Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 36

سورة آل عمران

فَلَمَّا وَضَعَتۡہَا قَالَتۡ رَبِّ اِنِّیۡ وَضَعۡتُہَاۤ اُنۡثٰی ؕ وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا وَضَعَتۡ ؕ وَ لَیۡسَ الذَّکَرُ کَالۡاُنۡثٰی ۚ وَ اِنِّیۡ سَمَّیۡتُہَا مَرۡیَمَ وَ اِنِّیۡۤ اُعِیۡذُہَا بِکَ وَ ذُرِّیَّتَہَا مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ ﴿۳۶﴾

But when she delivered her, she said, "My Lord, I have delivered a female." And Allah was most knowing of what she delivered, "And the male is not like the female. And I have named her Mary, and I seek refuge for her in You and [for] her descendants from Satan, the expelled [from the mercy of Allah ]."

جب بچی کو جنا تو کہنے لگیں اے پروردگار! مجھے تو لڑکی ہوئی ہے اللہ تعالٰی کو خوب معلوم ہے کہ کیا اولاد ہوئی ہے اور لڑکا لڑکی جیسا نہیں میں نے اس کا نام مریم رکھا میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنثَى وَاللّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ ... Then when she gave birth to her, she said: "O my Lord! I have given birth to a female child, ـ and Allah knew better what she bore. ... وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالاُنثَى ... And the male is not like the female, in strength and the commitment to worship Allah and serve the Masjid in Jerusalem. ... وَإِنِّي سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ ... And I have named her Maryam, thus, testifying to the fact that it is allowed to give a name to the newly born the day it is born, as is apparent from the Ayah, which is also a part of the law of those who were before us. Further, the Sunnah of the Messenger of Allah mentioned that the Prophet said, وُلِدَ لِيَ اللَّيْلَةَ وَلَدٌ سَمَّيْتُهُ بِاسْمِ أَبِي إِبْرَاهِيم This night, a son was born for me and I called him by my father's name, Ibrahim. Al-Bukhari and Muslim collected this Hadith. They also recorded that; Anas bin Malik brought his newborn brother to the Messenger of Allah who chewed a piece of date and put it in the child's mouth and called him Abdullah. Other new born infants were also given names on the day they were born. Qatadah narrated that Al-Hasan Al-Basri said, that Samurah bin Jundub said that the Messenger of Allah said, كُلُّ غُلَمٍ رَهِينٌ بِعَقِيقَتِهِ يُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ وَيُسَمَّى وَيُحْلَقُ رَأَسُه Every new born boy held in security by his Aqiqah, until his seventh day, a sacrifice is offered on his behalf, he is given a name, and the hair on his head is shaved. This Hadith was collected by Ahmad and the collectors of the Sunan, and was graded Sahih by At-Tirmidhi. We should mention that another narration for this Hadith contained the wording, "and blood is offered on his behalf," which is more famous and established than the former narration, and Allah knows best. Allah's statement that Maryam's mother said, ... وِإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ "...And I seek refuge with You for her and for her offspring from Shaytan, the outcast." means, that she sought refuge with Allah from the evil of Shaytan, for her and her offspring, i.e., `Isa, peace be upon him. Allah accepted her supplication, for Abdur-Razzaq recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah said, مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلاَّ مَسَّهُ الشَّيْطَانُ حِينَ يُولَدُ فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسِّهِ إِيَّاهُ إِلاَّ مَرْيَمَ وَابْنَهَا Every newly born baby is touched by Shaytan when it is born, and the baby starts crying because of this touch, except Maryam and her son. Abu Hurayrah then said, "Read if you will, وِإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ (And I seek refuge with You for her and for her offspring from Shaytan, the outcast)." The Two Sahihs recorded this Hadith.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

36۔ 1 اس جملے میں حسرت کا اظہار بھی ہے اور عذر کا بھی۔ حسرت اس طرح کہ میری امید کے برعکس لڑکی ہوئی ہے اور عذر اس طرح کہ نذر سے مقصود تو تیری رضا کے لئے ایک خدمت گار وقف کرنا تھا اور یہ کام ایک مرد ہی زیادہ بہتر طریقے سے کرسکتا تھا۔ اب جو کچھ بھی ہے تو اسے جانتا ہے (فتح القدیر) 36۔ 2 حافظ ابن کثیر نے اس سے اور حدیث نبوی سے استدلال کرتے ہوئے لکھا ہے بچے کا نام ولادت کے پہلے روز رکھنا چاہیے اور ساتویں دن نام رکھنے والی حدیث کو ضعیف قرار دے دیا۔ لیکن حافظ ابن القیم نے تمام احادیث پر بحث کر کے آخر میں لکھا ہے کہ پہلے روز، تیسرے روز یا ساتویں روز نام رکھا جاسکتا ہے، اس مسئلے میں گنجائش ہے۔ 36۔ 3 اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی چناچہ حدیث صحیح میں ہے کہ جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے تو شیطان اس کو مس کرتا ہے (چھوتا) ہے۔ جس سے وہ چیختا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس مس شیطان سے حضرت مریم (علیہا السلام) کو اور ان کے بیٹے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کو محفوظ رکھا (صحیح بخاری، کتاب التفسیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٧] حضرت مریم کی والدہ نے جو منت مانی تھی وہ اس توقع سے مانی تھی کہ ان کے ہاں لڑکا پیدا ہوگا۔ کیونکہ اس عہد میں لڑکے تو اللہ کی عبادت کے لیے وقف کئے جاتے تھے۔ مگر لڑکیوں کو وقف کرنے کا رواج نہ تھا۔ مگر ہوا یہ کہ لڑکے کی بجائے لڑکی پیدا ہوئی تو انہیں اس بات پر افسوس ہونا ایک فطری امر تھا۔ اس آیت میں محرر کا لفظ آیا ہے۔ جس کا لغوی معنی & آزاد کردہ & ہے یعنی ایسا بچہ جسے والدین نے تمام ذمہ داریوں سے سبکدوش کردیا ہو تاکہ وہ یکسو ہو کر اللہ کی عبادت کرسکے۔ یہود میں دستور تھا کہ وہ اس طرح کے منت مانے ہوئے وقف شدہ بچوں کو بیت المقدس یا ہیکل سلیمانی میں چھوڑ جاتے اور انہیں ہیکل سلیمانی یا عبادت خانہ کے منتظمین جنہیں وہ اپنی زبان میں کاہن کہتے تھے، کے سپرد کر آتے تھے۔ [٣٨] یہ بطور جملہ معترضہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کو یہ کہہ کر تسلی دی ہے کہ یہ لڑکی لڑکے سے بدرجہا افضل ہے۔ حتیٰ کہ کوئی بھی لڑکا اس لڑکی کے جوڑ کا نہیں۔ لہذا افسوس کرنے کی کوئی بات نہیں۔ [٣٩] حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : & جو بچہ پیدا ہوتا ہے اس کی پیدائش کے وقت شیطان اسے چھوتا ہے تو وہ چلا کر رونے لگتا ہے۔ صرف مریم اور اس کے بیٹے (حضرت عیسیٰ ) کو شیطان نے نہیں چھوا۔ (بخاری، کتاب التفسیر، زیر آیت مذکورہ) اس حدیث سے حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ دونوں کی فضیلت ثابت ہوئی۔ نیز یہ کہ حضرت مریم کی دعا کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لیا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰى ۚ: بظاہر تو کہنا چاہیے تھا کہ لڑکی لڑکے جیسی نہیں، مگر الٹ فرمایا، یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ لڑکا جو عمران کی بیوی کے ذہن میں تھا، اس لڑکی جیسا نہیں ہوسکتا جو انھیں عطا کی گئی۔ ” الذَّكَرُ ‘ اور ” كَالْاُنْثٰى“ میں الف لام عہد ذہنی کا ہے۔ وَاِنِّىْ سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ : اس سے معلوم ہوا کہ پیدائش کے ساتھ ہی نام رکھا جاسکتا ہے، ساتویں دن کا انتظار ضروری نہیں، بلکہ ساتواں دن نام رکھنے کی آخری حد ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” آج رات میرے گھر بچہ پیدا ہوا ہے اور میں نے اپنے باپ ( ابراہیم (علیہ السلام ) کے نام پر اس کا نام رکھا ہے۔ “ [ مسلم، الفضائل، باب رحمتہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الصبیان ۔۔ : ٢٣١٥، عن أنس (رض) ] وَاِنِّىْٓ اُعِيْذُھَابِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ : چناچہ یہ دعا قبول ہوئی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہر بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو شیطان اسے چھوتا ہے، شیطان کے اسے چھونے کی وجہ سے وہ چیخ کر رونے لگتا ہے، مگر مریم اور اس کا بیٹا۔ “ [ بخاری، التفسیر، باب قول اللہ تعالیٰ : ( واذکر فی الکتاب مریم ۔۔ ) : ٣٤٣١، عن أبی ہریرۃ (رض) ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَلَمَّا وَضَعَتْہَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّىْ وَضَعْتُہَآ اُنْثٰى۝ ٠ ۭ وَاللہُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ۝ ٠ ۭ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰى۝ ٠ ۚ وَاِنِّىْ سَمَّيْتُہَا مَرْيَمَ وَاِنِّىْٓ اُعِيْذُھَا بِكَ وَذُرِّيَّــتَہَا مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۝ ٣٦ لَمَّا يستعمل علی وجهين : أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر . ( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔ اور کبھی یہ اسم ظرف ک طورپر استعمال ہوتا ہے ۔ اور یہ قرآن میں بکژت آیا ہے ۔ جیسے فرمایا : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] جب خوشخبری دینے والا آپہنچا۔ وضع الوَضْعُ أعمّ من الحطّ ، ومنه : المَوْضِعُ. قال تعالی: يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَواضِعِهِ [ النساء/ 46] ويقال ذلک في الحمل والحمل، ويقال : وَضَعَتِ الحملَ فهو مَوْضُوعٌ. قال تعالی: وَأَكْوابٌ مَوْضُوعَةٌ [ الغاشية/ 14] ، وَالْأَرْضَ وَضَعَها لِلْأَنامِ [ الرحمن/ 10] فهذا الوَضْعُ عبارة عن الإيجاد والخلق، ووَضَعَتِ المرأةُ الحمل وَضْعاً. قال تعالی: فَلَمَّا وَضَعَتْها قالَتْ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُها أُنْثى وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِما وَضَعَتْ [ آل عمران/ 36] فأما الوُضْعُ والتُّضْعُ فأن تحمل في آخر طهرها في مقبل الحیض . ووَضْعُ البیتِ : بناؤُهُ. قال اللہ تعالی: إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 96] ، وَوُضِعَ الْكِتابُ [ الكهف/ 49] هو إبراز أعمال العباد نحو قوله : وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيامَةِ كِتاباً يَلْقاهُ مَنْشُوراً [ الإسراء/ 13] ووَضَعَتِ الدابَّةُ تَضَعُ في سيرها وَضْعاً : أسرعت، ودابّة حسنةُ المَوْضُوعِ ، وأَوْضَعْتُهَا : حملتها علی الإسراع . قال اللہ عزّ وجلّ : وَلَأَوْضَعُوا خِلالَكُمْ [ التوبة/ 47] والوَضْعُ في السیر استعارة کقولهم : ألقی باعه وثقله، ونحو ذلك، والوَضِيعَةُ : الحطیطةُ من رأس المال، وقد وُضِعَ الرّجلُ في تجارته يُوضَعُ : إذا خسر، ورجل وَضِيعٌ بيّن الضعَةِ في مقابلة رفیع بيّن الرّفعة . ( و ض ع ) الواضع ( نیچے رکھ دینا ) یہ حطه سے عام ہے ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَأَكْوابٌ مَوْضُوعَةٌ [ الغاشية/ 14] اور آبخورے ( قرینے سے ) رکھے ہوئے ۔ اور اسی سے موضع ہے جس کی جمع مواضع آتی ہے جس کے معنی ہیں جگہیں یا موقعے جیسے فرمایا : ۔ يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَواضِعِهِ [ النساء/ 46] یہ لوگ کلمات ( کتاب ) کو ان کے مقامات سے بدل دیتے ۔ اور وضع کا لفظ وضع حمل اور بوجھ اتارنے کے معنی میں آتا ہے چناچہ محاورہ ہے وضعت لمرءۃ الحمل وضعا عورت نے بچہ جنا ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ فَلَمَّا وَضَعَتْها قالَتْ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُها أُنْثى وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِما وَضَعَتْ [ آل عمران/ 36] جب ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور جو کچھ ان کے ہاں پیدا ہوا تھا خدا کو خوب معلوم تھا تو کہنے لگیں کہ پروردگار میرے تو لڑکی ہوئی ہے ۔ لیکن الوضع والتضع کے معنی عورت کے آخر طہر میں حاملہ ہونے کے ہیں ۔ وضعت الحمل میں نے بوجھ اتار دیا اور اتارے ہوئے بوجھ کو موضوع کہا جاتا ہے اور آیت : ۔ وَالْأَرْضَ وَضَعَها لِلْأَنامِ [ الرحمن/ 10] اور اسی نے خلقت کے لئے زمین بچھائی ۔ میں وضع سے مراد خلق وایجا د ( یعنی پیدا کرنا ) ہے اور وضع البیت کے معنی مکان بنانے کے آتے ہیں چناچہ قرآن پا ک میں ہے : ۔ إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 96] پہلا گھر جو لوگوں کے عبادت کرنے کیلئے بنایا کیا گیا تھا ۔ اور آیت کریمہ : وَوُضِعَ الْكِتابُ [ الكهف/ 49] اور عملوں کی کتاب کھول کر رکھی جائے گی ۔ میں وضع کتاب سے قیامت کے دن اعمال کے دفتر کھولنا اور ان کی جزا دینا مراد ہے ۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : ۔ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيامَةِ كِتاباً يَلْقاهُ مَنْشُوراً [ الإسراء/ 13] اور قیامت کے دن وہ کتاب اسے نکال دکھائیں گے جسے وہ کھلا ہوا دیکھے گا ۔ وضعت ( ف ) الدابۃ فی سیر ھا : سواری تیز رفتاری سے چلی اور تیز رفتار سواری کو حسنتہ المواضع ( وحسن المواضع کہا جاتا ہے ۔ اوضع تھا میں نے اسے دوڑایا قرآن پاک میں ہے : ۔ وَلَأَوْضَعُوا خِلالَكُمْ [ التوبة/ 47] اور تم میں ( فساد دلوانے کی غرض ) سے دوڑے دوڑے پھرتے ۔ اور وضع کا لفظ سیر یعنی چلنے کے معنی میں بطور استعارہ استعمال ہوتا ہے جیسا کہ القی باعہ وثقلہ : میں قیام کرنے سے کنایہ ہوتا ہے ۔ الوضیعۃ :( رعایت ) کمی جو اصل قمیت میں کی جائے اس نے تجارت میں نقصان اٹھایا رجل وضیع : نہایت خسیس آدمی ( باب کرم ) یہ رفیع کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے جس کے معنی بلند قدر کے ہیں ۔ أنث الأنثی: خلاف الذکر، ويقالان في الأصل اعتبارا بالفرجین، قال عزّ وجلّ : وَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحاتِ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثى [ النساء/ 124] ( ان ث) الانثی ( مادہ ) بہ ذکر یعنی نر کی ضد ہے اصل میں انثیٰ و ذکر عورت اور مرد کی شرمگاہوں کے نام ہیں پھر اس معنی کے لحاظ سے ( مجازا) یہ دونوں نر اور مادہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔{ وَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى } ( سورة النساء 124) ۔ جو نیک کام کریگا مرد یا عورت (4 ۔ 124) الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ ذَّكَرُ ( مذکر) والذَّكَرُ : ضدّ الأنثی، قال تعالی: وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنْثى [ آل عمران/ 36] ، وقال : آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ [ الأنعام/ 144] ، وجمعه : ذُكُور وذُكْرَان، قال تعالی: ذُكْراناً وَإِناثاً [ الشوری/ 50] ، وجعل الذَّكَر كناية عن العضو المخصوص . والمُذْكِرُ : المرأة التي ولدت ذکرا، والمِذْكَار : التي عادتها أن تذكر، وناقة مُذَكَّرَة : تشبه الذّكر في عظم خلقها، وسیف ذو ذُكْرٍ ، ومُذَكَّر : صارم، تشبيها بالذّكر، وذُكُورُ البقل : ما غلظ منه الذکر ۔ تو یہ انثی ( مادہ ) کی ضد ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنْثى [ آل عمران/ 36] اور ( نذر کے لئے ) لڑکا ( موزون تھا کہ وہ ) لڑکی کی طرح ( ناتواں ) نہیں ہوتا آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ [ الأنعام/ 144] کہ ( خدا نے ) دونوں ( کے ) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں ( کی ) مادینوں کو ۔ ذکر کی جمع ذکور و ذکران آتی ہے ۔ چناچہ فرمایا :۔ ذُكْراناً وَإِناثاً [ الشوری/ 50] بیٹے اور بیٹیاں ۔ اور ذکر کا لفظ بطور کنایہ عضو تناسل پر بھی بولاجاتا ہے ۔ اور عورت نرینہ بچہ دے اسے مذکر کہاجاتا ہے مگر المذکار وہ ہے ۔ جس کی عادت نرینہ اولاد کی جنم دینا ہو ۔ ناقۃ مذکرۃ ۔ وہ اونٹنی جو عظمت جثہ میں اونٹ کے مشابہ ہو ۔ سیف ذوذکر ومذکر ۔ آبدار اور تیر تلوار ، صارم ذکور البقل ۔ وہ ترکاریاں جو لمبی اور سخت دلدار ہوں ۔ اسْمُ والِاسْمُ : ما يعرف به ذات الشیء، وأصله سِمْوٌ ، بدلالة قولهم : أسماء وسُمَيٌّ ، وأصله من السُّمُوِّ وهو الذي به رفع ذکر الْمُسَمَّى فيعرف به، قال اللہ : بِسْمِ اللَّهِ [ الفاتحة/ 1] ، وقال : ارْكَبُوا فِيها بِسْمِ اللَّهِ مَجْراها [هود/ 41] ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ [ النمل/ 30] ، وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ [ البقرة/ 31] ، أي : لألفاظ والمعاني مفرداتها ومرکّباتها . وبیان ذلک أنّ الاسم يستعمل علی ضربین : أحدهما : بحسب الوضع الاصطلاحيّ ، وذلک هو في المخبر عنه نحو : رجل وفرس . والثاني : بحسب الوضع الأوّليّ. ويقال ذلک للأنواع الثلاثة المخبر عنه، والخبر عنه، والرّابط بينهما المسمّى بالحرف، وهذا هو المراد بالآية، لأنّ آدم عليه السلام کما علم الاسم علم الفعل، والحرف، ولا يعرف الإنسان الاسم فيكون عارفا لمسمّاه إذا عرض عليه المسمّى، إلا إذا عرف ذاته . ألا تری أنّا لو علمنا أَسَامِيَ أشياء بالهنديّة، أو بالرّوميّة، ولم نعرف صورة ما له تلک الأسماء لم نعرف الْمُسَمَّيَاتِ إذا شاهدناها بمعرفتنا الأسماء المجرّدة، بل کنّا عارفین بأصوات مجرّدة، فثبت أنّ معرفة الأسماء لا تحصل إلا بمعرفة المسمّى، و حصول صورته في الضّمير، فإذا المراد بقوله : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ كُلَّها [ البقرة/ 31] ، الأنواع الثلاثة من الکلام وصور المسمّيات في ذواتها، وقوله : ما تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا أَسْماءً سَمَّيْتُمُوها [يوسف/ 40] ، فمعناه أنّ الأسماء التي تذکرونها ليس لها مسمّيات، وإنما هي أسماء علی غير مسمّى إذ کان حقیقة ما يعتقدون في الأصنام بحسب تلک الأسماء غير موجود فيها، وقوله : وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكاءَ قُلْ سَمُّوهُمْ [ الرعد/ 33] ، فلیس المراد أن يذکروا أساميها نحو اللّات والعزّى، وإنما المعنی إظهار تحقیق ما تدعونه إلها، وأنه هل يوجد معاني تلک الأسماء فيها، ولهذا قال بعده : أَمْ تُنَبِّئُونَهُ بِما لا يَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ أَمْ بِظاهِرٍ مِنَ الْقَوْلِ [ الرعد/ 33] ، وقوله : تَبارَكَ اسْمُ رَبِّكَ [ الرحمن/ 78] ، أي : البرکة والنّعمة الفائضة في صفاته إذا اعتبرت، وذلک نحو : الكريم والعلیم والباري، والرّحمن الرّحيم، وقال : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى [ الأعلی/ 1] ، وَلِلَّهِ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الأعراف/ 180] ، وقوله : اسْمُهُ يَحْيى لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا [ مریم/ 7] ، لَيُسَمُّونَ الْمَلائِكَةَ تَسْمِيَةَ الْأُنْثى [ النجم/ 27] ، أي : يقولون للملائكة بنات الله، وقوله : هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] أي : نظیرا له يستحقّ اسمه، وموصوفا يستحقّ صفته علی التّحقیق، ولیس المعنی هل تجد من يتسمّى باسمه إذ کان کثير من أسمائه قد يطلق علی غيره، لکن ليس معناه إذا استعمل فيه كما کان معناه إذا استعمل في غيره . الاسم کسی چیز کی علامت جس سے اسے پہچانا جائے ۔ یہ اصل میں سمو ہے کیونکہ اس کی جمع اسماء اور تصغیر سمی آتی ہے ۔ اور اسم کو اسم اس لئے کہتے ہیں کہ اس سے مسمیٰ کا ذکر بلند ہوتا ہے اور اس کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ ارْكَبُوا فِيها بِسْمِ اللَّهِ مَجْراها [هود/ 41] اور ( نوح (علیہ السلام) نے ) کہا کہ خدا کا نام لے کر ( کہ اس کے ہاتھ میں ) اس کا چلنا ( ہے ) سوار ہوجاؤ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ [ النمل/ 30] وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے ) کہ شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے ۔ اور آیت : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ [ البقرة/ 31] اور اس آدم کو سب ( چیزوں کے ) نام سکھائے ۔ میں اسماء سے یہاں الفاظ و معانی دونوں مراد ہیں ۔ خواہ مفردہوں خواہ مرکب اس اجمال کی تفصیل یہ ہے ۔ کہ لفظ اسم دو طرح استعمال ہوتا ہے ۔ ایک اصطلاحی معنی میں اور اس صورت میں ہمیشہ مخبر عنہ بنتا ہے ۔ جیسے رجل وفرس دوم وضع اول کے لحاظ سے اس اعتبار سے ( کلمہ کی ) انواع ثلاثہ یعنی مخبر عنہ ( اسم ) خبر اور رابطہ ( حرف ) تینوں پر اس معنی مراد ہیں ۔ کیونکہ آدم (علیہ السلام) نے جس طرح اسماء کی تعلیم حاصل کی تھی ۔ اسی طرح افعال وحروف کا علم بھی نہیں حاصل ہوگیا تھا اور یہ ظاہر ہے کہ جب تک کسی چیز کی ذات کا علم حاصل نہ ہو محض نام کے جاننے سے انسان اسے دیکھ کر پہچان نہیں سکتا ہے مثلا اگر ہم ہندی یا رومی زبان میں چند چیزوں کے نام حفظ کرلیں تو ان چیزوں کے اسماء کے جاننے سے ہم ان کے مسمیات کو نہیں پہچان سکیں گے ۔ بلکہ ہمار علم انہیں چند اصوات تک محدود رہے گا اس سے ثابت ہوا کہ اسماء کی معرفت مسمیات کی معرفت کو مستلزم نہیں ہے اور نہ ہی محض اسم سے مسمی ٰ کی صورت ذہن میں حاصل ہوسکتی ہے ۔ لہذا آیت : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ كُلَّها [ البقرة/ 31] میں اسماء سے کلام کی انواع ثلاثہ اور صورۃ مسمیات بمع ان کی ذوات کے مراد ہیں اور آیت ما تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا أَسْماءً سَمَّيْتُمُوها [يوسف/ 40] جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے رکھ لئے ہیں ۔ کے معنی یہ ہیں ک جن اسماء کی تم پرستش کرتے ہو ان کے مسمیات نہیں ہیں ۔ کیونکہ و اصنام ان اوصاف سے عاری تھے ۔ جن کا کہ وہ ان اسماء کے اعتبار سے ان کے متعلق اعتقاد رکھتے تھے ۔ اور آیت : وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكاءَ قُلْ سَمُّوهُمْ [ الرعد/ 33] اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کر رکھے ہیں ۔ ان سے کہو کہ ( ذرا ) انکے نام تولو ۔ میں سموھم سے یہ مراد نہیں ہے کہ لات ، عزی وغیرہ ان کے نام بیان کرو بلکہ آیت کے معنی پر ہیں کہ جن کو تم الاۃ ( معبود ) کہتے ہو ان کے متعلق تحقیق کرکے یہ تو بتاؤ کہ آیا ان میں ان اسماء کے معانی بھی پائے جاتے ہیں ۔ جن کے ساتھ تم انہیں موسوم کرتے ہو ( یعنی نہیں ) اسی لئے اس کے بعد فرمایا أَمْ تُنَبِّئُونَهُ بِما لا يَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ أَمْ بِظاهِرٍ مِنَ الْقَوْلِ [ الرعد/ 33] ( کہ ) کیا تم اسے ایسی چیزیں بتاتے ہو جس کو وہ زمین میں ( کہیں بھی ) معلوم نہیں کرتا یا ( محض ) ظاہری ( باطل اور جھوٹی ) بات کی ( تقلید کرتے ہو ۔ ) اور آیت : تَبارَكَ اسْمُ رَبِّكَ [ الرحمن/ 78] تمہارے پروردگار ۔۔ کا نام برا بابر کت ہے ۔ میں اسم رب کے بابرکت ہونے کے معنی یہ ہیں ک اس کی صفات ۔ الکریم ۔ العلیم ۔ الباری ۔ الرحمن الرحیم کے ذکر میں برکت اور نعمت پائی جاتی ہے جیسا ک دوسری جگہ فرمایا : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى [ الأعلی/ 1] ( اے پیغمبر ) اپنے پروردگار جلیل الشان کے نام کی تسبیح کرو ۔ وَلِلَّهِ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الأعراف/ 180] اور خدا کے نام سب اچھے ہی اچھے ہیں ۔ اور آیت : اسْمُهُ يَحْيى لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا[ مریم/ 7] اسمہ یحیٰ لم نجعل لہ من قبل سمیا َ (719) جس کا نام یحیٰ ہے ۔ اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی شخص پیدا نہیں کیا ۔ میں سمیا کے معنی ہم نام ، ، کے ہیں اور آیت :۔ هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا[ مریم/ 65] بھلا تم اس کا کوئی ہم نام جانتے ہو ۔ میں سمیا کے معنی نظیر کے ہیں یعنی کیا اس کی کوئی نظیر ہے جو اس نام کی مستحق ہوا اور حقیقتا اللہ کی صفات کے ساتھ متصف ہو اور اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ کیا تم کسی بھی پاتے ہو جو اس کے نام سے موسوم ہوکیون کہ ایسے تو اللہ تعالیٰ کے بہت سے اسماء ہیں جن کا غیر اللہ پر بھی اطلاق ہوسکتا ہے یا ہوتا ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ ان سے معافی بھی وہی مراد ہوں جو اللہ تعالیٰ پر اطلاق کے وقت ہوتے ہیں ۔ اور آیت : لَيُسَمُّونَ الْمَلائِكَةَ تَسْمِيَةَ الْأُنْثى[ النجم/ 27] اور وہ فرشتوں کو ( خدا کی ) لڑکیوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ میں لڑکیوں کے نام سے موسوم کرنے کے معنی یہ ہیں ۔ کہ وہ فرشتوں کو بنات اللہ کہتے ہیں ۔ مریم مریم : اسم أعجميّ ، اسم أمّ عيسى عليه السلام» . عوذ العَوْذُ : الالتجاء إلى الغیر والتّعلّق به . يقال : عَاذَ فلان بفلان، ومنه قوله تعالی: أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجاهِلِينَ [ البقرة/ 67] ( ع و ذ) العوذ ) ن ) کے معنی ہیں کسی کی پناہ لینا اور اس سے چمٹے رہنا ۔ محاورہ ہے : ۔ عاذ فلان بفلان فلاں نے اس کی پناہ لی اس سے ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجاهِلِينَ [ البقرة/ 67] کہ میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں کہ نادان بنوں ۔ ذر الذّرّيّة، قال تعالی: وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] ( ذ ر ر) الذریۃ ۔ نسل اولاد ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] اور میری اولاد میں سے بھی شطن الشَّيْطَانُ النون فيه أصليّة «3» ، وهو من : شَطَنَ أي : تباعد، ومنه : بئر شَطُونٌ ، وشَطَنَتِ الدّار، وغربة شَطُونٌ ، وقیل : بل النون فيه زائدة، من : شَاطَ يَشِيطُ : احترق غضبا، فَالشَّيْطَانُ مخلوق من النار کما دلّ عليه قوله تعالی: وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15]: الشّيطان اسم لكلّ عارم من الجنّ والإنس والحیوانات . قال تعالی: شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112] ( ش ط ن ) الشیطان اس میں نون اصلی ہے اور یہ شطن سے مشتق ہے جس کے معنی دور ہونیکے ہیں اور بئر شطون ( بہت گہرا کنوآں ) شطنت الدار ۔ گھر کا دور ہونا غربۃ شطون ( بطن سے دوری ) وغیرہ محاوارت اسی سے مشتق ہیں بعض نے کہا ہے کہ لفظ شیطان میں نون زائدہ ہے اور یہ شاط یشیط سے مشتق ہے جس کے معنی غصہ سے سوختہ ہوجانے کے ہیں ۔ اور شیطان کو بھی شیطان اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ آگ سے پیدا ہوا ہے جیسا کہ آیت : ۔ وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15] اور جنات کو آگ کے شعلہ سے پیدا کیا ۔ سے معلوم ہوتا ہے ۔ ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ شیطان ہر سر کش کو کہتے ہیں خواہ وہ جن وانس سے ہو یا دیگر حیوانات سے ۔ قرآن میں ہے : ۔ شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112] شیطان ( سیرت ) انسانوں اور جنوں کو رجم الرِّجَامُ : الحجارة، والرَّجْمُ : الرّمي بالرِّجَامِ. يقال : رُجِمَ فهو مَرْجُومٌ ، قال تعالی: لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ يا نُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ [ الشعراء/ 116] ، أي : المقتولین أقبح قتلة، وقال : وَلَوْلا رَهْطُكَ لَرَجَمْناكَ [هود/ 91] ، إِنَّهُمْ إِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ يَرْجُمُوكُمْ [ الكهف/ 20] ، ويستعار الرّجم للرّمي بالظّنّ ، والتّوهّم، وللشّتم والطّرد، نحو قوله تعالی: رَجْماً بِالْغَيْبِ وما هو عنها بالحدیث المرجّم «7» وقوله تعالی: لَأَرْجُمَنَّكَ وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا [ مریم/ 46] ، أي : لأقولنّ فيك ما تكره والشّيطان الرَّجِيمُ : المطرود عن الخیرات، وعن منازل الملإ الأعلی. قال تعالی: فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطانِ الرَّجِيمِ [ النحل/ 98] ، وقال تعالی: فَاخْرُجْ مِنْها فَإِنَّكَ رَجِيمٌ [ الحجر/ 34] ، وقال في الشّهب : رُجُوماً لِلشَّياطِينِ [ الملک/ 5] ( ر ج م ) الرجام ۔ پتھر اسی سے الرجیم ہے جس کے معنی سنگسار کرنا کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے رجمۃ ۔ اسے سنگسار کیا اور جسے سنگسار کیا گیا ہوا سے مرجوم کہتے ہیں ۔ قرآن میں ہے ؛ لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ يا نُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ [ الشعراء/ 116] کہ تم ضرور سنگسار کردیئے جاؤ گے ۔ إِنَّهُمْ إِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ يَرْجُمُوكُمْ [ الكهف/ 20] کیونکہ تمہاری قوم کے لوگ تمہاری خبر پائیں گے تو تمہیں سنگسار کردیں گے ۔ پھر استعارہ کے طور پر رجم کا لفظ جھوٹے گمان تو ہم ، سب وشتم اور کسی کو دھتکار دینے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے رَجْماً بِالْغَيْب یہ سب غیب کی باتوں میں اٹکل کے تکے چلاتے ہیں ۔ (176) ، ، وماھو عنھا بالحدیث المرکم ، ، اور لڑائی کے متعلق یہ بات محض انداز سے نہیں ہے ۔ اور شیطان کو رجیم اس لئے کہاجاتا ہے کہ وہ خیرات اور ملائم اعلیٰ کے مراتب سے راندہ ہوا ہے قرآن میں ہے :۔ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطانِ الرَّجِيمِ [ النحل/ 98] تو شیطان مردود کے وسواس سے خدا کی پناہ مانگ لیاکرو ۔ فَاخْرُجْ مِنْها فَإِنَّكَ رَجِيمٌ [ الحجر/ 34] تو بہشت سے نکل جا کہ راندہ درگاہ ہے ۔ اور شھب ( ستاروں ) کو رجوم کہا گیا ہے قرآن میں ہے :۔ رُجُوماً لِلشَّياطِينِ [ الملک/ 5] ان کی شیاطین کے لئے ایک طرح کا زوبنایا ہے ۔ رجمۃ ورجمۃ ۔ قبر کا پتھر جو بطور نشان اس پر نصب کیا جاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

نذرصرف اللہ کے لیے مانی جائے قول باری ہے (اذقالت امرا ۃ عمران رب انی نذرت لک مافی بطنی محررافتقبل منی، جب عمران کی عورت کہہ رہی تھی کہ، میرے پروردگار ! میں اس بچے کو جو میرے پیٹ میں ہے تیری نذر کرتی ہوں وہ نیزے ہی کام کے لئے وقف ہوگا میری اس پیشکش کو قبول فرما) شعبی سے مروی ہے کہ (محورا) سے مراد ہے۔ خالص تیری عبادت کے لیئے۔ مجاہد کا قول ہے۔ تیری عبادت گاہ کی خدمت کے لیے۔ محمد بن جعفربن الزبیرکاقول ہے۔ دنیوی امور سے آزاد صرف اللہ کی اطاعت وعبادت کے لیے۔ تحریر کے دومعنی ہیں اول آزادکرنا یہ حریۃ، سے نکلا ہے۔ دوم تحریر کتاب جس کا مفہوم ہے کتاب کو فساد اوراضطراب سے پاک رکھنا۔ عمران کو بیوی کا قول (انی نذرت لک مافی بطنی محررا، اگر اس سے ان کی عبادت کے لیے مختص کرنا ہے تو اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ وہ اس بچے کی پرورش اسی نہج پر کریں گی اور اسے صرف عبادت میں مشغول رکھیں گی اور کوئی دوسراکام کرنے نہیں دیں گی۔ اگر اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ وہ اپنے بچے کو عبادت گاہ کا خادم بنادیں گی یا دنیوی امور سے آزاد کرکے صرف اللہ کی اطاعت اور عبادت میں لگادیں گی۔ تویہ تمام معانی ایک دوسرے سے قریب قریب ہیں اور یہ اس پر دلالت کرتے ہیں کہ عمران کی بیوی نے لفظ ، نذرت، کہہ کر اللہ کے لیے نذرمانی تھی۔ پھر یہ دعا کی تھی (فتقبل منی انک انت السمیع العلیم، میری اس پیش کش کو قبول فرما بیشک تو ہی سننے والا اور جاننے والا ہے) ہماری شریعت میں بھی اس قسم کی نذرورست ہے۔ مثلا کوئی شخص یہ نذرمان لے کہ وہ اپنے بیٹے کی پرورش اللہ کی اطاعت اور عبادت کے نہج پر کرے گا اور اسے اس کے سوا کسی اور کام میں نہیں لگائے گا اور یہ کہ اسے قرآن فقہ اور علوم دینیہ کی تعلیم دلائے گا۔ اس قسم کی نذر کی تمام صورتیں درست ہیں اس لیے کہ ان میں تقرب الی اللہ ہوتا ہے۔ عمران کی بیوی کا یہ قول (نذرت لک) اس پرولالت کرتا ہے کہ یہ ایجاب کا مقتضی ہے اور یہ کہ جو شخص تقرب الی اللہ کی خاطر کوئی نذرمانے اسے پوراکرنا اس پر لازم ہے نیزیہ اس لیے کہ یہ تو معلوم ہے کہ عمران کی بیوی کا یہ قول (نذرت لک مافی بطنی محررا) ان کی اس مراد کو ظاہرکررہا ہے کہ یہ سب کچھ بچے کی پیدائش کے بعد اور اس وقت کے آنے پر ہوگا جب اس جیسے کے لیے صرف اللہ کی عبادت کے لیے مختص ہوجانا درست ہوگا۔ نادیدہ چیز کی نذرمانناجائز ہے آیت کی اس بات پر بھی دلالت ہورہی ہے کہ مجہول چیز کی نذرمان لینا بھی جائز ہے۔ اس لیئے کہ عمران کی بیوی نے نذرتومان لی تھی لیکن انہیں معلوم نہیں تھا کہ بچہ مذکرہوگا یامؤنث۔ آیت کی اس پر بھی دلالت ہو رہی ہے کہ ماں کو اپنے بچے پر اس کی تعلیم و تربیت اور اسے اپنے پاس رکھ لینے کے لحاظ سے ایک گونہ ولایت اور سرپرستی کا حق ہوتا ہے۔ اس لیئے کہ اگر عمران کی بیوی کو یہ حق حاصل نہ ہوتا تو وہ اپنے بچے کے سلسلے میں اس قسم کی نذرنہ مانتیں۔ بچے کا نام ماں بھی رکھ سکتی ہے نیز اس پر بھی دلالت ہورہی ہے کہ ماں کو اپنے بچے کا نام رکھنے کا حق حاصل ہے اور اس کا رکھا ہوا نام درست ہوگا۔ خواہ باپ نے نام نہ بھی رکھا ہو اس لیے کہ عمران کی بیوی نے یہ کہا تھا (وانی سمینھا مریم، اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے) اور اللہ تعالیٰ نے ماں کے رکھے ہوئے نام کو برقراررکھا ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٦ (فَلَمَّا وَضَعَتْہَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُہَآ اُنْثٰی ط) ۔ یعنی میرے ہاں تو بیٹی پیدا ہوگئی ہے۔ میں تو سوچ رہی تھی کہ بیٹا پیدا ہوگا تو میں اس کو وقف کر دوں گی۔ اس وقت تک ہیکل کے خادموں میں کسی لڑکی کو قبول نہیں کیا جاتا تھا۔ (وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ ط) ۔ اسے کیا پتا تھا کہ اس نے کیسی بیٹی جنی ہے ! (وَلَیْسَ الذَّکَرُ کَالْاُنْثٰی ج) ! اس جملے کے دونوں معنی کیے گئے۔ اوّلاً : اگر یہ قول مانا جائے حضرت مر یم ( علیہ السلام) کی والدہ کا تو ترجمہ یوں ہوگا : اور لڑکا لڑکی کی مانند تو نہیں ہوتا۔ اگر لڑکا ہوتا تو میں اسے خدمت کے لیے وقف کردیتی ‘ یہ تو لڑکی ہوگئی ہے۔ ثانیاً : اگر اس قول کو اللہ کی طرف سے مانا جائے تو مفہوم یہ ہوگا کہ کوئی بیٹا ایسا ہو ہی نہیں سکتا جیسی بیٹی تو نے جنم دی ہے۔ اور اب مریم ( علیہ السلام) کی والدہ کا کلام شروع ہوا : (وَاِنِّیْ سَمَّیْتُہَا مَرْیَمَ ) (وَاِنِّیْ اُعِیْذُہَا بِکَ وَذُرِّیَّتَہَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ) ۔ اے اللہ ! تو اس لڑکی (مریم ( (علیہ السلام) ) کو بھی اور اس کی آنے والی اولاد کو بھی شیطان کے شر سے اپنی حفاظت میں رکھیو !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

34. Since a boy is free from some of the physical shortcomings and social disabilities associated with a girl, the mother of Mary thought that had the child been a boy he would have been more able to achieve the purpose for which she had consecrated the child.

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :34 یعنی لڑکا ان بہت سی فطری کمزوریوں اور تمدنی پابندیوں سے آزاد ہوتا ہے ، جو لڑکی کے ساتھ لگی ہوئی ہوتی ہیں ، لہٰذا اگر لڑکا ہوتا تو وہ مقصد زیادہ اچھی طرح حاصل ہو سکتا تھا جس کے لیے میں اپنے بچے کو تیری راہ میں نذر کرنا چاہتی تھی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:36) اعیذھا۔ میں اس کو پناہ دیتی ہوں۔ اعاذۃ سے اعاذ یعیذ (باب افعال کرم یکرم) سے مضارع واحد متکلم۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب ماذ یعوذ۔ ب۔ (باب نصر) کسی کی پناہ طلب کرنا۔ یا پناہ لینا۔ ” واللہ سے تا کالانثی “ جملہ معترضہ ہے۔ وانی سمیتھا مریم سے پھر عمران کی عورت کا بیان شروع ہوجاتا ہے۔ الرحیم۔ ملعون ۔ مردود۔ راندہ ہوا۔ رحیم سے بروزن فعیل بمعنی مفعول۔ قرآن میں جہاں یہ لفظ آیا ہے شیطان کے لئے آیا ہے۔ کہ راندہ درگاہ الٰہی ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یہ درمیان میں جملہ معترضہ ہے اور فرمان باری تعالیٰ ہے۔ (قرطبی) چناچہ یہ دعا قبول ہوئی۔ حدیث میں ہے آنحضرت ، (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ؛ مامن مولود یولد الامسہ الشیطان حین یولد جفستھل صارخامن مسہ ایاہ ال امرکم دانبھا۔ کوئی بچہ ایسا نہیں جس کو ولادت کے وقت شیطان مس نہ کرتا ہو مگر مریم ( علیہ السلام) اور اس کا بیٹا ( علیہ السلام) ۔ ( بخا ری۔ مسلم )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

زوجہ عمران کی یہ خشوع و خضوع کے عطر سے معطر دعا کہ اے رب میری نذر قبول فرما ! وہ نذر جو اس کے دل کا ٹکڑا ہے۔ اس کا جگر گوشہ ہے ۔۔ اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ خالص اللہ کی مسلم اور مطیع فرمان ہیں ۔ وہ کلمۃ اللہ کی جہت کی طرف رخ کئے ہوئے ہیں ۔ بالکلہ یکسو ہیں ۔ ہر قید سے آزاد ہیں اور ان کے دل میں ماسوائے قبولیت نذر اور رضائے الٰہی کے جذبے کے اور کچھ نہیں ہے۔ فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنْثَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالأنْثَى وَإِنِّي سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ” پھر جب وہ بچی اس کے ہاں پیدا ہوئی تو اس نے کہا :” مالک ! میرے ہاں تو لڑکی پیدا ہوگئی ہے ۔ حالانکہ جو کچھ اس نے جنا تھا ‘ اللہ کو اس کی خبر تھی ………اور لڑکا لڑکی کی طرح نہیں ہوتا ۔ خیر ‘ میں نے اس کا نام مریم رکھ دیا ہے۔ اور میں اسے اور اس کی آئندہ نسل کو شیطان مردود کے فتنے سے تیری پناہ میں دیتی ہوں ۔ “ اس کا خیال یہ تھا کہ میرا بچہ لڑکا ہوگا۔ اور گرجوں میں جن بچوں کی نذر دی جاتی تھی وہ بالعموم لڑکے ہوا کرتے تھے تاکہ وہ ہیکل کی خدمت کریں ۔ اور وہ صرف عبادت کے لئے وقف ہوجائیں اور دنیا سے کٹ جائیں ۔ لیکن وہ کیا دیکھتی ہے کہ بچہ لڑکی ہے ۔ اس لئے وہ گڑگڑا کر اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور نہایت ہی متأسفانہ انداز میں کہتی ہے ۔ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنْثَى……………” میرے رب ‘ میرے ہاں تو لڑکی پیدا ہوگئی ۔ “ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ……………” اور جو کچھ اس نے جنا ‘ اس کا علم تو اللہ کو بہرحال تھا۔ “ لیکن وہ یہ الفاظ اس لئے کہتی ہے کہ وہ خود متوجہ الی اللہ ہے اور ہدیہ پیش کرتی ہے ۔ گویا وہ ان الفاظ سے اللہ کے ہاں معذرت پیش کررہی ہے ۔ کہ اگر لڑکا ہوتا تو وہ اپنے فرائض اچھی طرح ادا کرتا ۔ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالأنْثَى……………” اور لڑکا ‘ لڑکی کی طرح نہیں ہوتا۔ “ یعنی جس مقصد کے لئے نذر مانی گئی ہے ‘ اس مقصد کے لئے تو لڑکا ہی موزوں ہوتا ہے۔ وَإِنِّي سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ……………” میں نے اس کا نام مریم رکھ دیا ہے۔ “ ” یہاں جس انداز سے بات ہورہی ہے ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زوجہ عمران اللہ تعالیٰ سے آمنے سامنے بات کررہی ہیں ‘ گو تخلیہ میں بات ہورہی ہے ‘ دل کی پوری بات بتائی جارہی ہے ۔ صاف صاف بتائی جارہی ہے ۔ اور اپنا پورا اثاثہ پیش کیا جارہا ہے ۔ براہ راست خدمت اقدس میں ‘ اللہ کے ان برگزیدہ بندوں کے تعلق باللہ کا یہی حال ہوتا ہے ۔ محبت ‘ قرب اور براہ راست رابطہ اپنے رب کے ساتھ سادہ الفاظ میں اخلاص کے ساتھ ہمکلامی ‘ جس میں نہ تکلف ہے اور نہ پیچیدگی ہے ۔ وہ بات اس طرح کرتے ہیں جس طرح رب ان کے بالکل قریب ہے ۔ ان سے محبت کرتا ہے ‘ سنتا ہے اور قبول کرتا ہے۔ وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ” میں اسے اور اس کی آئندہ نسل کو شیطان مردود کے فتنے سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ “ یہ وہ آخری بات ہے جو ایک ماں اپنے بچے کی نذر پیش کرنے بعد الوداعی طور پر کہتی ہے ۔ اور اسے اپنے رب کی حمایت اور اس کے رحم وکرم پر چھوڑ دیتی ہے ۔ اور اس کے لئے اور اس کی اولاد کے لئے شیطان مردود سے پناہ مانگتی ہے ………اور یہ باتیں خلوص قلب کا مظہر ہیں ‘ وبطیب خاطر یہ نذر دے رہی ہے اور اپنی محبوب اولاد کے لئے وہ جو تحفظ طلب کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ اسے شیطان مردود سے بچائے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت مریم کی والدہ کی نذر، اور ان کی ولادت اور کفالت کا تذکرہ ان آیات میں اول تو یہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم اور حضرت نوح ( علیہ السلام) کو اور حضرت ابراہیم اور جناب عمران کی آل و اولاد کو سارے جہانوں پر فضیلت دی اور ان کو منتخب فرما لیا اور یہ بھی فرمایا کہ یہ بعض بعض کی اولاد ہیں آدم (علیہ السلام) تو سب کے باپ ہیں ہی پھر نوح (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی آل اور عمران اور آل عمران سب ہی نسل در نسل آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں، اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو نبوت سے سر فراز فرمایا حضرت نوح (علیہ السلام) کو بھی نبوت عطا فرمائی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی پیغمبر بنایا اور آئندہ جتنے بھی نبی آئے وہ سب انہیں کی نسل میں سے تھے۔ جن میں خاتم النّبیین سیدنا حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ہیں اور آل عمران بھی ان ہی کی نسل میں سے تھے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) حضرت مریم [ کے بیٹے تھے۔ اور یہ عمران کی بیٹی تھیں یہ عمران حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے والد کے علاوہ دوسرے عمران ہیں۔ معالم التنزیل صفحہ ٢٤٦: ج ١ میں لکھا ہے کہ ان دونوں کے درمیان ١٨٠٠ سال کا فاصلہ تھا۔ پھر مریم [ کی والدہ عمران کی بیوی کی نذر کا تذکرہ فرمایا انہوں نے نذر مانی تھی کہ اے میرے رب میرے پیٹ میں جو بچہ ہے میں نے اس کو آزاد چھوڑنے کی منت مان لی اور آزاد چھوڑنے کا مطلب یہ تھا کہ اس کو صرف بیت المقدس کی خدمت کے لیے فارغ رکھوں گی دنیا کا کوئی کام نہیں لوں گی۔ مسجد کی خدمت کرنے والے مرد ہوتے تھے اب ہوا یہ کہ جس حمل کے بچہ کو آزاد چھوڑنے کی منت مانی تھی جب اس حمل کی پیدائش ہوئی تو لڑکا نہ تھا بلکہ لڑکی تھی۔ عمران کی بیوی افسوس کرنے لگیں اور کہنے لگیں کہ اے میرے رب میرے تو لڑکی پیدا ہوگئی۔ لڑکی بیت المقدس کی خدمت گزار کیسے بنے گی۔ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہی تھا کہ اس نے کیا جنا لیکن انہوں نے بطور حسرت کے اللہ پاک سے یوں خطاب کیا۔ (رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُھَآ اُنْثٰی) اور اپنی حسرت کو دوسرے الفاظ میں یوں دہرایا۔ (وَ لَیْسَ الذَّکَرُ کَالْاُنْثٰی) کہ لڑکا لڑکی کی طرح سے نہیں ہے۔ اس عبارت کو بعض علماء نے مبالغۃً قلب پر محمول کیا ہے اور علامہ بیضاوی نے اول تو دونوں لاعہد کے لیے بنائے ہیں پھر یہ تفسیر کی ہے۔ اَیْ وَلَیْسَ الذَّکَرُ الَّذِیْ طلبت کالانثیٰ التی وھبت اور پھر لکھا ہے۔ و یجوزان یکون من قولھا بمعنی و لیس الذکر کالانثیٰ سیئا فیما نذرت فیکون الام للجنسمطلب یہ ہے کہ لڑکا لڑکی فی الحقیقت برابر نہیں ہیں۔ لڑکی وہ کام نہیں کرسکتی جو لڑکا کرسکتا ہے۔ حضرت حکیم الامت تھا نوی قدس سرہ نے فرمایا کہ ولیس الذکر کالانثی حضرت مریم کی والدہ کا قول نہیں ہے بلکہ یہ جملہ معترضہ ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اور مطلب یہ ہے کہ جو لڑکی انہوں نے جنی ہے لڑکا اس لڑکی کے برابر نہیں ہوسکتا تھا جو انہوں نے طلب کیا تھا بلکہ یہ لڑکی ہی افضل ہے کیونکہ ان کے کمالات و برکات عجیب و غریب ہوں گے یہ معنی لینے سے تشبیہ مقلوب کا احتمال ختم ہوجاتا ہے۔ عمران کی بیوی نے لڑکا پیدا نہ ہونے کا افسوس ظاہر کرنے کے بعد کہا (وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُھَا مَرْیَمَ ) کہ میں نے اس بچی کا نام مریم رکھ دیا پھر یوں کہا (وَ اِنِّیْٓ اُعِیْذُھَابِکَ وَ ذُرِّیَّتَھَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ) (کہ میں اس لڑکی اور اس ذریت کو تیری پناہ میں دیتی ہوں شیطان مردود سے) صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جو بھی کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے شیطان اس کو چھوتا ہے جس وقت پیدا ہوتا ہے۔ سو وہ اس کے چھونے سے چیختا ہے سوائے مریم اور اس کے بیٹے کے (کہ وہ ان کو نہیں چھو سکا) بعض روایات میں ہے کہ شیطان اپنی انگلی سے کچو کا دیتا ہے اسی لیے بچہ چیخ پڑتا ہے سوائے مریم اور ان کے بیٹے کے کہ وہ ان دونوں تک نہیں پہنچ سکا اور ایک روایت میں ہے کہ وہ پردے میں انگلی مار کر چلا گیا۔ (روح المعانی ص ١٣٧: ج ١)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

47 جب لڑکی پیدا ہوئی تو انہیں افسوس ہوا اور اللہ تعالیٰ سے مناجات کرنے لگیں کہ یہ تو لڑکی ہے اب میں اپنی نذر پوری نہیں کرسکتی اگر لڑکا ہوتا تو اسے تو اللہ کے گھر کی خدمت کے لیے وقف کردیا جاتا۔ کیونکہ اسرائیلی شریعت میں لڑکی سے یہ خدمت نہیں لی جاسکتی تھی۔ 48 یہ جملہ معترضہ ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ حضرت مریم کی والدہ کا مقولہ نہیں ہے۔ یعنی اللہ کو خوب معلوم ہے کہ اس کے لڑکی پیدا ہوئی ہے اور اس لڑکی کی جگہ اگر لڑکا پیدا ہوتا تو وہ اس لڑکی کے برابر نہ ہوتا کیونکہ جو اسرار و رموز اس لڑکی سے وابستہ ہیں۔ وہ اس کے لڑکا ہونے کی صورت میں مفقود ہوتے۔ ولیس الذکر الذی طلبت کالانثی التی وھبت لھا واللام فیھما للعھد (مدارک ج 1 ص 120) 49:۔ یہ حضرت مریم کی والدہ کا مقولہ ہے وہ اللہ تعالیٰ سے مناجات کرتی ہوئی کہتی ہیں کہ اے اللہ میں نے اس بچی کا نام مریم رکھا ہے اور اسے اور اس کی اولاد کو شیطان کے شر سے تیری پناہ اور حفاظت میں دیتی ہوں۔ کس قدر خالص توحید کا جذبہ ہے۔ بلاشبہ ہر قسم کے شر سے صرف اللہ ہی محفوظ رکھ سکتا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی جیسا کہحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پہلو میں انگلی سے چوکا لگاتا ہے جس کی وجہ سے وہ چیخ اٹھتا ہے لیکن مریم اور اس کے بیٹے کو اللہ نے شیطان کے چوکے سے محفوظ رکھا (قرطبی ج 4 ص 68، روح ج 3 ص 137 وغیرہ)

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 1۔ پھر جب عمران کی عورت نے اس ما فی بطنی یعنی حمل کو جنا تو حسرت دیا اس کے لہجے میں بولی اے میرے پروردگار میں نے تو اس مانی بطنی کو لڑکی جنی حالانکہ جو کچھ اس نے جنا اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتا ہے اور لڑکا اس شان کا نہیں ہوسکتا جس شان کی وہ لڑکی ہے اور اے میرے رب میں نے اس لڑکی کا نام مریم رکھا ہے اور میں اس لڑکی کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردو سے آپ کی پناہ اور آپکی حفاظت و صیانت میں دیتی ہوں۔ ( تیسیر) مطلب یہ ہے کہ جب حنہ کے ہاں لڑکی پیدا ہوتی تو اس نے حسرت و افسوس کے ساتھ عرض کیا کہ اے بار الٰہ میں نے لڑکی جنی آگے جملہ معترضہ کے طور پر حضرت حق کا فرمان ہے کہ جو کچھ ۔۔۔ اس نے جنا اس کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اور اگرچہ وہ لڑکی ہے لیکن جس شان اور مرتبہ کی وہ لڑکی ہے اس جیسا وہ لڑکا نہیں ہوسکتا تھا جس کی وہ خواہش رکھتی تھی۔ آگے پھر عمران کی بیوی کا کلام ہے کہ میں نے اس کا نام مریم رکھ دیا ہے اور میں نے اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے آپ کی پناہ میں دے دیا ہے۔ حنہ کا یہ کہنا کہ رب انی وضعتھا انتی اللہ تعالیٰ کو اطلاع دینے کی غرض سے نہ تھا ، کبھی شہ شبہ کیا جائے کہ خبر دینے کا مقصد تو علم یا لوازم علم ہوتا ہے اسی لئے ہم نے تیسیر میں حسرت و افسوس کے الفاظ لکھے ہیں کہ یہاں اللہ تعالیٰ کو معلوم کرانا مقصود نہ تھا بلکہ اپنے افسوس کا اظہار تھا کہ امید تو یہ تھی کہ لڑکا ہوگا لیکن ہوگئی لڑکی جو لڑکے کی طرح مسجد کی خدمت نہ کرسکے گی ۔ آگے حضرت حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو کچھ اس کے ہاں ہوا وہ ہمیں معلوم ہے لیکن اس کو کیا معلوم کہ جس لڑکے کی وہ آرزو کر رہی تھی اگر اس کے ہاں لڑکا ہوجاتا تو اس لڑکی جیسا نہیں ہوتا یہ لڑکی تو بڑی شان اور مرتبہ کی لڑکی ہے۔ ولیس الذکر کالا نتی کا ایک ترجمہ یہ بھی ہے کہ لڑکا لڑکی کی مانند نہیں ہوسکتا یعنی علی الاطلاق لڑکے اور لڑکی کی عدم مساوات کا اظہار ہو۔ جیسا کہ اکثر مفسرین نے ہی معنی کئے ہیں لیکن ہم نے اپنے اکابر کی رعایت سے پہلے معنی اختیار کئے ہیں دوسری تقدیر پر یوں معنی ہوں گے اور یہ واقعہ ہے کہ لڑکا لڑکی جیسا نہیں ہوتا مریم ان کی اصطلاح میں عبادت گزار کو کہتے تھے اور یہ جو فرمایا کہ میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اس میں حضرت مریم کی یتیمی کی جانب ایک لطیف اشارہ ہے کہ اس بچی کا باپ تو مرچکا ہے لہٰذا نام بھی میں نے ہی رکھا ہے اگر باپ زندہ ہوتا تو وہ نام رکھتا۔ حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا کوئی بچہ ایسا نہیں کہ جب وہ پیدا ہو تو شیطان اپنی دو انگلیاں اس کے پہلو میں نہ چبھوئے۔ مگر حضرت مریم اور ان کا لڑکا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) شیطان کے اس کچو کے سے محفوظ رہے۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ شیطان ہر پیدا شدہ بچہ کی پسلی میں اپنی دو انگلیاں چبھوتا ہے اس پر بچہ روتا ہے ، لیکن حضرت حنہ نے چونکہ اپنی بچی کو اور آئندہ ہونے والی اس کی اولاد کو خدا کی پناہ میں دے دیا تھا۔ اس لئے شیطان ان کو مس نہیں کرسکا ۔ بعض روایت میں حضرت فاطمہ کے متعلق بھی ہے کہ جب ان کا نکاح ہوا تو یہی الفاظ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہیں کہ آپ نے رخصت کے وقت یوں دعا فرمائی۔ اللھم انی اعیدھا بک وزری تھا من الشیطان الرجیم۔ حضرت علی (رض) کے متعلق بھی اس قسم کی دعا دینا ۔ ابن حبان نے حضرت انس (رض) سے نقل کی ہے۔ بہر حال اگر یہ روایتیں صحیح ہوں تو مذکورہ بالا حدیث میں حصر حقیقی نہ ہوگا بلکہ حصر اضافی ہوگا ۔ واللہ اعلم ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ بیچ میں اللہ نے فرمایا کہ اللہ کو بہتر معلوم ہے ۔ اور بیٹا نہ ہو جیسی وہ بیٹی باقی اس کا کلام ہے وہ ناامید ہوئی کہ میری نذر پوری نہ پڑی کیونکہ دستور لڑکی نیاز کرنے کا نہ تھا۔ ( موضح القرآن) حضرت شاہ صاحب (رح) نے ان دو جملوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ وہ دونوں جملے یعنی واللہ اعلم بما وضعت ولیس الذکر کالا نثی حضرت حنہ کا کلام نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اس کے بعد وانی سمیتھا سے پھر حضرت مریم کی والدہ کا کلام ہے بعض قراء نے وضعت تا کے ضمہ اور عین کے سکون سے پڑھا ہے اس تقدیر پر وضعت کی تا متکلم کی ہوگی اور معنی دوسرے ہوجائیں گے۔ لیکن ہم نے اس تقدیر پر بحث نہیں کی ہے یہ قرأت ابن عامر ، ابوبکر اور یعقوب کی ہے دوسرے قراء حفص کے موافق ہیں اور ہم نے ان ہی کی قرأت کے لحاظ سے ترجمہ کیا ہے۔ اب آگے حضرت مریم کی قبولیت اور ان کی پرورش وغیرہ کا ذکر فرماتے ہیں ، چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ ( تسہیل)