Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 41

سورة آل عمران

قَالَ رَبِّ اجۡعَلۡ لِّیۡۤ اٰیَۃً ؕ قَالَ اٰیَتُکَ اَلَّا تُکَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَۃَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمۡزًا ؕ وَ اذۡکُرۡ رَّبَّکَ کَثِیۡرًا وَّ سَبِّحۡ بِالۡعَشِیِّ وَ الۡاِبۡکَارِ ﴿٪۴۱﴾  12

He said, "My Lord, make for me a sign." He Said, "Your sign is that you will not [be able to] speak to the people for three days except by gesture. And remember your Lord much and exalt [Him with praise] in the evening and the morning."

کہنے لگے پروردگار !میرے لئے اس کی کوئی نشانی مقّرر کر دے فرمایا نشانی یہ ہے تین دن تک تو لوگوں سے بات نہ کر سکے گا ، صرف اشارے سے سمجھائے گا ، تو اپنے رب کا ذکر کثرت سے کر اور صبح شام اسی کی تسبیح بیان کرتا رہ !

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قَالَ رَبِّ اجْعَل لِّيَ ايَةً ... He said: "O my Lord! Make a sign for me." meaning make a sign that alerts me that the child will come. ... قَالَ ايَتُكَ أَلاَّ تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَثَةَ أَيَّامٍ إِلاَّ رَمْزًا ... (Allah) said: "Your sign is that you shall not speak to the people for three days except by signals." meaning, you will not be able to speak except with signals, although you are not mute. In another Ayah, Allah said, ثَلَـثَ لَيَالٍ سَوِيّاً For three nights, though having no bodily defect. (19:10) Allah then commanded Zakariyya to supplicate, thank and praise Him often in that condition, ... وَاذْكُر رَّبَّكَ كَثِيرًا وَسَبِّحْ بِالْعَشِيِّ وَالاِبْكَارِ And remember your Lord much and glorify (Him) in the afternoon and in the morning. We will elaborate more on this subject in the beginning of Surah Maryam, Allah willing.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

41۔ 1 بڑھاپے میں معجزانہ طور پر اولاد کی خوشخبری سن کر اشتیاق میں اضافہ ہوا اور نشانی معلوم کرنی چاہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تین دن تیری زبان بند ہو جائیگی۔ جو ہماری طرف سے بطور نشانی ہوگی لیکن تو اس خاموشی میں کثرت سے صبح شام اللہ کی تسبیح بیان کیا کر تاکہ اس نعمت الٰہی کا جو تجھے ملنے والی ہے شکر ادا ہو یہ گویا سبق دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری طلب کے مطابق تمہیں مزید نعمتوں سے نوازے تو اسی حساب سے اس کا شکر بھی زیادہ سے زیادہ کرو۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٣] چناچہ اللہ تعالیٰ نے زکریا کی دعا قبول فرمائی۔ ایک دفعہ جب محراب میں کھڑے نماز ادا کر رہے تھے تو فرشتوں نے آپ کو بیٹے کی خوشخبری دی۔ اللہ تعالیٰ نے اس بیٹے کا نام یحییٰ بھی خود تجویز فرما دیا اور اس کی صفات بھی بیان فرما دیں جو یہ تھیں : (١) اس کا نام اللہ تعالیٰ نے خود یحییٰ رکھا اور بتلایا کہ پہلے آج تک کسی انسان کا یہ نام نہیں رکھا، (٢) کلمۃ اللہ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق کرے گا، (٣) وہ بنی اسرائیل کا سردار ہوگا اور اس قوم کی خراب حالت کی اصلاح کرے گا ( ، ٤) وہ حصور ہوگا، یعنی اس کی نہ تو عورتوں کی طرف کچھ رغبت ہوگی اور نہ گناہ کے کاموں کی طرف۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ (٥) وہ نبی ہوگا اور پاک بازلوگوں میں سے ہوگا۔ چناچہ جب حضرت زکریا نے فرشتوں کی زبانی ایسے شان والے فرزند ارجمند کی بشارت سنی تو مسرت واستعجاب کے ملے جلے جذبات سے اللہ کے حضور وہی مانع حمل اسباب بتلا دیئے جن کی وجہ سے آپ اب اولاد سے مایوس ہوچکے تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے سوال کے جواب میں یہی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ایسے مانع حمل اسباب کے باوجود اس کی قدرت رکھتا ہے اور وہ جیسے چاہے کرسکتا ہے۔ اب زکریا کا اگلا سوال یہ تھا کہ اس استقرار حمل کی کوئی علامت بتلا دی جائے، جب یہ عجیب غیر معمولی واقعہ پیش آنے والا ہو، اللہ تعالیٰ نے فرمایا علامت یہ ہے کہ آپ لوگوں سے مسلسل تین دن تک بات چیت نہ کرسکیں گے، پس ہاتھ، آنکھ اور ابرو کے اشارہ سے کلام چلائیں گے ان دنوں تمہاری زبان صرف اللہ کے ذکر پر چل سکے گی۔ لہذا ان دنوں میں صبح و شام زیادہ سے زیادہ اللہ کی تسبیح اور ذکر اذکار کرتے رہنا۔ واضح رہے کہ وحی الٰہی کی سب سے معروف صورت تو یہ ہے کہ جبریل امین نبی کے دل پر نازل ہو کر وحی کا القاء کرتا ہے۔ یا بعض اوقات کبھی انسان کی صورت میں آکر نبی سے بات چیت کرتا ہے اور یہ ایسی وحی ہوتی ہے جس کا تعلق صرف نبی سے نہیں امت سے بھی ہوتا ہے۔ لیکن یہاں ایک فرشتہ کی بجائے الملائکہ (فرشتے) کا لفظ استعمال ہوا ہے اور یہ وحی کی ایک خاص قسم ہے اور اس کا تعلق صرف مخاطب سے ہوتا ہے۔ یعنی فرشتوں کا مخاطب سے مکالمہ ہوتا ہے ایسے مخاطب کا نبی ہونا بھی ضروری نہیں ہوتا اور نہ ہی ایسی وحی کو دوسروں تک پہنچانا ضروری ہوتا ہے۔ چناچہ ایسا ہی مکالمہ فرشتوں نے حضرت مریم سے بھی کیا۔ حالانکہ وہ نبی نہیں تھیں۔ ایسی وحی کی کیا کیفیت ہے ؟ اس قسم کے متعلق کتاب و سنت میں کوئی تصریح نہیں۔ بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ انسان کی عقل اسے سمجھنے سے اور زبان اسے بیان کرنے سے قاصر ہے تو بالکل درست ہوگا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ ۔۔ : زکریا (علیہ السلام) کا تعجب اس حد تک بڑھا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے اس کی نشانی کی درخواست کردی، فرمایا کہ تمہارے لیے نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک صحیح سالم ہونے کے باوجود (ہاتھ یا ابرو وغیرہ کے) اشارے کے سوا لوگوں سے بات چیت نہ کرسکو گے، لہٰذا اس دوران تم اپنا سارا وقت اللہ تعالیٰ کے ذکر و شکر اور تسبیح میں صرف کرو۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

2. With reference to verse 41, Sayyidna Zakariyya&s purpose behind requesting a sign (of pregnancy) was to be happy at the prospect and thus be enabled to show their gratitude all along even prior to the ac¬tual birth of the child. So, Allah gave him the sign stated above. The sign given was remarkably suitable to its purpose. His request for a sign was prompted by his wish to show his gratefulness. Now, the sign set for him leaves him incapable of doing anything but this. Even a hundred signs would have not done what this one sign did and, of course, the noble purpose he had on his mind was all too well-accomplished. (Bayn al-Qur&an) The last phrase: (except through gestures) in this verse tells us that in a situation where speech is not possible because of a valid reason, gesture would be deemed as its substitute. Consequently, it appears in a hadith that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) asked a maid-servant: این اللہ ؟ I (&Where is Allah?& ). She pointed out towards the sky. He said: &This maid-servant is a Muslim.& (al-Qurtubi)

(قال ایتک الا تکلم الناس ثلثۃ ایام الا رمزا) حضرت زکریا (علیہ السلام) کا نشانی معلوم کرنے سے مقصود یہ تھا کہ ہمیں جلدی ہو، اور بچے کے پیدا ہونے سے پہلے ہی شکر میں مشغول ہوں، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ نشانی عطا کی کہ آپ تین دن تک لوگوں سے سوائے اشارے کے کوئی کلام نہیں کرسکیں گے۔ اس نشانی میں لطافت یہ ہے کہ نشانی کی درخواست سے جو ان کا مقصود تھا کہ شکر ادا کریں، نشانی ایسی تجویز کی گئ کہ بجز اس مقصود کے دوسرے کام ہی کے نہ رہیں گے، سو (١٠٠) نشانیوں کی ایک نشانی ہوگئی، اور مقصود کا مقصود بدرجہ اتم حاصل ہوگیا۔ ( بیان القرآن) (الا رمزا) اس آیت سے معلوم ہوا کہ جب کلام کرنا متعذر ہو تو اشارہ قائم مقام کلام کے سمجھا جائے گا، چناچہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک گونگی باندی سے سوال کیا کہ (این اللہ) |" اللہ کہا ہے ؟ |" تو اس نے آسمان کی طرف اشارہ کیا، حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ یہ باندی مسلمان ہے۔ (قرطبی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّيْٓ اٰيَۃً۝ ٠ ۭ قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰــثَۃَ اَيَّامٍ اِلَّا رَمْزًا۝ ٠ ۭ وَاذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِيْرًا وَّسَبِّحْ بِالْعَشِيِّ وَالْاِبْكَارِ۝ ٤١ ۧ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل ( ف ) یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ يوم اليَوْمُ يعبّر به عن وقت طلوع الشمس إلى غروبها . وقد يعبّر به عن مدّة من الزمان أيّ مدّة کانت، قال تعالی: إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 155] ، ( ی و م ) الیوم ( ن ) ی طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کی مدت اور وقت پر بولا جاتا ہے اور عربی زبان میں مطلقا وقت اور زمانہ کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ خواہ وہ زمانہ ( ایک دن کا ہو یا ایک سال اور صدی کا یا ہزار سال کا ہو ) کتنا ہی دراز کیوں نہ ہو ۔ قرآن میں ہے :إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 155] جو لوگ تم سے ( احد کے دن ) جب کہہ دوجماعتیں ایک دوسرے سے گتھ ہوگئیں ( جنگ سے بھاگ گئے ۔ رمز الرَّمْزُ : إشارة بالشّفة، والصّوت الخفيّ ، والغمز بالحاجب، وعبّر عن کلّ کلام كإشارة بالرّمز، كما عبّر عن الشّكاية بالغمز قال تعالی: قالَ : آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا رَمْزاً [ آل عمران/ 41] ، وما ارْمَازَّ ، أي : لم يتكلّم رمزا، وكتيبة رَمَّازَةٌ: لا يسمع منها إلّا رَمْزٌ من کثرتها ( ر م ز ) الرمز ( ن ) ہونٹ کے ساتھ اشارہ کرنے یا ہلکی سی آواز کے ہیں ۔ اور ابرو کے ساتھ اشارہ کرنے کو غمز کہا جاتا ہے پھر استعمال میں ہر وہ کلام جو اشارہ کی طرح ہو رمز کہلاتی ہے جیسا کہ شکایت کو غمز کہہ دیتے ہیں : ۔ قرآن میں ہے ؛ ۔ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا رَمْزاً [ آل عمران/ 41] نشانی ( جو تم مانگتے ہو ) یہ ہے کہ تین روز تک لوگوں سے بات نہ کرو مگر اشارہ سے ۔ اور ما ارماز کے معنی ہیں اس نے اشارہ سے بھی بات نہ کی اور کتیبۃ رمازۃ بڑے لشکر کو کہتے ہیں کیونکہ بوجہ کثرت ازدحام کے اس میں آواز سنائی نہیں دیتی اور صرف اشاروں سے کام لیا جاتا ہے ذكر الذِّكْرُ : تارة يقال ويراد به هيئة للنّفس بها يمكن للإنسان أن يحفظ ما يقتنيه من المعرفة، وهو کالحفظ إلّا أنّ الحفظ يقال اعتبارا بإحرازه، والذِّكْرُ يقال اعتبارا باستحضاره، وتارة يقال لحضور الشیء القلب أو القول، ولذلک قيل : الذّكر ذکران : ذكر بالقلب . وذکر باللّسان . وكلّ واحد منهما ضربان : ذكر عن نسیان . وذکر لا عن نسیان بل عن إدامة الحفظ . وكلّ قول يقال له ذكر، فمن الذّكر باللّسان قوله تعالی: لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ، وقوله تعالی: وَهذا ذِكْرٌ مُبارَكٌ أَنْزَلْناهُ [ الأنبیاء/ 50] ، وقوله : هذا ذِكْرُ مَنْ مَعِيَ وَذِكْرُ مَنْ قَبْلِي [ الأنبیاء/ 24] ، وقوله : أَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنا [ ص/ 8] ، أي : القرآن، وقوله تعالی: ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ [ ص/ 1] ، وقوله : وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ [ الزخرف/ 44] ، أي : شرف لک ولقومک، وقوله : فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ [ النحل/ 43] ، أي : الکتب المتقدّمة . وقوله قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكُمْ ذِكْراً رَسُولًا [ الطلاق/ 10- 11] ، فقد قيل : الذکر هاهنا وصف للنبيّ صلّى اللہ عليه وسلم «2» ، كما أنّ الکلمة وصف لعیسی عليه السلام من حيث إنه بشّر به في الکتب المتقدّمة، فيكون قوله : ( رسولا) بدلا منه . وقیل : ( رسولا) منتصب بقوله ( ذکرا) «3» كأنه قال : قد أنزلنا إليكم کتابا ذکرا رسولا يتلو، نحو قوله : أَوْ إِطْعامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ يَتِيماً [ البلد/ 14- 15] ، ف (يتيما) نصب بقوله (إطعام) . ومن الذّكر عن النسیان قوله : فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَما أَنْسانِيهُ إِلَّا الشَّيْطانُ أَنْ أَذْكُرَهُ [ الكهف/ 63] ، ومن الذّكر بالقلب واللّسان معا قوله تعالی: فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آباءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْراً [ البقرة/ 200] ، وقوله : فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرامِ وَاذْكُرُوهُ كَما هَداكُمْ [ البقرة/ 198] ، وقوله : وَلَقَدْ كَتَبْنا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ [ الأنبیاء/ 105] ، أي : من بعد الکتاب المتقدم . وقوله هَلْ أَتى عَلَى الْإِنْسانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئاً مَذْكُوراً [ الدهر/ 1] ، أي : لم يكن شيئا موجودا بذاته، ( ذک ر ) الذکر ۔ یہ کبھی تو اس ہیت نفسانیہ پر بولا جاتا ہے جس کے ذریعہ سے انسان اپنے علم کو محفوظ رکھتا ہے ۔ یہ قریبا حفظ کے ہم معنی ہے مگر حفظ کا لفظ احراز کے لحاظ سے بولا جاتا ہے اور ذکر کا لفظ استحضار کے لحاظ سے اور کبھی ، ، ذکر، ، کا لفظ دل یاز بان پر کسی چیز کے حاضر ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ اس بنا پر بعض نے کہا ہے کہ ، ، ذکر ، ، دو قسم پر ہے ۔ ذکر قلبی اور ذکر لسانی ۔ پھر ان میں کسے ہر ایک دو قسم پر ہے لسیان کے بعد کسی چیز کو یاد کرنا یا بغیر نسیان کے کسی کو ہمیشہ یاد رکھنا اور ہر قول کو ذکر کر کہا جاتا ہے ۔ چناچہ ذکر لسانی کے بارے میں فرمایا۔ لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا تذکرہ ہے ۔ وَهذا ذِكْرٌ مُبارَكٌ أَنْزَلْناهُ [ الأنبیاء/ 50] اور یہ مبارک نصیحت ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے ؛هذا ذِكْرُ مَنْ مَعِيَ وَذِكْرُ مَنْ قَبْلِي [ الأنبیاء/ 24] یہ میری اور میرے ساتھ والوں کی کتاب ہے اور مجھ سے پہلے ( پیغمبر ) ہوئے ہیں ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ أَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنا [ ص/ 8] کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت ( کی کتاب ) اتری ہے ۔ میں ذکر سے مراد قرآن پاک ہے ۔ نیز فرمایا :۔ ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ [ ص/ 1] اور ایت کریمہ :۔ وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ [ الزخرف/ 44] اور یہ ( قرآن ) تمہارے لئے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے ۔ میں ذکر بمعنی شرف ہے یعنی یہ قرآن تیرے اور تیرے قوم کیلئے باعث شرف ہے ۔ اور آیت کریمہ :۔ فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ [ النحل/ 43] تو اہل کتاب سے پوچھ لو ۔ میں اہل ذکر سے اہل کتاب مراد ہیں ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكُمْ ذِكْراً رَسُولًا [ الطلاق/ 10- 11] خدا نے تمہارے پاس نصیحت ( کی کتاب ) اور اپنے پیغمبر ( بھی بھیجے ) ہیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہاں الذکر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وصف ہے ۔ جیسا کہ عیسیٰ کی وصف میں کلمۃ قسم ہے اس قرآن کی جو نصیحت دینے والا ہے ۔ کا لفظ وارد ہوا ہے ۔ اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو الذکر اس لحاظ سے کہا گیا ہے ۔ کہ کتب سابقہ میں آپ کے متعلق خوش خبردی پائی جاتی تھی ۔ اس قول کی بنا پر رسولا ذکرا سے بدل واقع ہوگا ۔ بعض کے نزدیک رسولا پر نصب ذکر کی وجہ سے ہے گویا آیت یوں ہے ۔ قد أنزلنا إليكم کتابا ذکرا رسولا يتلوجیسا کہ آیت کریمہ ؛ أَوْ إِطْعامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ يَتِيماً [ البلد/ 14- 15] میں کی وجہ سے منصوب ہے اور نسیان کے بعد ذکر کے متعلق فرمایا :َفَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَما أَنْسانِيهُ إِلَّا الشَّيْطانُ أَنْ أَذْكُرَهُ [ الكهف/ 63] قو میں مچھلی ( وہیں ) بھول گیا اور مجھے ( آپ سے ) اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا ۔ اور ذکر قلبی اور لسانی دونوں کے متعلق فرمایا :۔ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آباءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْراً [ البقرة/ 200] تو ( مبی میں ) خدا کو یاد کرو جسطرح اپنے پاب دادا کیا کرتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ ۔ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرامِ وَاذْكُرُوهُ كَما هَداكُمْ [ البقرة/ 198] تو مشعر حرام ( یعنی مزدلفہ ) میں خدا کا ذکر کرو اور اسطرح ذکر کرو جس طرح تم کو سکھایا ۔ اور آیت کریمہ :۔ لَقَدْ كَتَبْنا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ [ الأنبیاء/ 105] اور ہم نے نصیحت ( کی کتاب یعنی تورات ) کے بعد زبور میں لکھ دیا تھا ۔ میں الذکر سے کتب سابقہ مراد ہیں ۔ اور آیت کریمہ ؛هَلْ أَتى عَلَى الْإِنْسانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئاً مَذْكُوراً [ الدهر/ 1] انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے کہ وہ کوئی چیز قابل ذکر نہ تھی ۔ كثر الْكِثْرَةَ والقلّة يستعملان في الكمّيّة المنفصلة كالأعداد قال تعالی: وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] ( ک ث ر ) کثرت اور قلت کمیت منفصل یعنی اعداد میں استعمال ہوتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] اس سے ان میں سے اکثر کی سر کشی اور کفر اور بڑ ھیگا ۔ سبح السَّبْحُ : المرّ السّريع في الماء، وفي الهواء، يقال : سَبَحَ سَبْحاً وسِبَاحَةً ، واستعیر لمرّ النجوم في الفلک نحو : وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] ، ولجري الفرس نحو : وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] ، ولسرعة الذّهاب في العمل نحو : إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] ، والتَّسْبِيحُ : تنزيه اللہ تعالی. وأصله : المرّ السّريع في عبادة اللہ تعالی، وجعل ذلک في فعل الخیر کما جعل الإبعاد في الشّرّ ، فقیل : أبعده الله، وجعل التَّسْبِيحُ عامّا في العبادات قولا کان، أو فعلا، أو نيّة، قال : فَلَوْلا أَنَّهُ كانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ [ الصافات/ 143] ، ( س ب ح ) السبح اس کے اصل منعی پانی یا ہوا میں تیز رفتار ری سے گزر جانے کے ہیں سبح ( ف ) سبحا وسباحۃ وہ تیز رفتاری سے چلا پھر استعارہ یہ لفظ فلک میں نجوم کی گردش اور تیز رفتاری کے لئے استعمال ہونے لگا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] سب ( اپنے اپنے ) فلک یعنی دوائر میں تیز ی کے ساتھ چل رہے ہیں ۔ اور گھوڑے کی تیز رفتار پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] اور فرشتوں کی قسم جو آسمان و زمین کے درمیان ) تیر تے پھرتے ہیں ۔ اور کسی کام کو سرعت کے ساتھ کر گزرنے پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] اور دن کے وقت کو تم بہت مشغول کا رہے ہو ۔ التسبیح کے معنی تنزیہ الہیٰ بیان کرنے کے ہیں اصل میں اس کے معنی عبادت الہی میں تیزی کرنا کے ہیں ۔۔۔۔۔۔ پھر اس کا استعمال ہر فعل خیر پر ہونے لگا ہے جیسا کہ ابعاد کا لفظ شر پر بولا جاتا ہے کہا جاتا ہے ابعد اللہ خدا سے ہلاک کرے پس تسبیح کا لفظ قولی ۔ فعلی اور قلبی ہر قسم کی عبادت پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَلَوْلا أَنَّهُ كانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ [ الصافات/ 143] قو اگر یونس (علیہ السلام) اس وقت ( خدا کی تسبیح ( و تقدیس کرنے والوں میں نہ ہوتے ۔ یہاں بعض نے مستحین کے معنی مصلین کئے ہیں لیکن انسب یہ ہے کہ اسے تینوں قسم کی عبادت پر محمول کیا جائے عشا العَشِيُّ من زوال الشمس إلى الصّباح . قال تعالی: إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحاها[ النازعات/ 46] ، والعِشَاءُ : من صلاة المغرب إلى العتمة، والعِشَاءَانِ : المغرب والعتمة «1» ، والعَشَا : ظلمةٌ تعترض في العین، ( ع ش ی ) العشی زوال آفتاب سے لے کر طلوع فجر تک کا وقت قرآن میں ہے : ۔ إِلَّا عَشِيَّةً أَوْضُحاها[ النازعات 46] گویا ( دنیا میں صرف ایک شام یا صبح رہے تھے ۔ العشاء ( ممدود ) مغرب سے عشا کے وقت تک اور مغرب اور عشا کی نمازوں کو العشاء ن کہا جاتا ہے اور العشا ( توندی تاریکی جو آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے رجل اعثی جسے رتوندی کی بیمار ی ہو اس کی مؤنث عشراء آتی ہے ۔ بكر أصل الکلمة هي البُكْرَة التي هي أوّل النهار، فاشتق من لفظه لفظ الفعل، فقیل : بَكَرَ فلان بُكُورا : إذا خرج بُكْرَةً ، والبَكُور : المبالغ في البکرة، وبَكَّر في حاجته وابْتَكَر وبَاكَرَ مُبَاكَرَةً. وتصوّر منها معنی التعجیل لتقدمها علی سائر أوقات النهار، فقیل لكلّ متعجل في أمر : بِكْر، قال الشاعر بكرت تلومک بعد وهن في النّدى ... بسل عليك ملامتي وعتاب وسمّي أول الولد بکرا، وکذلك أبواه في ولادته [إيّاه تعظیما له، نحو : بيت الله، وقیل : أشار إلى ثوابه وما أعدّ لصالحي عباده ممّا لا يلحقه الفناء، وهو المشار إليه بقوله تعالی: وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ ] «3» [ العنکبوت/ 64] ، قال الشاعر يا بکر بكرين ويا خلب الکبد «4» فبکر في قوله تعالی: لا فارِضٌ وَلا بِكْرٌ [ البقرة/ 68] . هي التي لم تلد، وسمّيت التي لم تفتضّ بکرا اعتبارا بالثيّب، لتقدّمها عليها فيما يراد له النساء، وجمع البکر أبكار . قال تعالی:إِنَّا أَنْشَأْناهُنَّ إِنْشاءً فَجَعَلْناهُنَّ أَبْکاراً [ الواقعة/ 35- 36] . والبَكَرَة : المحالة الصغیرة، لتصوّر السرعة فيها . ( ب ک ر ) اس باب میں اصل کلمہ بکرۃ ہے جس کے معنی دن کے ابتدائی حصہ کے ہیں پھر اس سے صیغہ فعل مشتق کرکے کہا جاتا ہے ۔ بکر ( ن ) فلان بکورا کسی کام کو صبح سویرے نکلنا ۔ البکور ( صیغہ مبالغہ ) بہت سویرے جانے والا ۔ بکر ۔ صبح سورے کسی کام کے لئے جانا اور بکرۃ دن کا پہلا حصہ ) چونکہ دن کے باقی حصہ پر متقدم ہوتا ہے اس لئے اس سے شتابی کے معنی لے کر ہر اس شخص کے معلق بکدرس ) فعل استعمال ہوتا ہے جو کسی معاملہ میں جلد بازی سے کام نے شاعر نے کہا ہے وہ کچھ عرصہ کے بعد جلدی سے سخاوت پر ملامت کرنے لگی میں نے کہا کہ تم پر مجھے ملامت اور عتاب کرنا حرام ہے ۔ بکر پہلا بچہ اور جب ماں باپ کے پہلا بچہ پیدا ہو تو احتراما انہیں بکر ان کہا جاتا ہے جیسا کہ بیت اللہ بولا جاتا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ ثواب الہی اور ان غیر فانی نعمتوں کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے تیار کی ہیں جس کی طرف آیت کریمہ : ۔ وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ ] «3» [ العنکبوت/ 64] اور ( ہمیشہ کی زندگی ( کا مقام تو آخرت کا گھر ہے میں اشارہ فرمایا ہے شاعر نے کہا ہے ع ( رجز ) ( 23 ) اے والدین کے اکلوتے بیٹے اور جگر گوشے ۔ پس آیت کریمہ : ۔ لا فارِضٌ وَلا بِكْرٌ [ البقرة/ 68] نہ تو بوڑھا ہو اور نہ بچھڑا ۔ میں بکر سے نوجوان گائے مراد ہے جس نے ابھی تک کوئی بچہ نہ دیا ہو ۔ اور ثیب کے اعتبار سے دو شیزہ کو بھی بکر کہا جاتا ہے کیونکہ اسے مجامعت کے لئے ثیب پر ترجیح دی جاتی ہے بکر کی جمع ابکار آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْشَأْناهُنَّ إِنْشاءً فَجَعَلْناهُنَّ أَبْکاراً [ الواقعة/ 35- 36] ہم نے ان ( حوروں ) کو پیدا کیا تو ان کو کنوار یاں بنایا ۔ البکرۃ چھوٹی سی چرخی ۔ کیونکہ وہ تیزی کے ساتھ گھومتی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

راتوں کے شمار میں دن اور دنوں کے شمار میں راتیں خودبخود آجاتی ہیں۔ قول باری ہے (قال رب اجعل لی ایۃ قال ایتک الاتکلہ الناس ثلثۃ ایام الارمزا، عرض کیا، مالک ! پھر کوئی نشانی میرے لیے مقررفرمادے، کہا نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے اشارہ کے سوا کوئی بات چیت نہ کرسکوگے) کہاجاتا ہے کہ حضرت زکریاعلیہ السلام نے وقت حمل کے لیئے نشانی طلب کی تاکہ خوشی کے حصول میں عجلت ہوجائے، انہیں یہ نشانی دی گئی کہ ان کی زبان رک گئی۔ اور وہ اشارہ کے سوالوگوں سے گفتگو کرنے کے قابل نہ رہے۔ حسن بصری ربیع اور قتادہ سے یہی مروی ہے۔ اس آیت میں قول باری ہے (ثلثۃ آیام) اور سورئہ مریم میں بعینہ اس واقعہ کے سلسلے میں ارشاد ہے۔ (ثلث لیال سویا۔ تین پوری راتیں) اللہ تعالیٰ نے اس مدت کو کبھی دنوں کے ذکر سے تعبیر کیا اور کبھی راتوں کے ذکر سے۔ اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ رات اور دن کی تعداد میں سے جس کسی کا بھی علی الاطلاق ذکر ہوگا۔ دوسرے وقت کی تعدادخودبخود سمجھ میں آجاتا ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ جب اللہ تعالیٰ نے راتوں اور دنوں کے درمیان فرق کرنا چاہاتو دونوں کا علیحدہ علیحدہ ذکر کیا۔ ارشادہوا (سبع لیال وثمانیۃ ایام حسوما، منحوس سات راتیں اور آٹھ دن) اس لیے کہ اگر پہلے عدد کے ذکرپراقتصارہوتا تو دوسرے وقت سے بھی اسی جیسا مفہوم سمجھ میں آجاتا۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤١) حضرت زکریا (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے میرے رب ! میری بیوی کے حمل ٹھہرجانے پر کوئی ظاہری نشانی مقرر فرما دیجیے، ارشاد باری ہوا کہ تمہاری بیوی کے حاملہ ہونے پر تمہارے لیے نشانی یہ ہے کہ تم لوگوں سے کچھ عرصہ تک بات نہ کرسکو گے اور اس میں گونگے ہونے کا کوئی عیب نہ ہوگا، سوائے ہونٹوں، آنکھوں اور ہاتھوں سے اشارہ کرنے کے یا یہ کہ زمین وغیرہ پر لکھ کر وضاحت کرنے کے۔ سو اپنے رب کو دل اور زبان سے بکثرت یاد کیجیے اور صبح وشام نماز پڑھتے رہنا جیسا کہ پڑھتے ہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤١ (قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْ اٰیَۃً ط) ۔ مجھے معلوم ہوجائے کہ واقعی ایسا ہونا ہے اور یہ کلام جو میں سن رہا ہوں واقعتا تیری طرف سے ہے۔ (قَالَ اٰیَتُکَ اَلاَّ تُکَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَۃَ اَیَّامٍ الاَّ رَمْزًا ط) ۔ یعنی ان کی قوت گویائی سلب ہوگئی اور اب وہ تین دن کسی سے بات نہیں کرسکتے تھے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

41. Here the request is made for some specific sign to be given by means of which Zechariah would come to know in advance when the unusual incident of the birth of a child to a couple, where the male was old and the female both old and barren, would take place. 42. The real purpose of this discourse is to disclose to the Christians the error of their belief in Jesus as God and as the son of God. The subject is introduced by mentioning the birth of John (peace be on him) , anothermiraculous birth which had taken place only six months before the birth of the Messiah (peace be on him) and among his own relatives. God wants to make the Christians ask themselves why the miraculous birth of Jesus should make him God when the similarly miraculous birth of John did not make him so.

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :41 یعنی ایسی علامت بتادے کہ جب ایک پیر فرتوت اور ایک بوڑھی بانجھ کے ہاں لڑکے کی ولادت جیسا عجیب غیر معمولی واقعہ پیش آنے والا ہو تو اس کی اطلاع مجھے پہلے سے ہو ۔ سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :42 اس تقریر کا اصل مقصد عیسائیوں پر ان کے اس عقیدے کی غلطی واضح کرنا ہے کہ وہ مسیح علیہ السلام کو خدا کا بیٹا اور الٰہ سمجھتے ہیں ۔ تمہید میں حضرت یحییٰ علیہ السلام کا ذکر اس وجہ سے فرمایا گیا ہے کہ جس طرح مسیح علیہ السلام کی ولادت معجزانہ طور پر ہوئی تھی اسی طرح ان سے چھ ہی مہینہ پہلے اسی خاندان میں حضرت یحییٰ کی پیدائش بھی ایک دوسری طرح کے معجزے سے ہو چکی تھی ۔ اس سے اللہ تعالیٰ عیسائیوں کو یہ سمجھانا چاہتا ہے کہ اگر یحیٰی علیہ السلام کو ان کی اعجازی ولادت نے الٰہ نہیں بنایا تو مسیح علیہ السلام محض اپنی غیر معمولی پیدائش کے بل پر الٰہ کیسے ہو سکتے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

16: حضرت زکریا (علیہ السلام) کا مقصد یہ تھا کہ کوئی نشانی معلوم ہوجائے جس سے یہ پتہ چل جائے کہ اب حمل قرار پاگیا ہے تاکہ وہ اسی وقت سے شکر ادا کرنے میں لگ جائیں اللہ تعالیٰ نے یہ نشانی بتلائی کہ جب حمل قرار پائے گا تو تم پر ایسی حالت طاری ہوجائے گی کہ تم اللہ کے ذکر اور تسبیح کے سوا کسی کسے کوئی بات نہیں کرسکوگے اور بات کرنے کی ضرورت پیش آئے تواشاروں سے کرنی ہوگی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:41) العشی۔ شام۔ سورج ڈھلے۔ بعد زوال۔ دن کا پچھلا وقت۔ زوال سے لے کر صبح تک کا وقت۔ نماز مغرب سے لے کر عشاء کی نماز تک کا وقت۔ الابکار۔ صبح بروزن افعال اسم ہے۔ فائدہ نمبر 1: آیات نمبر 40 اور 41 میں کلام مابین زکریا اور اللہ تعالیٰ ہے۔ اس لئے سوال منجانب زکریا (علیہ السلام) ہے اور جواب منجانب اللہ تعالیٰ ہے۔ فائدہ نمبر 2: حضرت یحییٰ کا شجرہ نسب کچھ یوں بنتا ہے۔ (حضرت) داؤد ام مریم حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہمشیرہ مریم مریم (حضرت) حضرت زکریا (علیہ السلام) حضرت یحییٰ (علیہ السلام) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یعنی تم تین دن تک صحیح سالم ہونے کے باجود ہاتھ یا ابرو کے اشارے کے سوا لوگوں سے بات چیت نہ کرسکو گے۔ اس حال میں تم اپنا سارا وقت اللہ تعالیٰ کے ذکر و شکر اور تسبیح میں صرف کرو۔ (ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

لیکن حضرت زکریا کا را ہوار شوق سرپٹ دوڑ رہا تھا ‘ بہرحال وہ بھی انسان تھے اچانک خوشخبری سن کر پریشان ہوگئے تھے ۔ انہوں نے اپنے رب سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے لئے اس اعجوبے کے ظہور کے لئے کوئی علامت مقرر فرمادیں تاکہ وہ مطمئن ہوکر انتظار کریں ۔ قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِي آيَةً……………” میرے رب میرے لئے کوئی نشانی مقرر کردے ۔ “………اب اللہ تعالیٰ ان کے لئے حقیقی اطمینان کا انتظام فرماتے ہیں ۔ خود انہیں ان کی روز مرہ معمولات کے دائرے سے ذرا باہر لایا جاتا ہے ۔ قرار دیا جاتا ہے کہ علامت یہ ہوگی کہ تین دن کے لئے تیری زبان بند ہوجائے گی ‘ وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوں گے ‘ بات نہ کرسکیں گے ۔ صرف اپنے رب کی طرف متوجہ ہوں گے ‘ اللہ کا ذکر کریں گے اور اس کی تسبیح وتہلیل کریں گے ۔ قَالَ آيَتُكَ أَلا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ إِلا رَمْزًا وَاذْكُرْ رَبَّكَ كَثِيرًا وَسَبِّحْ بِالْعَشِيِّ وَالإبْكَارِ ” کہا :” نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے اشارہ کے سواء کوئی بات نہ کرسکوگے ۔ اس دوران میں اپنے رب کو بہت یاد کرنا اور صبح وشام اس کی تسبیح کرتے رہنا ۔ “………یہاں قرآن مجید خاموش ہوجاتا ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ واقعہ عملاً ایسا ہوا ۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) کی زبان بند ہوگئی۔ اور وہ تمام روز مرہ کی زندگی سے نکل آئے ۔ لوگوں کی روز مرہ زندگی کا قانون بھی معطل ہوگیا۔ دیکھو اس کی یہی زبان تھی جو زور سے چلتی تھی ۔ آج بند ہے ۔ لوگوں سے بات بند ہے اور اللہ سے مناجات جاری ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اب وہ کس قانون فطرت پر جارہے ہیں ؟ وہ قانون یہ ہے کہ الٰہ مطلق کی مشیئت ہر قید وبند سے آزاد ہے ۔ اگر ہم اپنی زندگی میں یہ اصول تسلیم نہ کریں گے تو پھر ان خوارق عادت معاملات کی اور کیا توجیہ کرسکتے ہیں ۔ ہم اس بوڑھے اور عمر رسیدہ عورت کے ہاں اولاد کی پیدائش کی اور کیا توجیہ کرسکتے ہیں۔ یہ خارق عادت واقعہ یہاں اس لئے بیان کیا گیا کہ آگے عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا اصل خارق واقعہ بیان کیا جائے ۔ جس کی وجہ سے بیشمار شبہات اور ناقابل یقین نظریات وجود میں آگئے تھے ۔ پیدائش مسیح (علیہ السلام) دراصل اللہ کی تعالیٰ کی بےقید مشیئت کے سلسلہ واقعات میں سے ایک واقعہ تھا ۔ یہاں سے پیدائش مسیح کا واقعہ شروع کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے حضرت مریم کو اس روذح کی قبولیت کے لئے ‘ عبادت اور رجوع الی اللہ کے ذریعہ پاک کیا جاتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

59 :۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے گھر میں حمل کی علامت یہ وگی کہ تم متواتر تین دن تک لوگوں سے بات چیت نہیں کرسکو گے۔ تمہاری زبان بند ہوجائے گی اور تین دن صرف اشاروں ہی سے کام چلاؤگے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ انہ تعالیٰ حبس لسانہ ثلثۃ ایام فلم یقدران یکلم الناس الا رمزا (کبیر ج 2 ص 668) 60 زوال آفتاب سے غروب تک کو عشی اور صبح صادق سے چاشت تک کو ابکار کہتے ہیں۔ تسبیح سے بعض مفسرین نے نماز مراد لی ہے اور بعض نے ذکر سے ذکر قلبی اور تسبیح سے ذکر لسانی مراد لیا ہے۔ مطلب یہ کہ ان ایام میں شکر نعمت کے طور پر صبح شام زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا۔ نتیجہ : حضرت زکریا (علیہ السلام) نے بیٹے کی اللہ سے دعا کی۔ جب بیٹے کی خوشخبری ملی تو اللہ کی قدرت کاملہ پر تعجب کا اظہار کیا یہ چیزیں عجز و احتیاج اور نقصان قدرت پر دلالت کرتی ہیں۔ پھر بیوی کے حاملہ ہونے کی اللہ سے علامت دریافت کرتے ہیں۔ جو نقصان علم کی دلیل ہے۔ اس لیے وہ معبود ومستعان بننے کے لائق نہیں ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2۔ اس بشارت کو سن کر حضرت زکریا نے عرض کیا اے پروردگار ! میرے ہاں لڑکا کس طرح ہوگا اور اس کے ہونے کی صورت کیا ہوگی کیونکہ میری حالت تو یہ ہے کہ مجھ کو بڑھانے نے آلیا ہے اور میری بیوی بھی بڑھاپے کی وجہ سے بچہ جننے کے قابل نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اسی طرح اسی حالت میں کہ تم بوڑھے ہو اور تمہاری بیوی بانجھ ہے تمہارے ہاں لڑکا ہوجائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔ اس پر حضرت زکریا نے عرض کیا اے میرے پروردگار ! میرے لئے کوئی نشانی مقرر کر دیجئے یعنی کوئی ایسی نشانی جس سے مجھے حمل کا قرار پانا معلوم ہو سکے۔ اس پر ارشاد ہوا ، تمہاری نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے سوائے اشارے کے کوئی بات چیت نہ کرسکو گے اور تم اپنے رب کو بکثرت یاد کرتے رہنا اور شام و صبح اس کی تسبیح و پاکی بیان کرتے رہنا ۔ ( تیسیر) عاقر مرد کو بھی کہتے ہیں اور عورت کو بھی کہتے ہیں ۔ عاقر سے مراد وہ عورت ومرد جن کے اولاد نہ ہو ۔ رمز کے معنی ہیں ہاتھ یا سر کے اشارے سے کسی بات کا جواب دینا ہونٹوں کی حرکت سے کچھ کہنا عشی زوال کے وقت سے لے کر صبح صادق یا رات کے کچھ حصہ تک کے وقت کو کہتے ہیں ، یہ لفظ ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء کے وقت تک کو شامل ہے۔ ابکار صبح صادق سے لے کر چاشت تک کے وقت کو شامل ہے۔ حضرت زکریا کا انی یکون لی غلام کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کیفیت دریافت کرنا چاہتے تھے کہ آخر اس کی صورت کیا ہوگی۔ میں بوڑھا میری ایک سو بیس سال کی عمر ، میر بیوی اٹھانوے سال کی بڑھیا کسی دوسرے بیوی سے لڑکا ہوگا یا اسی سے ہوگا یہ جوان کردی جائے گی یا مجھ کو از سر نوجوان بنایا جائے گا ۔ کیا شکل ہوگی اس کا جواب دیا گیا کہ اسی حالت میں ہوجائے گی کیونکہ ہم جس کام کو کرنا چاہتے ہیں اسے کر گزرتے ہیں ۔ نشانی طلب کرنا شاید اس غرض سے ہو کہ خوشی حاصل ہونے میں جلدی ہو نیز علامت ظاہر ہوتے ہی آپ کا شکر بجا لائوں اور شکر کی بجا آوری میں مشغول ہو جائوں ۔ سورۂ مریم میں تین رات فرمایا اور یہاں تین دن اس کا مطلب یہ ہے کہ تین دن رات مسلسل چپ لگ ۔۔۔ جائے گی ۔ نشانی بھی ایسی عنایت فرمائی کہ سوائے شکر کے جوان کا مقصود تھا اور کوئی بات نہ کرسکیں ۔ بعض حضرات نے کلام نہ کرنے کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ تین دن رات تم کسی سے کلام نہ کرنا مگر اشارے سے اگرچہ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ قوت گویائی باقی رہے اور کلام کی ممانعت کردی گئی ہو لیکن بظاہر یہی ہے اور نشانی یہی ہوسکتی ہے کہ قوت گویائی سلب کرلی جائے گویا عدم کلام اضطراری تھا اختیاری نہیں اس لئے ہم نے ترجمہ اور تیسیر میں اس جانب اشارہ کیا ہے کہ تم بات چیت نہ کرسکو گے یعنی کلام کرنے کی قدرت ہی باقی نہ رہے گی ۔ اور ایک لطیف اشارہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہماری نشانی یہ ہے کہ جس عضو کو تم کار آمد سمجھ رہے ہو اس کو بےکار کردیں گے اور جس عضو کو تم بےکار سمجھ رہے ہو اس کو کار آمد کردیں گے ۔ آگے ذکر اور تسبیح کی تاکید فرمائی۔ ذکر سے مرادقلبی ذکر بھی ہوسکتی ہے اور ذکر لسانی بھی مراد ہوسکتا ہے اگرچہ ان کا خود بھی مقصد نشانی سے یہی تھا کہ میں شکر کی بجا آوری سے مشغول ہو جائوں لیکن ذکر الٰہی کی اہمیت کے لحاظ سے اس کی تاکید فرمائی۔ صبح شام کا مطلب یہ ہے کہ ضروریات کو مستثنا کر کے ہر وقت ذکر الٰہی اور تسبیح الٰہی میں مشغول رہو، کیونکہ لوگوں سے گفتگو کرنے کے لئے زبان بند کی گئی تھی لیکن جب ذکر الٰہی اور تسبیح الٰہی کرنا چاہئے تو زبان اپنا کام کرتی تھی۔ مفسرین کے اور بھی مختلف اقوال ہیں لیکن ان کو نقل کرنا ایک غیر ضروری تطویل ہوگا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پھر جب حضرت یحییٰ ماں کے پیٹ میں پڑے تو حضرت زکریا کی تین دن یہی حالت رہی کہ آدمی سے کلام نہ کرسکتے اس وقت ان کی عمر ایک کم سو برس کی تھی اور ان کی عورت کی عمر دو کم سو اور ان ہی دنوں میں حضرت مریم کے پیٹ سے حضرت عیسیٰ پیدا ہوئے۔ ( موضح القرآنض ہم نے اوپر عرض کیا تھا کہ یا تو حضرت زکریا ہمیشہ بےاولاد تھے یا صرف لڑکیاں ہوتیں تھیں لڑکا کوئی نہ تھا۔ بہر حال حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا جن دنوں قصہ ہوا وہ دن ایسے تھے کہ جب اولاد کا کوئی وہم و گمان ہی نہیں ہوسکتا تھا۔ اب آگے حضرت مریم اور انکے ہاں حضر ت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پیدا ہونے کا ذکر ہے دونوں پیغمبر حضرت یحییٰ اور حضر ت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر اس لئے ساتھ کیا گیا کہ اول تو یہ ایک ہی زمانے میں تھے دوسرے یہ کہ ان دونوں کی پیدائش میں اہل عالم کے لئے ایک بہت بڑا معجزہ اور بڑی نشانی تھی چھ مہینے پہلے حضرت یحییٰ کا واقعہ ہوچکا تھا چھ مہینے بعد حضرت عیسیٰ کا واقعہ ہوا اور یہ دونوں واقعے محض خرق عادت کے طور پر معجزانہ شکل میں ہوئے ایک جگہ ماں باپ تھے مگر بےکار اور دوسرے موقعہ پر صرف ماں ہی سے پیدائش ہوئی اور یہ قصے خاص طور پر نجران کے عیسائی وفد کو سنائے کہ حضرت عیسیٰ کو محض بن باپ کے پیدا ہونے سے خدا کی الوہیت میں شریک کرنا بالکل بےمعنی اور کھلی گمراہی ہے اگر بلا اسباب کے کسی بچہ کا پیدا ہونے اس کا خدا کا بیٹا یا خدا کا ہمسر بنا سکتا ہے تو تم لوگ حضرت یحییٰ کے متعلق اس عقیدہ کا اظہار کیوں نہیں کرتے حالانکہ ان دونوں بچوں کی پیدائش کا ایک ہی سا طریقہ اور انداز ہے۔ ( تسہیل)