| Perfect Tense | Imperfect Tense | Imperative | Active Participle | Passive Participle | Noun Form |
أَوْضَعَ |
يُوْضِعُ |
أَوْضِعْ |
مُوْضِع |
مُوْضَع |
إِيْضَاع |
اَلْوَضْعُ: (نیچے رکھ دینا) یہ حَط سے عام ہے۔چنانچہ قرآن پاک میں ہے۔ (وَّ اَکۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَۃٌ ) (۸۸۔۱۴) اور آبخورے (قرینے سے) رکھے ہوئے۔اور اسی سے مَوْضِعٌ ہے جس کی جمع مَوَاضِعُ آتی جس کے معنی ہیں جگہیں یا موقعے۔جیسے فرمایا:۔ (یُحَرِّفُوۡنَ الۡکَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِہٖ) (۵۔۱۳) یہ لوگ کلمات (کتاب) کو ان کے مقامات سے بدل دیتے ہیں۔اور وَضْعٌ:کا لفظ وضع حمل اور بوجھ اتارنے کے معنی میں آتا ہے۔چنانچہ محاورہ ہے وَضَعتِ الْمَرْئَ ۃُ الْحَمْل وَضْعَا:عورت نے بچہ جنا۔قرآن پاک میں ہے:۔ (فَلَمَّا وَضَعَتۡہَا قَالَتۡ رَبِّ اِنِّیۡ وَضَعۡتُہَاۤ اُنۡثٰی ؕ وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا وَضَعَتۡ) (۳۔۳۶) جب ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور جو کچھ ان کے ہاں پیدا ہوا تھا خدا کو خوب معلوم تھا تو کہنے لگیں کہ پروردگار میرے تو لڑکی ہی ہوئی ہے۔لیکن اَلْوُضْعُ وَالتُّضَعُ کے معنی عورت کے آخر طہر میں حاملہ ہونے کے ہیں۔وَضَعْتُ الْحِمْلَ:میں نے بوجھ اتاردیا اور اتارے ہوئے بوجھ کو مَوْضُوْعٌ کہا جاتا ہے۔اور آیت:۔ (وَ الۡاَرۡضَ وَضَعَہَا لِلۡاَنَامِ) (۵۵۔۱۰) اور اسی نے خلقت کے لئے زمین بچھائی۔میں وضع سے مراد خلق و ایجاد (یعنی پیدا کرنا) ہے اور وَضْعُ الْبَیْتِ کے معنی مکان بنانے کے آتے ہیں۔چنانچہ قرآن پاک میں ہے:۔ (اِنَّ اَوَّلَ بَیۡتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ ) (۳۔۹۶) پہلا گھر جو لوگوں کے عبادت کرنے کیلئے بنایا گیا تھا اور آیت کریمہ:۔ (وَ وُضِعَ الۡکِتٰبُ فَتَرَی الۡمُجۡرِمِیۡنَ) (۱۸۔۴۹) اور عملوں کی کتاب کھول کر رکھی جائے گی۔میں وضع کتاب سے قیامت کے دن اعمال کے دفتر کھولنا اور ان کی جزا دینا مراد ہے۔جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا:۔ (وَ نُخۡرِجُ لَہٗ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ کِتٰبًا یَّلۡقٰىہُ مَنۡشُوۡرًا) (۱۸۔۱۳) اور قیامت کے دن وہ کتاب اسے نکال دکھائیں گے جسے وہ کھلا ہوا دیکھے گا۔وَضَعَتِ (ف) الدَّبَّۃُ فِیْ سَیْرِھَا:سواری تیز رفتاری سے چلی اور تیز رفتاری کو حَسَنَۃُ الْمَوْضُوْعِ (وَحَسَنُ الْمَوَاضِعِ) کہا جاتا ہے۔اَوْضَعْتُھَا میں نے اسے دوڑایا۔قرآن پاک میں ہے۔ (وَّ لَا۠اَوۡضَعُوۡا خِلٰلَکُمۡ ) (۹۔۴۷) اور تم میں (فساد ڈلوانے کی غرض) سے دوڑے دوڑے پھرتے اور وضع کا لفظ سَیْرٌ یعنی چلنے کے معنی میں بطور استعارہ استعمال ہوتا ہے جیسا کہ اَلْقٰی بَاعَہٗ وَثِقَلَہ:میں قیام کرنے سے کنایہ ہوتا ہے۔ اَلْوَضِیْعَۃُ: (رعایت) کمی جو اصل قیمت میں کی جائے۔ وَضَعَ الرَّجُلُ فِیْ تِجَارَتِہ:اس نے تجارت میں نقصان اٹھایا۔ رَجُلٌ وَضِیْعٌ:نہایت خسیس آدمی۔ (باب کَرُمَ) یہ رَفِیْعُ کے مقابلے میں استعمال ہوتا ہے جس کے معنی بلند قدر کے ہیں۔
Surah:3Verse:36 |
اس نے جنم دیا اس کو
she delivered her
|
|
Surah:3Verse:36 |
میں نے جنم دیا
[I] (have) delivered [her]
|
|
Surah:3Verse:36 |
اس نے جنم دیا
she delivered
|
|
Surah:3Verse:96 |
بنایا گیا
set up
|
|
Surah:4Verse:102 |
تم رکھ دو
you lay down
|
|
Surah:7Verse:157 |
اور دور کرتا ہے
and he relieves
|
|
Surah:18Verse:49 |
اور رکھ دی جائے گی
And (will) be placed
|
|
Surah:21Verse:47 |
اور ہم رکھ دیں گے
And We set
|
|
Surah:22Verse:2 |
اور گرا دے گی۔ رکھ دے گی
and will deliver
|
|
Surah:24Verse:58 |
تم اتار رکھتے ہو
you put aside
|