The tafseer of Surat ul Aeyraaf, verse 10, from every tafseer on this site - read one or compare them with each other.
All Bounties in the Heavens and Earth are for the Benefit of Mankind Allah says; وَلَقَدْ مَكَّنَّاكُمْ فِي الاَرْضِ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَايِشَ قَلِيلً مَّا تَشْكُرُونَ And surely, We gave you authority on the earth and appointed for you therein livelihoods. Little thanks do you give. Allah reminds of His favor on His servants in that He made the earth a fixed place for dwelling, placed firm mountains and rivers on it and made homes and allowed them to utilize its benefits. Allah made the clouds work for them (bringing rain) so that they may produce their sustenance from them. He also created the ways and means of earnings, commercial activities and other professions. Yet, most of them give little thanks for this. Allah said in another Ayah, وَإِن تَعُدُّواْ نِعْمَةَ اللَّهِ لاَ تُحْصُوهَا إِنَّ الانْسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ And if you count the blessings of Allah, never will you be able to count them. Verily, man is indeed a wrongdoer, an ingrate. (14:34)
اللہ تعالیٰ کے احسانات اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرما رہا ہے کہ اس نے زمین اپنے بندوں کے رہنے سہنے کیلئے بنائی ۔ اس میں مضبوط پہاڑ گاڑ دیئے کہ ہلے جلے نہیں اس میں چشمے جاری کئے اس میں منزلیں اور گھر بنانے کی طاقت انسان کو عطا فرمائی اور بہت سے نفع کی چیزیں اس لئے پیدائش فرمائیں ۔ ابر مقرر کر کے اس میں سے پانی برسا کر ان کے لئے کھیت اور باغات پیدا کئے ۔ تلاش معاش کے وسائل مہیا فرمائے ۔ تجارت اور کمائی کے طریقے سکھا دیئے ۔ باوجود اس کے اکثر لوگ پوری شکر گذاری نہیں کرتے ایک آیت میں فرمان ہے ( وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 18 ) 16- النحل ) یعنی اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننے بیٹھو تو یہ بھی تمہارے بس کی بات نہیں ۔ لیکن انسان بڑا ہی ناانصاف اور ناشکرا ہے معایش تو جمہور کی قرأت ہے لیکن عبدالرحمن بن ہرمز اعرج معایش پڑھتے ہیں اور ٹھیک وہی ہے جس پر اکثریت ہے اس لئے کہ ( معایش ) جمع ہے ( معیشتہ ) کی ۔ اس کا باب ( عاش یعیش عیشا ) ہے ( معیشتہ ) کی اصل ( معیشتہ ) ہے ۔ کسر ہے پر تقلیل تھا نقل کر کے ماقیل کو دیا ( معیشتہ ) ہو گیا لیکن جمع کے وقت پھر کسر ہے پر آ گیا کیونکہ اب ثقل نہ رہا پس مفاعل کے وزن پر ( معایش ) ہو گیا کیونکہ اس کلمہ میں یا اصلی ہے ۔ بخلاف مدائین ، صہائف اور بصائر کے جو مدینہ ، صحیفہ اور بصیرہ کی جمع ہے باب مدن صحف اور ابصر سے ان میں چونکہ یا زائد ہے اس لئے ہمزہ دی جاتی ہے اور مفاعل کے وزن پر جمع آتی ہے ۔ واللہ اعلم ۔
[٨] یعنی انسان پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اس قدر زیادہ ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی بھی ایک کم کردیا جائے مثلاً ہوا کا وجود ہی ختم ہوجائے یا دھوپ کبھی نہ نکلے تو اس دنیا میں اس کا جینا محال ہوجائے ان احسانات کا بدلہ تو یہ ہونا چاہیے کہ انسان اللہ کے شکر گزار بندے بن جاتے مگر ایسا خیال کم ہی لوگوں کو آتا ہے۔
وَلَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِي الْاَرْضِ ۔۔ : اوپر کی آیات میں انذار وتبشیر کے ساتھ لوگوں کو انبیاء کی دعوت قبول کرنے کی ترغیب دی اور ترغیب میں نعمتوں کی کثرت کی طرف اشارہ تھا، اب یہاں سے نعمتوں کے بیان کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، ساتھ ہی شیطان کے حسد اور انسان کو اللہ کی نعمتوں سے محروم کرنے کی جد و جہد کا ذکر ہے، تاکہ ہم اس سے بچ سکیں۔
وَلَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِي الْاَرْضِ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيْہَا مَعَايِشَ ٠ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ ١٠ ۧ مكن المَكَان عند أهل اللّغة : الموضع الحاوي للشیء، قال : وَلَقَدْ مَكَّنَّاكُمْ فِي الْأَرْضِ [ الأعراف/ 10] وقوله : ذِي قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ [ التکوير/ 20] أي : متمکّن ذي قدر ومنزلة . ومَكِنَات الطّيرِ ومَكُنَاتها : مقارّه، والمَكْن : بيض الضّبّ ، وبَيْضٌ مَكْنُونٌ [ الصافات/ 49] . قال الخلیل المکان مفعل من الکون، ولکثرته في الکلام أجري مجری فعال «فقیل : تمكّن وتمسکن، نحو : تمنزل . ( م ک ن ) المکان اہل لغت کے نزدیک مکان اس جگہ کو کہتے ہیں جو کسی جسم پر حاوی ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ وَلَقَدْ مَكَّنَّاكُمْ فِي الْأَرْضِ [ الأعراف/ 10] اور ہم نے زمین میں تمہارا ٹھکانا بنایا ۔ أَوَلَمْ نُمَكِّنْ لَهُمْ [ القصص/ 57] کیا ہم نے ان کو جگہ نہیں دی ۔ وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ [ القصص/ 6] اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضى لَهُمْ [ النور/ 55] اور ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے ۔ مستحکم وپائیدار کرے گا ۔ فِي قَرارٍ مَكِينٍ [ المؤمنون/ 13] ایک مضبوط اور محفوظ جگہ میں ۔ اور امکنت فلانا من فلان کے معنی کسی کو دوسرے پر قدرت دینے کے ہیں مکان و مکانہ جگہ اور حالت کو کہتے ہیں قرآن میں ہے ۔ اعْمَلُوا عَلى مَكانَتِكُمْ [هود/ 93] اپنی جگہ پر عمل کئے جاؤ ۔ ایک قراءت میں مکانا تکم بصیغہ جمع ہے اور آیت کریمہ : ۔ ذِي قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ [ التکوير/ 20] جو صاحب قوت مالک عرش کے ہاں اونچے در جے والا ہے ۔ میں مکین بمعنی متمکن یعنی صاحب قدر ومنزلت ہے : ۔ پرندوں کے گھونسلے ۔ المکن سو سماروں وغیرہ کے انڈے ۔ آیت کریمہ : ۔ وبَيْضٌ مَكْنُونٌ [ الصافات/ 49] محفوظ انڈے ۔ خلیل کا قول ہے کہ لفظ مکان ( صیغہ ظرف ) مفعل کے وزن پر ہے اور یہ کون سے مشتق ہے پھر کثیر الاستعمال ہونے کی وجہ سے اسے فعال کا حکم دے کر اس سے تمکن وغیرہ مشتقات استعمال ہوئی ہیں ۔ جیسے منزل سے تمنزل وغیرہ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ عيش العَيْشُ : الحیاة المختصّة بالحیوان، وهو أخصّ من الحیاة، لأنّ الحیاة تقال في الحیوان، وفي الباري تعالی، وفي الملک، ويشتقّ منه المَعِيشَةُ لما يُتَعَيَّشُ منه . قال تعالی: نَحْنُ قَسَمْنا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَياةِ الدُّنْيا[ الزخرف/ 32] ، مَعِيشَةً ضَنْكاً [ طه/ 124] ، لَكُمْ فِيها مَعايِشَ [ الأعراف/ 10] ، وَجَعَلْنا لَكُمْ فِيها مَعايِشَ [ الحجر/ 20] . وقال في أهل الجنّة : فَهُوَ فِي عِيشَةٍ راضِيَةٍ [ القارعة/ 7] ، وقال عليه السلام : «لا عَيْشَ إلّا عَيْشُ الآخرة ( ع ی ش ) العیش خاص کر اس زندگی کو کہتے ہیں جو حیوان میں پائی جاتی ہے اور یہ لفظ الحیاۃ سے اض ہے کیونکہ الحیاۃ کا لفظ حیوان باری تعالیٰ اور ملائکہ سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور العیش سے لفظ المعیشۃ ہے جس کے معنی ہیں سامان زیست کھانے پینے کی وہ تمام چیزیں جن زندگی بسر کی جاتی ہے قرآن میں ہے : ۔ نَحْنُ قَسَمْنا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَياةِ الدُّنْيا[ الزخرف/ 32] ہم نے ان میں ان کی معیشت کو دنیا کی زندگی میں تقسیم کردیا ۔ مَعِيشَةً ضَنْكاً [ طه/ 124] اس کی زندگی تنگ ہوجائے گی ۔ وَجَعَلْنا لَكُمْ فِيها مَعايِشَ [ الحجر/ 20] اور ہم ہی نے تمہارے لئے اس میں زیست کے سامان پیدا کردیئے ۔ لَكُمْ فِيها مَعايِشَ [ الأعراف/ 10] تمہارے لئے اس میں سامان زیست ۔ اور اہل جنت کے متعلق فرمایا : ۔ فَهُوَ فِي عِيشَةٍ راضِيَةٍ [ القارعة/ 7] وہ دل پسند عیش میں ہوگا ۔ اور (علیہ السلام) نے فرمایا ( 55 ) الا عیش الا عیش الاخرۃ کہ حقیقی زندگی تو آخرت کی زندگی ہی ہے ۔ شكر الشُّكْرُ : تصوّر النّعمة وإظهارها، قيل : وهو مقلوب عن الکشر، أي : الکشف، ويضادّه الکفر، وهو : نسیان النّعمة وسترها۔ والشُّكْرُ ثلاثة أضرب : شُكْرُ القلب، وهو تصوّر النّعمة . وشُكْرُ اللّسان، وهو الثّناء علی المنعم . وشُكْرُ سائر الجوارح، وهو مکافأة النّعمة بقدر استحقاقه . وقوله تعالی: اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] ، ( ش ک ر ) الشکر کے معنی کسی نعمت کا تصور اور اس کے اظہار کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ کشر سے مقلوب ہے جس کے معنی کشف یعنی کھولنا کے ہیں ۔ شکر کی ضد کفر ہے ۔ جس کے معنی نعمت کو بھلا دینے اور اسے چھپا رکھنے کے ہیں شکر تین قسم پر ہے شکر قلبی یعنی نعمت کا تصور کرنا شکر لسانی یعنی زبان سے منعم کی تعریف کرنا شکر بالجوارح یعنی بقدر استحقاق نعمت کی مکافات کرنا ۔ اور آیت کریمہ : اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] اسے داود کی آل میرا شکر کرو ۔
(١٠) ہم نے تمہیں زمین کی بادشاہت دی اور تمہارے کھانے پینے اور پہننے کے لیے اسباب مہیا کیے، پھر نہ تم معمولی چیز پر شکر کرتے ہو اور نہ زیادہ پر، یا یہ کہ اتنے انعامات کے باوجود تم لوگ بہت ہی کم شکر کرنے والے ہو اور ہم نے تمہیں حضرت آدم (علیہ السلام) سے اور آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا۔
آیت ١٠ (وَلَقَدْ مَکَّنّٰکُمْ فِی الْاَرْضِ وَجَعَلْنَا لَکُمْ فِیْہَا مَعَایِشَ ط قَلِیْلاً مَّا تَشْکُرُوْنَ ) تم لوگوں کو تو ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ زمین کے وسائل انسان کے مسلسل استعمال سے ختم نہ ہوجائیں ‘ انسانی و حیوانی خوراک کا قحط نہ پڑجائے۔ مگر تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ کے خزانے ختم ہونے والے نہیں ہیں۔ ہم نے تمہیں اس زمین میں بسایا ہے تو یہاں تمہارے معاش کا پورا پورا بندوبست بھی کیا ہے۔ اس دنیوی زندگی میں تمہاری اور تمہاری آئندہ نسلوں کی ہر قسم کی جسمانی ضرورتیں یہیں سے پوری ہوں گی۔ اس موضوع کی اہمیت کے پیش نظر اگلے (دوسرے) رکوع میں بھی اسی مضمون یعنی تمکن فی الارض کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔
(10 ۔ 12) ۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان احسانوں کو جتایا ہے جو اس نے اپنے بندوں پر کئے ہیں تاکہ بندے ان احسانوں کے شکر گذرا ہوجاویں اور سوا اللہ کے اوروں کی پرستش چھوڑ دیویں اس لئے فرماتا ہے کہ ہم نے تم کو زمین میں رہنے اور گھر بنانے کی جگہ دی مکان بنانے کے باغ لگانے کی کھیتی کرنے کی تم کو عقل دی زمین کی مضبوطی کے لئے پہاڑ پیدا کئے زمین کی سر سبزی کے لئے نہریں بہادیں کھیتی سودا گری کے ہزارہا سامان معاش کے تمہارے لئے زمین میں پیدا کردئے باوجود اس کے تمہاری یہ ناشکری ہے کہ ایسے بڑے مالک کو چھوڑ کر اوروں کو پوجا کرتے ہو علاوہ اس کے تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کو یہ بزرگی عطا فرمائی کہ تمام فرشتوں کو حکم سجدہ کرنے کا دیا سب فرشتوں نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کیا اور حکم پروردگار کا مانا مگر ابلیس نے کہ وہ تمہارے باپ سے عدادت رکھتا تھا بسبب حسد کے آدم کو سجدہ نہ کیا اور عدول حکمی کی ابلیس تمہارا موروثی دشمن ہے تم اس سے بچتے رہو اور اس کا کہنا ہرگز نہ مانو سورة زخرف میں آویگا کہ دنیوی معاش میں اللہ تعالیٰ نے بعضے لوگوں کو خوشحال اور بعضوں کو تنگ حال جو رکھا ہے اس سے دنیا کا یہ انتظام مدنظر ہے کہ تنگ حال لوگوں کو خوش حال لوگوں کے روپے پیسے کی ضورت رہے خوش حال لوگوں کو تنگ حال لوگوں کے کام کاج کی ضرورت رہے غرض دنیا میں سب لوگ یکساں ہوتے تو دنیا کا انتظام نہ چل سکتا اس انتظام کے موافق جس کی جیسی معاش ہو اس کے موافق ہر شخص کو اس کا شکر ادا کرنا چاہئے معتبر سند سے مسند امام احمد میں نعمان بن بشیر (رض) کی روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے تھوڑی معاش کو اللہ کے نعمت جان کر اس کا شکرادا نہیں کیا وہ زیادہ معاش کا بھی شکر ادا نہ کرسکے گا۔ معتبر سند سے مسند امام احمد میں محمود بن لبید (رض) کی حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لوگ معاش کی کمی سے گھبراتے ہیں یہ نہیں جانتے کہ جس کی معاش دنیا میں کم ہوگی اس پر قیامت کے حساب کی بار بھی کم ہوگا اس سے معلوم ہوا کہ جس شخص کی معاش زیادہ ہے اس پر دنیا میں شکر گذراری کا اور عقبے میں حساب کا بار بھی زیادہ ہے۔ معتبر سند سے مسند امام احمد اور مستدرک حاکم میں ابودرواء کی حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ معاش کی خوش حالی جس سے آدمی دین سے غافل ہوجاوے ایسی معاش کی خوش حالی سے معاش کی تنگ حالی بہتر ہے ان حدیثوں کو پہلی آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے۔ معتبر سند سے ترمذی مسند امام احمد مستدرک حاکم وغیرہ میں حضرت عمر (رض) کی روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پیدا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کی پشت سے تمام بنی آدم کی جنتی اور دوزخی روحوں کو الگ نکالا اور فرمایا کہ یہ روحیں جنتی لوگوں کی ہیں اور یہ دوزخی لوگوں کی معتبر سند سے مسند امام احمد ترمذی اور ابوداؤد میں ابوموسیٰ اشعری (رض) کی روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حضرت آدم ( علیہ السلام) کے پتلے کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمام زمین کی مٹی لی ہے اسی واسطے ان کی اولاد میں کوئی گورا ہے کوئی کالا کوئی نرم مزاج ہے کوئی سخت مزاج حاصل کلام یہ ہے کہ ان حدیثوں کے موافق حضرت آدم کی پشت میں تمام بنی آدم کی روحیں پیدا کی گئی تھیں اور حضرت آدم ( علیہ السلام) کے جسم میں تمام بنی آدم کے جسموں کا مادہ رکھا گیا تھا اسی واسطے ایک حضرت آدم ( علیہ السلام) کی پیدائش کو خلقناکم ثم صورناکم فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ابو بشر حضرت آدم ( علیہ السلام) کی پیدائش گویا تمام بنی آدم کی پیدائش کی بنیاد ہے سورة بقر میں حضرت عائشہ (رض) کی حدیث صحیح مسلم کے حوالہ سے گذر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا فرشتے نور سے پیدا کئے گئے ہیں اور ابلیس آگ کے شعلہ سے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابلیس ملائکہ میں سے نہیں ہے۔ اس کی زیادہ تفصیل اور فرشتوں نے جو حضرت آدم ( علیہ السلام) کو سجدہ کیا ہے اس کی تفصیل سورة بقر میں گذر چکی ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں ہے لیکن خود ابلیس ملعون کی زبان سے تکبر کا اقرار کرانے کے لیے اس ملعون سے اللہ تعالیٰ نے پوچھا کہ جب تجھ کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا تو پھر تجھ کو کس چیز نے روکا کہ تو نے اللہ کے حکم کے موافق سجدہ نہیں کیا اس پر اس ملعون نے وہ تکبر کا جواب دیا جو آگے کی آیت میں ہے :۔
(7:10) مکنکم۔ ماضی جمع متکلم۔ تمکین (تفعیل) مصدر۔ ہم نے ان کو جماؤ عطا کیا۔ ہم نے ان کو با اقتدار بنایا۔ ہم نے ان کو آباد کیا۔ معایش۔ معیشۃ کی جمع۔ سامان زندگی۔ زندہ رہنے کے اسباب۔
3۔ مراد شکر سے اطاعت ہے۔
فہم القرآن ربط کلام : پہلی آیات میں قیامت کے دن اعمال کا وزن کرنے، انبیاء اور امتوں سے ان کے کردار کے بارے میں پوچھ گچھ کرنے کا ذکر کرنے کے ساتھ ہی فرمایا کہ ہم نے ہی تمہیں زمین میں ٹھہرایا اور تمہاری حیثیت کا انتظام کیا۔ اب فرمایا کہ اے انسان ہم نے تمہیں پیدا کیا اور بہترین شکل و صورت سیمزین کیا۔ پھر تمہارے باپ آدم کو مسجود ملائکہ کا اعزاز بخشا۔ اس آیت کے الفاظ اور انداز سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو بیک وقت پیدا فرما کر انہیں شکل و صورت سے نوازا بعد ازاں ملائکہ کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کریں جبکہ قرآن مجید میں ہی موجود ہے کہ سب سے پہلے صرف آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا گیا پھر اس سے اس کی بیوی کو پیدا کیا اور ان سے بیشمار مرد وزن کی تخلیق کا سلسلہ شروع کیا۔[ النساء آیت : ١] یہاں ( وَلَقَدْ خَلَقْنٰکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰکُمْ ) کہ ہم نے تمہیں پیدا کیا اور ہمیں نے تمہاری شکلیں بنائیں۔ یہاں مخاطب کی ضمیر (کُم) لائی گئی ہے جس کے اہل علم نے تین مفہوم لیے ہیں : 1 آدم (علیہ السلام) تمام انسانوں کے باپ اور نمائندہ ہیں ان کے لیے جمع کی ضمیر استعمال کی گئی ہے۔ 2 تمام ارواح آدم (علیہ السلام) کی پشت یعنی جبلت میں تھیں اور عالم ارواح میں ان کی شکلیں متعین کردی تھیں۔ جس بنا پر جمع مخاطب کی ضمیر لائی گئی ہے۔ سورة الاعراف آیت : ١٧٢ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) سے اس کی اولاد کو پیدا فرما کر استفسار کیا کہ میں تمہارا رب ہوں یا نہیں ؟ تمام بنی آدم نے جواب دیا (بلٰی) کیوں نہیں تو ہی ہمارا رب ہے۔ 3 آیت کے الفاظ پر معمولی غور کیا جائے تو یہ حقیقت خود بخود واضح ہوتی ہے تخلیق اور شکلوں کے بارے میں جمع مخاطب کی ضمیر لائی گئی ہے لیکن سجدے کا ذکر کرتے ہوئے واضح الفاظ استعمال فرمائے ہیں کہ ہم نے ملائکہ کو حکم دیا کہ وہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کریں۔ گویا کہ ملائکہ نے آدم (علیہ السلام) کی پوری اولاد کو نہیں بلکہ صرف حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کیا تھا۔ (عَن أَبِیْ مُوسَی الْأَشْعَرِیِ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ اللّٰہَ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَۃٍ قَبَضَہَا مِنْ جَمِیعِ الْأَرْضِ فَجَاءَ بَنُو آدَمَ عَلٰی قَدْرِ الْأَرْضِ جَاءَ مِنْہُمْ الْأَحْمَرُ وَالْأَبْیَضُ وَالْأَسْوَدُ وَبَیْنَ ذٰلِکَ وَالسَّہْلُ وَالْحَزْنُ وَالْخَبِیثُ وَالطَّیِّبُ ) [ رواہ ابو داود : کتاب السنہ، باب فی القدر ] ” حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا۔ جو ساری زمین سے لی گئی آدم کی اولاد زمین کے مطابق ہوئی۔ ان میں سرخ، سفید، سیاہ اور درمیانی رنگت کے لوگ ہیں ان میں سخت ہیں اور نرم طبیعت کے ہیں کچھ نیک اور بد ہیں۔ “ (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خَےْرُ ےَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَےْہِ الشَّمْسُ ےَوْمُ الْجُمُعَۃِ فِےْہِ خُلِقَ اٰدَمُ وَفِےْہِ اُدْخِلَ الْجَنَّۃَ وَفِےْہِ اُخْرِجَ مِنْھَا وَلَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ اِلَّا فِیْ ےَوْمِ الْجُمُعَۃِ ) [ رواہ مسلم : باب فَضْلِ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ ] ” حضرت ابوہریرۃ (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان بیان کرتے ہیں کہ ایام میں سب سے بہتر دن جمعہ کا دن ہے اس دن آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا گیا اسی دن ان کو جنت میں داخلہ ملا اور جمعہ کو ہی ان کا جنت سے اخراج ہوا۔ اور اسی دن ہی قیامت برپا ہوگی۔ “ ( وَعَنْ اَنَسٍ (رض) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لَمَّاصَوَّرَ اللّٰہُ اٰدَمَ فِیْ الْجَنَّۃِ تَرَکَہٗ مَا شَاء اللّٰہُ اَنْ یَتْرُکَہٗ فَجَعَلَ اِبْلِیْسُ یُطِیْفُ بِہٖ یَنْظُرُ مَا ھُوَفَلَمَّارَاٰہُ اَجْوَفَ عَرَفَ اَنَّہٗ خُلِقَ خَلْقًا لَایَتَمَالَکُ ) [ رواہ مسلم ] ” حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی جنت میں شکل و صورت بنائی اس پیکر کو جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا جنت میں اسی طرح رہنے دیا ابلیس اس کے گرد گھوما اور وہ غور کرتا رہا کہ یہ کیا ہے ؟ جب اس نے مجسمہ کو دیکھا کہ یہ اندر سے کھوکھلا ہے ‘ تو سمجھ گیا کہ یہ ایسی مخلوق تخلیق کی جارہی ہے ‘ جو مستقل مزاج نہیں ہوگی۔ “ تفسیر بالقرآن حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے مختلف مراحل : ١۔ حضرت آدم کی تخلیق کا اعلان۔ (البقرۃ : ٣٠) ٢۔ حضرت آدم کو مٹی سے پیدا کیا گیا۔ (نوح : ١٧) ٣۔ حضرت آدم بد بودار مٹی سے پیدا کیے گئے۔ (الحجر : ٢٦) ٤۔ حضرت آدم (علیہ السلام) جس مٹی سے پیدا کیے گئے وہ کھڑ کھڑاتی تھی۔ (الحجر : ٢٦) ٥۔ انسان یعنی آدم (علیہ السلام) کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا۔ (الرحمن : ١٤) ٦۔ سب سے پہلے حضرت آدم پھر ان سے ان کی بیوی پھر دونوں سے تخلیق انسانی کا سلسلہ جاری فرمایا۔ (النساء : ١)
درس نمبر ٧٣ تشریح آیات : ١٠۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٢٥۔ یہاں سے انسانیت کے عظیم سفر کا آغاز ہوتا ہے اور نسل انسانی کو کرہ ارض کا چارج دیا جاتا ہے ۔ یہ فقرہ قصہ انسانیت کے لئے ایک تمہید ہے ۔ تفصیلات آگے آرہی ہیں۔ آیت ” نمبر ١٠۔ اس زمین اور انسانوں کے خالق ہی نے یہاں انسانوں کو بسایا اور اسی نے زمین کے اندر وہ وسائل وخصائص پیدا کئے جو انسانی زندگی کے لئے سازگار ہیں جو انسانوں کے لئے قوت و ضروریات مہیا کرتے ہیں اور اس نگہداشت کرتے ہیں جن میں وسائل رزق ومعاش شامل ہیں۔ یہ اللہ ہی ہے کہ جس نے کرہ ارض کو ایک ایسے مقام پر رکھا جو انسانوں کی نشوونما کے لئے ساز گار ہے ۔ زمین اپنی ترکیب ‘ حجم اور سورج و چاند سے اپنے متعین فاصلے اور سورج کے گرد اپنی گردش ‘ اور اپنے طور پر ایک طرف جھکاؤ اور اپنی گردش کی رفتار وغیرہ کے اعتبار سے انسانی زندگی کے لئے مفید ہے ۔ پھر یہ اللہ ہی ہے جس نے زمین کے اندر بےحد و حساب خزانے ودیعت کئے ہیں اور اس میں اکثر چیزیں انسان کی خوراک اور استعمال کے لئے فراونی سے پیدا کی ‘ جو اس انسان کے لئے یہاں نشوونما پانے اور ترقی کرنے کا سبب ہیں۔ پھر وہ اللہ ہی ہے جس نے جنس انسانی کو اس زمین کا سردار بنایا ہے ۔ وہ اس قابل ہوا ہے کہ ان قوتوں کو تسخیر کرے اور انہیں اپنی آسائش کے لئے استعمال کرے پھر اللہ نے انسانوں کو ایسی عقلی قوت دی ہے جس کے ذریعے انہوں نے اس کائنات کے بعض پوشیدہ رازوں تک رسائی حاصل کرلی ہے ۔ اور اس علم کو پھر وہ اپنی ضروریات کے لئے استعمال کر رہا ہے ۔ اگر اللہ تعالیٰ انسانوں کو یہ قوت نہ دیتا تو یہ ضعیف انسان اس کائناتی قوتوں کو ” تسخیر “ نہ کرسکتا (جس طرح قدیم وجدید جاہلیت کے علمبردار اس لفظ کو استعمال کرتے ہیں) اور اس عظیم کائنات اور طویل و عریض دنیا کی قوتوں کا مقابلہ نہ کرسکتا ۔ دور جدید کی تہذیب پر رومی اور یونانی جاہلی افکار کی چھاپ لگی ہوئی ہے ۔ یہ جاہلی تصورات کائناتی قوتوں کو انسان کی دشمن قوتیں سمجھتے ہیں ۔ ان کے نزدیک یہ قوتیں انسان کے وجود اور اس کی سرگرمیوں کی دشمن ہیں ۔ ان تصورات کے مطابق انسان اور کائناتی قوتوں کے درمیان مسلسل جنگ ہے ۔ اس لئے انسان جب اس کائنات کے بھیدوں میں سے کسی بھید کو جان لیتا ہے تو یہ لوگ اسے ” تسخیر فطرت “ کے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں لیکن یہ تصورات غلط ہیں اور پھر ان کے پس منظر میں خباثت بھی چھپی ہوئی ہے۔ اگر یہ کائناتی قوتیں انسان کی دشمن ہوتیں ‘ اس کی زندگی کا نقیض ہوتیں ‘ اس کے خلاف مورچہ زن ہوتیں ‘ اس کی مخالفت کرتیں ‘ اور ان کے پس منظر میں کسی مدبر ذات کا ارادہ کام نہ کر رہا ہوتا ‘ جس طرح ان لوگوں کا خیال ہے تو انسان سرے سے پیدا ہی نہ ہوتا ۔ اگر پیدا ہوتا تو وہ اس کائنات کے اندر کسی طرح نشوونما نہ پاسکتا تھا ۔ کیونکہ ان تصورات کے مطابق یہ پورا جہان انسان کا دشمن ہے محض اس لئے کہ وہ وجود میں آگیا ہے ۔ لہذا وہ یہاں زندگی بسر کر رہا ہے ‘ یہ کوئی معقول توجیہ نہیں ہے ۔ کیونکہ اگر یہ پوری کائنات ہی انسان کی دشمن ہے تو وہ کس طرح یہاں چل سکتا ہے ۔ ان لوگوں کا تصور یہ تھا کہ یہ کائنات خود مختار ہے اور اس کے اوپر کوئی مقتدر اعلی نہیں ہے ۔ ان تصورات کے مقابلے میں اسلامی تصور کائنات ہی وہ حقیقی تصور ہے جو یہاں کائنات کے تمام اجزاء کی پوری پوری تشریح کردیتا ہے ۔ وہ یہ کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جس نے اس کائنات کو پیدا کیا ۔ وہی ہے جس نے انسان کو پیدا کیا اور یہ وہی اللہ ہے جس نے اس کائنات کے مزاج کو اس طرح بنایا ہے کہ وہ اپنی ساخت کے اعتبار ہی سے انسان کے لئے ممدومعاون ہے ۔ انسان کے اندر اسی اللہ نے ایسی قوتیں ودیعت کی ہیں جن کی وجہ سے وہ اس کائنات کی قوتوں کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرپاتا ہے ۔ یہ موافقت اور یہ ہم آہنگی ہی وہ قابل لحاظ راز ہے جس کی وجہ سے اللہ نے ہر چیز کی تخلیق کو بہترین بنایا ہے ۔ یہ نہیں ہے کہ کائنات کی یہ قوتیں باہم دگر برسر جنگ ہیں۔ اس اسلامی تصور کے مطابق انسان اس کائنات کے ساتھ باہم دوست کی طرح زندگی گزار رہا ہے ۔ ایک قوت مدبرہ یعنی باری تعالیٰ کی نگرانی میں ۔ اس کا قلب مطمئن ہے ۔ اس کا نفس خوش ہے ۔ اس کے قدم مضبوط ہیں اور وہ پورے اعتماد کے ساتھ اس کرہ ارض پر اپنے فرائض خلافت انسانی کو سرانجام دے رہا ہے ۔ وہ کائنات کا انیس وہم نشیں ہے اور اللہ کا شکر گزار ہے کہ اس نے اس کائنات کا راز بخشا ہے ۔ جونہی وہ اس کائنات کے راز ہائے نہفتہ میں سے کوئی راز دریافت کرتا ہے ‘ جو اس کے فرائض کیلئے معاون ہوتا ہے تو اس کی ترقی آرام اور خوشحالی میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ اس کائنات کے بارے میں یہ تصور جو اسلام دیتا ہے انسان کو اس بات سے نہیں روکتا کہ وہ اس کائنات کے مزید راز معلوم کرے ۔ یہ تصور اسکی اس بات کے لئے حوصلہ افزائی کرتا ہے اور اسے نہایت ہی اطمینان اور خود اعتمادی کی کیفیت دیتا ہے کیونکہ اس کی حرکت ‘ ایک ایسے دوست کی ہمرکابی میں ہوتی ہے جو بخیل نہیں ہے جو اسے اپنے راز نہ بتاتا ہو۔ وہ اپنے تعاون اور امداد سے بھی ہاتھ نہیں کھینچتا ۔ اس کی وجہ سے انسان کا کسی ایسے دشمن سے رابطہ نہیں ہوتا جو ہر وقت مخالفت کرتا ہے اور راستے میں روڑے اٹکاتا ہے اور اسکی آرزوؤں اور امیدوں پر پانی پھیرتا ہے ۔ فلسفہ وجودیت کا یہ عظیم المیہ ہے کہ اس کائنات کے بارے میں ایک برا اور خبیث تصور رکھتا ہے ۔ اس فلسفے کا تصور کائنات یہ ہے کہ یہ پوری کائنات اور اس کے اندر انسان کا اجتماعی نظام انسانی کے انفرادی وجود کا دشمن ہے اور اس کائنات کا بوجھ اور پھر انسان کی اجتماعیت کا بوجھ انسان کے لئے تباہ کن ہے ۔ یہ ایک ایسا تصور ہے کہ اس پر یقین رکھنے والا انسان رجعت پسندی ‘ عزلت نسبتی بلکہ عدم کے دامن میں لوٹ جاتا ہے یا پھر اس کے نتیجے میں انفرادیت اور خود سری اور سرکشی جنم لیتی ہے ۔ دونوں حالتوں میں ایک انسان بےچینی اور قلق میں مبتلا ہوتا ہے جس کا بوجھ وہ برداشت نہیں کرسکتا عقل وخرد انسان کے لئے وبال بن جاتے ہیں۔ وہ عملی اور نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہوجاتا ہے اور یا وہ سرکشی کی راہ اختیار کرلیتا ہے یاعدم کے صحرا میں گم گشتہ راہ ہوجاتا ہے اور یہ دونوں حالتیں ایک ہی طرح کی مصیبت ہیں۔ یورپی افکار کے شعبہ وجودیت ہی کا یہ المیہ نہیں ہے بلکہ پوری دنیا کے پورے فلسفے کا بھی یہی المیہ ہے ۔ یورپ کے تمام مکاتب فکر اور رجحانات اسی المیہ میں گرفتار ہیں بلکہ ہر قسم کا جاہلی نظام ہر دور میں اور ہر معاشرے میں اس المیے سے دوچار ہوتا ہے ۔ اس المیے کا مقابلہ صرف اسلامی نظام فکر وعمل ہی کرتا ہے کیونکہ اسلام ہی انسان کو اس کائنات کے بارے میں ایک دوست زاویہ فکر دیتا ہے ۔ بلکہ وہ و رائے کائنات بھی ایک معقول تصور دیتا ہے ۔ انسان اس زمین کا بیٹا ہے ‘ وہ اس کائنات کی پیداوار ہے ۔ وہ اس زمین سے پیدا کیا گیا ‘ اسی میں پروان چڑھا ۔ اس کی بودوباش اور نشوونما کا انتظام اسی زمین میں ہے اور اسے یہاں ایسی عقلی قوت دی گئی ہے جس کے ذریعے وہ اس جہان کے پوشیدہ رازوں تک رسائی حاصل کرتا ہے اور یہ راز اور قوتیں انسانی وجود کے لئے سازگار ہیں۔ جب ان رازوں تک انسان رسائل حاصل کرلیتا ہے تو یہ انسان کے معاون ہوتے ہیں اور اس کی زندگی کی تفسیر وتعبیر کرتے ہیں۔ لیکن انسان ! انسان کی اکثریت ناشکری ہے اس لئے کہ وہ اپنی جہالت اور جاہلیت میں گم گشتہ راہ ہے ۔ جو لوگ اس کائنات کے راز ہائے نہفتہ سے واقف ہوگئے ہیں وہ بھی حق شکر ادا نہیں کرتے ۔ وہ شکر وثنا بھی کیسے سکتے ہیں جب اللہ کو ان کی جانب سے یہ اعزاز قبول ہی نہیں ۔ (وہ انسانیت کے بجائے اپنی حیوانیت ثابت کرتے ہیں) آیت ” وَلَقَدْ مَکَّنَّاکُمْ فِیْ الأَرْضِ وَجَعَلْنَا لَکُمْ فِیْہَا مَعَایِشَ قَلِیْلاً مَّا تَشْکُرُونَ (10) ” ہم نے تمہیں زمین میں اختیارات کے ساتھ بسایا اور تمہارے لئے یہاں سامان زیست فراہم کیا ‘ مگر تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو ۔ “ اب قصہ انسانیت کے دلچسپ واقعات بیان ہوتے ہیں ۔ ایک عظیم محفل میں انسانیت کی ولادت کی تقریب منعقد ہوتی ہے ۔ یہ ملاء اعلی میں ایک عظیم الشان تقریب ہے ۔ اللہ تعالیٰ جو ایک عظیم اور جلیل القدر بادشاہ ہے ‘ اس کی جانب سے تخلیق آدم کا اعلان ہوتا ہے ‘ خود بادشاہ کائنات اعلان کرتے ہیں ۔ یہ اس بندہ انسان کے لئے ایک بڑا اعزاز ہے ۔ اس محفل میں تمام ملائکہ حاضر ہیں ۔ ان میں حضرت ابلیس بھی موجود ہیں ۔ اگرچہ یہ دراصل فرشتہ نہیں تھا لیکن اس تقریب میں پوری کائنات اور اس کی مخلوقات موجود ہیں ‘ اس لئے کہ یہ نہایت ہی اہم واقعہ ہے اور عظیم الشان معاملہ ہے جس کی اہمیت پوری کائنات کی اسکیم میں مرکزیت کی حامل ہے ۔
بنی آدم پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور شیطان کی ملعونیت کا تذکرہ یہ متعدد آیات ہیں پہلی آیت میں (جو بعد میں آنے والی آیات کی تمہید ہے) فرمایا کہ ہم نے تمہیں زمین میں جگہ دی اور نہ صرف جگہ دی بلکہ تمہارے لیے معیشت کا سامان بھی پیدا کیا کھانے پینے کی چیزیں پیدا فرمائیں۔ پہننے اور اوڑھنے بچھانے کے لیے کپڑے پیدا کیے۔ زمین کو نرم پیدا کیا اس کو کھودو بنیادیں ڈالو، عمارتیں بناؤ درخت لگاؤ، کھیتیاں بوؤ جانوروں کو چارہ کھلاؤ اور خود بھی کھاؤ۔ طرح طرح کا سامان تمہارے لیے پیدا کردیا۔ ان سب نعمتوں کو استعمال کرو اور خالق کائنات جل شانہٗ کا شکر ادا کرو، لیکن تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو۔ اس تمہید کے بعد جس میں یہ بتادیا کہ پیدا کرنے والے کا شکر کرنا لازم ہے مزید دو نعمتوں کا تذکرہ فرمایا کہ ہم نے تمہیں (تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کو) پیدا کیا پھر تمہاری صورت بنائی (اولاً ) مٹی کا وہ مادہ جمع کیا جس سے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمانا تھا۔ پھر اس مادہ سے ان کی صورت بنائی جو آدم کی صورت بنی وہی صورت ان کی ذریت کی بھی ہوگئی۔ یہی وہ صورت ہے جس کے بارے میں سورة التین میں فرمایا۔ (لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِِنْسَانَ فِیْ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ ) اور حدیث میں فرمایا اِنَّ اللّٰہَ خَلَقَ اٰدَمَ عَلیٰ صُوْرَتِہٖ پھر اس صورت میں روح پھونک دی۔ کیا تو وہ ایک مجسمہ کی شکل تھی پھر جیسے ہی اس میں روح پھونک دی وہ جیتی جاگتی دیکھتی بھالتی عقل اور سمجھ رکھنے والی ایک جاندار چیز بن گئی اس جاندار کو چیزوں کے نام سکھا دیئے پھر فرشتوں پر پیش کیا کہ تم ان چیزوں کے نام بتاؤ وہ نہ بتاسکے۔ اس طرح آدم (علیہ السلام) کی علمی فضیلت ظاہر ہوگئی۔
9 یہ حضرت پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت قبول کرنے کی ترغیب ہے۔ “ مَعَايِشَ ”، معیشۃ کی جمع ہے مراد ذریعہ معاش ہے۔ یعنی ہم نے زمین میں تم کو تمکین دی اور اس میں تمہاری روزی کے لیے کئی اسباب و ذرائع مہیّا کیے اللہ کے ان انعامات کے شکرانے میں تمہیں اس کے احکام کا اتباع کرنا چاہئے اور اس کے رسول کی دعوت کو دل و جان سے قبول کرنا چاہئے۔
10 اور بلاشبہ ہم نے تم کو زمین پر بسنے اور رہنے کو جگہ دی اور زمین میں ہم نے تمہارے لئے اسبابِ زندگی اور سامانِ معیشت پیدا کئے لیکن باوجود اس کے تم لوگ بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو۔ یعنی بجائے شکر کی بجاآوری کے کفرانِ نعمت کرتے ہو اور شکر کثیر کی جگہ بہت کم شکر بجا لاتے ہو۔
Pick a verse, and get a ready Quran image or a short vertical video for YouTube Shorts, Instagram and Facebook Reels, TikTok and WhatsApp Status — Arabic with English and Urdu translation, free on WizTools123.