حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ، وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ، فَلْيَتْبَعْ .
Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Delay in payment (of debt) by a rich man is injunctive, but when one of you is referred to a wealthy man, he should accept the reference.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے ( چاہے وہ قرض ہو یا کسی کا کوئی حق ) اور اگر تم میں سے کوئی مالدار شخص کی حوالگی میں دیا جائے تو چاہیئے کہ اس کی حوالگی قبول کرے ۱؎ ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحوالة ۱ (۲۲۸۸)، ۲ (۲۲۸۹)، والاستقراض ۱۲(۲۴۰۰)، صحیح مسلم/المساقاة ۷ (۱۵۶۴)، سنن النسائی/البیوع ۹۹ (۴۶۹۵)، (تحفة الأشراف: ۱۳۶۹۳، ۱۳۸۰۳)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع ۶۸ (۱۳۰۸)، سنن ابن ماجہ/الصدقات ۸ (۲۴۰۳)، موطا امام مالک/البیوع ۴۰ (۸۴)، مسند احمد (۲/۲۴۵، ۲۵۴، ۲۶۰، ۳۱۵، ۳۷۷، ۳۸۰، ۴۶۳، ۴۶۴، ۴۶۵)، سنن الدارمی/البیوع ۴۸ (۲۶۲۸)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اپنے ذمہ کا قرض دوسرے کے ذمہ کر دینا یہی حوالہ ہے، مثلاً زید عمرو کا مقروض ہے پھر زید عمرو کا مقابلہ بکر سے یہ کہہ کر کرا دے کہ اب میرے ذمہ کے قرض کی ادائیگی بکر کے سر ہے اور بکر اسے تسلیم بھی کر لے تو عمرو کو یہ حوالگی قبول کرنا چاہئے۔
3345
Sahih