Surat ul Mutafifeen

Surah: 83

Verse: 30

سورة المطففين

وَ اِذَا مَرُّوۡا بِہِمۡ یَتَغَامَزُوۡنَ ﴿۳۰﴾۫ ۖ

And when they passed by them, they would exchange derisive glances.

ان کے پاس سے گزرتے ہوئے آپس میں آنکھ کے اشارے کرتے تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Verily, those who committed crimes used to laugh at those who believed. And, whenever they passed by them, used to wink one to another. Allah informs that the criminals used to laugh at the believers in the worldly life. In other words, they would mock them and despise them. Whenever they would pass by the believers, they would wink at each other about them, meaning in contempt of them. وَإِذَا انقَلَبُواْ إِلَى أَهْلِهِمُ انقَلَبُواْ فَكِهِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(واذا مروابھم یتغامرون :” یتغامرون “ ” عمز “ ابروؤں اور پلکوں کیساتھ اشارہ کرنا، یعنی یہ مجرم لوگ اہل ایمان کی کتاب و سنت کے مطابق ہیئت و لباس، طرز گفتگو، دنیا سے بےرغبتی اور آخرت کے حصول کے لئے محنت دیکھ کر ان کی تحقیر کرنے اور مذاق اڑانے کے لئے ایک دوسرے کو آنکھیں مارتے تھے کہ یہی وہ سر پھرے لوگ ہیں جنہوں نے خیالی جنت کے لئے اپنے آپ کو دنیا کی لذتوں سے محروم رکھا ہوا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذَا مَرُّوْا بِہِمْ يَتَغَامَزُوْنَ۝ ٣٠ ۡ ۖ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ اذا کی مختلف صورتیں ہیں :۔ (1) یہ ظرف زمان ہے۔ ( زجاج، ریاشی) (2) یہ ظرف مکان ہے۔ ( مبرد، سیبوبہ) (3) اکثر و بیشتر اذا شرط ہوتا ہے۔ مفسرین نے تینوں معنوں میں اس کا استعمال کیا ہے۔ (1) ظرف زمان : اور جب تو وہاں ( کی نعمتیں) دیکھے گا۔ تو تجھ کو وہاں بڑی نعمت اور شاہی سازو سامان نظر آئے گا۔ ( تفسیر حقانی) (2) ظرف مکان : اور جدھر بھی تم وہاں دیکھو گے تمہیں نعمتیں ہی نعمتیں اور وسیع مملکت نظر آئے گی۔ ( تفسیر ضیاء القرآن) (3) اذا شرطیہ۔ اور اگر تو اس جگہ کو دیکھے توتجھے بڑی نعمت اور بڑی سلطنت دکھائی دے۔ ( تفسیر ماجدی) مرر المُرُورُ : المضيّ والاجتیاز بالشیء . قال تعالی: وَإِذا مَرُّوا بِهِمْ يَتَغامَزُونَ [ المطففین/ 30] ، وَإِذا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِراماً [ الفرقان/ 72] تنبيها أنّهم إذا دفعوا إلى التّفوّه باللغو کنّوا عنه، وإذا سمعوه تصامموا عنه، وإذا شاهدوه أعرضوا عنه، وقوله : فَلَمَّا كَشَفْنا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَأَنْ لَمْ يَدْعُنا [يونس/ 12] فقوله : مَرَّ هاهنا کقوله : وَإِذا أَنْعَمْنا عَلَى الْإِنْسانِ أَعْرَضَ وَنَأى بِجانِبِهِ [ الإسراء/ 83] وأمْرَرْتُ الحبلَ : إذا فتلته، والمَرِيرُ والمُمَرُّ : المفتولُ ، ومنه : فلان ذو مِرَّةٍ ، كأنه محکم الفتل . قال : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى [ النجم/ 6] . ويقال : مَرَّ الشیءُ ، وأَمَرَّ : إذا صار مُرّاً ، ومنه ( م ر ر ) المرور ( م ر ر ) المرور کے معنی کسی چیز کے پاس سے گزر جانے کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : وَإِذا مَرُّوا بِهِمْ يَتَغامَزُونَ [ المطففین/ 30] اور جب ان کے پاس سے گزرتے تو باہم آنکھوں سے اشارہ کرتے ۔ وَإِذا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِراماً [ الفرقان/ 72] اور جب ان کو بیہودہ چیزوں کے پاس سے گزرنے کا اتفاق ہو تو شریفانہ انداز سے گزرجاتے ہیں ۔ نیز آیت کریمہ میں اس بات پر بھی متنبہ کیا ہے کہ اگر انہیں بیہودہ بات کہنے پر مجبوری بھی کیا جائے تو کنایہ سے بات کرتے ہیں اور لغوبات سن کر اس سے بہرے بن جاتے ہیں اور مشاہدہ کرتے ہیں تو اعراض کرلیتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : فَلَمَّا كَشَفْنا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَأَنْ لَمْ يَدْعُنا[يونس/ 12] پھر جب ہم اس تکلیف کو اس سے دور کردیتے ہیں ( تو بےلحاظ ہوجاتا اور ) اس طرح گزرجاتا ہے کہ گویا تکلیف پہنچنے پر ہمیں کبھی پکارا ہی نہیں تھا ۔ میں مربمعنی اعرض ہے ۔ جیسے فرمایا : وَإِذا أَنْعَمْنا عَلَى الْإِنْسانِ أَعْرَضَ وَنَأى بِجانِبِهِ [ الإسراء/ 83] اور جب ہم انسان کو نعمت بخشتے ہیں تو روگردان ہوجاتا اور پہلو پھیر لیتا ہے ۔ امررت الحبل کے معنی رسی بٹنے کے ہیں ۔ اور بٹی ہوئی رسی کو مریر یاممر کہاجاتا ہے اسی سے فلان ذومرکہاجاتا ہے اسی سے فلان ذومرۃ کا محاورہ ہے جس کے معنی طاقت ور اور توانا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى[ النجم/ 6] طاقتور نے ۔ مرالشئی وامر کسی چیز کا تلخ ہونا ۔ اسی سے محاورہ ہے۔ فلان مایمر سو مایحلی کہ فلاں نہ تو کڑوا ہے اور نہ میٹھا ۔ یعنی نہ تو اس سے کسی کو فائدہ پہنچتا ہے اور نہ ہی نقصان ۔ اور آیت کریمہ حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفاً فَمَرَّتْ بِهِ [ الأعراف/ 189]( تو ) اسے ہلکا ساحمل رہ جاتا ہے ۔ اور وہ اس کے ساتھ چلتی پھرتی ہے ۔ میں مرت بمعنی استمرت ہے ۔ یعنی وہ اسے اٹھائے چلتی پھرتی رہتی ہے ۔ مرۃ ( فعلۃ ) ایک بار مرتان ض ( تثنیہ ) دو بار قرآن میں ہے : يَنْقُضُونَ عَهْدَهُمْ فِي كُلِّ مَرَّةٍ [ الأنفال/ 56] پھر وہ ہر بار اپنے عہد کو توڑ ڈالتے ہیں ۔ وَهُمْ بَدَؤُكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ [ التوبة/ 13] اور انہوں نے تم سے پہلی بار ( عہد شکنی کی ) ابتداء کی ۔إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً [ التوبة/ 80] اگر آپ ان کے لئے ستربار بخشیں طلب فرمائیں ۔ إِنَّكُمْ رَضِيتُمْ بِالْقُعُودِ أَوَّلَ مَرَّةٍ [ التوبة/ 83] تم پہلی مرتبہ بیٹھ رہنے پر رضامند ہوگئے ۔ سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ [ التوبة/ 101] ہم ان کو دو بار عذاب دیں گے ۔ ثَلاثَ مَرَّاتٍ [ النور/ 58] تین دفعہ ( یعنی تین اوقات ہیں ۔ غمز أصل الغَمْزِ : الإشارة بالجفن أو الید طلبا إلى ما فيه معاب، ومنه قيل : ما في فلان غَمِيزَةٌ أي : نقیصة يشار بها إليه، وجمعها : غَمَائِزُ. قال تعالی: وَإِذا مَرُّوا بِهِمْ يَتَغامَزُونَ [ المطففین/ 30] ، وأصله من : غَمَزْتُ الکبش :إذا لمسته هل به طرق نحو : غبطته . ( غ م ز ) الغمز ر ( س ) کے اصل معنی کسی کی عیب جوئی کرتے ہوئے اس کی طرف ہاتھ یا پلک سے اشارہ کرنے کے ہیں اور اسی سے مافی فلان غمیزۃ ہے ۔۔۔۔۔ یعنی اس میں کوئی ایساعیب نہیں ہے جس کی طرف اشارہ کیا جاسکے اور غمیزۃ کی جمع غما ئز آتی ہے ( التفغا مز باہم کسی کے عیوب کی طرف ہاتھوں یا آنکھوں سے اشارہ کرنا ) قرآن پاک میں ہے ۔ وَإِذا مَرُّوا بِهِمْ يَتَغامَزُونَ [ المطففین/ 30] اور جب ان کے پاس سے گزرتے ہیں تو حقارت سے اشارہ کرتے ہیں ۔ اصل میں یہ غمزت الکبش کے محاورہ ہے ماخوذ ہے جس کے معنی مینڈھے کے بدن کو دبا کر دیکھنے کے ہیں کہ اس میں چربی ہے یا نہیں جس طرح کہ عبطتہ کا محاورہ ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٠{ وَاِذَا مَرُّوْا بِہِمْ یَتَغَامَزُوْنَ ۔ } ” اور جب یہ ان کے قریب سے گزرتے تھے تو آپس میں آنکھیں مارتے تھے۔ “ کہ دیکھو ! یہ ہیں وہ احمق جو جنت کی حوروں کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(83:30) واذا مروا بھم یتغامزون۔ یہ دوسری قبیح حرکت تھی جو کفار مکہ مسلمانوں سے کرتے تھے۔ واؤ عاطفہ ہے اذا ظرف زمان بمعنی جب) مروا ماضی جمع مذکر غائب مرور (باب نصر) مصدر سے ۔ وہ گزرتے تھے۔ بھم : ب الصاق کا ہے (حرف جار ہے) ہم مجرور۔ ضمیر ہم مسلمانان مکہ کے لئے ہے۔ یتغامزون : مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب تغامز (تفاعل) مصدر سے وہ آنکھوں سے اشارے کرتے تھے۔ وہ آنکھیں مارتے تھے۔ بطور استہزاء اشارے کرتے تھے۔ اور جب کافر مومنوں کی طرف سے گزرتے تھے تو وہ کافر مسلمانوں کی طرف بطور استہزاء اشارے کرتے تھے آنکھوں سے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

واذامرو .................... یتغامرون (30:83) ” جب ان کے پاس سے گزرتے تو آنکھیں مار مار کر ان کی طرف اشارے کرتے تھے “۔ یعنی وہ آنکھوں سے اشارے کرتے تھے یا ہاتھوں سے اشارے کرتے تھے یا کوئی ایسی حرکت کرتے تھے جو ان کے درمیان مذاق اڑانے کے لئے متعارف تھی ۔ یہ ایسی گری ہوئی حرکت ہوتی جس سے ان کی گستاخی اور بےادبی کا اظہار ہوتا ، یہ حرکت تہذیب کے دائرے سے نکلی ہوئی ہوتی ، اور ایسی حرکات سے ان لوگوں کا مقصد یہ ہوتا کہ اہل اسلام کے دل ٹوٹ جائیں اور ان کو شرمندہ کیا جائے اور وہ اس تحریک کی کامیابی سے مایوس ہوجائیں ، اس لئے یہ لوگ اس طرح کے اشارے کرتے اور چھچھوری حرکات کرتے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(30) اور جب یہ مسلمان ان کافروں کے سامنے سے ہو کر گزرتے ہیں تو وہ کافر آپس میں اشا رہے کرتے ہیں مطلب یہ ہے کہ فقرائے مسلمین جب رئوسائے قریش کے آگے سے گزرتے ہیں تو یہ کفار رئوساء آپس میں اشارے کرتے ہیں اور سینیاں مارتے ہیں یعنی پھبتیاں کستے ہیں کہ دیکھو یہ وہ بیوقوف لوگ ہیں جو دنیا کے عیش اور مزوں کو محض عاقبت کے تو ہم اور تخیل پر چھوڑ بیٹھتے ہیں۔ فقرائے مسلمین سے مراد شاید حضرت عمار، خباب بلال اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہیں، امراً کفار قریش سے مراد ابوجہل اور عاص بن وائل ہیں بہرحال ! کفار کی یہ عام ذہنیت تھی کہ مسلمانوں کو ذلیل سمجھ کر ان پر اشارے بازی کرتے تھے۔