Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 88

سورة البقرة

وَ قَالُوۡا قُلُوۡبُنَا غُلۡفٌ ؕ بَلۡ لَّعَنَہُمُ اللّٰہُ بِکُفۡرِہِمۡ فَقَلِیۡلًا مَّا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۸۸﴾

And they said, "Our hearts are wrapped." But, [in fact], Allah has cursed them for their disbelief, so little is it that they believe.

یہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل غلاف والے ہیں نہیں نہیں بلکہ ان کے کفر کی وجہ سے انہیں اللہ تعالٰی نے ملعون کر دیا ہے ان کا ایمان بہت ہی تھوڑا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah says; وَقَالُواْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ ... And they say, "Our hearts are Ghulf." Muhammad bin Ishaq reported that Ibn Abbas said that it, means, "Our hearts are screened." Mujahid also said that it means, "They are covered."` Ikrimah said, "There is a stamp on them." Abu Al-Aliyah said, "They do not comprehend." Mujahid and Qatadah said that; Ibn Abbas read the Ayah in a way that means, "Our hearts contain every type of knowledge and do not need the knowledge that you (O Muhammad) have." This is the opinion of Ata and Ibn Abbas. ... بَل لَّعَنَهُمُ اللَّه بِكُفْرِهِمْ ... Nay, Allah has cursed them for their disbelief, meaning, "Allah expelled them and deprived them of every type of righteousness." ... فَقَلِيلً مَّا يُوْمِنُونَ So little is that which they believe. Qatadah said that the Ayah means, "Only a few of them believe." Allah's statement, وَقَالُواْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ (And they say, "Our hearts are Ghulf.") is similar to His statement, وَقَالُواْ قُلُوبُنَا فِى أَكِنَّةٍ مِمَّا تَدْعُونَا إِلَيْهِ And they say: "Our hearts are under coverings (screened) from that to which you invite us. (41:5). This is why Allah said here, بَل لَّعَنَهُمُ اللَّه بِكُفْرِهِمْ فَقَلِيلً مَّا يُوْمِنُونَ (Nay, Allah has cursed them for their disbelief, so little is that which they believe), meaning, "It is not as they claim. Rather, their hearts are cursed and stamped," just as Allah said in Surah An-Nisa, وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ بَلْ طَبَعَ اللّهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَ يُوْمِنُونَ إِلاَّ قَلِيلً And of their saying: "Our hearts are wrapped (with coverings, i.e. we do not understand what the Messengers say) ـ nay, Allah has set a seal upon their hearts because of their disbelief, so they believe not but a little. (4:155) There is a difference of opinion regarding the meaning of Allah's statement, فَقَلِيلً مَّا يُوْمِنُونَ (So little is that which they believe.) and His statement, فَلَ يُوْمِنُونَ إِلاَّ قَلِيلً (So they believe not except a few), (4:155). Some scholars said that; the Ayat indicate that a few of them would believe, or that their faith is minute, because they believe in Resurrection and in Allah's reward and punishment that Musa foretold. Yet, this faith will not benefit them since it is overshadowed by their disbelief in what Muhammad brought them. Some scholars said that; the Jews did not actually believe in anything and that Allah said, فَقَلِيلً مَّا يُوْمِنُونَ (So little is that which they believe), meaning, they do not believe. This meaning is similar to the Arabic expression, "Hardly have I seen anything like this," meaning, "I have never seen anything like this."

خلف کے معنی یہودیوں کا ایک قول یہ بھی تھا کہ ہمارے دلوں پر غلاف ہیں یعنی یہ علم سے بھرپور ہیں اب ہمیں نئے علم کی کوئی ضرورت نہیں اس لئے جواب ملا کہ غلاف نہیں بلکہ لعنت الہیہ کی مہر لگ گئی ہے ایمان نصیب ہی نہیں ہوتا خلف کو خلف بھی پڑھا گیا ہے یعنی یہ علم کے برتن ہیں اور جگہ قرآن کریم میں ہے آیت ( وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِيْٓ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَيْهِ وَفِيْٓ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّمِنْۢ بَيْنِنَا وَبَيْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ ) 41 ۔ فصلت:5 ) یعنی جس چیز کی طرف تم ہمیں بلا رہے ہو اس چیز سے ہمارے دل پردے اور آڑ میں اور ہمارے دلوں کے درمیان پردہ ہے آڑ ہے ان پر مہر لگی ہوئی ہے وہ اسے نہیں سمجھتے اسی بنا پر وہ نہ اس کی طرف مائل ہوتے ہیں نہ اسے یاد رکھتے ہیں ایک حدیث میں بھی ہے کہ بعض دل غلاف والے ہوتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوتا ہے یہ کفار کے دل ہوتے ہیں سورۃ نساء میں بھی ایک آیت اسی معنی کی ہے آیت ( وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ ) 2 ۔ البقرۃ:88 ) تھوڑا ایمان لانے کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ ان میں سے بہت کم لوگ ایماندار ہیں اور دوسرے معنی یہ بھی ہیں کہ ان کا ایمان بہت کم ہے یعنی قیامت ثواب عذاب وغیرہ کا قائل ۔ حضرت موسیٰ پر ایمان رکھنے والے توراۃ کو اللہ تعالیٰ کی کتاب مانتے ہیں مگر اس پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کو مان کر اپنا ایمان پورا نہیں کرتے بلکہ آپ کے ساتھ کفر کر کے اس تھوڑے ایمان کو بھی غارت اور برباد کر دیتے ہیں تیسرے معنی یہ ہیں کہ یہ سرے سے بے ایمان ہیں کیونکہ عربی زبان میں ایسے موقعہ پر بھی ایسے الفاظ بولے جاتے ہیں مثلاً میں نے اس جیسا بہت ہی کم دیکھا مطلب یہ ہے کہ دیکھا ہی نہیں ۔ واللہ اعلم ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

88۔ 1 یعنی ہم پر اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تیری باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا جس طرح دوسرے مقام پر ہے۔ آیت (وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِيْٓ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَيْهِ ) 041:005 ہمارے دل اس دعوت سے پردے میں ہیں جس کی طرف تو ہمیں بلاتا ہے۔ 88۔ 2 دلوں پر حق بات کا اثر نہ کرنا، کوئی فخر کی بات نہیں۔ بلکہ یہ تو ملعون ہونے کی علامت ہے، پس ان کا ایمان بھی تھوڑا ہے ( جو عنداللہ نامقبول ہے) یا ان میں ایمان لانے والے کم ہی لوگ ہوں گے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠٣] یہود کا قول کہ ہمارے دل غلاف میں ہیں :۔ انسان کی یہ عادت ہے کہ وہ اپنی بری صفات کو بھی خوبصورت بنا کر دکھانے کی کوشش کرتا ہے اور حقیقت کا اعتراف کرلینا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔ الا ماشاء اللہ یہی حالت یہودیوں کی تھی۔ وہ دین اسلام کو برحق سمجھ لینے کے باوجود اسے قبول تو اس لیے نہیں کرتے تھے کہ اس طرح ان کا مذہبی تفوق و اقتدار خطرہ میں پڑجاتا تھا بلکہ چھن جاتا تھا مگر بظاہر اسے یوں پیش کرتے تھے کہ ہمارے عقائد اتنے مضبوط ہیں کہ وہ کوئی نیا عقیدہ قبول نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دجل و فریب کی قلعی کھولتے ہوئے فرمایا : بات یوں نہیں بلکہ یہ اپنے کفر اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ملعون بن چکے ہیں اور یہ اس لعنت کا اثر ہے کہ ان کے دل حق بات کو قبول نہیں کرتے۔ [١٠٤] جیسے عبداللہ بن سلام (رض) اور ان کے عقیدت مندوں کی جماعت اور بعض علماء (فَقَلِيْلًا مَّا يُؤْمِنُوْنَ 88؀) 2 ۔ البقرة :88) کا ترجمہ یہ کرتے ہیں کہ وہ اللہ کی کتاب تورات میں سے بھی بہت تھوڑی باتوں پر ایمان لاتے ہیں اور اکثر احکام کا انکار کردیتے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

غُلْفٌ ۭ یہ ” أَغْلَفُ “ کی جمع ہے، جیسے ” اَحْمَرُ “ کی جمع ” حُمْرٌ“ ہے، یعنی جو چیز غلاف (پردے) میں ہو، جیسے : ” رَجُلٌ اَغْلَفُ “ ” وہ آدمی جس کا ختنہ نہ ہوا ہو۔ “ اور ” سَیْفٌ اَغْلَفُ “ وہ تلوار جو غلاف میں ہو۔ یہود کہا کرتے تھے کہ ہمارے دل غلاف میں محفوظ ہیں، ان پر تمہاری باتوں کا کچھ اثر نہیں ہوتا، فرمایا : (وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِيْٓ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَيْهِ ) [ حٰم السجدۃ : ٥] ” اور انھوں نے کہا ہمارے دل اس بات سے پردوں میں ہیں جس کی طرف تو ہمیں بلاتا ہے۔ “ بعض علمائے تفسیر نے ” غُلْفٌ“ کے یہ معنی کیے ہیں کہ ہمارے دل علم و حکمت سے پر ہیں، کسی دوسرے علم کی ان میں گنجائش نہیں ہے۔ اس پر قرآن نے فرمایا کہ حق سے متاثر نہ ہونا فخر کی بات نہیں ہے، یہ تو اللہ کی لعنت کی نشانی ہے۔ (ابن کثیر) فَقَلِيْلًا مَّا يُؤْمِنُوْنَ ’ ما “ تاکید کے لیے ہے، اس لیے ” بہت کم “ ترجمہ کیا گیا۔ ” بہت کم ایمان لاتے ہیں “ کا ایک معنی یہ ہے کہ ان میں سے بہت کم لوگ ایمان لاتے ہیں، جیسے عبداللہ بن سلام (رض) وغیرہ۔ اس صورت میں یہ ” يُؤْمِنُوْنَ “ کی ضمیر سے حال ہے۔ دوسرا یہ کہ وہ بہت کم ایمان لاتے ہیں پورا ایمان نہیں لاتے، بعض آیات اور بعض انبیاء پر ایمان لاتے ہیں اور بعض سے کفر کرتے ہیں، اس صورت میں یہ ایمان محذوف کی صفت ہے۔ ” قَلِیْلاً “ بعض اوقات عدم کے لیے بھی آتا ہے کہ وہ ایمان لاتے ہی نہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The Jews used to say sarcastically that their hearts were |"veiled|", by which they meant that their hearts were so well protected against Islam that it could never touch them. This was their way of congratulating themselves on being staunch in their belief. The Holy Qur&an points out that this is not the firmness of faith, but a damnation, for they deny Islam which now is the true religion, and stick to a religion which has been abrogated. They, consequently, possess only |"a little|" faith (&Iman ایمان). Since a little faith is not acceptable, they turn out to be infidels. The little “ faith|" which they possessed pertained to the doctrines which are common to Islam and Judaism - for example, belief in Allah, or belief in the Day of Judgment. But they did not accept Sayyidna Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as a prophet, and the Holy Qur&an as the Word of Allah. So, their faith was not complete. If the Verse describes &the little faith& as &Iman ایمان ، it does so only in the lexical sense, for &Iman ایمان signifies total certitude, even if it pertains to certain things, and not to others. But from the point of view of the Shari&ah, such a partial faith cannot be described as &Iman ایمان . The Shari` ah would accept as valid only that &Iman ایمان which affirms with certitude each and everything that the Shari` ah requires one to affirm.

خلاصہ تفسیر : اور وہ (یہودی طنزیہ طور پر) کہتے ہیں کہ ہمارے قلوب (ایسے) محفوظ ہیں (کہ اس میں مخالف مذہب کا جو اسلام ہے اثر ہی نہیں ہوتا تو مذہب پر ہم خوب پختہ ہیں حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ محفوظی اور پختگی نہیں ہے) بلکہ ان کے کفر کے سبب ان پر خدا کی مار ہے (کہ اسلام جو مذہب حق ہے اس سے نفور اور منسوخ مذہب پر مصر ہیں) سو بہت ہی تھوڑا سا ایمان رکھتے ہیں (اور تھوڑا ایمان مقبول نہیں پس وہ کافر ہی ٹھہرے) فائدہ : یہ تھوڑا سا ایمان ان امور کے بابت ہے جو ان کے مذہب اور اسلام میں مشترک ہیں مثلاً خدا کا قائل ہونا قیامت کا قائل ہونا کہ ان امور کے وہ بھی قائل تھے لیکن خود نبوت محمدیہ اور قرآن کے کلام الہی ہونے کے منکر تھے اس لئے پورا ایمان نہ تھا، اور اس تھوڑے ایمان کو باعتبار لغت ایمان کہا جس کے معنی یقین کے ہیں گو وہ بعض اشیاء کے ساتھ ہی متعلق ہو شرعاً اس کو ایمان نہیں کہتے شرعاً وہ ایمان معتبر ہے جو کل امور وارد فی الشرع کے یقین کے ساتھ ہو،

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ۝ ٠ ۭ بَلْ لَّعَنَہُمُ اللہُ بِكُفْرِھِمْ فَقَلِيْلًا مَّا يُؤْمِنُوْنَ۝ ٨٨ قلب قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، کقلب الثّوب، وقلب الإنسان، أي : صرفه عن طریقته . قال تعالی: وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] . ( ق ل ب ) قلب الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں جیسے قلب الثوب ( کپڑے کو الٹنا ) اور قلب الانسان کے معنی انسان کو اس کے راستہ سے پھیر دینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۔ غلف قوله تعالی: قُلُوبُنا غُلْفٌ [ البقرة/ 88] ، قيل : هو جمع أَغْلَفَ ، کقولهم : سيف أَغْلَفُ. أي : هو في غِلَافٍ ، ويكون ذلک کقوله : وَقالُوا قُلُوبُنا فِي أَكِنَّةٍ [ فصلت/ 5] ، فِي غَفْلَةٍ مِنْ هذا [ ق/ 22] . وقیل : معناه قلوبنا أوعية للعلم «2» . وقیل : معناه قلوبنا مغطّاة، و غلام أَغْلَفُ كناية عن الأقلف، والغُلْفَةُ کالقلفة، وغَلَّفْتُ السّيفَ ، والقارورة، والرّحل، والسّرج : جعلت لها غِلَافاً ، وغَلَّفْتُ لحیته بالحنّاء، وتَغَلَّفَ نحو تخضّب، وقیل : قُلُوبُنا غُلْفٌ [ البقرة/ 88] ، هي جمع غِلَافٍ ، والأصل : غُلُفٌ بضمّ اللام، وقد قرئ به «3» ، نحو : كتب، أي : هي أوعية للعلم تنبيها أنّا لا نحتاج أن نتعلّم منك، فلنا غنية بما عندنا . ( غ ل ف ) آیت کریمہ : قُلُوبُنا غُلْفٌ [ البقرة/ 88] میں بعض نے کہا ہے کہ یہ یعنی ( غلف ) اغلف ) کی جمع ہے اور اغلف اس چیز کو کہتے ہیں جو غلاف میں بند ہو چناچہ سیف اغلف کے معنی ہیں تلوار جو غلاف یعنی نیام میں بند ہو اور غیر محنتوں لڑکے کو غلام اغلب کہا جاتا ہے اور جو چمڑہ ختم کرتے وقت کاٹ دیا جاتا ہے لمبے غللۃ کہتے ہیں ۔ غلفت السیف تلوار کو نیام میں بند کردیا غلقت القارورۃ شیشے کے اوپر غلاف چڑھا دیا غلقت الرحل اولسرج پالان یا زین پر چمڑا مڑھ دیا اسی طرح غلقت الحیۃ بالحناء کے معنی کسی کی داڑھی کو مہندی سے چھپا دینے کے ہیں اور تغلف ( تفعر ) بمعنی تخصب آتا ہے پس آیت کے معنی یہ ہیں کہ ہمارے دل غلافوں میں بند ہیں ( اس لئے قرآن کریم کی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آسکتیں لہذا یہ آیت کریمہ : ۔ قُلُوبُنا فِي أَكِنَّةٍ [ فصلت/ 5] اور فِي غَفْلَةٍ مِنْ هذا [ ق/ 22] کے ہم معنی ہوگی بعض نے کہا ہے کہ یہ ( غلف ) اصل میں غلف بضم اللام ہے جیسا کہ ایک قرات میں سے اور یہ اغلف کی نہیں بلکہ غلاف کی جمع ہے جیسا کہ کتاب کی جمع کتب آتی ہے اور آیت کے معنی یہ ہیں کہ ہمارے دل خود علوم ومعارف کے گنجینے اور مخزن ہیں اور ان علوم کی موجود گی میں ہم دوسروں کے علوم سے بےنیاز ہیں لہذا تم سے کیس قسم کے استفادہ کی ہمیں ضرورت نہیں ہے ۔ بل بَلْ كلمة للتدارک، وهو ضربان : - ضرب يناقض ما بعده ما قبله، لکن ربما يقصد به لتصحیح الحکم الذي بعده وإبطال ما قبله، وربما يقصد تصحیح الذي قبله وإبطال الثاني، فممّا قصد به تصحیح الثاني وإبطال الأول قوله تعالی: إِذا تُتْلى عَلَيْهِ آياتُنا قالَ أَساطِيرُ الْأَوَّلِينَ كَلَّا بَلْ رانَ عَلى قُلُوبِهِمْ ما کانوا يَكْسِبُونَ [ المطففین/ 13- 14] ، أي : ليس الأمر کما قالوا بل جهلوا، فنبّه بقوله : رانَ عَلى قُلُوبِهِمْ علی جهلهم، وعلی هذا قوله في قصة إبراهيم قالُوا أَأَنْتَ فَعَلْتَ هذا بِآلِهَتِنا يا إِبْراهِيمُ قالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هذا فَسْئَلُوهُمْ إِنْ كانُوا يَنْطِقُونَ [ الأنبیاء/ 62- 63] وممّا قصد به تصحیح الأول وإبطال الثاني قوله تعالی: فَأَمَّا الْإِنْسانُ إِذا مَا ابْتَلاهُ رَبُّهُ فَأَكْرَمَهُ وَنَعَّمَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَنِ وَأَمَّا إِذا مَا ابْتَلاهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَهانَنِ كَلَّا بَلْ لا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ [ الفجر/ 15- 17] . أي : ليس إعطاؤهم المال من الإکرام ولا منعهم من الإهانة، لکن جهلوا ذلک لوضعهم المال في غير موضعه، وعلی ذلک قوله تعالی: ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَشِقاقٍ [ ص/ 1- 2] ، فإنّه دلّ بقوله : وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ أنّ القرآن مقرّ للتذکر، وأن ليس امتناع الکفار من الإصغاء إليه أن ليس موضعا للذکر، بل لتعزّزهم ومشاقّتهم، وعلی هذا : ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ بَلْ عَجِبُوا [ ق/ 1- 2] ، أي : ليس امتناعهم من الإيمان بالقرآن أن لا مجد للقرآن، ولکن لجهلهم، ونبّه بقوله : بَلْ عَجِبُوا علی جهلهم، لأنّ التعجب من الشیء يقتضي الجهل بسببه، وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : ما غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ فِي أَيِّ صُورَةٍ ما شاء رَكَّبَكَ كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُونَ بِالدِّينِ [ الانفطار/ 6- 9] ، كأنه قيل : ليس هاهنا ما يقتضي أن يغرّهم به تعالی، ولکن تكذيبهم هو الذي حملهم علی ما ارتکبوه . - والضرب الثاني من «بل» : هو أن يكون مبيّنا للحکم الأول وزائدا عليه بما بعد «بل» ، نحو قوله تعالی: بَلْ قالُوا أَضْغاثُ أَحْلامٍ بَلِ افْتَراهُ بَلْ هُوَ شاعِرٌ [ الأنبیاء/ 5] ، فإنّه نبّه أنهم يقولون : أَضْغاثُ أَحْلامٍ بَلِ افْتَراهُ ، يزيدون علی ذلك أنّ الذي أتى به مفتری افتراه، بل يزيدون فيدّعون أنه كذّاب، فإنّ الشاعر في القرآن عبارة عن الکاذب بالطبع، وعلی هذا قوله تعالی: لَوْ يَعْلَمُ الَّذِينَ كَفَرُوا حِينَ لا يَكُفُّونَ عَنْ وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلا عَنْ ظُهُورِهِمْ وَلا هُمْ يُنْصَرُونَ بَلْ تَأْتِيهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ [ الأنبیاء/ 39- 40] ، أي : لو يعلمون ما هو زائد عن الأول وأعظم منه، وهو أن تأتيهم بغتة، و جمیع ما في القرآن من لفظ «بل» لا يخرج من أحد هذين الوجهين وإن دقّ الکلام في بعضه . بل ( حرف ) بل حرف استدراک ہے اور تدارک کی دو صورتیں ہیں ( 1) جبکہ بل کا مابعد اس کے ماقبل کی نقیض ہو تو اس صورت میں کبھی تو اس کے مابعد حکم کی تصیح سے ماقبل کی تردید مقصود ہوتی ہے & اور کبھی اس کے برعکس ماقبل کی تصیحح اور بابعدار کے ابطال کی غرض سے بل کو لایا جاتا ہے ۔ چناچہ پہلی صورت کے متعلق فرمایا ۔ إِذا تُتْلى عَلَيْهِ آياتُنا قالَ أَساطِيرُ الْأَوَّلِينَ كَلَّا بَلْ رانَ عَلى قُلُوبِهِمْ ما کانوا يَكْسِبُونَ [ المطففین/ 13- 14] جب اس کو بیماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہنا ہے یہ تو اگلے لوگوں کے افسانے ہیں دیکھو یہ جود اعمال بد کر رہے ہیں ان کا ان کے دلوں پر زنگ بیٹھ گیا ہے ۔ تو بل کا معنی یہ ہیں کہ آیات الہی کو اساطیر کہنا صحیح نہیں ہے بلکہ یہ ان کے جہالت ہے پھر ران علی قلوبھم کہہ کر ان کی جہالت پر تنبیہ کی ہے ۔ اسی طرح حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کے قصہ میں فرمایا : ۔ قالُوا أَأَنْتَ فَعَلْتَ هذا بِآلِهَتِنا يا إِبْراهِيمُ قالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هذا فَسْئَلُوهُمْ إِنْ كانُوا يَنْطِقُونَ [ الأنبیاء/ 62- 63] جب ابراہیم آئے تو ) توبت پرستوں نے کہا کہ ابرہیم بھلا یہ کام ہمارے معبودوں کے ساتھ تم نے کیا ہے ( ابراہیم نے کہا ) نہیں بلکہ یہ ان کے اس بڑے ربت نے کیا ہوگا اگر یہ بولتے ہوں تو ان سے پوچھ دیکھو ،۔ اور دوسری صورت میں ماقبل کی تصیحح اور مابعد کے ابطال کے متعلق فرمایا : ۔ فَأَمَّا الْإِنْسانُ إِذا مَا ابْتَلاهُ رَبُّهُ فَأَكْرَمَهُ وَنَعَّمَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَنِ وَأَمَّا إِذا مَا ابْتَلاهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَهانَنِ كَلَّا بَلْ لا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ [ الفجر/ 15- 17] . مگر انسان ( عجیب مخلوق ہے کہ ) جب اس کا پروردگار اس کو آزماتا ہے کہ اسے عزت دیتا اور نعمت بخشا ہے تو کہتا ہے کہ ( آہا ) میرے پروردگار نے مجھے عزت بخشی اور جب دوسری طرح آزماتا ہے کہ روزی تنگ کردیتا ہے تو کہتا ہے کہ ( ہائے ) میرے پروردگار نے مجھے ذلیل کیا نہیں بلکہ تم لوگ یتیم کی خاطر نہیں کرتے ۔ یعنی رزق کی فراخی یا تنگی اکرام یا اہانت کی دلیل نہیں ہے ( بلکہ یہ پروردگار کی طرف سے آزمائش ہے مگر لوگ اس حقیقت سے بیخبر ہیں کیونکہ یہ مال کو بیجا صرف کررہے ہیں اور اسی طرح آیت : ۔ ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَشِقاقٍ [ ص/ 1- 2] قسم ہے اس قرآن کی جو نصیحت دینے والا ہے کہ تم حق پر ہو ( مگر جو لوگ کافر ہیں وہ غرور اور مخالفت میں ہیں میں کہہ کر یہ ثابت کیا ہے کہ قرآن تذکرہ یعنی نصیحت حاصل کرنے کی کتاب ہے اور کفار کا اس کی طرف متوجہ نہ ہونا اس کی نفی نہیں کرتا بلکہ ان کا اعراض محض غرور اور مخالفت کی وجہ سے ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ أنّ القرآن مقرّ للتذکر، وأن ليس امتناع الکفار من الإصغاء إليه أن ليس موضعا للذکر، بل لتعزّزهم ومشاقّتهم، وعلی هذا : ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ بَلْ عَجِبُوا [ ق/ 1- 2] قرآن مجید کی قسم ( کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیغمبر ہیں ۔ لیکن ان لوگوں نے تعجب کیا ۔ بھی اسی معنی پر محمول ہے یعنی ان کا قرآن پر ایمان نہ لانا قرآن کے بزرگ ہونے کے منافی نہیں ہے بلکہ محض ان کی جہالت ہے بل عجبوا کہہ کر ان کی جہالت پر متنبہ کیا ہے کیونکہ کسی چیز پر اسی وقت تعجب ہوتا ہے جب اس کا سبب معلوم نہ ہو ۔ نیز فرمایا : ۔ ما غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ فِي أَيِّ صُورَةٍ ما شاء رَكَّبَكَ كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُونَ بِالدِّينِ [ الانفطار/ 6- 9] تجھ کو اپنے پروردگار کرم گستر کے باب میں کس چیز نے دہو کہ دیا ( وہی تو ہے ) جس نے تجھے بنایا اور ( تیرے اعضاء کو ) ٹھیک کیا ۔ اور ( تیرے قامت کو ) معتدل رکھا اور جس صورت میں چاہا جوڑ دیا ۔ مگر ہیبات تم لوگ جزا کو جھٹلاتے ہو ۔ یعنی رب کریم کے بارے میں کوئی چیز سوائے اس کے دھوکے میں ڈالنے والی نہیں ہے کہ وہ دین کو جھٹلا رہے ہیں ۔ (2 ) تدارک کی دوسری صورت یہ ہے کہ دوسری کلام کے ذریعہ پہلی کلام کے ذریعہ پہلی کلام کی وضاحت اور اس پر اضافہ مقصود ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ بَلْ قالُوا أَضْغاثُ أَحْلامٍ بَلِ افْتَراهُ بَلْ هُوَ شاعِرٌ [ الأنبیاء/ 5] بلکہ ( ظالم ) کہنے لگے کہ ( در قرآن ) پریشان ) باتیں ہیں جو ) خواب ) میں دیکھ لی ) ہیں ( نہیں بلکہ اس نے اس کو اپنی طرف سے بنالیا ہے ( نہیں ) بلکہ یہ ( شعر ہے ) جو اس شاعر کا نتیجہ طبع ) ہے ۔ یہاں متنبہ کیا ہے کہ والاد انہوں نے قرآن کو خیالات پریشان کیا پھر اس پر اضافہ کرکے اسے افترا بتلانے لگے پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ آپ کے متعلق ( نعوذ باللہ ) کذاب ہونے کا واعا کرنے لگے کیونکہ قران کی اصطلاح میں شاعر فطرۃ کاذب کو کہا جاتا ہے اور آیت : ۔ لَوْ يَعْلَمُ الَّذِينَ كَفَرُوا حِينَ لا يَكُفُّونَ عَنْ وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلا عَنْ ظُهُورِهِمْ وَلا هُمْ يُنْصَرُونَ بَلْ تَأْتِيهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ [ الأنبیاء/ 39- 40] اے کا ش کافر اس وقت کو جانیں جب وہ اپنے مونہوں پر سے ( دوزخ کی ) آگ کو روک نہ سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھوں پر سے اور نہ ان کا کوئی مدد گار ہوگا بلکہ قیامت ان پر ناگہاں آواقع ہوگی اور ان کے ہوش کھودے گی ۔ بھی اس معنی پر محمول ہے کہ کاش وہ اس کے علاوہ دوسری بات کو جانتے ہوتے جو پہلی بات سے زیادہ اہم ہے یعنی یہ کہ قیامت ان پر ناگہاں آواقع ہوگی ۔ قرآن میں جتنی جگہ بھی بل آیا ہے ان دونوں معنی میں سے کسی ایک پر دلالت کرتا ہے اگرچہ بعض مقامات ذرا وضاحت طلب ہیں اور ان کے پیچیدہ ہونے کی بنا پر بعض علمائے نحو نے غلطی سے کہدیا ہے کہ قرآن میں بل صرف معنی ثانی کیلئے استعمال ہوا ہے لعن اللَّعْنُ : الطّرد والإبعاد علی سبیل السّخط، وذلک من اللہ تعالیٰ في الآخرة عقوبة، وفي الدّنيا انقطاع من قبول رحمته وتوفیقه، ومن الإنسان دعاء علی غيره . قال تعالی: أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ [هود/ 18] ( ل ع ن ) اللعن ۔ کسی کو ناراضگی کی بنا پر اپنے سے دور کردینا اور دھتکار دینا ۔ خدا کی طرف سے کسی شخص پر لعنت سے مراد ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں تو اللہ کی رحمت اور توفیق سے اثر پذیر ہونے محروم ہوجائے اور آخرت عقوبت کا مستحق قرار پائے اور انسان کی طرف سے کسی پر لعنت بھیجنے کے معنی بد دعا کے ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ [هود/ 18] سن رکھو کہ ظالموں پر خدا کی لعنت ہے ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ قل القِلَّةُ والکثرة يستعملان في الأعداد، كما أنّ العظم والصّغر يستعملان في الأجسام، ثم يستعار کلّ واحد من الکثرة والعظم، ومن القلّة والصّغر للآخر . وقوله تعالی: ثُمَّ لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا[ الأحزاب/ 60] ( ق ل ل ) القلۃ والکثرۃ بلحاظ اصل وضع کے صفات عدد سے ہیں جیسا کہ عظم اور صغر صفات اجسام سے ہیں بعد کثرت وقلت اور عظم وصغڑ میں سے ہر ایک دوسرے کی جگہ بطور استعارہ استعمال ہونے لگا ہے اور آیت کریمہ ؛ثُمَّ لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا[ الأحزاب/ 60] پھر وہاں تمہارے پڑوس میں نہیں رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن ۔ میں قلیلا سے عرصہ قلیل مراد ہے ۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨٨) اور اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ جماعت یہود آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم اور فرمان کے متعلق یہ کہتی ہے کہ ہمارے دل ہر ایک علم کے نئے برتن ہیں اور ہمارے دل آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم اور فرمان کو محفوظ نہیں کرسکتے، ان کے کفر کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے دلوں پر مہر کردی ہے، ان میں سے بہت کم لوگ ایمان لاتے ہیں، ایک تفسیر یہ کی گئی ہے کہ نہ تھوڑی چیز پر ایمان لاتے ہیں اور نہ زیادہ پر۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨٨ (وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ ط) ان کے اس جواب کو آیت ٧٥ کے ساتھ ملایئے جو ہم پڑھ آئے ہیں۔ وہاں الفاظ آئے ہیں : (اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَکُمْ ) تو اے مسلمانو ! کیا تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ تمہاری بات مان لیں گے ؟ بعض مسلمانوں کی اس خواہش کے جواب میں یہود کا یہ قول نقل ہوا ہے کہ ہمارے دل تو غلافوں میں محفوظ ہیں ‘ تمہاری بات ہم پر اثر نہیں کرسکتی۔ اس طرح کے الفاظ آپ کو آج بھی سننے کو مل جائیں گے کہ ہمارے دل بڑے محفوظ ہیں ‘ بڑے مضبوط اور مستحکم ہیں ‘ تمہاری بات ان میں گھر کر ہی نہیں سکتی۔ (بَلْ لَّعَنَہُمُ اللّٰہُ بِکُفْرِہِمْ ) یہ ان کے اس قول پر تبصرہ ہے کہ ہمارے دل محفوظ ہیں اور غلافوں میں بند ہیں۔ (فَقَلِیْلاً مَّا یُؤْمِنُوْنَ )

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

94. They said, in effect, that they were so staunch in their beliefs that their convictions would remain unaffected regardless of what was said. Such a claim is the hallmark of those bigots whose minds are seized by irrational prejudice. Nothing can be a matter of greater shame for human beings than the so-called firmness of conviction which they often boast of. What can be more foolish than adherence to inherited beliefs and convictions when their falseness is established by overwhelmingly strong arguments? 95. Before the advent of the Prophet, the Jews were eagerly awaiting a Prophet whose coming had been prophesied by their own Prophets. In fact, the Jews used to pray for his advent so that the dominance of the unbelievers could come to an end and the age of their own dominance he ushered in. The people of Madina were witnesses to the fact that these same Jewish neighbours of theirs had yearned for the advent of such a Prophet. They often used to say: 'People may oppress us today as they wish, but when our awaited Prophet comes, we will settle our scores with our oppressors.' Since the people of Madina had themselves heard such statements they were inclined to embrace the religion of the Prophet all the more readily lest their Jewist neighbours supersede them in acquiring this honour. It was therefore astonishing for them to find that when the promised Prophet did appear those same Jews who had so eagerly looked forward to welcoming him turned into his greatest enemies. The statement 'and they recognized it' is confirmed by several contemporaneous events. The most authentic evidence in this connection is that of Safiyah, a wife of the Prophet, who was herself the daughter of one learned Jewish scholar (Huyayy b. Akhtab) and the niece of another (Abu Yasir) . She says that when the Prophet migrated to Madina both her father and uncle went to meet him and conversed with him for quite a while. When they returned home, she heard the following conversation: Uncle:Is he really the same Prophet whose advent has been prophesied in our Scriptures? Father: By God, he is. Uncle: Do you believe that? Father: Yes.. Uncle. Then what do you intend to do? Father: 1 will continue to oppose him and will not let his claim prevail as long as I live. (Ibn Hishim, Sirah, eds., Mustafa al-Saqqa' et al., 2 vols., II edition, Cairo, 137511955, see vol. 1, pp. 518 f. See also Ibn IshAq, The Life of Muhammad, tr. and notes by A. Guillaume, London, Oxford University Press, 1955, pp. 241 f. - Ed.)

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :94 یعنی ہم اپنے عقیدہ و خیال میں اتنے پختہ ہیں کہ تم خواہ کچھ کہو ، ہمارے دلوں پر تمہاری بات کا اثر نہ ہو گا ۔ یہ وہی بات ہے جو تمام ایسے ہٹ دھرم لوگ کہا کرتے ہیں جن کے دل و دماغ پر جاہلانہ تعصّب کا تسلّط ہوتا ہے ۔ وہ اسے عقیدے کی مضبوطی کا نام دے کر ایک خوبی شمار کرتے ہیں ، حالانکہ اس سے بڑھ کر آدمی کے لیے کوئی عیب نہیں ہے کہ وہ اپنے موروثی عقائد و افکار پر جم جانے کا فیصلہ کر لے ، خواہ ان کا غلط ہونا کیسے ہی قوی دلائل سے ثابت کر دیا جائے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

60: ان کے اس جملے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی شیخی بگھارتے تھے کہ ہمارے دلوں پر ایک حفاظتی غلاف ہے جس کی وجہ سے کوئی غلط بات ہمارے دلوں میں گھر نہیں کرسکتی اور یہ مطلب بھی ممکن ہے کہ وہ مسلمانوں کو اپنے آپ سے مایوس کرنے کے لئے طنزاً یہ کہتے تھے کہ آپ تو بس یہ سمجھ لو کہ ہمارے دلوں پر غلاف چڑھا ہوا ہے اور ہمیں اسلام کی دعوت دینے کی فکر میں نہ پڑو۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

سورة حم السجدہ میں یہود کے اس قول کی طرح اہل مکہ کا قول اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے { وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْ اَکِنَّۃٍ مِمَّا تَدْعُوْنَنَا اِلَیْہِ وَ ِفْی آذَانِنَا وَقْرٌ وَّمِنْ بَیْنِنَا وَبَیْنِکَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عَامِلُوْنَ } ( ٤١: ٥) جس کا مطلب یہ ہے کہ اے محمد تم اپنے دین پر رہو ہم اپنے دین پر رہیں گے کیونکہ غیر دین کی بات نہ ہمارے دل سمجھ سکتے ہی نہ ہمارے کان سن سکتے ہیں۔ نہ ہم میں اور غیر دین میں جو پردہ حائل ہے وہ اٹھ سکتا ہے۔ حاصل مطلب ان دونوں قولوں کا یہ ہے کہ غیر دین کی بات ہم پر کسی طرح اثر نہیں کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کے قول کا تو یہ جواب دیا کہ یہ لوگ عقبیٰ کے منکر ہیں۔ اس سبب سے ایسی باتیں کرتے ہیں۔ اور یہاں یہود کے اس قول کا جو جواب اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ یہ اہل کتاب اور عقبیٰ کے قائل ہو کر جو منکرین حشر کی سی باتیں کرتے ہیں تو ان پر خدا کی لعنت اور پھٹکار کا اثر یہ ہے کہ اہل مکہ کی تو ایک جماعت راہ راست پر آگئی ہے اور ان میں سے ابھی تھوڑے سے لوگ راہ راست پر آئے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

غلف جمع اغلف واحد۔ اغلف اس چیز کو کہتے ہیں جو غلاف میں بند ہو۔ چناچہ غلفت السیف کے معنی ہیں، میں نے تلوار کو نیام میں بند کردیا۔ مطلب یہ کہ ہمارے دل غلافوں میں بند ہیں اس لئے قرآن مجید کی باتیں ہمارے تک نہیں پہنچ سکتیں۔ بعض کے نزدیک غلف اصل میں غلف تھا۔ لام کے صیغہ کو تخفیفاً ساقط کردیا گیا اور یہ غلاف کی جمع ہے جیسے کتاب کی جمع کتب ہے۔ غلاف کے معنی مخزن ہیں۔ اس صورت میں آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ ہمارے دل خود ہی علوم و معارف کے گنجینے اور مخزن ہیں لہٰذا ہمیں دوسروں کے علوم سے استفادہ کی ضرورت نہیں۔ بل حرف اضراب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حقیقت یہ نہیں ہے کہ ان کے دل غلافوں کے اندر بند ہیں ۔ یا وہ علوم و معارف کے خزانے ہیں۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ خدا نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کر رکھی ہے۔ بل کے متعلق ملاحظہ ہو (2:135) فقلیلا۔ میں فاء سببیہ ہے۔ قلیلا منصوب ہے اس لئے کہ یہ صفت ہے مفعول مطلق محذوف ایمانا کی اور ما زائدہ ہے ۔ ای فایمانا قلیلا یؤمنون ۔ پس یہ تھوڑے ہی پر ایمان لاتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 یہود کہا کرتے ہمارے دلوں پر غلاف ہیں یعنی تمہاری کوئی بات ہم پر اثر نہیں کرتی جیسا کہ دوسرے مقام پر ہے قلوبنا فی اکند مما تد عونا الیہ یعنی جو دعوت دیتے ہو اس سے ہمارے دل پر دہ میں ہیں) اما احمد جنبل نے مر فو عا ذکر کیا ہے ہے اور حضرت حذیفہ سے موقوفا مردی ہے کہ دل چار قسم کے کے ہیں ان سے ایک دل اغلف ہے یعنی کافر کا دل جس پر مہر لگادی گئی ہے اور ہو حق سے متاثر نہیں ہوتا بعض علمائے تفسیر نے غلف کے یہ معنی کیے ہیں کہ ہمارے دل علم و حکمت سے پر ہیں کسی دوسرے علم کی ان میں گنجائش نہیں ہے۔ اس پر قرآن نے فرمایا ہے کہ حق سے متاثر نہ ہونا فخر کی بات نہیں ہے یہ تو اللہ تعالیٰ کی لعنت کی علامت ہے (ابن کثیر)4 یعنی ان کے دلوں پر کفر غالب ہے اور ایمان ہے بھی تو بہت کمزور اور نہایت قلیل پس قلیلا مسدر مخدوف کی صفت ہے لایومنون الا ایمانا قلہلا۔ (قرطبی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہاں آکر قرآن کریم کا انداز بیان عنیف وشدید ہوجاتا ہے اور بعض مقامات پر تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا بجلی گررہی ہے یا آگ برس رہی ہے ۔ قرآن کریم ، کود ان کے اقوال اور ان کے تاریخی افعال میں ان کے سامنے رکھ کر ، انہیں اس طرح آڑے ہاتھوں لیتا ہے کہ بیچارے بالکل لاجواب ہوجاتے ہیں ۔ ان کے پاس کوئی حجت نہیں رہتی ۔ نہ ہی وہ کوئی معذرت پیش کرسکتے ہیں ۔ درحقیقت تو وہ ازروئے استکبار سچائی قبول کرنے سے اعراض کرتے تھے ۔ ان کے دلوں میں اسلام کے خلاف بغض بھرا ہوا تھا ، وہ مسلمانوں کو حقیر سمجھ کر ان سے دوری اختیار کئے ہوئے تھے ، انہیں یہ بات بےحد پسند تھی کہ ان کے علاوہ کوئی بھی یہ مقام بلند پائے اور ان کے دلوں کو یہ حسد کھائے جارہا تھا کہ اللہ کا یہ فضل وکرم مسلمانوں پر کیوں ہورہا ہے ؟ لیکن لوگوں کو دکھانے کی خاطر اسلام قبول کرنے کی مذکورہ بالاوجوہات بیان کرتے تھے ۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے سختی سے ردّ کردیا کیونکہ اللہ اور رسول کے مقابلے میں ان کے منکرانہ اور متمرادانہ موقف کا یہی علاج تھا۔ وَقَالُوا قُلُوبُنَا غُلْفٌ بَلْ لَعَنَهُمُ اللَّهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِيلا مَا يُؤْمِنُونَ ” اور وہ کہتے ہیں کہ ” ہمارے دل محفوظ ہیں۔ “ اصل بات یہ ہے کہ ان کے کفر کی وجہ سے ان پر اللہ کی پھٹکار پڑی ہے ۔ اس لئے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔ “ وہ کہتے تھے کہ ہمارے دلوں کے اوپر غلاف چڑھے ہوئے ہیں ۔ ان تک کوئی جدید دعوت نہیں پہنچ سکتی ۔ نہ ہی کسی نئے داعی کی پکار سننے کے لئے تیار ہیں ۔ یہ بات وہ اس لئے کہتے تھے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو مایوس کردیں تاکہ وہ انہیں اس دین جدید کی طرف بلانا ہی چھوڑ دیں ، نیز وہ یہ باتیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت قبول نہ کرنے کی علت کے طور پر کہتے تھے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ ان کی ان باتوں کو رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ بَلْ لَعَنَهُمُ اللَّهُ بِكُفْرِهِمْ ” بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ان کے کفر کی وجہ سے ان اللہ کی پھٹکار پڑی ہے۔ “ یعنی ان کے مسلسل انکار کی وجہ سے اللہ نے انہیں بطور سزا ہدایت سے بہرہور ہونے سے محروم کردیا اور اس روشنی کے درمیان پردے حائل ہوگئے ۔ فَقَلِيلا مَا يُؤْمِنُونَ ” اس لئے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں ۔ “ یعنی چونکہ اپنے مسلسل کفر اور قدیم گمراہی کی وجہ سے وہ راہ حق سے دور جاپڑے ہیں ۔ اور اللہ نے بطور سزا انہیں محروم بھی کردیا ہے ۔ اس لئے وہ ہم ہی ایمان لاتے ہیں ۔ نیز اس آیت کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے ۔” چونکہ وہ کافرانہ روش اختیار کئے ہوئے ہیں ، اس لئے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔ “ یعنی یہ ان کی مستقل روش ہے جس پر وہ قائم ہیں ۔ دونوں مفہوم سیاق کلام سے مناسبت رکھتے ہیں ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

یہودیوں کا کہنا کہ ہمارے دلوں پر غلاف ہیں، اور اس کی تردید یہودی اسلام کو قبول نہیں کرتے تھے اور خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان نہیں لاتے تھے آپ کی سچائی کی علامات اور معجزات دیکھ کر بھی منحرف تھے اور اس گمراہی کو اپنے لیے کمال اور باعث فخر سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم ایمان لانے والے نہیں ہیں ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں اور پردے پڑے ہوئے ہیں کسی کی بات ہمارے دلوں میں اثر نہیں کرسکتی اور اپنے دین کے علاوہ ہم کوئی دوسرا دین قبول نہیں کرسکتے، اللہ تعالیٰ شانہ، نے ان کی تردید فرمائی۔ کہ یہ بات کو سنتے اور سمجھتے ہیں اور حق بھی جانتے ہیں لیکن حق سے ان کو تنفر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ملعون قرار دیدیا ہے لعنت اور پھٹکار میں گرفتار ہیں دلوں پر پردے اور غلاف کچھ نہیں کفر کی پھٹکار اور لعنت کے سبب ایمان سے محرومی ہے۔ سورة مائدہ میں فرمایا کہ (بَلْ طَبَعَ اللّٰہُ عَلَیْھَا بِکُفْرِھِمْ ) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر مار دی۔ غرض یہ ہے کہ کفر میں ان کی پختگی لعنت اور پھٹکار اور دلوں پر مہر لگ جانے کے سبب سے ہے جس پر وہ فخر کر رہے ہیں قبحھم اللّٰہ۔ یہ جو فرمایا کہ بہت کم ایمان لاتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر اور آخرت پر ایمان لاتے ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں بھی تھا لیکن تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) پر ایمان لانے کا جو حکم دیا گیا تھا جن میں حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی بھی ہے اس سے منکر ہوگئے۔ ایک نبی کی تکذیب بھی کفر ہے تھوڑا سا ایمان آخرت میں کام نہیں دے گا۔ بعض مفسرین نے (فَقَلِیْلاً مَّا یُؤْمِنُوْنَ ) کا یہ معنی بھی بتایا ہے کہ ان میں سے بہت کم لوگ ہوں گے جو ایمان لائیں گے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

174 یہ نوع رابع کا تتمہ ہے اور موجودہ یہودیوں کا مقولہ ہے۔ غلف اغلف کی جمع اور اغلف اسے کہتے ہیں جس پر غلاف چڑھا ہوا ہو۔ مطلب یہ کہ ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے تمہاری دعوت اور وعظ وتبلیغ کا اثر ان تک نہیں پہنچ سکتا۔ حضرت ابن عباس کی قرائت میں یہ لفظ غلف ہے جو غلاف کی جمع ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ہمارے دل تو پہلے ہی سے علم و حکمت سے بھرے ہوئے ہیں۔ ہمیں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کے علوم کی ضرورت نہیں۔ قال ابن عباس ای قلوبنا ممتلئۃ علما لا تحتاج الی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ولا غیرہ (قرطبی ص 25 ج 1) بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِھِمْ ۔ بَل اضراب کے لیے ہے یعنی ایمان سے ان کی نفرت کی وجہ وہ نہیں جو انہوں نے بیان کی ہے بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ ان کے مسلسل انکار اور ضد وعناد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں راندہ درگاہ کردیا ہے۔ انہیں اپنی رحمت سے دور کر کے ان سے ایمان کی توفیق چھین لی ہے۔ اس سے مراد مہر جباریت ہے فَقَلِيْلًا مَّا يُؤْمِنُوْنَ ۔ قلیلاً مفعول مطلق محذوف کی صفت ہے۔ اور مَا معنی قلت کی تاکید کیلئے ہے (روح ص 319 ج 1) مطلب یہ ہے کہ وہ بہت ہی تھوڑا ایمان لاتے ہیں۔ اس تھوڑے سے ایمان سے مراد وہ ایمان ہے جو وہ بعض چیزوں پر لاتے ہیں جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے افتؤمنون ببعض الکتب وتکفرون ببعض۔ یا یہاں قلت عدم پر محمول ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ ملعون ومقہور ہونے کی وجہ سے وہ ذرا ایمان نہیں لائیں گے۔ معناہ لا یؤمنون اصلا لا قلیلاولا کثیر الا کبیر ص 514 ج) نوع خامس نوع رابع میں یہودیوں کے اسلاف کی کج روی اور سنگدلی کا نمونہ پیش کیا گیا کہ انبیائ (علیہم السلام) کی تلقین وتبلیغ معجزات انبیائ (علیہم السلام) اور تورات وانجیل کی آیات بینات کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔ اب یہاں موجودہ یہودیوں کی کج روی اور شرارت کا ذکر ہے ج وا س سے بھی بڑھ کر ہے کیونکہ رشد وہدایت کے مذکورہ دلائل اور افہام و تفہیم کے معتبر ذرائع کی موجودگی میں کفر و انکار کے ساتھ ساتھ ان کے خبث باطن کا یہ حال ہے کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ظہور اور قرآن کے نزول سے قبل یہ لوگ ان دونوں کو مانتے تھے مگر جب ان کی جانی پہچانی ہوئی یہ چیزیں سامنے آئیں تو بغض وحسد، اور ضدوعناد کی وجہ سے دونوں کا انکار کردیا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 4 اور وہ یہودی کہتے ہیں کہ ہمارے دل بالکل محفوظ ہیں کہ اس میں کوئی دوسری بات داخل ہی نہیں ہوسکتی۔ یہ بات نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہود پر ا ن کے کفر کی وجہ سے لعنت کردی ہے اور ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے سو وہ بہت ہی تھوڑا ایمان رکھتے ہیں (تیسیر) یہود کا یہ قول یا تو بطور عذر تھا کہ ہم کیا کریں ہمارے دل پر تو پردے پڑے ہوئے ہیں۔ تمہاری باتیں ہمارے دل میں جگہ نہیں کرتیں اور یا وہ دلیل کے طور پر کہتے ہوں کہ مسلمانو ! تمہاری باتیں ہم پر کیا اثر کرسکتی ہیں ہمارے دل تو ہر طرح محفوظ ہیں اور ہوسکتا ہے کہ ان کا یہ قول بطور تفاخر ہو کہ ہمارے دل تو علوم و حقائق سے لبریز ہیں اور اب ان میں سے کسی دوسری بات کی گنجائش ہی کہاں ہے ۔ صاحب کشاف نے کہا اغلف اس شخص کو کہتے ہیں جو غیر مختون ہو۔ ہم نے اس لئے ترجمہ محفوظ کے ساتھ کیا ہے۔ یہ یہود کا ایک خاص محاورہ تھا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے اعتقاد میں بڑے مضبوط اور پختہ ہیں ہم پر تمہارے مذہب کی کوئی بات اثر انداز نہیں ہوسکتی ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں اور ان پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں اور وہ بالکل لبریز اور پر ہیں۔ سورہ فصلت میں ارشاد ہے۔ وقالوا قلوبنا فی اکنۃ مما تدعونا الیہ۔ یعنی اے پیغمبر ! جس کی طرف تو ہم کو بلاتا ہے اس سے ہمارے دلوں کے غلاف اور پردے روک بنے ہوئے ہیں۔ ان کے اس لغو قول کا جواب فرماتے ہیں کہ اس محرومی اور حرمان نصیبی کا وہ سبب نہیں ہے جو یہ بیان کرتے ہیں بلکہ اس کا سبب وہ لغنت ہے جو ان کے کفر کی وجہ سے اللہ نے ان پر کی ہے۔ لعنت کے معنی ہیں ہٹا دینا اور دور کردینا۔ یہاں مقصد یہ ہے کہ ہر خیر سے ان کو دھکے دے دیئے گئے ہیں اور حضرت حق نے ان کو اپنی رحمت سے محروم کردیا اور چونکہ اسلام پر ایمان لانا اور نبی رحمت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کرنا خدا کا بڑا انعام اور اس کی بڑی رحمت ہے اس لئے یہ راندئہ درگاہ الٰہی اس رحمت سے محروم ہیں اور یہ رحمت سے دوری اور پھٹکار ان پر ابتداء نہیں ہوئی بلکہ ان ہی کے کفر اور نافرمانی کی وجہ سے ان کے استھ یہ سلوک کیا گیا۔ تھوڑے ایمان کا یہ مطلب کہ اسلام کے وہ معتقدات جو شریعت موسوی میں بھی مذکور ہیں ان کو تو مانتے ہیں لیکن باقی شریعت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہیں مانتے یا یہ کہ جو موسیٰ (علیہ السلام) لائے ہیں اس کو مانتے ہیں اور جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لائے ہیں اس کو نہیں مانتے اور شریعت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انکار یا بعض کا اقرار اور بعض کا انکار کفر ہے۔ قلوب کا ملعون ہونا بھی امراض باطنیہ کے درجوں میں سے ایک سخت خطرناک درجہ ہے جس کے بعد مریض کی صحت کا امکان باقی نہیں رہتا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یہودی اپنی تعریف میں کہتے تھے کہ ہمارے دل پر غلاف ہے ۔ یعنی رسواء اپنے دین کی بات کے کسی کی بات ہم کو اثر نہیں کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حق بات اثر نہ کرے یہ نشان ہے لعنت کا ۔ (موضح القرآن) حضرت شاہ صاحب نے ایک بہت لطیف اشارہ فرمایا یعنی اثر نہ کرنے کے بھی دو مطلب ہیں اگر باطل اور بری بات اثر نہ کرے تو یہ بات اچھی ہے، لیکن اگر کسی بدقسمت پر اچھی بات اور حق بات اثر نہ کرے تو سمجھو کہ یہ خدا کی لعنت کا اثر ہے۔ تھوڑے سے ایمان رکھنے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ لوگ حضرت مسویٰ کی کتاب پر بھی پورا ایمان نہیں رکھتے ورنہ اس کتاب میں تو نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق پیشین گوئیاں بھی ہیں۔ اگر یہ اپنی ہی کتاب پر پورا ایمان رکھتے ہوتے اور پوری کتاب مانتے تو نبی امی پر ایمان لے آتے۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ بدنصیب تمام باتیں اپنے دین کو بھی نہیں مانتے اور تمہارے دین کے تو منکر ہی ہیں۔ حضرت ابو سعید خدری (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ قلب کی چار قسمیں ہیں۔ ایک تو صاف کہ اس میں چراغ روشن ہے اور وہ چراغ چمک رہا ہے۔ یہ دل تو مئومن کا دل ہے۔ جس میں ایمان کا چراغ روشن و درخشاں ہے۔ دوسرا قلب وہ ہے جس پر غلاف چڑھا ہوا ہے اور غلاف کا منہ بندھا ہوا ہے یہ کافر دل ہے تیسرا قلب وہ ہے جو اوندھا ہے یہ منافق کا دل ہے۔ چوتھا قلب دورنگی ہے کہ اس کا ایک حصہ سیاہ اور ایک حصہ سفید ہے یہ دل اس منافق کا ہے جس میں ایمان بھی اور کفر بھی کبھی یہ رگن اختیار کرتا ہے اور کبھی وہ رنگ اس دل میں ایمان و نفاق دونوں جمع ہیں۔ مسند احمد بن حنبل مختصراً (تسہیل)