Surat ul Alaq

Surah: 96

Verse: 13

سورة العلق

اَرَءَیۡتَ اِنۡ کَذَّبَ وَ تَوَلّٰی ﴿ؕ۱۳﴾

Have you seen if he denies and turns away -

بھلا دیکھو تو اگر یہ جھٹلاتا ہو اور منہ پھیرتا ہو تو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Yet, you rebuke him and threaten him due to his prayer.' Thus, Allah says, أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَى

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

13۔ 1 یعنی یہ ابو جہل اللہ کے پیغمبر کو جھٹلاتا ہو اور ایمان منہ سے پھیرتا ہو (مجھے بتلاؤ)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَرَءَيْتَ اِنْ كَذَّبَ وَتَوَلّٰى۝ ١٣ ۭ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے ولي وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه . فمن الأوّل قوله : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] . ومن الثاني قوله : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ، ( و ل ی ) الولاء والتوالی اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا : ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] اور جو شخص تم میں ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر سے دوستی کرے گا ۔ اور تعدیہ بعن کے متعلق فرمایا : ۔ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] تو اگر یہ لوگ پھرجائیں تو خدا مفسدوں کو خوب جانتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(96:13) ارایت ان کذب وتولی۔ یہ جملہ بھی شرطیہ ہے جس کا جواب شرط محذوف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بھلا بتاؤ تو اگر یہ شخص (جو اللہ کے بندے کو اس نیک کام سے روک رہا ہے) حق کو جھٹلائے یا منہ موڑے (تو کیا اپنے اس فعل کی پاداش سے بچ سکے گا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ارءیت .................... وتولی (13:96) ” تمہارا کیا خیال ہے اگر (یہ منع کرنے والا شخص حق کو) جھٹلاتا اور منہ موڑتا ہو “۔ یہاں بھی ایک بالواسطہ اور درپردہ دھمکی دی جاتی ہے جس طرح سابقہ پیرگراف کے آخر میں دی گئی تھی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿اَرَءَيْتَ اِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ٠٠١٣﴾ (اے مخاطب تو بتادے کہ اگر یہ نماز سے روکنے والا شخص حق کو جھٹلاتا ہو اور حق سے اعراض کرتا ہو تو اس کا کیا انجام ہوگا) ہر شخص غور کرلے، صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں : وتقدیم نظم الایة ارایت الذی ینھی عبدا اذا صلی وھو علی بالھدی وامر بالتقوی والناھی مکذب متول عن الایمان فما اعجب من ھذا، ا ھ عربی میں لفظ ارایت محاورہ کے اعتبار سے اخبرنی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے یہاں تین جگہ لفظ ارایت وارد ہوا ہے جو ہر صاحب فہم و بصیرت کو خطاب ہے، ہر سمجھنے والا بتائے کہ جو شخص نماز پڑھنے والے کو نماز سے روکتا ہے اور یہ نماز پڑھنے والا خود ہدایت پر رہتے ہوئے دوسروں کو تقویٰ کا حکم دیتا ہے اس کو نماز سے روکنے والے کا عمل کیسا ہے اور اس کا نتیجہ کیا ہونا چاہیے ؟ جو شخص جھٹلانے والا اور اعراض کرنے والا ہے پھر اوپر سے نماز پڑھنے والے کو نماز پڑھنے سے روکتا ہے اس کا انجام سوچ لیا جائے پھر اس انجام کو اجمالی طور پر یوں بیان فرمایا کہ ﴿ اَلَمْ يَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰهَ يَرٰى ؕ٠٠١٤﴾ (کیا اسے معلوم نہیں ہے بیشک اللہ دیکھتا ہے) جب اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھتا ہے اور اسے نماز پڑھنے والے اور نماز سے روکنے والے کی حالت کا علم ہے تو وہ ہر ایک کو اس کے عمل کا بدل دے دے گا۔ نمازی کو نماز کا ثواب ملے گا اور نماز سے روکنے والے کو روکنے کی سزا ملے گی اور عذاب ہوگا۔ ایک دن ایسا ہوا کہ ابو جہل نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز پڑھنے سے روکا تو آپ نے ابوجہل کو جھڑک دیا۔ اس پر ابو جہل نے کہا (کہ مجھے جھڑکتے ہو) میں پوری وادی کو گھوڑوں سے اور فوجی لوگوں سے بھر دوں گا اس پر آیات ذیل نازل ہوئیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(13) اے مخاطب بھلا یہ تو بتا اگر یہ نماز سے روکنے والا دین حق کی تکذیب کرتا ہو اور اس دین حق کو قبول کرنے سے روگردانی کرتا ہو تو پھر جو شخص کس قدر قابل نفرت ومذمت اور مستحق وعید ہے یعنی اپنی تو یہ حالت ہے کہ دین کا مکذب اور دین سے منہ موڑنے والا اور اس پر خبیث نماز پڑھنے سے اس شخص کو روکتا ہے جو ہدایت پر بھی ہے اور تقویٰ کا حکم بھی دیتا ہے بعض حضرات نے دوسری طرح ترجمہ اور تفسیر کی ہے۔ ارئیت ان کان علی الھدیٰ سے وتونی تک پوری آیت سے ابوجہل ہی کو مراد لیا ہے یعنی اگر یہ نماز سے روکنے والا ہدایت پر ہوتا اور پرہیزگاری کی باتوں کا مشورہو دیا کرتا تو کیا اچھا ہوتا اور اس نے تکذیب اور روگردانی کی تو ہم کو کیا نقصان پہنچا۔ چنانچہ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی نیک راہ پر ہوتا بھلے کام سکھاتا تو کیا اچھا آدمی ہوتا اب جو منہ موڑا تو ہمارا کیا بگاڑا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) نے جو کچھ فرمایا وہ بھی بعض تفاسیر میں موجود ہے صاحب مدارک نے یہی قول اختیار کیا ہے اور ہم نے جو کچھ اخذ کیا ہے وہ صاحب خازن سے کیا ہے اور ہمارا ماخذتفسیر خازن ہے بہرحال دونوں معنی کی گنجائس ہے ۔ وللناس فیما یعشقون مذاھب۔