The root of this word, its grammatical form, and every other place in the Quran where the same root is used - with each of those verses one click away.
اصل میں اَلْمَرَجُ کے معنی خلط ملط کرنے اور ملادینے کے ہیں اور اَلْمُرُوْجُ کے معنی اختلاط اور مل جانے کے۔ مَرِجَ اَمْرُھُمْ : ان کا معاملہ ملتبس ہوگیا۔ مَرِجَ الْخَاتَمُ فِیْ اَصْبُعِیْ :انگوٹھی ۔ اَمْرُ مَرِیْحُ گڈمڈ اور پیچیدہ معاملہ ۔ غُصْنٌ مَّرِیْجٌ: باہم گتھی ہوئی ٹہنی۔ قرآن پاک میں ہے: (فھم فی امر مریج) (سو یہ ) ایک غیر واضح معاملہ میں ہیں۔اَلْمَرْجَانُ: مونگا۔ چھوٹا موتی۔ قرآن پاک میں ہے: (کَاَنَّہُنَّ الۡیَاقُوۡتُ وَ الۡمَرۡجَانُ ) (۵۵۔۵۸) اور آیت کریمہ: (مَرَجَ الۡبَحۡرَیۡنِ یَلۡتَقِیٰنِ) (۵۵۔۱۹) اس نے دو دریا رواں کے جو آپس میں ملتے ہیں۔ میں مَرَجٌ کا لفظ مَرَج (1) کے محاورہ سے ماخوذ ہے اور جس زمین میں گھاس بکثرت ہو اور جانور اس میں مگن ہوکر چرتے رہیں اسے مَرَجٌ کہا جاتا ہے۔ اور آیت کریمہ: (مَّارِجٍ مِّنْ نَّارِ) (۵۵۔۱۵) آگ کے شعلے سے۔ میں مَارِجٌ کے معنی آگ کے (دھوئیں سے) مخلوط شعلے کے ہیں۔اَمْرَجْتُ الدَّابَّۃَ فِیْ الْمَرْعٰی: میں نے جانور کو چراگاہ میں کھلا چھوڑ دیا چنانچہ وہ آزادی سے چرتا رہا۔