Surat ul Aala

Surah: 87

Verse: 11

سورة الأعلى

وَ یَتَجَنَّبُہَا الۡاَشۡقَی ﴿ۙ۱۱﴾

But the wretched one will avoid it -

۔ ( ہاں ) بد بخت اس سے گریز کرے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

الَّذِي يَصْلَى النَّارَ الْكُبْرَى

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

11۔ 1 یعنی اس نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے کیونکہ ان کا کفر پر اصرار اللہ کی معصیتوں میں انہماک جاری رہتا ہے۔ ب

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَيَتَجَنَّبُہَا الْاَشْقَى۝ ١١ ۙ شقي الشَّقَاوَةُ : خلاف السّعادة، وقد شَقِيَ «2» يَشْقَى شَقْوَة، وشَقَاوَة، وشَقَاءً ، . قال عزّ وجلّ : فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ فَلا يَضِلُّ وَلا يَشْقى[ طه/ 123] ( ش ق و ) اشقاوۃ ( بدبختی ) یہ سعادت کی ضد ہے اور شقی ( س) شقوۃ وشقاوۃ وشقاء کے معنی بدبخت ہونے کے ہیں ۔ اور آیت کریمہ ۔: فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ فَلا يَضِلُّ وَلا يَشْقى[ طه/ 123] وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ تکلیف میں پڑے گا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(87:11) ویتجنبھا الاشقی۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ یتجنب مضارع واحد مذکر غائب تجنب (تفعل) مصدر۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب کا مرجع الذکری ہے اور اس کو ترک کرتا ہے ۔ اس سے دور رہتا ہے اس سے پرے (ایک طرف) رہتا ہے الاشقی ۔ شقی ۔ یشقی شقوۃ وشقاوۃ (باب سمع) مصدر سے افعل التفضیل کا صیغہ۔ بڑا بدبخت۔ برا بدقسمت۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور اس نصیحت سے تو بدبخت ہی الگ رہتا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ویتجنبھا الا شقی (11:87) ” اور اس سے گریز کرے گا انتہائی بدبخت “۔ جو شخص بدنصیب ہوگا وہ نصیحت سے دور ہوگا۔ لہٰذا ایسا شخص نہ نصیحت کی بات سنے گا اور نہ اس سے استفادہ کرے گا وہ بدنصیب ہوگا۔ مطلق بدنصیب۔ جس کے اندر بدبختی اعلیٰ درجے پر ہو ، یعنی انتہائی بدبخت۔ اپنی گری ہوئی روح کی وجہ سے بدبخت ، اس کائنات کے حقائق کا احساس نہ کرنے کی وجہ سے بدبخت۔ اس کائنات کے اندر پائے جانے والے شواہد کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بدبخت ، اشارات کائنات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بدنصیب ، جو نہایت حرص سے اس دنیا کے خقیر مفادات کے پیچھے بھاگ رہا ہو ، اس کے لئے ہلکان ہورہا ہو ، اور آخرت کا بدبخت کہ وہاں اس کے نصیب میں دائمی جہنم ہوگی جس کے زمانوں کی کوئی انتہا نہ ہوگی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(11) اور وہ جو بڑا بدبخت اور سخت بدنصیب ہو وہی اس نصیحت سے بچتا اور بھاگتا ہے۔ یعنی جو شقی القلب ہے اور جو بدنصیب ہے اور جس کو انجام کا ڈر نہیں وہ نہیں سمجھتا بلکہ نصیحت سے بچتا اور پہلو بچاتا ہے۔