Surat Bani Isareel

Surah: 17

Verse: 20

سورة بنی اسراءیل

کُلًّا نُّمِدُّ ہٰۤؤُلَآءِ وَ ہٰۤؤُلَآءِ مِنۡ عَطَآءِ رَبِّکَ ؕ وَ مَا کَانَ عَطَـآءُ رَبِّکَ مَحۡظُوۡرًا ﴿۲۰﴾

To each [category] We extend - to these and to those - from the gift of your Lord. And never has the gift of your Lord been restricted.

ہر ایک کو ہم بہم پہنچائے جاتے ہیں انہیں بھی اور انہیں بھی تیرے پروردگار کے انعامات میں سے ۔ تیرے پروردگار کی بخشش رکی ہوئی نہیں ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah says: كُلًّ نُّمِدُّ هَـوُلاء وَهَـوُلاء ... On each these as well as those We bestow كُلًّ (On each) meaning, on each of the two groups, those who desire this world and those who desire the Hereafter, We bestow what they want, ... مِنْ عَطَاء رَبِّكَ ... from the bounties of your Lord. means, He is the One Who is in control of all things, and He is never unjust. He gives to each what he deserves, whether it is eternal happiness or doom. His decree is unstoppable, no one can withhold what He gives or change what He wants. Allah says: ... وَمَا كَانَ عَطَاء رَبِّكَ مَحْظُورًا And the bounties of your Lord can never be forbidden. meaning, no one can withhold or prevent them. Qatadah said, "(It means) they can never decrease." Al-Hasan and others said, "(It means) they can never be prevented." Then Allah says:

حق دار کو حق دیا جاتا ہے یعنی ان دونوں قسم کے لوگوں کو ایک وہ جن کا مطلب صرف دنیا ہے دوسرے وہ جو طالب آخرت ہیں دونوں قسم کے لوگوں کو ہم بڑھاتے رہتے ہیں جس میں بھی وہ ہیں ، یہ تیرے رب کی عطا ہے ، وہ ایسا متصرف اور حاکم ہے جو کبھی ظلم نہیں کرتا ۔ مستحق سعادت کو سعادت اور مستحق شقاوت کو شقاوت دے دیتا ہے ۔ اس کے احکام کوئی رد نہیں کر سکتا ، اس کے روکے ہوئے کو کوئی دے نہیں سکتا اس کے ارادوں کو کوئی ڈال نہیں سکتا ۔ تیرے رب کی نعمتیں عام ہیں ، نہ کسی کے روکے رکیں ، نہ کسی کے ہٹائے ہیٹیں وہ نہ کم ہوتی ہیں نہ گھٹتی ہیں ۔ دیکھ لو کہ دنیا میں ہم نے انسانوں کے کیسے مختلف درجے رکھے ہیں ان میں امیر بھی ہیں ، فقیر بھی ہیں درمیانہ حالت میں بھی ہیں ، اچھے بھی ہیں ، برے بھی ہیں اور درمیانہ درجے کے بھی ۔ کوئی بچپن میں مرتا ہے ، کوئی بوڑھا بڑا ہو کر ، کوئی اس کے درمیان ۔ آخرت درجوں کے اعتبار سے دنیا سے بھی بڑھی ہوئی ہے کچھ تو طوق و زنجیر پہنے ہوئے جہنم کے گڑھوں میں ہوں گے ، کچھ جنت کے درجوں میں ہوں گے ، بلند و بالا بالا خانوں میں نعمت و راحت سرور و خوشی میں ، پھر خود جنتیوں میں بھی درجوں کا تفاوت ہو گا ایک ایک درجے میں زمین و آسمان کا سا تفاوت ہو گا ۔ جنت میں ایسے ایک سو درجے ہیں ۔ بلند درجوں والے اہل علین کو اس طرح دیکھیں گے جیسے تم کسی چمکتے ستارے کو آسمان کی اونچائی پر دیکھتے ہو ۔ پس آخرت درجوں اور فضیلتوں کے اعتبار سے بہت بڑی ہے ، طبرانی میں ہے جو بندہ دنیا میں جو درجہ چڑھنا چاہے گا اور اپنی خواہش میں کامیاب ہو جائے گا درجہ گھٹا دے گا جو اس سے بہت بڑا ہے پھر آپ نے یہی آیت پڑھی ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

20۔ 1 یعنی دنیا کا رزق اور اس کی آسائشیں ہم بلا تفریق مومن اور کافر، طالب دنیا اور طالب آخرت سب کو دیتے ہیں۔ اللہ کی نعمتیں کسی سے بھی روکی نہیں جاتیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٠] کوئی دوسرے کا رزق روک نہیں سکتا :۔ کیونکہ دنیوی مال و دولت اللہ کی بخشش ہے۔ جو اس دنیادار کو بھی ملتی ہے جو صرف اسی کے لیے کوشاں رہتا ہے اور آخرت کے طلبگار کو بھی ملتی ہے جتنی اس کے مقدر میں ہوتی ہے۔ دنیا کے طلبگار کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ آخرت کے طلبگار کی روزی بند کردے اور نہ ہی آخرت کے طلبگار کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ دنیا کے طلب گار کی روزی بند کردے۔ یہ زمین اور دوسرے ذرائع پیداوار تو اللہ نے پہلے سے ہی پیدا کردیئے ہیں جن سے ہر شخص خواہ وہ دنیا کا طلبگار ہو یا آخرت کا اپنے ارادہ اور اپنی بساط کے مطابق یکساں فائدہ اٹھا سکتا ہے مگر اسے ملتا اتنا ہی ہے جتنا اس کے مقدر میں ہو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاۗءِ وَهٰٓؤُلَاۗءِ ۔۔ : ” مَحْظُوْرًا “ ” حَظَرَ یَحْظُرُ “ (ن) سے اسم مفعول ہے، بمعنی روکنا، یعنی ہم مومن و کافر، نیک و بد ہر ایک کو رزق اور دنیا کی نعمتوں سے نوازتے ہیں، ایسا نہیں کہ گناہ یا کفر کی وجہ سے اس کا رزق بند کردیں، کیونکہ دنیا امتحان کی جگہ ہے، نیکی یا بدی کی وجہ سے رزق بند کرنے سے یہ مقصد فوت ہوجاتا ہے۔ ہاں ! اللہ کی تقدیر کے مطابق مومن کا رزق کم یا زیادہ ہوسکتا ہے اور کافر کا بھی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاۗءِ وَهٰٓؤُلَاۗءِ مِنْ عَطَاۗءِ رَبِّكَ ۭ وَمَا كَانَ عَطَاۗءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا 20؀ مد أصل المَدّ : الجرّ ، ومنه : المُدّة للوقت الممتدّ ، ومِدَّةُ الجرحِ ، ومَدَّ النّهرُ ، ومَدَّهُ نهرٌ آخر، ومَدَدْتُ عيني إلى كذا . قال تعالی: وَلا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ الآية [ طه/ 131] . ومَدَدْتُهُ في غيّه، ومَدَدْتُ الإبلَ : سقیتها المَدِيدَ ، وهو بزر ودقیق يخلطان بماء، وأَمْدَدْتُ الجیشَ بِمَدَدٍ ، والإنسانَ بطعامٍ. قال تعالی: أَلَمْ تَرَ إِلى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَ [ الفرقان/ 45] . ( م د د ) المد کے اصل معنی ( لمبائی میں ) کهينچنا اور بڑھانے کے ہیں اسی سے عرصہ دراز کو مدۃ کہتے ہیں اور مدۃ الجرح کے معنی زخم کا گندہ مواد کے ہیں ۔ مد النھر در کا چڑھاؤ ۔ مدہ نھر اخر ۔ دوسرا دریا اس کا معاون بن گیا ۔ قرآن میں ہے : أَلَمْ تَرَ إِلى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَ [ الفرقان/ 45] تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارا رب سائے کو کس طرح دراز کرک پھیلا دیتا ہے ۔ مددت عینی الی کذا کسی کیطرف حریصانہ ۔۔ اور للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنا ۔ چناچہ قرآن میں ہے : وَلا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ الآية [ طه/ 131] تم ۔۔ للچائی نظروں سے نہ دیکھنا ۔ عطا العَطْوُ : التّناول، والمعاطاة : المناولة، والإعطاء : الإنالة . قال تعالی: حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ [ التوبة/ 29] . واختصّ العطيّة والعطاء بالصّلة . قال : هذا عَطاؤُنا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسابٍ [ ص/ 39] ( ع ط و ) العطوا ( ن ) کے معنی ہیں لینا پکڑنا اور المعاد طاہ باہم لینا دینا الاعطاء ( افعال ) قرآن میں ہے : ۔ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ [ التوبة/ 29] یہاں تک کہ جزیہ دیں ۔ اور العطیۃ والعطاء خاص کر اس چیز کو کہتے ہیں جو محض تفضیلا دی جائے ۔ حظر الحَظْرُ : جمع الشیء في حَظِيرَة، والمَحْظُور : الممنوع، والمُحْتَظِرُ : الذي يعمل الحظیرة . قال تعالی: فَكانُوا كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ [ القمر/ 31] ، وقد جاء فلان بالحظِرِ الرّطب، أي : الکذب المستبشع «1» . ( ح ظ ر ) الحظر ( ن ) کے معنی کسی چیز کو حظٰیرہ یعنی احاطہ میں جمع کرنے کے ہیں اور ممنوع کو محظور کہا جاتا ہے ۔ المحتظر باڑہ بنانے والا ۔ قرآن میں ہے :۔ فَكانُوا كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ [ القمر/ 31] تو وہ ایسے ہوگئے جیسے باڑو والے کی سوکھی اور ٹوٹی ہوئی باڑ ۔ جاء فلان بالحظرالرطب ( مثل ) یعنی اس نے بہت قبیح جھوٹ بولا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

دنیا میں سامان زیست مومن و کافر سب کو نصیب ہے قول باری ہے (کلا نمد ھولآء وھو لاء من عطاء ربک ان کو بھی اور انکو بھی، دونوں فریقوں کو ہم (دنیا میں) سامان زیست دیئے جا رہے ہیں یہ تیرے رب کا عطیہ ہے) دنیا کے خواہشمند اور آخرت کے طلبگار کا ذکر پہلے گزر چکا اور ان میں سے ہر ایک کو اپنے ارادہ اور قصد کے نتیجے میں جو کچھ ملنے والا ہے اس کا حکم بھی بیان ہوگیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ بتایا کہ دنیا میں اس کی نعمتیں نیکو کار اور بدکار دونوں تک پھیلی ہوئی ہیں البتہ آخرت میں یہ نعمتیں صرف نیکو کاروں کے لئے مخصوص ہوں گی ۔ آپ نہیں دیکھتے کہ شمس و قمر ، ارض و سماء اور ان کے فوائد، آب و ہوا ، نباتات و حیوانات، غذائیں و دوائیں، جسمانی صحت و دعا فیت غرضیکہ اللہ تعالیٰ کی بیشمار نعمتوں کا دائرہ نیکو کاروں اور بدکاروں سب تک وسیع ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٠) آپ کے رب کی عطا میں تم ہم اہل اطاعت کی بھی امداد کرتے ہیں اور اہل معصیت کو بھی مال و دولت دیتے ہیں اور آپ کے رب کی یہ عطا نیک وبد سے بند نہیں ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٠ (كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاۗءِ وَهٰٓؤُلَاۗءِ مِنْ عَطَاۗءِ رَبِّكَ ) یہ دنیا چونکہ دار الامتحان ہے اس لیے جب تک انسان یہاں موجود ہیں ان میں سے کوئی مجرم ہو یا اطاعت گزار ہر ایک کی بنیادی ضروریات پوری ہو رہی ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی نوازش ہے جس میں سے وہ اپنے نافرمانوں اور دشمنوں کو بھی نواز رہا ہے۔ (وَمَا كَانَ عَطَاۗءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا) دنیا میں اللہ تعالیٰ کی یہ عطا اور بخشش عام ہے۔ اس میں دوست اور دشمن کے امتیاز کی بنیاد پر کوئی قدغن یا روک ٹوک نہیں ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

22. Allah gives the provisions of this world both to those who strive for this world and to those who strive for the Hereafter, but it is the gift of Allah alone and not of anyone else. It does not lie in the power of the worshipers of the world to deprive the seekers after the Hereafter of these provisions, nor have the seekers after the Hereafter any power to withhold these provisions from the worshipers of the world.

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :22 یعنی دنیا میں رزق اور سامان زندگی دنیا پرستوں کو بھی مل رہا ہے اور آخرت کے طلبگاروں کو بھی عطیہ اللہ ہی کا ہے ، کسی اور کا نہیں ہے ۔ نہ دنیا پرستوں میں یہ طاقت ہے کہ آخرت کے طلبگاروں کو رزق سے محروم کر دیں ، اور نہ آخرت کے طلب گار ہی یہ قدرت رکھتے ہیں کہ دنیا پرستوں تک اللہ کی نعمت نہ پہنچنے دیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

10: یہاں عطا سے مراد دنیا کا رزق ہے یعنی مومن و کافر اور متقی اور فاسق ہر شخص کو دنیا میں اللہ تعالیٰ رزق عطا فرماتے ہیں، یہ رزق کسی پر بند نہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٠۔ ٢١:۔ اوپر کی آیتوں میں اس بات کا بیان تھا کہ جو شخص اپنے عمل سے دنیا کا ارادہ کرتا ہے تو اسے دنیا مل جاتی ہے اور جو شخص آخرت کا ارادہ کرتا ہے تو اسے آخرت ملتی ہے اب یہ فرمایا کہ ان دونوں گروہ میں سے کوئی بھی سب پر اللہ پاک اپنی بخشش کیے جاتا ہے جو شخص جس بات کا مستحق ہے وہ اسے عطا کرتا ہے اس کے حکم کا پھیرنے والا کوئی نہیں ہے کوئی چاہے کہ خداوند جل شانہ کی بخشش کو روک دے تو وہ کسی کے روکے نہیں رک سکتی کافر و مومن سب کا وہ رازق ہے پھر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب فرمایا کہ دیکھو اللہ نے کس طرح دنیا میں لوگوں کو پیدا کیا ہے ایک پر ایک کو بزرگی دی ہے کسی کو تونگر کسی کو محتاج بنایا کوئی بادشاہ ہے تو کوئی فقیر کوئی بیمار ہے تو کوئی تندرست۔ کسی کو عقل مند پیدا کیا تو کسی کو نادان کوئی دیوانہ ہے تو کوئی ہوشیار غرض کہ اس میں بھی خدا کی وہ حکمت پوشیدہ ہے جس کے سیکھنے کی طاقت قوت بشر سے بالکل باہر ہے بڑے بڑے صاحب عقل اس بھید کے سمجھنے سے قاصر ہیں پھر یہ فرمایا کہ جس طرح دنیا میں تم دیکھتے ہو کہ اللہ پاک نے ایک کو ایک سے افضل بنایا ہے اور ایک پر ایک کو بزرگی دی ہے اسی طرح سمجھ لو کے آخرت کے درجے بھی الگ الگ ہیں۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابو سعید (رض) خدری سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جنت کے نیچے کے درجے کے لوگوں کو اوپر کے درجوں کے جنتی اس طرح نظر آویں گے جس طرح زمین پر سے تارے نظر آتے ہیں ١ ؎۔ ان ہی ابوسعید خدری (رض) سے مسند امام احمد اور مسند بزار میں صحیح روایت ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دوزخ کی آگ کسی کے ٹخنوں تک ہوگی اور کسی کے گھٹنوں تک اور کسی کے سر سے بھی اونچی ٢ ؎۔ دنیا کے درجوں کی طرح آخرت کے درجوں کے الگ الگ ہونے کا ذکر جو آیتوں میں ہے اس کی تفسیر ان حدیثوں سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے۔ ١ ؎ صحیح مسلم ص ٣٧٨ ج ٢ کتاب الجنۃ ٢ ؎ الترغیب فصل فی تفاو تہم فی العذاب ص ٣٤٢ ج ٢۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(17:20) کلا۔ میں تنوین عوض کی ہے اصل میں کل الفریقین مضاف الیہ کو حذف کردیا گیا ہے اور اس کے عوض کلا پر تنوین آگئی۔ اس کی اور مثالیں وکل فی فلک یسبحون (36:40) اور سب اپنے اپنے دائرے میں تیر رہے ہیں۔ اور وکلا جعلنا صالحین (21:73) اور سب کو ہم نے نیک بخت بنایا۔ مضاف مضاف الیہ کی صورتیں۔ (1) جمع معرف باللام کی طرف کل کا مضاف ہونا۔ جیسے کل القوم پوری قوم۔ (2) جمع معرف باللام کی ضمیر کی طرف مضاف ہونا۔ جیسے فسجد الملئکۃ کلہم اجمعون۔ (15:20) تو فرشتے سب کے سب سجدہ میں گرپڑے۔ (3) نکرہ مفردہ کی طرف مضاف ہونا۔ جیسے وکل انسان الزمنہ (17:13) اور ہم نے ہر انسان (کے اعمال کو بصورت کتاب) اس کے گلے میں لٹکا دیا ہے۔ نمد۔ مضارع جمع متکلم۔ امداد (افعال) ہم مدد دیتے ہیں۔ ہم امداد کرتے ہیں۔ ہم دیتے ہیں۔ ہم سعت کھول دیتے ہیں۔ ہم اپنا رزق اور نعمتیں مطیع وعاصی دونوں کو عطا کرتے ہیں۔ ھؤلاء وھؤلائ۔ ان کی بھی اور ان کی بھی۔ یعنی طالبان دنیا کی بھی اور طالبانِ آخرت کی بھی ۔ محظورا۔ اسم مفعول ۔ واحدمذکر۔ ممنوع۔ روکی گئی۔ بند کردی گئی۔ یعنی تیرے رب کی نعمتیں اور بخششیں کسی پر بند نہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

(قرطبی)12 دونوں کو رزق اور دنیا کی نعمتوں سے نوازتے ہیں۔ ایسا نہیں کرتے کہ کسی کی معصیت کی وجہ سے اس کا رزق بند کردیں۔ کیونکہ اس دارالعمل میں ہر ایک کے ساتھ مساوی سلوک کرنا ضروری ہے تاکہ کسی کے لئے عذر باقی نہ رہے اور ہر ایک کو اس کی صلاحیت کے مطابق دنیا کا سامان میسر ہوجائے۔ (رازی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ یعنی مقبولین کی۔ 6۔ یعنی غیر مقبولین کے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

کلا نمد ھولاء وھولاء من عطاء ربک و ما کان عطاء ربک محظورا (٧١ : ٢) ” ان کو بھی اور ان کو بھی ، دونوں فریقوں کو ہم (دنیا میں) سامان زیست دیے جا رہے ہیں ، یہ تیرے رب کا عطیہ ہے اور تیرے رب کی عطا کو روکنے والا کوئی نہیں ہے “۔ لیکن زمین کے اندر ، اس دنیا میں بھی لوگوں کے درمیان حسب و درجات ، حسب وسائل اور حسب اسباب اور حسب میلانات و رحجانات اور مطابق سعی وجہد فرق مراتب ملحوظ ہے۔ کیونکہ دنیا کا دائرہ بھی محدود ہے ، اور یہ کرہ ارض بھی محدود ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں آخرت وسیع ہے۔ وہاں کی وسعتیں لامحدود ہیں۔ عالم آخرت ! اس کے کیا کہنے ، اس کے مقابلے میں یہ پوری دنیا ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اسی کو فرمایا (کُلًّانُّمِدُّ ھآؤُلَآءِ وَ ھٰٓؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّکَ وَ مَا کَانَ عَطَآءُ رَبِّکَ مَحْظُوْرًا) (اور ہم آپ کے رب کی بخشش سے ہر ایک کو دیتے ہیں ان کو بھی اور ان کو بھی، اور آپ کے رب کی بخشش روکی نہیں ہے) مقبولین کو بھی نعمتیں دی جاتی ہیں اور غیر مقبولین کو بھی، اور دنیا میں اللہ کی رحمت کسی سے روکی ہوئی نہیں ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

19:۔ طالبان دنیا ہوں یا طالبانِ آخرت اللہ کے رزق سے سب اپنا اپنا حصہ پائیں گے دنیا میں رزق سے کوئی بھی محروم نہیں رکھا جائے گا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

20 ہم دونوں قسم کے فریضوں میں سے ہر ایک کی مدد کرتے ہیں ان کی بھی مدد اور ان کی بھی آپ کے پروردگار کی بخشش سے اور آپ کے رب کی یہ بخشش اور عطا کسی پر بند نہیں ہے۔ یعنی اے پیغمبر ! ہم آپ کے پروردگار کی عطا میں سے ان مقبولین کی بھی امداد کرتے ہیں اور ان غیر مقبولین کی بھی امداد کرتے ہیں اور یہ واقعہی ہے کہ آپ کے پروردگار کی عطا کسی پر رو کی نہیں گئی ہے۔ خلاصہ ! یہ کہ دنیا کا کسی کے پاس زیادہ ہونا اور دنیا زیادہ مل جانے کو قبولیت اور عدم قبولیت میں کوئی دخل نہیں ہے اکثر کفار مومنین سے زیادہ مال دار اور سرمایہ دار ہوتے ہیں۔ سرمایہ کی بہتات صداقت کی دلیل نہیں ہے۔