NounPersonal Pronoun

ءَابَآئِكَ

(of) your forefathers

تیرے آباؤ اجداد کے

Verb Form
Perfect Tense Imperfect Tense Imperative Active Participle Passive Participle Noun Form
---
---
---
---
---
---
Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَلْاَبُ۔ اس کے اصل معنی تو والد کے ہیں (مجازاً) ہر اُس شخص کو جو کسی شے کی ایجاد، ظہور یا اصلاح کا سبب ہو اسے اَبُوْہُ کہہ دیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ : (اَلنَّبِیُّ اَوۡلٰی بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ مِنۡ اَنۡفُسِہِمۡ وَ اَزۡوَاجُہٗۤ اُمَّہٰتُہُمۡ ) (۳۳:۶) میں آنحضرت کو مومنین کا باپ قرار دیا گیا ہے۔ ایک قرأت میں وَھُوَ اَبٌ لَّھُمْ بھی آیا ہے۔ (1) نیز مروی ہے کہ آنحضرت نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا (2) (۱) انا وانت ابو ھٰذہ الامۃ کو میں اور تم اس امت کے باپ ہیں۔ نیز اس معنی کی طرف مشارہ کرتے ہوئے ایک موقع پر فرمایا: (3) کل سبب و نسب منقطع یوم القیامۃ الاسببی ونسبی کہ قیامت کے دن میرے تعلق ورشتہ کے سوا تعلقات اور رشتے منقطع ہوجائیں گے۔ اور میزبان کو ابوالاضیاف کہا جاتا ہے۔ اس لیے کہ وہ مہمانوں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ ابو الحرب۔ لڑائی کا بھڑکانے والا۔ بڑا جنگو ابو عُذْرتِھَا۔ مرد دوشیزگی دبائے زن (مجازا) موجد اَلْاَبْوَانِ۔ یہ لفظ ماں باپ، باپ دادا۔ نیز باپ چچا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ چنانچہ آیت کریمہ : (مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِیۡ ؕ قَالُوۡا نَعۡبُدُ اِلٰہَکَ وَ اِلٰـہَ اٰبَآئِکَ اِبۡرٰہٖمَ وَ اِسۡمٰعِیۡلَ وَ اِسۡحٰقَ اِلٰـہًا وَّاحِدًا) (۲:۱۳۳) میرے بعد تم کس کی عبادت کروگے (تو) انہوں نے کہا آپ کے معبود کی او رآپ کے باپ، دادا ابراہیمؑ، اسماعیل اور اسحٰق کے معبود کی عبادت کریں گے جو معبود یکتا ہے۔ میں حضرت اسماعیل کو یعقوب علیہما السلام کے آباء کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، حالانکہ وہ حضرت یعقوب کے چچا تھے۔ اور کبھی استاد اور معلم پر بھی اَبٌ کا لفظ بولا جاتا ہے۔ کیونکہ وہ انسان کا روحانی مربی ہوتا ہے جیساکہ پہلے بیان ہوچکا ہے۔ اور آیت کریمہ : (وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤی اُمَّۃٍ ) (۴۳:۲۲) میں بعض نے کہا ہے(4) کہ آباء سے مراد وہ علماء ہیں جو ان کی علمی اور روحانی تربیت کرتے تھے۔ کیونکہ دوسری جگہ آیت : (رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعۡنَا سَادَتَنَا وَ کُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوۡنَا السَّبِیۡلَا ) (۳۳:۶۷) میں ان آباء کو سادۃ او رکبراء کہا ہے بعض نے کہا ہے کہ آیت : (اَنِ اشۡکُرۡ لِیۡ وَ لِوَالِدَیۡکَ ) (۳۱:۱۴) میں وَالِدَیْن سے باپ اور معلم مراد ہیں اور آیت کریمہ : (مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ ) (۳۳:۴۰) کہ محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ میں نفی ابوۃ بلحاظ ولادت کے ہے۔ نیز تنبیہ کی ہے کہ متبنیٰ حقیقی اولاد کا حکم نہیں رکھتا۔ اَبٌ کی جمع آبَائٌ سے کبھی بُعُوْلَۃٌ اور خُئُوْلَۃٌ (جمع بعل و خال) کی طرح اس کی جمع اُبُوَّۃٌ بھی آجاتی ہے۔ اصل میں اَبٌ (اَبَوٌ) بروزن فَعَلٌ ہے اور شاعر کے قول (۴) اِنَّ اَبَاھَا وَاَبَا اَبَاھَا۔ ’’اس کا باپ اور دادا۔‘‘ میں اسے قفًا کا حکم دیا گیا ہے یعنی قفًا کی طرح اسم مقصور سمجھ کر نصبی جری حالت میں الف کو ثابت رکھا گیا ہے، محاورہ ہے : اَبَوْتُ الْقَوْمَ (میں قوم کا باپ بن گیا) فلان یأبُوْبَھْمَہٗ۔ (وہ اپنے جانوروں کی باپ کی طرح حفاظت کرتا ہے) اور ندا کی حالت میں اَبٌ پر تا زیادہ کرکے یا اَبَتِ (اے میرے باپ) کہا جاتا ہے۔ (5) بَأبَأ الصَّبِّی (حکایت) بچے نے بابا کہا۔

Lemma/Derivative

64 Results
آباء
Surah:26
Verse:76
اور تمہاراباپ دادا
and your forefathers
Surah:27
Verse:67
اور ہمارے آباؤ اجداد بھی
and our forefathers
Surah:27
Verse:68
اور ہمارے باپ دادا بھی
and our forefathers
Surah:28
Verse:36
اپنے آباؤ اجداد (میں )
our forefathers"
Surah:31
Verse:21
اپنے باپ دادا کو
our forefathers"
Surah:33
Verse:5
ان کے باپوں کے لیے
by their fathers
Surah:33
Verse:5
ان کے باپوں کو
their fathers
Surah:33
Verse:55
اپنے باپوں کے معاملے میں
their fathers
Surah:34
Verse:43
تمہارے آباؤ اجداد
your forefathers"
Surah:36
Verse:6
ان کے آباؤ اجداد
their forefathers