TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2870 - CHAPTER: What Has Been Related About Willing To An Heir. - Wills (kitab al-wasaya) - Sunnan Abu Dawood in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
CHAPTER: What Has Been Related About Willing To An Heir.
باب: وارث کے لیے وصیت کرنا کیسا ہے ؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ .
Narrated Abu Hurairah: I heard the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم say: Allah has appointed for everyone who has a right what is due to him, and no bequest must be made to an heir.
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: کہ اللہ نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے ۱؎ لہٰذا اب وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں ۔
2870
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan Abi Dawud 2870 In-book reference : Book 18, Hadith 9 English translation : Book 17, Hadith 2864
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الوصایا ۵ (۲۱۲۰) ، سنن ابن ماجہ/الوصایا ۶ (۲۷۱۳)، (تحفة الأشراف:۴۸۸۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۲۶۷)، ویأتي ہذا الحدیث برقم : ۳۵۶۵
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎ : آیت میراث نازل فرما کر اس کا حصہ مقرر کر دیا ہے۔

Related Chapters

1,286
1
Chapter: What has been Related About 'There Is No Will For The Heir'
باب: وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں
Jam e Tirmazi
2
(6) CHAPTER. A legal heir has no right to inherit through a will.
وارث کے لئے وصیت کرنا جائز نہیں ہے
Sahih Bukhari
3
وارث کے لیے وصیت کے نہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
4
(26) CHAPTER. To travel seeking an answer to a problematic matter, and to teach it to one's family.
جب کوئی مسئلہ درپیش ہو تو اس کے لیے سفر کرنا ( کیسا ہے ؟ )
Sahih Bukhari
5
(7) CHAPTER. Invoking evil of the Prophet on the disbelievers of Quraish, (Shaiba, Utba, Al-Walid and Abu jahl, etc.) and (the mention of) their death.
کفار قریش ، شیبہ ، عتبہ ، ولید اور ابوجہل بنہشام کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بددعا کرنا اور ان کی ہلاکت کا بیان
Sahih Bukhari
6
وارث کے لیے وصیت ناجائز ہے
Sunnan Ibn e Maja
7
باب: وارث کے لیے وصیت باطل ہے۔
Sunnan Nisai
8
Chapter: What Has Been Related About The One Who Gives Charity (Then) Inheriting His Charity
باب: صدقہ دینے والا اپنے صدقہ کا وارث ہو جائے تو کیسا ہے؟
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What has been Related About Willing One Third
باب: ایک تہائی مال کی وصیت کے جواز کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What has been Related About Beginning With The Debt Before The Will
باب: قرض کی ادا کرنا وصیت پر مقدم ہے
Jam e Tirmazi
11
Chapter: Whoever Gazed Into a People's Home Without Their Permission
باب: کسی کے گھر میں بغیر اجازت جھانکنا کیسا ہے؟
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About Giving The Salam Before Seeking Permission Enter
باب: گھر میں داخلہ کی اجازت لینے سے پہلے سلام کرنا (کیسا ہے؟)
Jam e Tirmazi
13
بَاب من لَا تحل لَهُ الْمَسْأَلَة وَمن تحل لَهُ
سوال کرنا کس کے لیے جائز ہے اور کس کے لیے ناجائز
Mishkat
14
سفر کے لیے افضل دن اور مسافرکو الوداع کہنے اور اس کو وصیت کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
15
وصال سے منع کرنے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے اس کا بطور خصوصیت جائزہونے کا بیان
Musnad Ahmad
16
مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لیے غسل کرنا
Musnad Ahmad
17
میت کی وصیت کی بناء پر اس کی طرف سے قربانی کرنا اور قربانی کا گوشت اچکنے کی اجازت دینے والوں کا اور اچک لینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
18
اس شخص کا بیان جو اپنے وارث کو میراث سے محروم کرنا چاہے
Musnad Ahmad
19
جماع کے وقت اللہ تعالی کا نام لینے اور پردہ کرنا اور دوبارہ جماع کرنے کے لیے وضو کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
20
جب مہمان زیادہ ہو جائیں تو ضیافت کرنے کے لیے مسلمانوں کاایک دوسرے کے ساتھ مل جانا اور باہمی تعاون کرنا
Musnad Ahmad
21
نشانیاں طلب کرنے پر قریشیوں کا حد سے زیادہ مطالبہ کرنا، ہٹ دھرمی پر اصرار کرنا اور لوگوں کے سردار کو قتل کرنے کے لیے ان کا مشورہ کرنا
Musnad Ahmad
22
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہجرت کرنا،سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بطورِ رفیقِ ہجرت منتخب کرنا، پھر دونوں کی ہجرت کے لیے تیاری کرنا اور مکہ مکرمہ سے نکل پڑنا، یہاں تک کہ غارِ ثور میں داخل ہو جانا
Musnad Ahmad
23
باب پنجم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خواب کی تعبیر کا ثابت ہونا، عجمی کا ان پر حملہ کرنا، ان کی کچھ وصیتوں کا بیان، لوگوں کا ان کی تعریف کرنا اور ان کے پاس رونا اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا کسی خلیفہ نامزد نہ کرنا
Musnad Ahmad
24
فصل پنجم: غزوۂ خیبر کے روز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جھنڈا دینے کے لیے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو منتخب کرنا اور اس میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت او رنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ کا بیان
Musnad Ahmad
25
باب پنجم: عبدالملک بن مروان کا حجاج بن یوسف کو مصعب بن زبیر سے لڑنے کے لیے عراق کی طرف روانہ کرنا
Musnad Ahmad
26
(5) CHAPTER. The Imam questioning his companions in order to test their knowledge.
استاد اپنے شاگردوں کا علم آزمانے کے لیے ان سے کوئی سوال کرے ۔ ( یعنی امتحان لینے کا بیان )
Sahih Bukhari
27
(25) CHAPTER. The Prophet urged the people (mission) of Abdul Qais to memorize the faith and the (religious) knowledge (as he explained to them) and to inform (convey) to their people whom they have left behind (at home).
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبیلہ عبدالقیس کے وفد کو اس پر آمادہ کرنا کہ وہ ایمان لائیں اور علم کی باتیں یاد رکھیں اور اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو بھی خبر کر دیں
Sahih Bukhari
28
(27) CHAPTER. To fix the duties in rotation for learning (religious) knowledge.
اس بارے میں کہ ( طلباء کا حصول ) علم کے لیے ( استاد کی خدمت میں ) اپنی اپنی باری مقرر کرنا درست ہے ۔
Sahih Bukhari
29
(74) CHAPTER. Servants for the mosque.
مسجد کے لیے خادم مقرر کرنا
Sahih Bukhari
30
(83) CHAPTER. Raising the voice in the mosque.
مساجد میں آواز بلند کرنا کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
31
(102) CHAPTER. A man facing a man while offering Salat (prayer).
نماز پڑھتے وقت ایک نمازی کا دوسرے شخص کی طرف رخ کرنا کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
32
(34) CHAPTER. To offer (the Asr prayers) earlier on a cloudy day.
بادل والے دنوں میں نماز کے لیے جلدی کرنا ( یعنی سویرے پڑھنا )
Sahih Bukhari
33
(45) CHAPTER. Offering Salat (prayer) in front of the people with the sole intention of teaching them the Salat of the Prophet and his Sunna (legal ways etc.).
کوئی شخص صرف یہ بتلانے کے لیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز کیوں کر پڑھا کرتے تھے اور آپ کا طریقہ کیا تھا نماز پڑھائے تو کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
34
(161) CHAPTER. The ablution for boys (youngsters). When they should perform Ghusl (take a bath) and Tuhur (purification). Their attendance at congregational prayers, Eid prayers and funeral prayers and their rows in the prayers.
اس بارے میں کہ بچوں کے لیے وضو اور ان پر غسل اور وضو اور جماعت ، عیدین ، جنازوں میں ان کی حاضری اور ان کی صفوں میں شرکت کب ضروری ہو گی اور کیونکر ہو گی ۔
Sahih Bukhari
35
(22) CHAPTER. One Muadh-dhin on Friday.
جمعہ کے لیے ایک مؤذن مقرر کرنا
Sahih Bukhari
36
(35) CHAPTER. Istisqa (invoking Allah for rain) in the Khutba (religious talk) on Friday.
جمعہ کے خطبہ میں بارش کے لیے دعا کرنا
Sahih Bukhari
37
(7) CHAPTER. To invoke Allah for rain in the Khutba of Friday facing a direction other than the Qiblah.
جمعہ کا خطبہ پڑھتے وقت جب منہ قبلہ کی طرف نہ ہو پانی کے لیے دعا کرنا
Sahih Bukhari
38
(8) CHAPTER. Istisqa (to invoke Allah for the rain) on the pulpit.
منبر پر پانی کے لیے دعا کرنا
Sahih Bukhari
39
(5) CHAPTER. The Prophet's exhorting (the people) to Tahajjud and Nawafil without making them compulsory.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رات کی نماز اور نوافل پڑھنے کے لیے ترغیب دلانا لیکن واجب نہ کرنا
Sahih Bukhari
40
(9) CHAPTER. Spreading the clothes over the site of prostration while in As-Salat (the prayer).
نماز میں سجدہ کے لیے کپڑا بچھانا کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
41
(30) CHAPTER. The mourning of a woman for a dead person other than her husband.
عورت کا اپنے خاوند کے سوا اور کسی پر سوگ کرنا کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
42
(53) CHAPTER. Whoever aligned in two or three rows behind the Imam for a funeral Salat (prayer).
امام کے پیچھے جنازہ کی نماز کے لیے دو یا تین صفیں کرنا
Sahih Bukhari
43
(69) CHAPTER. Burial at night and Abu Bakr رضی اللہ عنہ was buried at night.
رات میں دفن کرنا کیسا ہے ؟ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رات میں دفن کئے گئے
Sahih Bukhari
44
(70) CHAPTER. Building a mosque (a place of worship) at a grave.
قبر پر مسجد تعمیر کرنا کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
45
(84) CHAPTER. It is disliked to offer the funeral prayer for the hypocrites, and to ask Allah's Forgiveness for the Mushrikun.
منافقوں پر نماز جنازہ پڑھنا اور مشرکوں کے لیے طلب مغفرت کرنا ناپسند ہے
Sahih Bukhari
46
(21) CHAPTER. To exhort one to give in charity and to intercede for the same purpose.
لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دلانا اور اس کے لیے سفارش کرنا
Sahih Bukhari
47
(30) CHAPTER. Every Muslim has to give in charity; and whoever does not find anytingto give, should do all that is good [i.e. enjoin Al-Maruf (Islamic Monotheism, and all that Islam has ordained)].
ہر مسلمان پر صدقہ کرنا ضروری ہے اگر ( کوئی چیز دینے کے لیے ) نہ ہو تو اس کے لیے اچھی بات پر عمل کرنا یا اچھی بات دوسرے کو بتلا دینا بھی خیرات ہے
Sahih Bukhari
48
(118) CHAPTER. Slaughtering the camels after tying their one leg.
اونٹ کو باندھ کر نحر کرنا
Sahih Bukhari
49
(14) CHAPTER. The taking of a bath by a Muhrim.
محرم کو غسل کرنا کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
50
(32) CHAPTER. Cupping (letting out blood medically) and vomiting of a person observing Saum (fast).
روزہ دار کا پچھنا لگوانا اور قے کرنا کیسا ہے
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

466
Sunnan Abu Dawood
3565
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تُنْفِقُ الْمَرْأَةُ شَيْئًا مِنْ بَيْتِهَا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا الطَّعَامَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ذَاكَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالدَّيْنُ مَقْضِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ .
Narrated Abu Umamah: I heard the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم Said: Allah, Most Exalted, has appointed for everyone who has a right what is due to him, and no will be made to an heir, and a woman should not spend anything from her house except with the permission of her husband. He was asked: Even foodgrain, Messenger of Allah? He replied: That is the best of our property. He then said: A loan must be paid back, a she-camel lent for a time for milking must be returned, a debt must be discharged, one who stands surety is held responsible.
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ عزوجل نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے تو اب وارث کے واسطے وصیت نہیں ہے، اور عورت اپنے گھر میں شوہر کی اجازت کے بغیر خرچ نہ کرے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کھانا بھی نہ دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ہم مردوں کا بہترین مال ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عاریۃً دی ہوئی چیز کی واپسی ہو گی ( اگر چیز موجود ہے تو چیز، ورنہ اس کی قیمت دی جائے گی ) دودھ استعمال کرنے کے لیے دیا جانے والا جانور ( دودھ ختم ہو جانے کے بعد ) واپس کر دیا جائے گا، قرض کی ادائیگی کی جائے گی اور کفیل ضامن ہے ( یعنی جس قرض کا ذمہ لیا ہے اس کا ادا کرنا اس کے لیے ضروری ہو گا ) ۔
Jam e Tirmazi
1265
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الْخُطْبَةِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ:‏‏‏‏ الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالدَّيْنُ مَقْضِيٌّ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَصَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْضًا مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ.
Narrated Abu Umamah: During the year of the Farewell Pilgrimage, I heard the Prophet (ﷺ) saying during the Khutbah: The borrowed is to be returned, and the guarantor is responsible, and the debt is to be repaid. [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from Samurah, Safwan bin Umayyah, and Anas. [He said:] The Hadith of Abu Umamah is a Hasan Gharib Hadith. It has also been reported through other routes besides this, from Abu Umamah, from the Prophet (ﷺ).
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے سال خطبہ میں فرماتے سنا: ”عاریت لی ہوئی چیز لوٹائی جائے گی، ضامن کو تاوان دینا ہو گا اور قرض واجب الاداء ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوامامہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اور یہ ابوامامہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور بھی طریق سے مروی ہے، ۳- اس باب میں سمرہ، صفوان بن امیہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Sunnan Abu Dawood
1802
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ. ح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنِ خَلَّادٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَايَحْيَى الْمَعْنَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ،‏‏‏‏أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ طَاوُسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَأَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَصَّرْتُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ عَلَى الْمَرْوَةِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ رَأَيْتُهُ يُقَصِّرُ عَنْهُ عَلَى الْمَرْوَةِ بِمِشْقَصٍ . قَالَ ابْنُ خَلَّادٍ:‏‏‏‏ إِنَّ مُعَاوِيَةَ لَمْ يَذْكُرْ أَخْبَرَهُ.
Ibn Abbas said that Muawiyah reported to him I clipped some hair of the Prophet’s head with a broad iron arrowhead at Al Marwah; or (he said) I saw him that the hair of his head was clipped with a broad iron arrowhead at Al Marwah. The narrator Ibn Khallad said in his version “Muawiyah said” and not the word “reported”.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں نے مروہ پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تیر کی دھار سے کاٹے، ( یا یوں ہے ) میں نے آپ کو دیکھا کہ مروہ پر تیر کے پیکان سے آپ کے بال کترے جا رہے ہیں ۱؎۔
Sunnan Abu Dawood
2567
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِيَّاكُمْ أَنْ تَتَّخِذُوا ظُهُورَ دَوَابِّكُمْ مَنَابِرَ فَإِنَّ اللَّهَ إِنَّمَا سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُبَلِّغَكُمْ إِلَى بَلَدٍ لَمْ تَكُونُوا بَالِغِيهِ إِلَّا بِشِقِّ الْأَنْفُسِ وَجَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فَعَلَيْهَا فَاقْضُوا حَاجَتَكُمْ .
Abu Hurairah reported the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم as saying “Do not treat the backs of your beasts as pulpits, for Allaah has made them subject to you only to convey you to a town which you cannot reach without difficulty and He has appointed the earth (a floor to work) for you, so conduct your business on it.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے جانوروں کی پیٹھ کو منبر بنانے سے بچو، کیونکہ اللہ نے ان جانوروں کو تمہارے تابع کر دیا ہے تاکہ وہ تمہیں ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچائیں جہاں تم بڑی تکلیف اور مشقت سے پہنچ سکتے ہو، اور اللہ نے تمہارے لیے زمین بنائی ہے، تو اسی پر اپنی ضروریات کی تکمیل کیا کرو ۱؎ ۔
Sunnan Abu Dawood
2715
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ،‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَدِّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبَا بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمَرَ حَرَّقُوا مَتَاعَ الْغَالِّ وَضَرَبُوهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وَزَادَ فِيهِ عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْوَلِيدِ وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ وَمَنَعُوهُ سَهْمَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وحَدَّثَنَا بِهِ الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ قَوْلَهُ:‏‏‏‏ وَلَمْ يَذْكُرْ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ مَنْعَ سَهْمِهِ.
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم, Abu Bakr and Umar burned the belongings of anyone who had been dishonest about booty and beat him. Abu Dawud said: Ali bin Bahr added on the authority of al-Walid, and I did not hear (a tradition) from him: And they denied him his share. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by al-Walid bin Utbah from Abd al-Wahhab bin Najdah; They said: This has been transmitted by al-Walid, from Zuhair bin Muhammad, from Amr bin Shuaib. Abd al-Wahhab bin Najdah al-Huti did not mention the words He denied him his share (as narrated by Ali bin Bahr from al-Walid).
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے خیانت کرنے والے کے سامان کو جلا دیا اور اسے مارا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: علی بن بحر نے اس حدیث میں ولید سے اتنا اضافہ کیا ہے کہ اسے اس کا حصہ نہیں دیا، لیکن میں نے یہ زیادتی علی بن بحر سے نہیں سنی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ہم سے ولید بن عتبہ اور عبدالوہاب بن نجدہ نے بھی بیان کیا ہے ان دونوں نے کہا اسے ہم سے ولید ( ولید بن مسلم ) نے بیان کیا ہے انہوں نے زہیر بن محمد سے زہیر نے عمرو بن شعیب سے موقوفاً روایت کیا ہے اور عبدالوہاب بن نجدہ حوطی نے حصہ سے محروم کر دینے کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Sunnan Abu Dawood
3966
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السَّمْطِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ:‏‏‏‏ حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً كَانَتْ فِدَاءَهُ مِنَ النَّارِ .
Amr ibn Abasah, said that Marrah ibn Kab said: I heard the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم say: If anyone emancipates a Muslim slave, that will be his ransom from Jahannam.
شرحبیل بن سمط کہتے ہیں کہ انہوں نے عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ہم سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے ( براہ راست ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے کسی مسلمان گردن کو آزاد کیا تو وہ دوزخ سے اس کا فدیہ ہو گا ۔
Sunnan Abu Dawood
4068
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُفْعَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُئِيُّ:‏‏‏‏ أُرَاهُ وَعَلَيَّ ثَوْبٌ مَصْبُوغٌ بِعُصْفُرٍ مُوَرَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا هَذَا ؟، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَحْرَقْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا صَنَعْتَ بِثَوْبِكَ ؟ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَحْرَقْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَفَلَا كَسَوْتَهُ بَعْضَ أَهْلِكَ ؟ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ رَوَاهُ ثَوْرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مُوَرَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏وَطَاوُسٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مُعَصْفَرٌ.
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم saw me. The version of Abu Ali al-Lula has: I think I wore a garment dyed with a reddish yellow colour. He asked: What is this? So I went and burnt it. The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: What have you done with your garment? I replied: I burnt it. He said: Why did you not give it to one of your women to wear? Abu Dawud said: Thawr transmitted it from Khalid and said: Pink (muwarrad) while Tawus said: Reddish yellow colour (mu'asfar) .
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا، اس وقت میں گلابی کسم سے رنگا ہوا کپڑا پہنے تھا آپ نے ( ناگواری کے انداز میں ) فرمایا: یہ کیا ہے؟ تو میں نے جا کر اسے جلا دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: تم نے اپنے کپڑے کے ساتھ کیا کیا؟ تو میں نے عرض کیا: میں نے اسے جلا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی کسی گھر والی کو کیوں نہیں پہنا دیا؟ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ثور نے خالد سے مورد ( گلابی رنگ میں رنگا ہوا کپڑا ) اور طاؤس نے«معصفر» ( کسم میں رنگا ہوا کپڑا ) روایت کیا ہے۔
Jam e Tirmazi
1444
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ،‏‏‏‏ فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَالشَّرِيدِ،‏‏‏‏ وَشُرَحْبِيلَ بْنِ أَوْسٍ،‏‏‏‏ وَجَرِيرٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي الرَّمَدِ الْبَلَوِيِّ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ مُعَاوِيَةَ هَكَذَا رَوَى الثَّوْرِيُّ أَيْضًا،‏‏‏‏ عَنْ عَاصِمٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي صَالِحٍ،‏‏‏‏ عَنْ مُعَاوِيَةَ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ وَرَوَى ابْنُ جُرَيْجٍ،‏‏‏‏ وَمَعْمَرٌ،‏‏‏‏ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي صَالِحٍ،‏‏‏‏ عَنْ مُعَاوِيَةَ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ وَإِنَّمَا كَانَ هَذَا فِي أَوَّلِ الْأَمْرِ ثُمَّ نُسِخَ بَعْدُ،‏‏‏‏ هَكَذَا رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق،‏‏‏‏ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ،‏‏‏‏ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ،‏‏‏‏ فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الرَّابِعَةِ،‏‏‏‏ فَضَرَبَهُ،‏‏‏‏ وَلَمْ يَقْتُلْهُ،‏‏‏‏ وَكَذَلِكَ رَوَى الزُّهْرِيُّ،‏‏‏‏ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فَرُفِعَ الْقَتْلُ،‏‏‏‏ وَكَانَتْ رُخْصَةً،‏‏‏‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ،‏‏‏‏ لَا نَعْلَمُ بَيْنَهُمُ اخْتِلَافًا فِي ذَلِكَ فِي الْقَدِيمِ وَالْحَدِيثِ،‏‏‏‏ وَمِمَّا يُقَوِّي هَذَا مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوْجُهٍ كَثِيرَةٍ،‏‏‏‏ أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ،‏‏‏‏ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ،‏‏‏‏ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ،‏‏‏‏ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ،‏‏‏‏ وَالثَّيِّبُ الزَّانِي،‏‏‏‏ وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ .
Narrated Mu'awiyah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever drinks wine, then lash him. If he returns to it, then on the fourth time kill him.
معاویہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شراب پئیے اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر چوتھی بار پئے تو اسے قتل کر دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- معاویہ رضی الله عنہ کی حدیث کو اسی طرح ثوری نے بطریق: «عاصم عن أبي صالح عن معاوية عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، اور ابن جریج اور معمر نے بطریق: «سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ابوصالح کی حدیث جو بواسطہ معاویہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں آئی ہے، یہ ابوصالح کی اس حدیث سے جو بواسطہ ابوہریرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے زیادہ صحیح ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ، شرید، شرحبیل بن اوس، جریر، ابورمد بلوی اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- یہ حکم ابتداء اسلام میں تھا ۱؎ پھر اس کے بعد منسوخ ہو گیا، اسی طرح محمد بن اسحاق نے ” «محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله» کے طریق سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”جو شراب پئیے اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر چوتھی بار پئیے تو اسے قتل کر دو“، پھر اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسا آدمی لایا گیا جس نے چوتھی بار شراب پی تھی، تو آپ نے اسے کوڑے لگائے اور قتل نہیں کیا، اسی طرح زہری نے قبیصہ بن ذویب سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ۵- چنانچہ قتل کا حکم منسوخ ہو گیا، پہلے اس کی رخصت تھی، عام اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، میرے علم میں اس مسئلہ میں ان کے درمیان نہ پہلے اختلاف تھا نہ اب اختلاف ہے، اور اس کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بےشمار سندوں سے آئی ہے کہ آپ نے فرمایا: جو مسلمان شہادت دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں تو اس کا خون تین میں سے کسی ایک چیز کی بنا پر ہی حلال ہو سکتا ہے: ناحق کسی کا قاتل ہو، شادی شدہ زانی ہو، یا اپنا دین ( اسلام ) چھوڑنے والا ( مرتد ) ہو“۔
Jam e Tirmazi
1666
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ رَافِعٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ بِغَيْرِ أَثَرٍ مِنْ جِهَادٍ، ‏‏‏‏‏‏لَقِيَ اللَّهَ وَفِيهِ ثُلْمَةٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْمَاعِيل بْنُ رَافِعٍ قَدْ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ وسَمِعْت مُحَمَّدًا، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ هُوَ ثِقَةٌ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ سَلْمَانَ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ، ‏‏‏‏‏‏مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ لَمْ يُدْرِكْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيَّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، عَنْ سَلْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏نَحْوَهُ.
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever meets Allah without any traces from Jihad he meets Allah with a defect. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Gharib as a narration of Al-Walid bin Muslim from Isma'il bin Rafi'. Isma'il bin Rafi' was graded weak by some of the people of Hadith. I heard Muhammad saying: He is trustworthy, average (Muqarib) in Hadith. This Hadith has been reported from Abu Hurairah from the Prophet (ﷺ) through other than this route. Regarding the Hadith of Salman, its chain is not connected, Muhammad bin Al-Munkadir did not see Salman Al-Farisi. This Hadith has been reported from Ayyub bin Musa, from Makhul, from Shurahbil bin As-Simt from Salman, from the Prophet (ﷺ).
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جہاد کے کسی اثر کے بغیر اللہ تعالیٰ سے ملے ۱؎ تو وہ اس حال میں اللہ سے ملے گا کہ اس کے اندر خلل ( نقص و عیب ) ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ولید بن مسلم کے واسطے سے اسماعیل بن رافع کی روایت سے ضعیف ہے، بعض محدثین نے اسماعیل بن رافع کی تضعیف کی ہے، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: اسماعیل ثقہ ہیں، مقارب الحدیث ہیں، ۲- یہ حدیث دوسری سند سے بھی ابوہریرہ کے واسطہ سے مرفوع طریقہ سے آئی ہے، ۳- سلمان کی حدیث کی سند متصل نہیں ہے۔ محمد بن منکدر نے سلمان کو نہیں پایا ہے، یہ حدیث «عن أيوب بن موسى عن مكحول عن شرحبيل بن السمط عن سلمان عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے بھی مروی ہے۔