| Perfect Tense | Imperfect Tense | Imperative | Active Participle | Passive Participle | Noun Form |
أَبَى |
يَأْبَى |
اِئْبَ |
آبٍ/أبِيّ |
مَأْبِيّ |
اِبَاء/اِبَاءَة |
الْاِبَائُ کے معنی شدت امتناع یعنی سختی کے ساتھ انکار کرنا ہیں۔ یہ لفط الامتناع سے خاص ہے لہٰذا ہر اباء کو امتناع کہہ سکتے ہیں مگر ہر امتناع کو اَبَائٌ نہیں کہ سکتے قرآن میں ہے۔ (وَ یَاۡبَی اللّٰہُ اِلَّاۤ اَنۡ یُّتِمَّ نُوۡرَہٗ ) (۹:۳۲) او رخدا اپنے نور کو پورا کیے بغیر رہنے کا نہیں۔ (وَتَأبٰی قُلُوْبُھُمْ) (۹:۸) لیکن ان کے دل ان باتوں کو قبول نہیں کرتے۔ (اَبٰی وَ اسۡتَکۡبَرَ ) (۲:۳۴) اس نے سختی سے انکار کیا اور تکبر کیا اِلَّا اِبْلِیْسَ اَبٰی (۱۵:۳۱) مگر ابلیس نے انکار کردیا۔ ایک روایت میں ہے(1) (۲) (کُلُّکُمْ فِی الْجَنَّۃِ اِلَّا مَنْ اَبٰی) (کہ) تم سب جنتی ہو مگر وہ شخص جس نے (اطاعت الہٰی سے) انکار کیا۔ رَجْلٌ اَبِیٌّ۔ خوددار آدمی جو کسی کا ظلم برداشت نہ کرکے اَبَیْتَ الصَّیْرَ (مضارع تَأبٰی) تجھے اﷲ تعالیٰ ہر قسم کے ضرر سے محفوظ رکھے۔ تَیْسٌ آبٰی۔ وہ بکرا جو پہاڑی بکروں کا بول مِلا ہوا پانی پی کر بیمار ہوجائے او رپانی نہ پی سکے اس کا مؤنث اَبْوَائُ ہے۔
Surah:20Verse:116 |
اس نے انکار کیا
he refused
|
|
Surah:25Verse:50 |
تو انکار کیا
but refuse
|
|
Surah:33Verse:72 |
تو انہوں نے انکار کردیا
but they refused
|