سارہ کو بلا بھیجا ۔ وہ گئیں تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نماز کے لئے کھڑے ہو گئے ( اللہ سے دعا کرنے لگے اس کے شر سے بچنے کے لئے ) جب سیدہ سارہ اس ظالم کے پاس پہنچیں تو اس نے بے اختیار اپنا ہاتھ ان کی طرف دراز کیا ، لیکن فوراً اس کا ہاتھ سوکھ گیا وہ بولا کہ تو اللہ سے دعا کر کہ میرا ہاتھ کھل جائے ، میں تجھے نہیں ستاؤں گا ۔ انہوں نے دعا کی اس مردود نے پھر ہاتھ دراز کیا ، پھر پہلے سے بڑھ کر سوکھ گیا ۔ اس نے دعا کے لئے کہا تو انہوں نے دعا کی ۔ پھر اس مردود نے دست درازی کی ، پھر پہلی دونوں دفعہ سے بڑھ کر سوکھ گیا ۔ تب وہ بولا کہ اللہ سے دعا کر کہ میرا ہاتھ کھل جائے ، اللہ کی قسم اب میں تجھ کو نہ ستاؤں گا ۔ سیدہ سارہ نے پھر دعا کی ، اس کا ہاتھ کھل گیا ۔ تب اس نے اس شخص کو بلایا جو سیدہ سارہ کو لے کر آیا تھا اور اس سے بولا کہ تو میرے پاس شیطاننی کو لے کر آیا ، یہ انسان نہیں ہے اس کو میرے ملک سے باہر نکال دے اور ایک لونڈی ہاجرہ اس کے حوالے کر دے سیدہ سارہ ہاجرہ کو لے کر لوٹ آئیں جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا تو نمازوں سے فارغ ہوئے اور کہا کیا ہوا؟ سارہ نے کہا بس کہ سب خیریت رہی ، اللہ تعالیٰ نے اس بدکار کا ہاتھ مجھ سے روک دیا اور ایک لونڈی بھی دی ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر یہی لونڈی یعنی ہاجرہ تمہاری ماں ہے اے بارش کے بچو!
Sunnan Abu Dawood
271
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ ذَرَّةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهَا قَالَتْ:‏‏‏‏ كُنْتُ إِذَا حِضْتُ نَزَلْتُ عَنِ الْمِثَالِ عَلَى الْحَصِيرِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ نَقْرُبْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ نَدْنُ مِنْهُ حَتَّى نَطْهُرَ .
Narrated Aishah, Ummul Muminin: When I menstruated, I left the bed and lay on the reed-mat and did not approach or come near the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم until we were purified.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں جب حائضہ ہوتی تو بچھونے سے چٹائی پر چلی آتی، اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب نہ ہوتے، جب تک کہ ہم پاک نہ ہو جاتے۔
Sunnan Abu Dawood
4928
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا أُسَامَةَ أَخْبَرَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُفَضَّلِ بْنِ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْأَبِي يَسَارٍ الْقُرَشِيِّ،‏‏‏‏عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِمُخَنَّثٍ قَدْ خَضَّبَ يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ بِالْحِنَّاءِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا بَالُ هَذَا ؟ فَقِيلَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏يَتَشَبَّهُ بِالنِّسَاءِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَ بِهِ فَنُفِيَ إِلَى النَّقِيعِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا نَقْتُلُهُ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي نُهِيتُ عَنْ قَتْلِ الْمُصَلِّينَ قَالَ أَبُو أُسَامَةَ:‏‏‏‏ وَالنَّقِيعُ نَاحِيَةٌ عَنْ الْمَدِينَةِ وَلَيْسَ بِالْبَقِيعِ.
Narrated Abu Hurairah: A hermaphrodite (mukhannath) who had dyed his hands and feet with henna was brought to the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. He asked: What is the matter with this man? He was told: Messenger of Allah! he affects women's get-up. So he ordered regarding him and he was banished to an-Naqi'. The people said: Messenger of Allah! should we not kill him? He said: I have been prohibited from killing people who pray. Abu Usamah said: Naqi' is a region near Madina and not a Baqi'.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ہجڑا لایا گیا جس نے اپنے ہاتھوں اور پیروں میں مہندی لگا رکھی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا کیا حال ہے؟ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! یہ عورتوں جیسا بنتا ہے، آپ نے حکم دیا تو اسے نقیع کی طرف نکال دیا گیا، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اسے قتل نہ کر دیں؟، آپ نے فرمایا: مجھے نماز پڑھنے والوں کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے نقیع مدینے کے نواح میں ایک جگہ ہے اس سے مراد بقیع ( مدینہ کا قبرستان ) نہیں ہے۔